ذرا مسکرائیے

تحریر : روزنامہ دنیا


بیٹے نے باپ سے کہا:میں کھڑکی کے قریب کھڑا گانا گا رہا تھا تو کسی نے ایک جوتا پھینکا۔

باپ نے کہا:ایک گانا اور گاؤ تا کہ دوسرے پیر کا جوتا بھی آ جائے۔

٭٭٭

استاد(شاگرد سے)تم اتنی دیر سے سکول کیوں آئے ہو؟ 

شاگرد:جناب بارش کی وجہ سے سڑک پر کیچڑ ہو گئی تھی۔ میں ایک قدم آگے چلتا تو دو قدم پیچھے پھسل جاتا۔ 

استاد: پھر تم یہاں کیسے پہنچے؟ 

شاگرد:جناب میں نے منہ گھر کی طرف کر لیا تھا۔

٭٭٭

ایک لڑکے کا امتحان ہوا تو اسے کچھ بھی یاد نہ تھا لہٰذا اس نے پرچے پر لکھ دیا ’’ خزانے کی کنجی تیرے پاس ہے، اگر پاس کردے تو کیا بات ہے‘‘

 ماسٹر صاحب نے پرچہ واپس کیا تو اس کے پرچے پر لکھا تھا ’’ کتابوں کی گٹھڑی تیرے پاس تھی، اگر یاد کرتا تو کیا بات تھی‘‘

٭٭٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

قطرہ قطرہ زندگی

نوشین اور اس کا چھوٹا بھائی ارتضیٰ دونوں صحن میں لگے نل کے پاس کھڑے تھے۔ ارتضیٰ دانت برش کر رہا تھا اور نلکا پوری طرح کھلا ہوا تھا۔ پانی تیزی سے بہہ کر نالی میں ضائع ہو رہا تھا۔

گنیز بک 2027ء میں شامل دنیا کے ہونہار بچے!

بڑی ٹیبل کا ننھا کھلاڑی:جوڈ اوونز

عیادت

ارے ، یہ کیا ہو رہا ہے ؟ بیمار شخص نے گھبرا کر بستر سے اُٹھتے ہوئے کہا۔ ایک موٹے سے لڑکے نے اپنے بازوں کو پھیلا کر جواب دیا : چچا جان ! ڈرنے کی ضرورت نہیں ۔ ہم آپ کی عیادت کیلئے آئے ہیں ۔

ماں ہماری وقار ہستی ہے

ماں ہماری وقار ہستی ہے،ان کے دم سے بہارِ ہستی ہے

نصیحت آموز باتیں

٭…زبان کی حفاظت کرو، بہت سے فتنے خود ختم ہوجائیں گے۔

پہیلیاں

کھلا پڑا ہے ایک خزانہ،پر مشکل ہے اسے چرانا