پہیلیاں
کھلا پڑا ہے ایک خزانہ،پر مشکل ہے اسے چرانا
کوئی کتنا زور لگائے
ایک موتی بھی ہاتھ نہ آئے
(تارے)
اٹھ نہیں سکتا ہے،
کب اٹھ کے کہیں جاتا ہے وہ
رات دن بس ٹھوکریں ہی
پائوں کی کھاتا ہے وہ
(راستہ)
دیکھا ایسا ایک مکان
بارہ ہیں جس کے دالان
ہر دالان میں کئی جوان
سب کی اپنی اپنی شان
آدھے گورے آدھے کالے
عاقل ہیں سب بوجھنے والے
(سال مہینے اور دن رات)
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments