سندھ کی سیاست میں کئی محاذ
نئے صوبوں کے معاملے پر سندھ کی سیاسی صورتحال میں ان دنوں کچھ ٹھنڈ نظر آرہی ہے لیکن چٹ پٹے بیانات پھر بھی آ ہی جاتے ہیں۔
سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے ایم کیو ایم کونشانہ پر رکھا ہوا ہے، کہہ رہے تھے کہ یہ وہ جماعت ہے جس نے کراچی میں خون کی ندیاں بہائیں، فسادات کرائے، اقتدار میں لائسنس ٹو کل یافتہ تھی، یہی وہ جماعت ہے جس کی وجہ سے کاروبار دوسری جگہوں پر منتقل ہوئے، صنعتیں ختم ہوگئیں، یہ جو آج سارا ملبہ بانی ایم کیو ایم پر ڈال رہے ہیں کیا یہ دودھ کے دھلے ہیں؟ یہ لوگ آج پھر جلاؤ گھیراؤ کی سیاست کرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ شرجیل میمن نے حکومتی کوتاہیوں کا بھی اعتراف کیا ساتھ ہی کہا کہ یہ کہنا کہ صوبائی حکومت ناکام ہوچکی ہے اس میں صداقت نہیں۔ انہوں نے سندھ میں صحت کی سہولتوں کو بے مثال قرار دیا اور کہا کہ بہتری کی بات ہو سکتی ہے لیکن صرف سندھ کو نشانہ بنانا درست نہیں۔نئے صوبوں پر پیپلز پارٹی کا مؤقف پہلے ہی آ چکاہے، رہی بات 18سال کی حکمرانی کے حساب کی تو یہ حساب عوام کو دیتے رہتے ہیں۔شرجیل میمن کے بقول پیپلز پارٹی خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ واضح رہے کہ چند روز قبل انہوں نے میرپورخاص میں خواتین میں پنک سکوٹیز تقسیم کی تھیں اور پنک ٹیکسی دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔ سینئر صوبائی وزیر نے ریڈ لائن، بی آر ٹی منصوبے کے اہم حصے، موسمیات فلائی اوور کا افتتاح بھی کردیا اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیم نے ریڈ لائن مکمل کرنے کے لیے بھرپور محنت کی اور دعویٰ کیا کہ انہیں اپنی ٹیم کی تیز رفتاری پر فخر ہے۔حکومت سندھ کا واضح عزم ہے کہ شہر کے ہر شعبے میں ترقیاتی کام کیے جائیں۔
شرجیل میمن کی تنقید پر ایم کیو ایم کی جانب سے جوابی غزل لازمی تھی سو وہ آگئی۔ ایم کیو ایم پاکستان کے ترجمان نے کہا کہ سینئر صوبائی وزیر کے الزامات روایتی اور گھسے پٹے ہیں، ادھر تم، ادھر ہم کا نعرہ لگا کر ملک دولخت کرنے والوں کو پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے ،سندھ حکومت الزام تراشی نہ کرے، زمینی حقائق اور اعداد و شمار سے جواب دے۔ایم کیو ایم پاکستان کے ترجمان نے ایک بار پر پھر 18سالہ دور اقتدار کی کارکردگی کا حساب مانگا اورکہا کہ عوامی مسائل عملی اقدامات سے حل ہوتے ہیں، الزامات سے کچھ فائدہ نہ ہوگا۔سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا کہ یہ سندھ حکومت کا ہی ’کارنامہ‘ ہے کہ کراچی کو بدترین شہر بنا کر چھوڑا۔ریڈلائن 2024ء میں بنائے جانے کا کہا گیا ،پھر تاریخ بڑھا کر 2025ء کردی۔ انہوں نے بی آر ٹی منصوبے پر محکمہ موسمیات کے قریب فلائی اوور کے افتتاح کے طریقہ کار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ 2026ء میں ایک کمپونینٹ کا افتتاح کیا، کل کو سریا ڈال دیا جائے گا اس کا افتتاح کرنے آجانا۔علی خورشیدی نے کہا کہ ملک کو ہر صورت نئے صوبوں کی طرف جانا ہی ہوگا، پورا ملک انتظامی یونٹس کے حق میں ہے۔بقول ان کے، ایسی جمہوریت کا کیا کریں گے جس کا عوام کو فائدہ نہ ہو۔
سندھ میں کتے کے کاٹے کے کیسز میں ہوشربا اضافہ ہوچکا ہے۔ صرف کراچی میں جنوری سے اب تک 32 اموات ریبیز سے ہوچکی ہیں جبکہ 40ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ۔جناح اور سول ہسپتال میں 10،10ہزار اور انڈس ہسپتال میں 14ہزار کیس رپورٹ ہوئے۔ دیگر کیسز مختلف ہسپتالوں میں رپورٹ ہوئے۔ اگر پورے صوبے کی بات کریں تو یہ تعداد کئی گنا بڑھ جائے گی۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ کتے کے کاٹے کے کیسز میں کمی کے لیے آوارہ کتوں کی نس بندی کرنا ہوگی،ویکسی نیشن پروگرام کی بھی ضرورت ہے۔حکومت نے عوام کی آگاہی کے لیے اشتہارات شائع کیے ہیں ،ٹی وی پر بھی احتیاطی تدابیر کا بتایا جارہا ہے کہ کتے کے کاٹے کو معمولی بات سمجھ کر نظرانداز نہ کریں، اگر خدانخواستہ کتا کاٹ لے تو زخم کو 15سے 20 منٹ تک صاف پانی اور صابن سے دھوئیں، بغیر کسی تاخیر ہسپتال جائیں ،اینٹی ریبیز ویکسین لگوائیں۔ عوام کو حکومت کا مشورہ اہم ہے اور اس پر عمل بھی کرنا چاہیے لیکن یہ تاثر ہے کہ عام انسانوں کو کاٹنے والے ان کتوں کو اہم شخصیت کے کہنے پر تلف نہیں کیا جاتا۔ اگر ایسا ہے تو شہری یا صوبائی حکومت کتوں کو پکڑے اور ان کے لیے کوئی مرکز بنا دے جہاں وہ اپنی زندگی کے دن پورے کریں۔ اگر حکومت کو مذکورہ شخصیت کے احکامات پر عمل کرنا ہے تو بصد شوق کرے، عوام کا کیا قصور ہے، عوام کیا گھروں سے نہ نکلیں؟ سرشام گھروں کو چلے جائیں؟ بچوں کو لوہے کے لباس پہنانا شروع کردیں؟ کریں تو آخر کیا کریں۔ حکومت کو ضرور اس طرف توجہ دینی چاہیے۔ ایک اور میڈیا رپورٹ کے مطابق صوبے میں اشتہاری ملزمان کی تعداد 77ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ پولیس کی جانب سے ملزمان کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور رواں برس 14ہزار سے زائد اشتہاریوں کو گرفتار کیا جا چکاہے، لیکن پولیس کو مزید تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments