میراث سے بنامیراثی
اسپیشل فیچر
’’میراثی‘‘ کا لفظ ’’میراث‘‘ سے نکلا ہے۔ عربی میں میراث کے معنی وراثت ہیں۔ خطہ پاک و ہند میں انیسویں صدی عیسوی کے اواخر میں جو بندوبست ہوئے، ان سے پہلے مالکانہ حقوق یا خاندانی وراثت کا کوئی باقاعدہ ریکارڈ رکھنے کا طریقہ موجود نہ تھا اور نہ ہی کسی قسم کا قوموں یا گوتوں کا ریکارڈ رکھا جاتا تھا بلکہ یہ ریکارڈ میراثیوں کے دل پر نقش ہوتا تھا جو خصوصاً اپنے اپنے علاقوں کی گوتوں کے شجرہ ہائے نسب یاد رکھتے تھے اور پشت درپشت اپنی نسلوں کو بتاتے تھے۔ یہ لوگ ایک قسم کے جینالوجسٹ ہوتے تھے جس میں یہ فن پشت در پشت چلتا تھا۔ وراثت کے جھگڑوں، مالک اعلیٰ یا مالک ادنیٰ کے تعین، یا قوم، گوت اور برادری کے تعین میں میراثیوں کی رائے کو حتمی حیثیت حاصل ہوا کرتی تھی۔ علاوہ ازیں یہ لوگ ہر قوم برادری یا گوت کے بزرگوں کے کارنامے بھی زبانی یاد رکھتے تھے۔ فلاں قوم میں فلاں سورما گزرا ہے جس نے فلاں فلاں کارنامے سرانجام دیئے تھے، فلاں قوم کا جدامجد فلاں فلاں اوصاف حمیدہ کا مالک تھا، فلاں قوم نے فلاں قوم سے لڑائی یا جھگڑے کے دوران فلاں فلاں بہادری کے کارنامے دکھائے تھے وغیرہ وغیرہ۔ یہ تمام باتیں میراثیوں کو زبانی یاد ہوتی تھیں۔ خصوصاً شجرہ ہائے نسب کے یاد رکھنے میں وہ اس قدر تیز ہوتے تھے کہ ایک ہی سانس میں کسی قوم کا صدیوں پر محیط شجرہ نسب پڑھ ڈالتے تھے۔ زمینی، جنسی یا دیگر قبائلی وراثت کے تعین ضمن میں چونکہ انہیں معتبر سمجھا جاتا تھا لہٰذا اسی وجہ سے ان کا نام میراثی پڑ گیا۔ یعنی میراث (یاد) رکھنے والا۔ گویا اپنے علاقے کی ہر قوم اور ہر گوت نیز ان کی ذیلی شاخوں کا پشت در پشت علم رکھنا اس ذہین و فطین قوم کا پیشہ رہا ہے۔ اب چونکہ زمینوں کے بندوبست ہو چکے ہیں اور گوتوں کا باقاعدہ ریونیویکارڈ رکھا جاتا ہے لہٰذا میراثی یہ پیشہ ترک کرتے جا رہے ہیں تاہم اب بھی نسبتاً دیہاتوں میں لوگ اپنے اجداد کے کارنامے میراثیوں سے ہی سننا پسند کرتے ہیں۔ دور ماضی میںعموماً میراثی ہی رشتوں اور ناطے کے پیغام ایک خاندان سے دوسرے خاندان میں لے کر جاتے تھے۔ ہمارے کئی دیہات میں ایسا اب بھی ہوتا ہے۔ اس موقعہ پر فریقین کے میراثی اپنے اپنے علاقے کے وڈیروں کی خاندانی و روایتی بہادری کے قصوں کے ساتھ ساتھ ان کے خالص نسل ہونے کے بھی کئی قصے بیان کرتے تھے۔ اسی بنا پر خصوصاً پنجاب میں شادی بیاہ کی رسمیں بھی میراثیوں کے ذریعے ہی انجام پاتی ہیں۔ آج بھی میراثیوں کو اپنے گائوں اور نواحی مواضعات کی ہر قوم اور ہر گوت کی بن بیاہی لڑکیوں اور کنوارے لڑکوں کے کوائف از بر ہوتے ہیں۔ رشتہ طے کروانے کے بعد شادی کے موقع پر خوشی کی تمام رسموں پر بھی عموماً میراثی ہی چھائے رہتے ہیں۔ ڈھول و شہنائی بجانا، ویلیں اور نیوندرے لینا وغیرہ انہیں لوگوں کی ڈیوٹی میں شامل ہوتا ہے۔ یہ لوگ ہر قسم کے مقامی و روایتی ساز بجانے کے علاوہ گانے میں بھی مہارت تامہ رکھتے ہیں اور یہ فن اپنی اولادوں کو پشت در پشت منتقل کرتے ہیں۔ مرد میراثی تو ڈھول و شہنائی کے ذریعے مردوں کو ضیافت طبع کا سامان مہیا کرتے ہیں جبکہ ان کی خواتین (میراثنیں) ڈھولک وغیرہ بجا کر چار دیواری یا زنان خانہ میں خواتین کی دلچسپی کا سامان مہیا کرتی ہیں۔ میراثی عام طور پر گھوڑے پالتے تھے۔ یہ گھوڑے جہاں ان کے پیشہ پیغام رسانی کے لیے ضروری تھے وہاں ان کے ذریعے فصلوں کی کٹائی کے موقع پر وہ کھیتوں میں جا کر زمینداروں اور کسانوں سے غلہ و اناج کی بخششیں بھی طلب کرکے لاتے تھے۔ کسی بھی گائوں یا شہر کے وڈیرے کے لیے کسی میراثی کو اپنے گھر میں ملازم رکھنا بے حد ضروری تھا۔ جس کے پاس بطور ملازم یا خادم میراثی نہ ہوتا تھا اسے سرے سے وڈیرا سمجھا ہی نہیں جاتا تھا۔ (غلام اکبر ملک کی کتاب’پاکستان کی سیاہ فام اقوام‘ سے ماخوذ،اسے العقاب پبلیکیشنز،نے لاہور سے چھاپا)