ڈیجیٹل لٹریسی، ہر خاتون کیلئے ضروری

تحریر : توقیر فاطمہ


آج کا دور ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ذرائع کا دور ہے۔ موبائل فون، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، آن لائن بینکنگ، ڈیجیٹل تعلیم اور آن لائن خریداری ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔

 چند سال پہلے جن کاموں کیلئے گھر سے باہر جانا پڑتا تھا آج وہی کام چند منٹوں میں موبائل فون کے ذریعے انجام دیے جا سکتے ہیں۔ ایسے میں ڈیجیٹل لٹریسی، یعنی ڈیجیٹل ذرائع کو سمجھنے، استعمال کرنے اور محفوظ طریقے سے بروئے کار لانے کی صلاحیت، ہر فرد کیلئے اہم ہو گئی ہے۔خواتین کیلئے ڈیجیٹل لٹریسی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہ نہ صرف انہیں جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتی ہے بلکہ تعلیم، روزگار، کاروبار، مالی معاملات اور ذاتی ترقی کے نئے مواقع بھی فراہم کرتی ہے۔ ڈیجیٹل طور پر باخبر خاتون اپنے لیے اور خاندان کیلئے بہتر فیصلے کرنے میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔

تعلیم اور معلومات تک آسان رسائی

ڈیجیٹل لٹریسی کا سب سے اہم فائدہ تعلیم اور معلومات تک رسائی ہے۔ آج خواتین گھر بیٹھے مختلف موضوعات پر آن لائن کورسز، ویڈیوز، کتابیں اور تعلیمی مواد حاصل کر سکتی ہیں۔ اگر کوئی خاتون کسی ہنر کو سیکھنا چاہتی ہے مثلاً گرافک ڈیزائننگ،   کھانا پکانا، ڈیجیٹل مارکیٹنگ یا کمپیوٹر پروگرامنگ، انٹرنیٹ پر اس حوالے سے بے شمار تعلیمی وسائل موجود ہیں۔خاص طور پر ان خواتین کے لیے ڈیجیٹل ذرائع بہت مفید ہیں جو ملازمت، گھر یا دیگر ذمہ داریوں کی وجہ سے روایتی تعلیمی اداروں میں باقاعدگی سے نہیں جا سکتیں۔ وہ اپنی سہولت کے مطابق آن لائن تعلیم حاصل کر سکتی ہیں۔تاہم صرف انٹرنیٹ استعمال کرنا  کافی نہیں۔ ڈیجیٹل لٹریسی کا ایک اہم حصہ یہ جاننا بھی ہے کہ کون سی معلومات قابلِ اعتماد ہے اور کون سی گمراہ کن۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ہر خبر درست نہیں ہوتی۔ ایک باشعور خاتون معلومات کے ماخذ کو جانچتی ہے مختلف ذرائع سے تصدیق کرتی ہے اور بغیر تحقیق کے کسی خبر یا دعوے کو آگے نہیں پھیلاتی۔

روزگار، ہنر اور کاروبار کے مواقع

ڈیجیٹل دنیا نے خواتین کے لیے کام کے کئی نئے راستے کھول دیے ہیں۔ آج ایک خاتون گھر بیٹھے فری لانسنگ، آن لائن تدریس، مواد نویسی، گرافک ڈیزائننگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، آن لائن کسٹمر سروس اور دیگر شعبوں میں کام کر سکتی ہے۔ اسی طرح چھوٹے کاروبار کرنے والی خواتین بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنی مصنوعات زیادہ لوگوں تک پہنچا سکتی ہیں۔ گھر میں تیار کیے جانے والے کپڑے، دستکاری، کھانے پینے کی اشیا، جیولری یا دیگر مصنوعات کو سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے متعارف کرایا جا سکتا ہے۔ڈیجیٹل لٹریسی خواتین کو صرف روزگار کے مواقع سے نہیں جوڑتی بلکہ انہیں اپنی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں پیش کرنے کا طریقہ بھی سکھاتی ہے۔ آن لائن پروفائل بنانا، ای میل کے ذریعے رابطہ کرنا، ویڈیو میٹنگ میں شرکت کرنا، ڈیجیٹل دستاویزات تیار کرنا اور آن لائن ادائیگیوں کو سمجھنا آج کے روزگار میں اہم مہارتیں بن چکی ہیں۔

مالی معاملات اور آن لائن دنیا میں تحفظ

ڈیجیٹل سہولیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ آن لائن تحفظ بھی انتہائی اہم ہے۔ خواتین کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اپنے موبائل فون، ای میل، سوشل میڈیا اور مالیاتی اکاؤنٹس کو محفوظ کیسے رکھا جائے۔ مضبوط پاس ورڈ کا استعمال، دو مرحلہ جاتی تصدیق (Two-Factor Authentication)، مشکوک لنکس سے اجتناب اور کسی غیر متعلقہ شخص کے ساتھ OTP یا پاس ورڈ شیئر نہ کرنا بنیادی ڈیجیٹل حفاظتی اصول ہیں۔ آن لائن خریداری یا بینکنگ کے دوران ویب سائٹ اور پیمنٹ کے طریقہ کار کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ڈیجیٹل لٹریسی خواتین کو آن لائن فراڈ اور جعلی پیغامات سے بچنے میں بھی مدد دیتی ہے۔ بعض اوقات دھوکا دہی کرنے والے افراد انعام، ملازمت، بینک اکاؤنٹ یا کسی ہنگامی صورتحال کا بہانہ بنا کر ذاتی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر خاتون کو ڈیجیٹل فراڈ کی بنیادی علامات کا علم ہو تو وہ ایسے خطرات سے بہتر طور پر محفوظ رہ سکتی ہے۔

خود اعتمادی، خاندان اور مستقبل کی تیاری

ڈیجیٹل لٹریسی صرف موبائل یا کمپیوٹر چلانے کا نام نہیں بلکہ یہ جدید زندگی میں خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھنے کی صلاحیت بھی ہے۔ جب ایک خاتون ٹیکنالوجی کو سمجھتی ہے تو وہ روزمرہ کے بہت سے کام دوسروں پر انحصار کیے بغیر انجام دے سکتی ہے۔خاندان میں بھی ایک ڈیجیٹل طور پر باشعور خاتون اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ وہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کے حوالے سے بہتر رہنمائی کر سکتی ہے، انہیں محفوظ انٹرنیٹ استعمال کرنے کے اصول سکھا سکتی ہے اور تعلیمی مواد تلاش کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اسی طرح گھر کے آن لائن بل، سرکاری یا تعلیمی معلومات، بینکنگ اور دیگر ڈیجیٹل خدمات کو سمجھنا بھی آسان ہو جاتا ہے۔مستقبل میں ٹیکنالوجی کا کردار مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ مصنوعی ذہانت، آن لائن تعلیم، ڈیجیٹل کاروبار اور جدید مواصلاتی ذرائع ہماری زندگی کا حصہ بن چکے ہیں اس لیے خواتین کے لیے ڈیجیٹل مہارتیں سیکھنا محض موجودہ ضرورت نہیں بلکہ مستقبل کے لیے تیاری بھی ہے۔ہر خاتون کو چاہیے کہ وہ اپنی عمر یا پیشے سے قطع نظر بنیادی ڈیجیٹل مہارتیں ضرور سیکھے کیونکہ ڈیجیٹل دنیا کو سمجھنا صرف ایک اضافی خوبی نہیں بلکہ بدلتے ہوئے معاشرے میں ایک ضروری زندگی کی مہارت ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

ٹونر، سیرم اور موئسچرائزر کس چیز کی کیا ضرورت ہے؟

آج کل جلد کی دیکھ بھال کیلئے مارکیٹ میں بے شمار مصنوعات دستیاب ہیں۔ فیس واش، ٹونر، سیرم، موئسچرائزر، سن سکرین اور مختلف اقسام کی کریمیں دیکھ کر اکثر یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ان میں سے کون سی چیز واقعی ضروری ہے اور کون سی صرف اضافی مرحلہ ہے۔

آج کاپکوان:کھیر

اجزا: باسمتی چاول : ایک چوتھائی کپ۔ دودھ:ایک لیٹر۔ چینی: آدھا کپ۔ الائچی پاؤڈر: آدھا چائے کا چمچ۔ بادام (باریک کٹے ہوئے) : دو چمچ۔ پستہ (باریک کٹا ہوا) : دو چمچ۔ کاجو : دو چمچ۔ کشمش : دو چمچ۔ عرق گلاب :ایک چائے کا چمچ۔

صبا اکبر آبادی زندہ روایت کے شاعر

ان کی شاعری میں شائستگی اور شگفتگی کے عنصر کے ساتھ ساتھ تاریخی تنقیدبھی ہے:شاعری تہذیبوں کی تہذیب ہے اور شاعر ان تہذیبوں کا صورت گر‘ یہ صورت اپنے مکمل خدو خال کے ساتھ نظر آنی چاہئے‘صرف ایک جذبہ بیان کیا تو گویا آپ نے زندگی کا آدھا چہرہ دیکھا :صباؔنے داغ کی طرح زبان و بیان کو مستند بنایا تو ساتھ ہی غزل میں غالب کی طرح عروجِ خیال اور عروج ِفکر کو شامل کیااور بڑے سے بڑے موضوع کو بھی سہل انداز میں بیان کیا

غالب بیسویں صدی کے شعرا کی زبانی

غالب کی شخصیت کسی سے پوشیدہ نہیں۔اردو شعرو ادب میں ان پر سب سے زیادہ کام ہو ا ہے ،ہو رہا ہے اور ہو تا رہے گا۔ہر زبان میں ان کی شاعری پر کام ہو ا۔

ایشین گیمز2026ء:پاکستان کے 4برونز میڈل

پہلا تمغہ عاصم خان، دوسرا ویمن کرکٹ ٹیم نے جیتا، دو برونز میڈل سکواش کے کھلاڑیوں کے نام، قومی ہاکی ٹیم کی3فتوحات:بیڈ منٹن پلیئر ماحور شہزاد، ایتھلیٹ شجر عباس،خولہ عمر خان اور باکسرفاطمہ زہرا ،محمد عرفان کا ایشین گیمز میں سفر ختم ہو گیا:ایشین گیمز کے ڈرا کے مطابق پاکستان اور بھارت کو الگ الگ گروپس میں رکھا گیا ہے، روایتی حریفوں کا سیمی فائنل میں سامنا ہونا ناممکن ہے

ابراراحمد ٹی20 بائولنگ کابادشاہ

آئی سی سی کی تازہ رینکنگ:بیٹنگ میں پاکستان کے صاحبزادہ فرحان تیسری پوزیشن پر موجود:شوال ذوالفقار نے بیٹنگ رینکنگ میں 16 درجے ترقی کرکے 29ویں جبکہ عائشہ ظفر 31 درجے بہتری حاصل کرتے ہوئے 40ویں پوزیشن سنبھال لی،سعدیہ اقبال ٹی ٹوئنٹی بالنگ میں 8ویں جبکہ فاطمہ ثناء 24ویں پوزیشن پرآگئیں۔