غالب بیسویں صدی کے شعرا کی زبانی
غالب کی شخصیت کسی سے پوشیدہ نہیں۔اردو شعرو ادب میں ان پر سب سے زیادہ کام ہو ا ہے ،ہو رہا ہے اور ہو تا رہے گا۔ہر زبان میں ان کی شاعری پر کام ہو ا۔
ان کے معاصرین نے بھی تذکروں اور اخباروں کے ذریعے خوب لکھا۔انیسویں اور بیسویں صدی کے اردو شاعروں نے بھی اپنی شاعری میں غالب کو تضمین کر تے ہوئے تعزیت کا اظہار کیا اور خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔شاعروں نے غالب کے تمام احوال وآثار ،فکرو فن ،عرفان و شعور اوران کی افہام و تفہیم کو سلیقے کے ساتھ قلم بند کیا۔غالب کو ان کے حیات میں وہ مقام نہیں ملا جو انہیں ملنا چاہیے تھا۔اس کی شکایت انہوں نے اپنی تحریروں میں جا بجا کی ہے۔زندگی کے مسائل اور حالات نے جو اُن سے خلافِ اقدار کام کروائے ان سے ان کا خانوادہ بھی قطع تعلق کرکے بالکل بے بہرہ ہو گیا تو ان کے اعزا و اقربا بے خبر۔مو لانا ابوالکلام آزاد نے غالب کے حادثۂ اسیری کے بعداُن کے اقربا کی بے مہری کو یو ں بیان کیا ہے’’جوں ہی میرزاگرفتار ہوئے اور رہائی کی طرف سے مایوسی ہوگئی۔نہ صرف دوستوں اور ہم جلیسوں نے بلکہ عزیموں نے بھی یک قلم آنکھیں پھیر لیں اور اس بات میں شرمندگی محسوس کر نے لگے کہ میرزا کے عزیز و اقارب تصور کئے جائیں۔اس باب میں خاندان ِلو ہارو کا جو طرزِ عمل رہا وہ نہایت افسوسناک تھا۔اس خاندان کا کوئی فرد نہ تو اُس زمانے میں میرزا سے ملااور نہ کسی طرح کی اعانت کی۔اتنا ہی نہیں بلکہ جب آگرہ کے ایک اخبار نے میرزا کا ذکر کرتے ہوئے خاندان لو ہارو کا رشتہ دار ظاہر کیاتو یہ بات اُن لو گوں پر نہایت شاق گز ری اور بہ اہتمام و تکلف اس کی تغلیط کرائی۔
یہ لکھوایا کہ میرزا صاحب اور خاندان ِ لوہارو کا کوئی نسبی تعلق نہیں ہے، محض دور کا سلبی تعلق ہے۔نواب ضیاالدین پر میرزا کو جس درجہ ناز تھا وہ ان کے قصیدے سے ظاہر ہے لیکن نہایت افسوس کے ساتھ یہ واقعہ لکھنا پڑ تا ہے کہ انہوں نے بھی آنکھیں پھیرلیں اور اسے کسرِ شان سمجھے کہ ایک اسیر جرم سے ملنے جائیں‘‘۔ غالب کے شاگرد محمد مردان علی خاں رعناؔ نے ان کی وفات کے بعد یہ تجویز رکھی کہ ا ن پر کوئی یادگاری لیکچر ہونا چاہیے۔اس لیے رعنا نے تجویز میں اس بات پر زور دیا کہ غالب کے شاگرد ہی نثری اور منظوم تحریریں لکھ کر دیں گے کیو نکہ ان کیلئے یہ یادگار خالص ادبی ہو گی اور کتاب کی شکل میں ہو گی۔جس کے دو حصے ہوں گے،ایک حصے میں ان شاگردو ں کے مضامین ہو ں گے اور دوسرے حصے میں غالب ہی کے نظموں اور مضامین کو یکجا کیا جائے گا،لیکن افسوس آج تک یہ دستاویز منظر عام پر نہیں آسکی اور رعنا کی یہ خواہش تشنہ تکمیل ہے۔
وفاتِ غالب پر لکھے گئے تعزیتی و تہنیتی منظوم شاعری کو یکجا کر نا بہت دشوار کن مرحلہ تھا۔ یوں تو غالب پر خواجہ الطاف حسین حالی کی ’’یاد گار ِ غالب‘‘ہر ایک کیلئے راہبر کی حیثیت رکھتی ہے جس سے میں نے بھی استفادہ کیا اس کے علاوہ عبدالرحمن بجنوری کی ’’محاسنِ کلامِ غالب‘‘ اور مالک رام کی ’’تلامذہ غالب‘‘ نے بھی اس بازیافت میں میری کافی مدد کی۔ نظم و نثر میں غالب پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔منظوم انداز میں شاعروں نے ان کی اہمیت اور قدرو منزلت کوخوب بیان کیا ہے۔غالب نے جس طرح شاعری کے ذریعے فکری اساس کی دعوت د ی ہے اوراپنے عہد کے مسائل کو پیش کیا ہے اس کو مدِ نظر رکھتے ہوئے غالب کی وفات کے بعد ان کے شاگردوں اور دیگر شاعروں نے اپنی شاعری میں ان کے دیدو دریافت کو مو ضوع بنا کر تضمین کی شکل دی ہے۔ان میں اہم نام شاگردِ غالب میں میر مہدی علی مجروح ، محمد حسین آزاد، خواجہ الطاف حسین حالی،قربان علی بیگ سالک اور بعد کے شعرا میں علامہ اقبال،اختر اورینوی ،خواجہ حسن نظامی جگر مرادآبادی، جمیل جالبی، ندرت کانپوری،فضاابن فیضی،حرمت الاکرام،والی آسی ،علی سردار جعفری ،ارشد تھانوی ،عبدالقادر ادیب،میلارام وفا،ماہر القادری ،صبا اکبرآبادی، عبدالرؤف عرج ،رئیس امرہوی ،تابش دہلوی اوردلاور فگاروغیرہ اہم ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments