ذرا مسکرائیے
بیٹے نے باپ سے کہا:میں کھڑکی کے قریب کھڑا گانا گا رہا تھا تو کسی نے ایک جوتا پھینکا۔
باپ نے کہا:ایک گانا اور گاؤ تا کہ دوسرے پیر کا جوتا بھی آ جائے۔
٭٭٭
استاد(شاگرد سے)تم اتنی دیر سے سکول کیوں آئے ہو؟
شاگرد:جناب بارش کی وجہ سے سڑک پر کیچڑ ہو گئی تھی۔ میں ایک قدم آگے چلتا تو دو قدم پیچھے پھسل جاتا۔
استاد: پھر تم یہاں کیسے پہنچے؟
شاگرد:جناب میں نے منہ گھر کی طرف کر لیا تھا۔
٭٭٭
ایک لڑکے کا امتحان ہوا تو اسے کچھ بھی یاد نہ تھا لہٰذا اس نے پرچے پر لکھ دیا ’’ خزانے کی کنجی تیرے پاس ہے، اگر پاس کردے تو کیا بات ہے‘‘
ماسٹر صاحب نے پرچہ واپس کیا تو اس کے پرچے پر لکھا تھا ’’ کتابوں کی گٹھڑی تیرے پاس تھی، اگر یاد کرتا تو کیا بات تھی‘‘
٭٭٭
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments