بڑی دولت
قائد آباد میں ظہیر نامی شرارتی لڑکا اپنے والدین کے ساتھ رہتا تھا۔ وہ دیکھنے میں تو بہت سمجھدار تھا لیکن پڑھائی کے نام سے یوں بھاگتا تھا جیسے بلی کو دیکھ کر چوہا بھاگتا ہے۔
اس کیلئے اسکول جانا سزا سے کم نہیں تھا۔ وہ روزانہ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر گھر پر رہنے کی کوشش کرتا۔
ظہیر کا اسکول ساڑھے سات بجے لگتا تھا۔ سات بج چکے تھے لیکن وہ ابھی تک سو کر ہی نہیں اٹھا تھا۔ امی بھی شاید اسے جگانا بھول گئی تھیں۔ ناشتے کی میز پر ظہیر کے ابا نے پوچھا: کیا بات ہے، آج ظہیر نظر نہیں آرہا؟
ارے میں تو اسے جگانا بھول ہی گئی! ظہیر کی امی نے کہا اور اسے جگانے کیلئے کمرے کی طرف دوڑیں۔
ظہیر آنکھیں ملتا ہوا اٹھا اور غسل خانے کی طرف بھاگا۔ جلدی سے ہاتھ منہ دھو کر ناشتے کی میز پر پہنچ گیا۔ چونکہ دیر ہو چکی تھی، اس لیے جھٹ پٹ ناشتہ کیا، کپڑے تبدیل کیے، بستہ بغل میں دبایا اور امی کو سلام کر کے اسکول کو ہو لیا۔ اسکول لگنے میں صرف دس منٹ باقی رہ گئے تھے، اس لیے وہ تیز تیز قدم اٹھانے لگا۔ اسے پتہ تھا کہ اگر وہ ایک منٹ بھی دیر سے اسکول پہنچا تو اس کی خیر نہیں اورسر شفیق ڈنڈا لے کر اس کی خبر لیں گے۔
وہ بھاگتا ہوا اسکول کی طرف جا رہا تھا کہ راستے میں اس کے قدم رک گئے۔ سامنے ایک تاجر اپنے سامان کا حساب لگانے میں الجھا ہوا تھا۔ ظہیر کے دل میں فوراً خیال آیا، اگر میں آج اسکول نہ جاؤں تو شفیق صاحب کی ڈانٹ سے بچ جاؤں گا۔
وہ چپکے سے راستے سے مڑ گیا اور بازار کی طرف نکل گیا۔بازار میں اس نے دیکھا کہ ایک بوڑھا آدمی دکان کے باہر پریشان بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک خط تھا اور وہ آنے جانے والوں سے اسے پڑھوانے کی منتیں کر رہا تھا لیکن ہر کوئی اپنے کام میں مصروف تھا اور اس کی بات پر دھیان نہیں دے رہا تھا۔
ظہیر نے سوچا کہ چلو، بوڑھے بابا کی مدد کر دیتا ہوں، لیکن جیسے ہی اس نے خط ہاتھ میں لیا، اس کے سامنے لفظ تو تھے مگر وہ انہیں پڑھ نہیں سکا۔ اس نے خط کو الٹا سیدھا گھما کر دیکھا، لیکن اسے کچھ سمجھ نہ آیا۔ وہ شرمندہ ہو کر بولا: بابا جی، مجھے پڑھنا نہیں آتا۔
بوڑھے بابا نے ٹھنڈی آہ بھری اور کہا: بیٹا! اگر میں بھی بچپن میں پڑھ لکھ جاتا تو آج یوں دربدر نہ بھٹک رہا ہوتا۔ علم وہ روشنی ہے جو انسان کو اندھیروں سے نکالتی ہے اور تعلیم ہی دنیا کی سب سے بڑی دولت ہے۔ جو اس دولت کو حاصل کر لیتا ہے، وہ کبھی کسی کا محتاج نہیں رہتا۔
بوڑھے بابا کے یہ الفاظ ظہیر کے دل پر لگے۔ اس نے اپنے ارد گرد دیکھا۔ کچھ لوگ حساب کتاب نہ آنے کی وجہ سے تاجروں کے ہاتھوں دھوکہ کھا رہے تھے اور کچھ لوگ تحریر نہ پڑھنے کی وجہ سے پریشان تھے۔ اسے احساس ہوا کہ وہ اسکول سے بھاگ کر اپنی ہی زندگی کا کتنا بڑا نقصان کر رہا تھا۔ تعلیم پاس یا فیل ہونے کا نام نہیں بلکہ زندگی جینے کا سلیقہ ہے۔
ظہیر کو اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا۔ اس نے دل میں عہد کیا کہ اب وہ کبھی اسکول سے جی نہیں چرائے گا۔ وہ الٹے قدموں واپس گھوما اور اسکول کی طرف دوڑ لگا دی۔
اگرچہ وہ اسکول دیر سے پہنچا اور شفیق صاحب نے اسے ڈانٹا بھی، لیکن ظہیر کے چہرے پر خوف نہیں تھا۔ اس نے استادِ محترم سے معافی مانگی اور پوری توجہ سے سبق پڑھنے لگا۔
ظہیر نے دل لگا کر پڑھائی شروع کر دی۔ وہ سمجھ چکا تھا کہ دنیا کی تمام مال و دولت ختم ہو سکتی ہے لیکن تعلیم ایسی بڑی دولت ہے جسے نہ کوئی چرا سکتا ہے اور نہ ہی یہ کبھی ختم ہوتی ہے، بلکہ بانٹنے سے اور بڑھتی ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments