غالب بیسویں صدی کے شعرا کی زبانی

تحریر : ڈاکٹر اشرف علی


غالب کی شخصیت کسی سے پوشیدہ نہیں۔اردو شعرو ادب میں ان پر سب سے زیادہ کام ہو ا ہے ،ہو رہا ہے اور ہو تا رہے گا۔ہر زبان میں ان کی شاعری پر کام ہو ا۔

ان کے معاصرین نے بھی تذکروں اور اخباروں کے ذریعے خوب لکھا۔انیسویں اور بیسویں صدی کے اردو شاعروں نے بھی اپنی شاعری میں غالب کو تضمین کر تے ہوئے تعزیت کا اظہار کیا اور خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔شاعروں نے غالب کے تمام احوال وآثار ،فکرو فن ،عرفان و شعور اوران کی افہام و تفہیم کو سلیقے کے ساتھ قلم بند کیا۔غالب کو ان کے حیات میں وہ مقام نہیں ملا جو انہیں ملنا چاہیے تھا۔اس کی شکایت انہوں نے اپنی تحریروں میں جا بجا کی ہے۔زندگی کے مسائل اور حالات نے جو اُن سے خلافِ اقدار کام کروائے ان سے ان کا خانوادہ بھی قطع تعلق کرکے بالکل بے بہرہ ہو گیا تو ان کے اعزا و اقربا بے خبر۔مو لانا ابوالکلام آزاد نے غالب کے حادثۂ اسیری کے بعداُن کے اقربا کی بے مہری کو یو ں بیان کیا ہے’’جوں ہی میرزاگرفتار ہوئے اور رہائی کی طرف سے مایوسی ہوگئی۔نہ صرف دوستوں اور ہم جلیسوں نے بلکہ عزیموں نے بھی یک قلم آنکھیں پھیر لیں اور اس بات میں شرمندگی محسوس کر نے لگے کہ میرزا کے عزیز و اقارب تصور کئے جائیں۔اس باب میں خاندان ِلو ہارو کا جو طرزِ عمل رہا وہ نہایت افسوسناک تھا۔اس خاندان کا کوئی فرد نہ تو اُس زمانے میں میرزا سے ملااور نہ کسی طرح کی اعانت کی۔اتنا ہی نہیں بلکہ جب آگرہ کے ایک اخبار نے میرزا کا ذکر کرتے ہوئے خاندان لو ہارو کا رشتہ دار ظاہر کیاتو یہ بات اُن لو گوں پر نہایت شاق گز ری اور بہ اہتمام و تکلف اس کی تغلیط کرائی۔

یہ لکھوایا کہ میرزا صاحب اور خاندان ِ لوہارو کا کوئی نسبی تعلق نہیں ہے، محض دور کا سلبی تعلق ہے۔نواب ضیاالدین پر میرزا کو جس درجہ ناز تھا وہ ان کے قصیدے سے ظاہر ہے لیکن نہایت افسوس کے ساتھ یہ واقعہ لکھنا پڑ تا ہے کہ انہوں نے بھی آنکھیں پھیرلیں اور اسے کسرِ شان سمجھے کہ ایک اسیر جرم سے ملنے جائیں‘‘۔ غالب کے شاگرد محمد مردان علی خاں رعناؔ نے ان کی وفات کے بعد یہ تجویز رکھی کہ ا ن پر کوئی یادگاری لیکچر ہونا چاہیے۔اس لیے رعنا نے تجویز میں اس بات پر زور دیا کہ غالب کے شاگرد ہی نثری اور منظوم تحریریں لکھ کر دیں گے کیو نکہ ان کیلئے یہ یادگار خالص ادبی ہو گی اور کتاب کی شکل میں ہو گی۔جس کے دو حصے ہوں گے،ایک حصے میں ان شاگردو ں کے مضامین ہو ں گے اور دوسرے حصے میں غالب ہی کے نظموں اور مضامین کو یکجا کیا جائے گا،لیکن افسوس آج تک یہ دستاویز منظر عام پر نہیں آسکی اور رعنا کی یہ خواہش تشنہ تکمیل ہے۔

وفاتِ غالب پر لکھے گئے تعزیتی و تہنیتی منظوم شاعری کو یکجا کر نا بہت دشوار کن مرحلہ تھا۔ یوں تو غالب پر خواجہ الطاف حسین حالی کی ’’یاد گار ِ غالب‘‘ہر ایک کیلئے راہبر کی حیثیت رکھتی ہے جس سے میں نے بھی استفادہ کیا اس کے علاوہ عبدالرحمن بجنوری کی ’’محاسنِ کلامِ غالب‘‘ اور مالک رام کی ’’تلامذہ غالب‘‘ نے بھی اس بازیافت میں میری کافی مدد کی۔ نظم و نثر میں غالب پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔منظوم انداز میں شاعروں نے ان کی اہمیت اور قدرو منزلت کوخوب بیان کیا ہے۔غالب نے جس طرح شاعری کے ذریعے فکری اساس کی دعوت د ی ہے اوراپنے عہد کے مسائل کو پیش کیا ہے اس کو مدِ نظر رکھتے ہوئے غالب کی وفات کے بعد ان کے شاگردوں اور دیگر شاعروں نے اپنی شاعری میں ان کے دیدو دریافت کو مو ضوع بنا کر تضمین کی شکل دی ہے۔ان میں اہم نام شاگردِ غالب میں میر مہدی علی مجروح ، محمد حسین آزاد، خواجہ الطاف حسین حالی،قربان علی بیگ سالک اور بعد کے شعرا میں علامہ اقبال،اختر اورینوی ،خواجہ حسن نظامی جگر مرادآبادی، جمیل جالبی، ندرت کانپوری،فضاابن فیضی،حرمت الاکرام،والی آسی ،علی سردار جعفری ،ارشد تھانوی ،عبدالقادر ادیب،میلارام وفا،ماہر القادری ،صبا اکبرآبادی، عبدالرؤف عرج ،رئیس امرہوی ،تابش دہلوی اوردلاور فگاروغیرہ اہم ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

ڈیجیٹل لٹریسی، ہر خاتون کیلئے ضروری

آج کا دور ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ذرائع کا دور ہے۔ موبائل فون، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، آن لائن بینکنگ، ڈیجیٹل تعلیم اور آن لائن خریداری ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔

ٹونر، سیرم اور موئسچرائزر کس چیز کی کیا ضرورت ہے؟

آج کل جلد کی دیکھ بھال کیلئے مارکیٹ میں بے شمار مصنوعات دستیاب ہیں۔ فیس واش، ٹونر، سیرم، موئسچرائزر، سن سکرین اور مختلف اقسام کی کریمیں دیکھ کر اکثر یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ان میں سے کون سی چیز واقعی ضروری ہے اور کون سی صرف اضافی مرحلہ ہے۔

آج کاپکوان:کھیر

اجزا: باسمتی چاول : ایک چوتھائی کپ۔ دودھ:ایک لیٹر۔ چینی: آدھا کپ۔ الائچی پاؤڈر: آدھا چائے کا چمچ۔ بادام (باریک کٹے ہوئے) : دو چمچ۔ پستہ (باریک کٹا ہوا) : دو چمچ۔ کاجو : دو چمچ۔ کشمش : دو چمچ۔ عرق گلاب :ایک چائے کا چمچ۔

صبا اکبر آبادی زندہ روایت کے شاعر

ان کی شاعری میں شائستگی اور شگفتگی کے عنصر کے ساتھ ساتھ تاریخی تنقیدبھی ہے:شاعری تہذیبوں کی تہذیب ہے اور شاعر ان تہذیبوں کا صورت گر‘ یہ صورت اپنے مکمل خدو خال کے ساتھ نظر آنی چاہئے‘صرف ایک جذبہ بیان کیا تو گویا آپ نے زندگی کا آدھا چہرہ دیکھا :صباؔنے داغ کی طرح زبان و بیان کو مستند بنایا تو ساتھ ہی غزل میں غالب کی طرح عروجِ خیال اور عروج ِفکر کو شامل کیااور بڑے سے بڑے موضوع کو بھی سہل انداز میں بیان کیا

ایشین گیمز2026ء:پاکستان کے 4برونز میڈل

پہلا تمغہ عاصم خان، دوسرا ویمن کرکٹ ٹیم نے جیتا، دو برونز میڈل سکواش کے کھلاڑیوں کے نام، قومی ہاکی ٹیم کی3فتوحات:بیڈ منٹن پلیئر ماحور شہزاد، ایتھلیٹ شجر عباس،خولہ عمر خان اور باکسرفاطمہ زہرا ،محمد عرفان کا ایشین گیمز میں سفر ختم ہو گیا:ایشین گیمز کے ڈرا کے مطابق پاکستان اور بھارت کو الگ الگ گروپس میں رکھا گیا ہے، روایتی حریفوں کا سیمی فائنل میں سامنا ہونا ناممکن ہے

ابراراحمد ٹی20 بائولنگ کابادشاہ

آئی سی سی کی تازہ رینکنگ:بیٹنگ میں پاکستان کے صاحبزادہ فرحان تیسری پوزیشن پر موجود:شوال ذوالفقار نے بیٹنگ رینکنگ میں 16 درجے ترقی کرکے 29ویں جبکہ عائشہ ظفر 31 درجے بہتری حاصل کرتے ہوئے 40ویں پوزیشن سنبھال لی،سعدیہ اقبال ٹی ٹوئنٹی بالنگ میں 8ویں جبکہ فاطمہ ثناء 24ویں پوزیشن پرآگئیں۔