بیرونی محاذ پر پذیرائی، اندرونی استحکام کب آئے گا؟

تحریر : سلمان غنی


چاراکتوبر کے لانگ مارچ کے حوالہ سے پی ٹی آئی میں یکسوئی کا فقدان ہے اس لیے یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ پی ٹی آئی چار مارچ کو بھی لانگ مارچ کر سکے گی۔

سیاسی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ کسی احتجاج کا مومینٹم ٹوٹ جائے تو اس کی بحالی ممکن نہیں ہوتی ۔ پی ٹی آئی کو یہی صورتحال در پیش ہے ۔ اگرچہ اب بھی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی مُصر ہیں مگر چار اکتوبر کو وہ لانگ مارچ کر پائیں گے،یہ بڑا سوال۔ اطلاعات یہی ہیں کہ ملک بھر میں اس حوالہ سے کوئی تحریک موجود نہیں۔ پنجاب کے سیاسی محاذ پر تو پی ٹی آئی کی سرگرمیاں دیکھنے کو نہیں مل رہیں۔ مطلب یہ کہ ایک مرتبہ پھر خیبر پختونخوا کو ہی متحرک کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ 

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی لانگ مارچ کیلئے تیار نظر آ رہے ہیں مگران کی اپنی جماعت میں اس ضمن میں واضح تقسیم نظر آ تی ہے جس کا اظہار پی ٹی آئی کے سینئر رہنما شوکت یوسفزئی کے خط سے ہوجاتا ہے جو لانگ مارچ کے اقدام کو موجودہ حالات میں کارگر نہیں سمجھتے۔ اپوزیشن کی لیڈر شپ بھی اس حوالہ سے یکسو دکھائی نہیں دیتی اور مسائل کے پرامن حل پر زور دیتی نظر آ رہی ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس کی جانب سے حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کی گئی اور 27ستمبر کے لانگ مارچ کی منسوخی کے بعد خود وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بھی بامقصد مذاکرات کی بات کرتے نظر آئے۔ مگرسیاسی محاذ پر ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ مذاکرات کی پیشکش کو کسی سنجیدہ عمل کی بجائے ہمیشہ کمزوری سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ایک وقت تھا کہ پی ٹی آئی کی احتجاجی قوت کے باعث حکومت پی ٹی آئی کی لیڈر شپ سے مذاکرات کی بات کرتی نظر آ رہی تھی اور خود وزیراعظم شہبازشریف نے پارلیمنٹ کے فورم سے اپوزیشن سے بامقصد مذاکرات کی پیشکش کی لیکن اسمبلی میں پی ٹی آئی کی لیڈر شپ نے اس کا مثبت جواب نہ دیا۔ پھر وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ اور سپیکر ایاز صادق بھی اپوزیشن سے ورکنگ ریلیشنز کیلئے مذاکرات پر زور دیتے نظر آئے لیکن انہیں بھی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ۔اب نئی صورتحال میں دیکھا جائے تو پی ٹی آئی کو احتجاجی محاذ پر قوت نہ ملنے کے باعث اس جماعت کی جانب سے مذاکرات کی پیش کش کوکمزوری سمجھا جا رہا ہے ۔

 پی ٹی آئی ابھی تک کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ پا ئی کہ اس کے مارچ نتیجہ خیز کیوں نہیں بن رہے اور اس کی ہر بار کی احتجاجی کاوش الٹا نقصان کا باعث بنتی رہی ہے۔ اب بھی چاراکتوبر کے احتجاج کے حوالہ سے کیفیت یہ ہے کہ کوئی اسے سنجیدگی سے نہیں لے رہا اور جو تھوڑا بہت مومینٹم بنا تھا وہ لانگ مارچ مؤخر کرنے کا اعلان کرنے سے ختم ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب وزرا اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تحریک انصاف پر چوٹیں کرتے نظر آ رہے ہیں ۔خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی  کے نفاذ کی خبروں نے بھی خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کو دفاعی محاذ پر لا کھڑا کیا ہے۔ اپوزیشن کی لیڈر شپ کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کو بھی پذیرائی نہیں مل رہی بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ حکومت مذاکرات کی پیشکش کو سنجیدگی سے لینے کو تیار نہیں۔ حکومت کے اس مائنڈ سیٹ کی وجہ سے تحریک انصاف کے ساتھ حکومت کی کشمکش ختم ہوتی نظر نہیں آ رہی۔مگر یہ مائنڈ سیٹ جمہوری اور سیاسی سسٹم میں بہتر نہیں سمجھا جاتا۔ قومی مفاد میں ڈائیلاگ کے عمل کو ہی کارگر قرار دیا جا سکتا ہے، لہٰذا اب پی ٹی آئی اور حکومت کیلئے پھر سے چاراکتوبر کا چیلنج در پیش ہے اور فریقین کے درمیان ایک نفسیاتی جنگ جاری ہے۔ 

اطلاعات یہ ہیں کہ پی ٹی آئی کی لیڈر شپ سے پس پردہ رابطوں کا سلسلہ بھی جاری ہے اور اس حوالہ سے وزیر داخلہ محسن  نقوی سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ ماضی میں بھی وزیر داخلہ اپوزیشن کی لیڈر شپ سے رابطے میں تھے۔ اب نئی پیدا شدہ صورتحال میں یہ روابط کارگر ہونے کے امکانات اس لئے نظر آ رہے ہیں کہ اب نہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی میں پہلے والا  جوش و خروش ہے اور نہ ہی پی ٹی آئی میں پہلے والا احتجاجی دم خم نظر آ تا ہے۔ 

ویسے بھی دیکھا جائے تو پی ٹی آئی کی جانب سے آنے والے مطالبات کوئی بہت بڑے نہیں، وہ بانی پی ٹی آئی کے عزیزو اقارب کی ان سے ملاقات اور ہسپتال میں ان کے علاج کا مطالبہ کرتے نظر آ تے ہیں۔ سیاسی حوالہ سے اگر اپوزیشن کی لیڈر شپ کوئی مؤثر یقین دہانی کرا دے تو معاملات  طے ہو سکتے ہیں، لیکن اس کیلئے فریقین کو اپنے اپنے طرز عمل میں تبدیلی لانا ہوگی۔

 حکومت جو بیرونی محاذ پر کامیابیاں سمیٹتی نظر آ رہی ہے یہ کامیابیاں بھی تب ہی کارگر ہوسکتی ہیں جب ملک میں سیاسی استحکام آئے گا۔وزیراعظم شہبازشریف کے امریکہ سے واپسی پر دورہ لندن کا جائزہ لیا جائے تو یہاں ان کی عالمی مالیاتی اداروں کے حکام سے ہونے والی ملاقاتوں اور سرمایہ کاری میں ان کی پالیسی کو اہم قرار دیا جا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں  وزیراعظم شہبازشریف کے خطاب پر بھی اُن کی پذیرائی کی جارہی ہے اورمعاشی محاذ پر ان کے اقدامات کو بھی سراہا جا رہا ہے تو پھر ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ وزیراعظم کی حیثیت سے پاکستان کے سیاسی محاذ پر تنائو اور ٹکرائو کے خاتمہ کیلئے بھی اپنا کردار ادا کریں۔

 ویسے تو اطلاعات یہ ہیں کہ اس ہفتے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے وزیر اعظم کی آئینی تقرریوں کے معاملات پر ملاقات متوقع ہے۔ اچھی بات یہی ہو گی کہ وہ سیاسی محاذ پر بھی بڑا کردار ادا کریں اور سنجیدہ مذاکراتی عمل یقینی بناتے ہوئے ملک کو سیاسی استحکام سے ہمکنار کریں۔وزیر اعظم اگر ماضی کے بڑے حریفوں کو شدید تحفظات کے باوجود ساتھ لے کر چل سکتے ہیں تو آج کی اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ۔یہ ملک ،قوم اور حکومت کے بھی مفاد میں ہے اور اب تو مذاکرات کی پیشکش بھی اپوزیشن کی طرف سے ہو رہی ہے لہٰذا اس کا فائدہ اٹھایا جائے اور ملک کو مسلسل احتجاجی سیاست سے نجات دلائی جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

کیاخیبر پختونخوا میں گورنر راج لگے گا؟

پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے اسلام آباد لانگ مارچ کی تاریخ 27ستمبر سے بڑھا کر چار اکتوبر کیے جانے کے بعد سیاسی صورتحال میں وقتی طور پر کسی حد تک تبدیلی ضرور آئی لیکن اس کے ساتھ ہی ایک نئی اور زیادہ پیچیدہ بحث بھی شروع ہو گئی ہے۔

سندھ کی سیاست میں کئی محاذ

نئے صوبوں کے معاملے پر سندھ کی سیاسی صورتحال میں ان دنوں کچھ ٹھنڈ نظر آرہی ہے لیکن چٹ پٹے بیانات پھر بھی آ ہی جاتے ہیں۔

سہیل آفریدی کی مشکلات

وزیراعلیٰ خیبرپختونخواگھر جارہے ہیں؟یہ وہ سوال ہے جو آج کل زبان زد عام ہے ۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کیسے جائیں گے؟ اس کے دو طریقہ کار ہو سکتے ہیں۔

بلوچستان : امن، ترقی اور عوامی حقوق

ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل، عوامی حقوق کا تحفظ، سیاسی اعتماد کی بحالی، امن و امان کا قیام اور معاشی سرگرمیوں کا فروغ ایک دوسرے سے الگ نہیں؛چنانچہ کوئٹہ میں جناح پیپلز میٹرو ٹرین سروس کا افتتاح صوبے کے کشیدہ حالات میں تازہ ہوا کا جھونکا سمجھا جارہا ہے۔

کشمیر کونسل انتخابات اور 16ویں آئینی ترمیم

آزاد جموں وکشمیر میں نئی حکومت کے قیام کے بعد سیاسی سرگرمیوں میں تیزی ہے۔

ڈیجیٹل لٹریسی، ہر خاتون کیلئے ضروری

آج کا دور ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ذرائع کا دور ہے۔ موبائل فون، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، آن لائن بینکنگ، ڈیجیٹل تعلیم اور آن لائن خریداری ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔