ٹونر، سیرم اور موئسچرائزر کس چیز کی کیا ضرورت ہے؟

تحریر : سائرہ خان


آج کل جلد کی دیکھ بھال کیلئے مارکیٹ میں بے شمار مصنوعات دستیاب ہیں۔ فیس واش، ٹونر، سیرم، موئسچرائزر، سن سکرین اور مختلف اقسام کی کریمیں دیکھ کر اکثر یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ان میں سے کون سی چیز واقعی ضروری ہے اور کون سی صرف اضافی مرحلہ ہے۔

 خاص طور پر ٹونر، سیرم اور موئسچرائزر کے بارے میں بہت سے لوگوں کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان کا اصل کام کیا ہے اور انہیں کس ترتیب سے استعمال کرنا چاہیے۔حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص کو تینوں مصنوعات لازماً استعمال کرنے کی ضرورت نہیں۔ جلد کی قسم، عمر، موسم اور جلد کے مخصوص مسائل کے مطابق سکن کیئر روٹین مختلف ہو سکتی ہے۔ اس لیے مصنوعات کی تعداد سے زیادہ اہم یہ ہے کہ صحیح ضرورت کے مطابق صحیح چیز کا انتخاب کیا جائے۔

ٹونرکیا واقعی ضروری ہے؟

ٹونر ایک ایسی مائع مصنوعات ہے جو عام طور پر فیس واش کے بعد استعمال کی جاتی ہے۔ ماضی میں ٹونرز کا بنیادی مقصد جلد سے اضافی تیل اور صفائی کے بعد باقی رہ جانے والی گندگی کو دور کرنا تھا لیکن جدید ٹونرز کی اقسام اور اجزا کافی مختلف ہو چکے ہیں۔کچھ ٹونرز جلد کو ہائیڈریٹ کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں جبکہ بعض میں ایسے اجزا شامل ہوتے ہیں جو اضافی تیل، بند مسام یا جلد کی بے رونقی کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتے ہیں۔ تاہم ہر شخص کے لیے ٹونر ضروری نہیں۔ اگر فیس واش کے بعد جلد صاف، آرام دہ اور متوازن محسوس ہوتی ہے تو ٹونر کو روٹین میں شامل کرنا لازمی نہیں۔خاص طور پر حساس یا خشک جلد والے افراد کو الکحل یا بہت زیادہ خوشبو والے ٹونرز سے احتیاط کرنی چاہیے، کیونکہ بعض مصنوعات جلد میں خشکی یا جلن پیدا کر سکتی ہیں۔

سیرم مخصوص مسئلے کیلئے زیادہ توجہ

سیرم عموماً ہلکی ساخت کی ایسی مصنوعات ہوتی ہیں جن میں مخصوص فعال اجزا نسبتاً زیادہ مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے سیرم کا انتخاب جلد کی ضرورت کے مطابق کیا جاتا ہے۔مثلاً وٹامن سی والے سیرم عام طور پر جلد کی بے رونقی اور غیر ہموار رنگت کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ہائیلورونک ایسڈ جلد میں نمی برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے جبکہ نیاسینامائڈ تیل، جلد کی ساخت اور بعض اوقات داغ دھبوں کی ظاہری شکل کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح کچھ سیرمز میں ریٹینول یا دوسرے فعال اجزا شامل ہوتے ہیں جو باریک لکیروں، مہاسوں یا جلد کی ساخت کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔لیکن زیادہ سیرم ایک ساتھ استعمال کرنا ضروری نہیں۔ ایک وقت میں بہت سے فعال اجزا استعمال کرنے سے بعض افراد میں خشکی، سرخی یا جلن پیدا ہو سکتی ہے۔ اس لیے سیرم کا انتخاب اپنی جلد کے مسئلے اور برداشت کے مطابق کرنا بہتر ہے۔

موئسچرائزر جلد کی بنیادی ضرورت

موئسچرائزر کا بنیادی مقصد جلد میں نمی برقرار رکھنے اور جلد کی حفاظتی تہہ کو سہارا دینا ہے۔ تقریباً ہر قسم کی جلد کو کسی نہ کسی شکل میں موئسچرائزر کی ضرورت ہو سکتی ہے، حتیٰ کہ چکنی جلد کو بھی۔خشک جلد کیلئے نسبتاً گاڑھا موئسچرائزر زیادہ مفید ہو سکتا ہے جبکہ چکنی یا ایکنی کا شکار جلد کے لیے ہلکا، نان کامیڈوجینک یا جیل بیسڈ موئسچرائزر بہتر انتخاب ہو سکتا ہے۔ موئسچرائزر جلد کو نرم رکھنے کے ساتھ ساتھ بعض فعال مصنوعات کے باعث ہونے والی خشکی اور جلن کو کم کرنے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔ اسی لیے سکن کیئر روٹین میں موئسچرائزر کو عام طور پر ایک بنیادی قدم سمجھا جاتا ہے۔

تینوں کو کیسے اور کس ترتیب سے استعمال کریں؟

اگر کوئی شخص تینوں مصنوعات استعمال کرنا چاہے تو عام طور پر ترتیب یہ ہو سکتی ہے:فیس واش ،ٹونر ، سیرم ،موئسچرائزر۔ دن کے وقت سن سکرین یعنی پہلے جلد کو صاف کیا جائے، پھر ٹونر، اس کے بعد سیرم اور آخر میں موئسچرائزر لگایا جائے۔ صبح کے وقت موئسچرائزر کے بعد سن سکرین لگانا خاص طور پر اہم ہے کیونکہ سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعیں جلد کی قبل از وقت ایجنگ اور بعض رنگت کے مسائل میں کردار ادا کرتی ہیں۔تاہم ایک سادہ روٹین بھی کافی ہو سکتی ہے: فیس واش، موئسچرائزر اور سن سکرین۔ اگر جلد کا کوئی مخصوص مسئلہ ہو تو ضرورت کے مطابق سیرم شامل کیا جا سکتا ہے۔ ٹونر کو اختیاری مرحلہ سمجھا جا سکتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ مہنگی یا زیادہ مصنوعات لازماً بہتر جلد کی ضمانت نہیں دیتیں۔ جلد کی قسم کو سمجھنا، مناسب مصنوعات کا انتخاب کرنا، مستقل مزاجی سے استعمال کرنا اور نئی مصنوعات کو احتیاط سے متعارف کرانا زیادہ اہم ہے۔ اگر کسی پروڈکٹ سے مسلسل جلن، خارش یا شدید سرخی ہو تو اسے روک دینا اور ضرورت پڑنے پر ماہرِ جلد سے مشورہ کرنا چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

نئے انتظامی یونٹس اور 28 ویں آئینی ترمیم

پاکستان میں اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی کی بحث اب سنجیدہ رُخ اختیار کر چکی ہے۔ نئے صوبوں کے قیام پر ایک کے بعد ایک قومی مباحثہ ہو رہا ہے جس میں سیاستدان، سول سوسائٹی ، قانون دان اور گورننس کے ماہرین حصہ لے رہے ہیں اور اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔

اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش ،کتنی سنجیدہ؟

وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثنا اللہ کی جانب سے اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش کا تعلق دہشت گردی کے خلاف سیاسی یکجہتی اور ہم آہنگی سے ہے ۔

جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ، پولیس کی کارکردگی پر سنگین سوالات

سندھ کابینہ نے میر رضا کیس میں جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پبلک کردی ہے،جس میں پولیس کی کارکردگی کو بدترین قرار دیا گیا ہے ‘میڈیکو لیگل نظام کی بھی قلعی کھول دی ہے۔

خیبر پختونخوا میں اگلے دو ماہ اہم!

کیا خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی واپس آجائے گی ؟یہ ایک سوال ہے جو آج کل تقریبا ًتمام حلقوں میں پوچھا جارہا ہے ۔بظاہر تو یہ مشکل لگ رہا ہے لیکن پس پردہ اس کیلئے کوششیں جاری ہیں۔

بلوچستان: قربانیاں، چیلنجز اور ذمہ داریاں!

بلوچستان میں ایک طرف سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں کر رہی ہیں اور اہلکار اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں تو دوسری طرف اغوا، دھماکوں، فائرنگ اور شہریوں کے عدم تحفظ کی خبریں مسلسل توجہ حاصل کر رہی ہیں۔

آزاد کشمیر، سیاسی صف بندی یا دھڑے بندی؟

آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں مسلم لیگ (ن) ایک بار پھر اندرونی خلفشار، قیادت کے سوال اور باہمی سیاسی اختلافات کے باعث توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔