اصل حسن
گرمیوں کی ایک روشن صبح تھی،ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی۔ ایک گھر کی چھت پر تین دوست حمزہ، سعد اور علی اخبار بچھائے آم کھانے میں مصروف تھے۔
سامنے رکھی پلیٹ میں آم کی قاشیں اورساتھ ایک ٹھنڈی لسی کا جگ رکھا تھا۔
حمزہ نے آم کا بڑا سا ٹکڑا کھاتے ہوئے کہا : ’’بھئی! آم واقعی پھلوں کا بادشاہ ہے۔ میٹھا بھی، خوشبو دار بھی اور طاقت دینے والا بھی ‘‘ ۔
سعد نے ہنستے ہوئے جواب دیا : ’’ میری دادی کہتی ہیں کہ آم میں وٹامن اے، سی ، ای اور بی 6 ہوتے ہیں، اسی لیے گرمی میں جسم کو طاقت ملتی ہے۔ مگر زیادہ کھائو تو گلا خراب بھی ہوسکتا ہے ‘‘ ۔
علی نے شرارت سے کہا : ’’ تم دونوں صرف باتیں کرتے رہو، میں تو دوسرا آم بھی ختم کرچکا ہوں ‘‘ ۔
یہ سن کر سب زور زور سے ہنسنے لگے۔
اتنے میں حمزہ نے اخبار کی طرف دیکھتے ہوئے کہا : ’’ دیکھو، یہاں لکھا ہے کہ پاکستان دنیا کے مشہور آم پیدا کرنے والے ملکوں میں شامل ہے۔ خاص طور پر سندھ اور پنجاب کے آم بہت پسند کیے جاتے ہیں ‘‘ ۔
سعد نے آم کا رس صاف کرتے ہوئے کہا: ’’ میرے ابو بتاتے ہیں کہ آم کی کئی قسمیں ہوتی ہیں ، جیسے چونسا، انور رٹول اور سندھری ۔ ہر ایک کا ذائقہ الگ ہوتا ہے ‘‘ ۔
علی نے کہا : ’’ لیکن آم کھانے کا اصل مزہ دوستوں کے ساتھ آتا ہے۔ اکیلے کھائو تو اتنا مزہ نہیں آتا ‘‘ ۔
تینوں دوست پھر آم کھانے لگے۔ ہنسی مذاق، میٹھے آموں کی خوشبو اور ٹھنڈی ہوا نے اس صبح کو یادگار بنا دیا ۔ انھیں محسوس ہوا کہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہی زندگی کا اصل حسن ہوتی ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments