عدیم ہاشمی

عدیم ہاشمی

اسپیشل فیچر

تحریر :


عدیم ہاشمی کی شہزاد احمد کے ساتھ بہت دوستی تھی۔ شہزاد احمد کے گھر میں ایک پورٹریٹ لگا تھا جو عدیم ہاشمی کی مصوری کا کمال تھا۔ اس پر شہزاد احمد کا مصرع آج بھی لکھا ہوا ہے۔ ’’میں اس لیے ہوں کہ اک شخص دیکھتا ہے مجھے‘‘۔ ان دنوں ان کا ڈرامہ ’آغوش‘ چل رہا تھا ’’کٹ ہی گئی جدائی بھی کب یہ ہوا کہ مر گئے۔ تیرے بھی دن گزر گئے میرے بھی دن گزر گئے‘‘۔ وہ لاہور آتے توملاقات ہوتی۔ ہم دونوں پی ٹی وی سے شہزاد احمد کے گھر کے لیے روانہ ہوئے۔ راستے میں ہم ایک ریڑھی پر دہی بڑھے کھانے کے لیے رکے۔ کہنے لگے ’’یار میرا پیالہ مرچ کے بغیر ہوگا‘‘۔ میں نے ریڑھی والے سے کہا ’’ان کے حصے کی مرچیں میرے پیالے میں ڈال دینا‘‘۔ وہ میرا مذاق نہیں سمجھا۔ اس نے سچ مچ ایک پیالے میں ڈبل مرچیں ڈال دیں اور اس پر غضب یہ کیا کہ وہ پیالہ عدیم ہاشمی کو تھما دیا۔ انہوں نے ایک ہی چمچ منہ میں ڈالا تو بلبلا اٹھے اور سی سی کرنے لگے۔ خیر ہم نے پیالے بدل لیے۔عدیم ہاشمی بیمار پڑے تو حالت بگڑتی گئی۔ شیخ زید ہسپتال داخل ہوئے اور میں ان سے ملنے پہنچا۔ وہیں فاخرہ بتول اسلام آباد سے آئی ہوئی تھی۔ باتیں شروع ہو گئیں۔ مکالماتی غزل پر ان کا احمد ندیم قاسمی صاحب کے ساتھ کوئی اختلاف چل رہا تھا جس کے باعث عدیم ہاشمی نے منصورہ احمد کے خلاف ایک دیباچے میں منفی اظہارِ خیال کیا تھا۔ میں نے انہیں کہا ’’عدیم صاحب! آپ ایک سچے اور کھرے شاعر ہیں۔ آپ کو اس طرح سے ردعمل کرنا کسی بھی صورت زیب نہیں دیتا۔ آپ احمد ندیم قاسمی اور منصورہ احمد کے بارے میں یکسر خاموشی اختیار کرلیں وہ مسکراتے رہے۔ جب میں اٹھ کر آنے لگا تو کہنے لگے ’’یار سعد! کل پھر آنا کل بھی ہم ’بدکھوئیاں‘ کریں گے‘‘۔ میں نے کہا ’’آپ کی صحت کے لیے جو کچھ بھی مفید ہے میں وہ ضرور کروں گا‘‘۔ قہقہہ لگا کر ہنسنے لگے۔ ساتھ ہی انہوں نے سرہانے کے پاس رکھا اپنا نیا شعری مجموعہ میرے نام لکھا۔ اس مجموعے میں ساری غزلیں معروف لوگوں کی زمینوں میں کہی گئی تھیں اور دوسروں کی زمینوں میں سخن کی ایسی فصل بوئی کہ خدا کی پناہ۔ ایک ہے میری انا ایک انا کس کی ہےکس نے دیوار اٹھا دی مری دیوار کے ساتھغم کی دکان کھول کے بیٹھا ہوا تھا میںآنسو نکل پڑے ہیں خریدار دیکھ کر عدیم صرف اقبال کی زمین میں کوئی بڑی غزل نہیں کہہ سکے۔ اقبال کی زمین میں کسی کی فصل اگتی ہی نہیں۔ اس کے بعد ان سے ملاقات نہیں ہوئی۔ وہ زیادہ بیمار ہوئے تو امریکہ چلے گئے۔ جہاں افتخار نسیم افتی نے ان کی دیکھ بھال کی مگر ’’موت کا ایک دن معین ہے‘‘۔ عدیم کے شعر انتخاب کرنے پر بھی بے شمار ہیں۔ چلیے دو تین شعر آپ کی نذر کر دیتا ہوں:بہت نزدیک آتے جا رہے ہوبچھڑنے کا ارادہ کر لیا کیابچھڑ کے تجھ سے نہ دیکھا گیا کسی کا ملاپاڑا دئیے ہیں پرندے شجر پہ بیٹھے ہوئےتمام عمر کا ہے ساتھ آب و ماہی کاپڑے جو وقت تو پانی نہ جال میں آوےاس کی مکالماتی غزل کا ایک خوبصورت شعر اور ہے کہ اس نے کہا عدیم مرا ہاتھ تھامناچاروں طرف سے ہاتھ نمودار ہوگئے

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
مصنوعی ذہانت کی پیش رفت

مصنوعی ذہانت کی پیش رفت

کمپیوٹر سائنس کے 27 سالہ نظریے کو چیلنجمصنوعی ذہانت (AI) کی دنیا میں ایک ایسی پیش رفت سامنے آئی ہے جس نے سائنسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ معروف سائنسی جریدے'' سائنس ‘‘کی ایک رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی اور اینتھروپک (Anthropic) نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے مصنوعی ذہانت کے سسٹمز نے کمپیوٹر سائنس کے ایک اہم اور تقریباً 27 سال پرانے نظریے کو غلط ثابت کرنے کی سمت میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے۔ اگر ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ پیش رفت تھیوریٹیکل کمپیوٹر سائنس میں کئی دہائیوں سے جاری تحقیق کے بعض بنیادی مفروضوں پر نظرثانی کا باعث بن سکتی ہے۔یہ محض مصنوعی ذہانت کی جانب سے کسی سوال کا جواب دینے یا کمپیوٹر پروگرام لکھنے کا معاملہ نہیں بلکہ ایک ایسے علمی مسئلے سے متعلق ہے جس پر محققین طویل عرصے سے کام کر رہے ہیں۔27 سالہ مفروضہ اور اس کی اہمیت؟اس ڈیویلپمنٹ کا محور ایک معروف سائنسی مفروضہ ہے جسے ایکسپونینشل ٹائم ہائپوتھیسس ( Exponential Time Hypothesisیا ETH) کہا جاتا ہے۔ اس مفروضے کا تعلق ان مسائل سے ہے جنہیں حل کرنے کے لیے کمپیوٹر کو مسئلے کے حجم میں اضافے کے ساتھ بہت زیادہ اضافی وقت درکار ہو سکتا ہے۔عام طور پر جب کمپیوٹر کو کسی چھوٹے مسئلے کا حل تلاش کرنا ہو تو وہ اسے نسبتاً آسانی سے حل کر سکتا ہے لیکن جب مسئلے میں متغیرامکانات یا ممکنہ حل کی تعداد بڑھتی ہے تو بعض مسائل کی پیچیدگی تیزی سے بڑھنے لگتی ہے۔ ایسے مسائل کے لیے کمپیوٹر کو زیادہ وقت، زیادہ طاقت اور زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔ETH اسی نوعیت کے مسائل کی پیچیدگی کے بارے میں ایک بنیادی مفروضہ ہے۔اگر یہ مفروضہ غلط ثابت ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ بعض ایسے مسائل کو حل کرنے کے لیے پہلے سے تصور کیے گئے طریقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز الگورتھم تیار کیے جا سکتے ہیں۔ اس صورت میں محققین کو ان نتائج کا دوبارہ جائزہ لینا پڑ سکتا ہے جو اس مفروضے کو درست تسلیم کرتے ہوئے اخذ کیے گئے تھے۔اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے دعوےاوپن اے آئی اور اینتھروپک مصنوعی ذہانت کے جدید نظام تیار کرنے والی نمایاں کمپنیاں ہیں۔ ان کی جانب سے سامنے آنے والے دعوؤں نے اس امکان کو تقویت دی ہے کہ جدید AI سسٹمز پیچیدہ علمی مسائل میں ایسے راستے تلاش کر سکتے ہیں جنہیں محققین نے طویل عرصے تک دریافت نہیں کیا۔رپورٹس کے مطابق اوپن اے آئی نے ایک ایسا طریقہ پیش کیا ہے جو مخصوص قسم کے منطقی فارمولوں کے ممکنہ حل کی درست تعداد معلوم کرنے کے لیے پہلے سے تصور کیے گئے حسابی طریقوں سے مختلف ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ نتیجہ ایکسپونینشل ٹائم ہائپوتھیسس کو چیلنج کرتا ہے۔ اینتھروپک کی جانب سے بھی اس مفروضے کے خلاف ایک الگ نتیجے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔کیا مصنوعی ذہانت انسانی تحقیق کی جگہ لے سکتی ہے؟اس پیش رفت نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ مصنوعی ذہانت مستقبل میں سائنسی تحقیق کے روایتی طریقوں کو تبدیل کر دے گی؟ اس کا فوری جواب یہ ہے کہ AI تحقیق کے طریقوں کو ضرور تبدیل کر سکتی ہے لیکن انسانی محققین کی ضرورت ختم ہو جانے کا نتیجہ ابھی اخذ نہیں کیا جا سکتا۔مصنوعی ذہانت بڑے پیمانے پر معلومات کا تجزیہ کرنے، مختلف امکانات کو جانچنے، نئے ریاضیاتی راستے تلاش کرنے اور پیچیدہ دلائل مرتب کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ ایسے کام جن میں انسانی محققین کو کئی ماہ یا برس لگ سکتے ہیں ان کے بعض مراحل AI کی مدد سے تیز کیے جا سکتے ہیں۔اس کے باوجود ایک بنیادی فرق کو سمجھنا ضروری ہے کہ کسی نئے نتیجے کی نشاندہی کرنا اور اس نتیجے کو ثابت کرنا دو مختلف مراحل ہیں۔ مصنوعی ذہانت کوئی ایسی دلیل پیش کر سکتی ہے جو بظاہر درست معلوم ہو لیکن اس میں پوشیدہ غلطی، نامکمل مفروضہ یا مسئلے کی غلط تشریح موجود ہو سکتی ہے۔مستقبل کے امکانات اگر ایکسپونینشل ٹائم ہائپوتھیسس کے خلاف پیش کیے گئے نتائج کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس کے اثرات کمپیوٹر سائنس سے آگے بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ الگورتھم کی کارکردگی، پیچیدہ مسائل کے حل، منطقی نظاموں اور کمپیوٹیشنل تحقیق کے کئی شعبوں میں نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔تاہم یہ سمجھنا درست نہیں ہوگا کہ اس پیش رفت سے ہر مشکل کمپیوٹیشنل مسئلہ آسان ہو جائے گا۔ کمپیوٹر سائنس میں مختلف مسائل کی پیچیدگی الگ الگ ہوتی ہے اور ایک مفروضے کو چیلنج کرنے سے دوسرے تمام مسائل کے بارے میں خودبخود کوئی قطعی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔اس معاملے کا ایک اور پہلو سائنسی تحقیق کی اشاعت اور تصدیق کا طریقہ ہے۔ اگر مصنوعی ذہانت تیزی سے بڑی تعداد میں نئے نتائج اور تحقیقی مسودے تیار کرنے لگے تو ماہرین کے لیے ان کا جائزہ لینا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ اس لیے تحقیق کی شفافیت، ثبوتوں کی دستیابی، آزادانہ جانچ اور علمی ذمہ داری پہلے سے زیادہ اہم ہو جائیں گے۔ مصنوعی ذہانت کی اصل کامیابی کا پیمانہ صرف یہ نہیں ہوگا کہ وہ کتنے حیران کن دعوے پیش کرتی ہے بلکہ یہ ہوگا کہ ان میں سے کتنے دعوے سخت سائنسی جانچ کے بعد درست ثابت ہوتے ہیں۔ اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے حالیہ دعوے اس امکان کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت سائنسی دریافتوں میں زیادہ فعال کردار ادا کر سکتی ہے، لیکن اس پیش رفت کو تاریخ ساز قرار دینے سے پہلے اس کے ثبوتوں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

گندھارا تہذیب

گندھارا تہذیب

پاکستان کا تاریخی ورثہ،تاریخ کا درخشاں بابملک عزیز کی سرزمین ہزاروں سال کی تاریخ، تہذیبوں کے عروج و زوال اور ثقافتوں کی امین ہے۔ یہاں ایسی قدیم تہذیبوں نے جنم لیا جن کے اثرات آج بھی عالمی تاریخ، فنونِ لطیفہ اور علمی روایت میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہی تہذیبوں میں گندھارا کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے جس نے برصغیر کی تاریخ میں نہ صرف مذہبی اور ثقافتی حوالے سے اہم کردار ادا کیا بلکہ مشرق و مغرب کے درمیان تہذیبی روابط کو بھی نئی جہت عطا کی۔یہی وجہ ہے کہ گندھارا کے آثار دنیا بھر کے محققین، ماہرینِ آثارِ قدیمہ، تاریخ دانوں اور سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔گندھارا تہذیب،تاریخ کا درخشاں باب گندھارا قدیم زمانے میں ایک اہم تاریخی اور ثقافتی خطہ تھا جس کا مرکز موجودہ خیبر پختونخوا کے علاقے خصوصاً پشاور کی وادی اور اس کے گردونواح میں واقع تھا۔ اس کے تہذیبی روابط شمالی پاکستان اور مشرقی افغانستان کے مختلف علاقوں تک پھیلے ہوئے تھے۔ ٹیکسلا، پشاور، تخت بھائی اور سوات اس تاریخی خطے کے اہم مراکز میں شمار ہوتے ہیں۔ گندھارا کی اہمیت اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ یہ مختلف ادوار میں ایرانی، یونانی، وسط ایشیائی اور برصغیر کی تہذیبی روایات کا سنگم رہا۔اس خطے نے مختلف سیاسی ادوار دیکھے جن میں ہخامنشی ایرانی سلطنت، سکندرِ اعظم کی مہمات، موریہ سلطنت اور بعد ازاں ہند یونانی اور کُشان حکمرانوں کے ادوار نمایاں ہیں۔ بالخصوص کُشان دور میں گندھارا کے فنون اور مذہبی سرگرمیوں نے غیر معمولی ترقی کی۔ ان سیاسی تبدیلیوں کے باوجود یہ خطہ تجارتی، ثقافتی اور مذہبی روابط کے باعث اپنی اہمیت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔بدھ مت، فنِ تعمیر اور مجسمہ سازیگندھارا تہذیب کی سب سے نمایاں شناخت بدھ مت کے آثار اور فنِ مجسمہ سازی ہے۔ اس خطے میں بدھ مت نے مختلف ادوار میں فروغ پایا اور یہاں متعدد خانقاہیں، سٹوپے، عبادت گاہیں اور تعلیمی مراکز قائم ہوئے۔ ان مقامات پر مذہبی تعلیم، عبادت اور علمی سرگرمیوں کے ساتھ فنونِ لطیفہ کو بھی ترقی ملی۔گندھارا آرٹ کی خصوصیت اس کا منفرد فنی امتزاج ہے۔ یہاں بدھ مت کی مذہبی علامتوں اور روایات کو یونانی اور رومی فن کے بعض اسالیب کے ساتھ اس انداز میں یکجا کیا گیا کہ ایک نئی فنی روایت نے جنم لیا۔ بدھ کے مجسموں میں چہرے کے خدوخال، لباس کی تہیں، بالوں کی ساخت اور جسمانی تناسب اس فنی مہارت کی عکاسی کرتے ہیں۔ گندھارا کے فن کا اثر برصغیر سے آگے وسطی ایشیا اور مشرقی ایشیا تک پہنچا۔ بدھ مت کے پھیلاؤ کے ساتھ اس کے فنون اور علامتی انداز بھی مختلف علاقوں میں منتقل ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ گندھارا کو بدھ مت کے عالمی ثقافتی ورثے میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔ ٹیکسلا، تخت بھائی اور سوات گندھارا تہذیب کے آثار کئی اہم مقامات پر موجود ہیں جن میں ٹیکسلا، تخت بھائی اور سوات کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ ٹیکسلا قدیم دور میں تجارت، تعلیم اور ثقافتی روابط کا ایک اہم مرکز تھا۔ یہاں کے آثار مختلف تاریخی ادوار کی کہانی بیان کرتے ہیں اور اس خطے کے وسیع بین الاقوامی تعلقات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ٹیکسلا کے آثار کو 1980ء میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا۔اسی طرح تخت بھائی کی بدھ خانقاہیں گندھارا فنِ تعمیر کا اہم نمونہ ہیں۔ پہاڑی مقام پر قائم یہ آثار خانقاہی زندگی، مذہبی سرگرمیوں اور قدیم تعمیراتی مہارت کو واضح کرتی ہیں۔ تخت بھائی کو بھی 1980ء میں عالمی ثقافتی ورثے کا درجہ دیا گیا۔سوات کی وادی بھی گندھارا تہذیب کے اہم مراکز میں شمار ہوتی ہے جہاں بدھ مت کے سٹوپے، خانقاہیں اور دیگر آثار دریافت ہوئے ہیں۔ ان مقامات سے ملنے والے مجسمے، سکے، کتبے اور تعمیراتی باقیات اس خطے کی مذہبی، معاشی اور سماجی تاریخ کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔یہ تاریخی مقامات محض پتھر کی عمارتیں یا ماضی کے کھنڈرات نہیں بلکہ انسانی تخلیق، علمی سرگرمیوں اور ثقافتی روابط کی ایسی دستاویزات ہیں جنہیں محفوظ رکھنا ہماری قومی اور عالمی ذمہ داری ہے۔تاریخی ورثے کا تحفظگندھارا تہذیب ایک قیمتی تاریخی اثاثہ ہونے کے ساتھ ساتھ ثقافتی سفارتکاری، تحقیق اور سیاحت کے وسیع امکانات بھی رکھتی ہے۔ بدھ مت کے پیروکاروں اور گندھارا آرٹ سے دلچسپی رکھنے والے محققین کے لیے پاکستان کے یہ مقامات غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر ان آثار کا مؤثر تحفظ کیا جائے، جدید تحقیقی سہولتیں فراہم کی جائیں اور بین الاقوامی سطح پر ان کی بہتر تشہیر کی جائے تو پاکستان علمی اور ثقافتی سیاحت کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے صرف تاریخی مقامات کی تزئین و آرائش کافی نہیں۔ آثارِ قدیمہ کے تحفظ کے لیے سائنسی طریقوں کا استعمال، ماہرین کی تربیت، مقامی آبادی کی شمولیت، مناسب حفاظتی انتظامات اور تحقیقی اداروں کے درمیان تعاون ضروری ہے۔ گندھارا تہذیب کو محض ایک قدیم تاریخی ورثہ سمجھنے کے بجائے اپنی تہذیبی میراث اور عالمی ثقافتی ورثے کے اہم حصے کے طور پر پیش کرنا چاہیے ۔ اس ورثے کی حفاظت، تحقیق اور مؤثر تشہیر نہ صرف ماضی سے ہمارے تعلق کو مضبوط کرے گی بلکہ پاکستان کے روشن ثقافتی مستقبل کی تشکیل میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔

آج کا دن

آج کا دن

توتن خامن مقبرے کا سراغ 4 نومبر 1922ء کو برطانوی ماہرِ آثارِ قدیمہ ہاورڈ کارٹر اور ان کی ٹیم نے مصر کی وادی ملوک میں فرعون توتن خامن کے مقبرے کی سیڑھیوں کا سراغ لگایا۔ توتن خامن قدیم مصر کے اٹھارہویں شاہی خاندان کا فرعون تھا جس نے تقریباً 1332 قبل مسیح سے 1323 قبل مسیح تک حکومت کی۔ہاورڈ کارٹر کئی برس سے اس کے مقبرے کی تلاش میں مصروف تھا۔ 4 نومبر کو کارٹر کی ٹیم کو زمین میں دبی ہوئی سیڑھیوں کا پہلا واضح نشان ملا۔ بعد ازاں سیڑھیاں صاف کی گئیں اور مقبرے کے بند دروازے تک رسائی حاصل ہوئی۔ 26 نومبر 1922ء کو کارٹر نے مقبرے کے اندر جھانک کر وہ تاریخی منظر دیکھا جس نے قدیم مصری تہذیب کے بارے میں تحقیق کو نئی جہت دی۔ امریکی سفارت خانے پر قبضہ 4 نومبر 1979ء کو ایران کے دارالحکومت تہران میں ایرانی طلبہ نے امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر لیا اور سفارتی عملے اور دیگر افراد کو یرغمال بنا لیا۔اس کارروائی میں تقریباً 300 سے 500 طلبہ شریک تھے۔ ابتدا میں 66 امریکیوں سمیت متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا، بعد میں کچھ افراد کو رہا کر کے 52 امریکی یرغمالیوں کو 444 دن تک قید میں رکھا گیا۔امریکی صدر جمی کارٹر کی انتظامیہ نے یرغمالیوں کی رہائی کیلئے سفارتی مذاکرات کیے، اقتصادی پابندیاں عائد کیں اور اپریل 1980ء میں ایک ناکام فوجی کارروائی بھی کی۔ یہ بحران 20 جنوری 1981ء کو ختم ہوا جب باقی ماندہ 52 یرغمالیوں کو ایران نے رہا کر دیا۔اس واقعے نے دونوں ملکوں کے تعلقات میں گہری بداعتمادی پیدا کی۔ ہنگری انقلاب 4 نومبر 1956ء کو سوویت یونین کی فوج نے ہنگری میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی جس کا مقصد وہاں جاری عوامی انقلاب کو کچلنا تھا۔ یہ واقعہ سرد جنگ کی تاریخ میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس نے واضح کر دیا کہ سوویت قیادت مشرقی یورپ میں اپنے سیاسی اور فوجی اثرورسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔ہنگری میں انقلاب کا آغاز 23 اکتوبر 1956ء کو طلبہ کے احتجاج سے ہوا تھا۔ مظاہرین سیاسی آزادی، سوویت فوجوں کے انخلا، آزادانہ انتخابات اور حکومت میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے تھے۔ سوویت نے ان اقدامات کو اپنے علاقائی مفادات کے لیے خطرہ سمجھا؛ چنانچہ 4 نومبر کو سوویت ٹینکوں اور فوجی دستوں نے بداپسٹ سمیت ہنگری کے مختلف علاقوں میں کارروائی شروع کر دی۔ اسحاق رابین کا قتل4 نومبر 1995ء کو اسرائیل کے وزیراعظم اسحاق رابین کو تل ابیب میں ایک امن ریلی کے اختتام پر قتل کر دیا گیا۔اسحاق رابین اسرائیل 1992ء میں دوسری مرتبہ اسرائیل کا وزیراعظم منتخب ہوا تھا۔ اس کی حکومت کے دوران اسرائیل اور پی ایل اوکے درمیان خفیہ مذاکرات ہوئے جن کے نتیجے میں 1993ء میں اوسلو معاہدے پر دستخط کیے گئے۔4 نومبر کو رابین تل ابیب میں امن کے حق میں منعقد ہونے والی ایک ریلی میں شرکت کے بعد جب اپنی گاڑی کی طرف جا رہا تھا تو ایک اسرائیلی انتہا پسند نے اس پر فائرنگ کر دی۔ رابین کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ رابین کو امن مذاکرات میں اس کے کردار اور سیاسی مفاہمت کی کوششوں کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔ باراک اوباما صدر منتخب4 نومبر 2008ء کو صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار باراک اوباما نے کامیابی حاصل کی۔ وہ امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر منتخب ہوئے۔ یہ کامیابی امریکی سیاسی تاریخ میں ایک تاریخی سنگِ میل تھی۔2008ء کے صدارتی انتخابات میں ان کا مقابلہ ریپبلکن پارٹی کے امیدوار جان مکین سے تھا۔ اس وقت امریکہ کو مالیاتی بحران، عراق اور افغانستان کی جنگوں اور معاشی مشکلات جیسے اہم مسائل کا سامنا تھا۔ اوباما نے اپنی انتخابی مہم میں معاشی بحالی، صحت کی سہولتوں میں بہتری، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور امریکی خارجہ پالیسی میں تبدیلی پر زور دیا۔انتخابات کے نتائج کے مطابق اوباما نے 365 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے جبکہ جان مکین کو 173 ووٹ ملے۔ مقبول ووٹوں میں بھی اوباما کو برتری حاصل رہی۔

 موسمیاتی تبدیلی:عالمی صحت کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ

موسمیاتی تبدیلی:عالمی صحت کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ

دنیا اس وقت موسمیاتی تبدیلی کے ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں اس کے اثرات محض ماحول، قدرتی وسائل اور معیشت تک محدود نہیں رہے بلکہ انسانی صحت اور زندگی کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، شدید گرمی کی لہریں، خشک سالی، سیلاب، فضائی آلودگی اور پانی کی قلت اب عالمی سطح پر صحت عامہ کے بحران کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کو صرف ماحولیاتی مسئلہ سمجھنا درست نہیں بلکہ اسے عالمی صحت کی ہنگامی صورتحال کے طور پر تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔'سائنس الرٹ ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے 146 ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی ادارہ صحت موسمیاتی تبدیلی کو عالمی صحت کی ہنگامی صورتحال قرار دینے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ ماہرین کی یہ تشویش اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں انسانی اموات، بیماریوں اور معاشی نقصانات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے نزدیک اب محض موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے آگاہ کرنا کافی نہیں بلکہ عالمی سطح پر مربوط حکمت عملی اور ہنگامی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔شدید گرمی، تشویشناک اضافہرپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں شدید گرمی انسانی زندگی کے لیے سب سے بڑے موسمیاتی خطرات میں شامل ہو چکی ہے۔ اندازوں کے مطابق 2023 ء میں تقریباً سات لاکھ دس ہزار اموات گرمی سے منسلک تھیں۔ ان میں سے 71.5 فیصد اموات کا تعلق موسمیاتی تبدیلی سے جوڑا گیا ہے۔ یہ اعدادوشمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے اثرات اب براہ راست انسانی جانوں کو متاثر کر رہے ہیں۔شدید گرمی انسانی جسم کے قدرتی نظام کو متاثر کرتی ہے۔ درجہ حرارت بڑھنے سے جسم میں پانی کی کمی، بلڈ پریشر میں تبدیلی، دل اور گردوں پر دباؤ اور ہیٹ سٹروک جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ بزرگ افراد، بچے، حاملہ خواتین اور پہلے سے مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ کھلے مقامات پر کام کرنے والے مزدور، کسان، تعمیراتی شعبے سے وابستہ کارکن اور ٹریفک کے نظام میں کام کرنے والے افراد بھی شدید خطرات سے دوچار ہیں۔موسمیاتی تبدیلی کے باعث گرمی کی شدت اور دورانیے میں اضافے نے معمول کی زندگی کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ کئی علاقوں میں گرمی کے باعث کام کے اوقات تبدیل کرنا پڑ رہے ہیں، تعلیمی ادارے بند کیے جا رہے ہیں اور ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اس صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ شدید گرمی اب صرف موسمی کیفیت نہیں بلکہ ایک ایسا صحت کا مسئلہ ہے جس کے لیے مستقل منصوبہ بندی درکار ہے۔معیشت اور روزگار پر دباؤموسمیاتی تبدیلی کے اثرات انسانی صحت کے ساتھ عالمی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2025ء میں شدید گرمی کے باعث عالمی سطح پر محنت اور پیداواری صلاحیت میں کمی سے تقریباً ایک1.07 ٹریلین ڈالر کا معاشی نقصان ہوا۔ اس نقصان کا بڑا حصہ ان شعبوں سے متعلق ہے جہاں کارکنوں کو کھلے ماحول میں جسمانی مشقت کرنا پڑتی ہے۔زراعت، تعمیرات اور دیگر محنت طلب شعبے شدید گرمی سے براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔ درجہ حرارت میں اضافے کے باعث مزدور طویل وقت تک کام کرنے کے قابل نہیں رہتے، کام کی رفتار کم ہو جاتی ہے اور حادثات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ کسانوں کے لیے بھی فصلوں کی کاشت، آبپاشی اور برداشت کے مراحل زیادہ مشکل ہوتے جا رہے ہیں۔ اس طرح موسمیاتی تبدیلی ایک طرف صحت کے اخراجات میں اضافہ کرتی ہے تو دوسری طرف روزگار، پیداوار اور آمدنی کو بھی متاثر کرتی ہے۔یہ مسئلہ ترقی پذیر ممالک کے لیے زیادہ سنگین ہے کیونکہ ان ممالک میں بڑی تعداد میں لوگ زراعت، تعمیرات اور غیر رسمی معیشت سے وابستہ ہیں۔ ان کے پاس نہ تو شدید گرمی سے بچاؤ کے مناسب وسائل ہوتے ہیں اور نہ ہی آمدنی کے متبادل ذرائع؛ چنانچہ موسمیاتی تبدیلی کا معاشی بوجھ بھی سب سے زیادہ کمزور طبقات کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔سیلاب، خشک سالی اور فضائی آلودگیموسمیاتی تبدیلی کا خطرہ صرف شدید گرمی تک محدود نہیں۔ سیلاب، خشک سالی، پانی کی قلت اور فضائی آلودگی بھی انسانی صحت کے لیے بڑے چیلنجز بن چکے ہیں۔ فضائی آلودگی بھی موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ جڑا ہوا ایک اہم مسئلہ ہے۔ فضا میں آلودہ ذرات اور نقصان دہ گیسوں کی موجودگی سانس اور دل کی بیماریوں میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ شہروں میں بڑھتی ہوئی گاڑیوں کی تعداد، صنعتی اخراج، کوڑا جلانے اور دیگر عوامل سے پیدا ہونے والی آلودگی انسانی صحت کے لیے مسلسل خطرہ بن رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں ہسپتالوں اور طبی مراکز پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ خطرے کی گھنٹیموسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو نسبتاً کم کاربن اخراج کے باوجود اس کے شدید اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ملک میں شدید گرمی کی لہریں، بے ترتیب مون سون بارشیں، سیلاب، خشک سالی، گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا اور پانی کی قلت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مسائل ہیں۔ ان کے اثرات نہ صرف ماحول بلکہ زراعت، معیشت اور صحت کے شعبوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ شدید گرمی کے دوران دیہی علاقوں میں کسان اور مزدور کھیتوں میں کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں جبکہ شہروں میں تعمیراتی کارکنوں اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کے پاس گرمی سے محفوظ رہنے کے مناسب انتظامات نہیں ہوتے۔ ایسے حالات میں ہیٹ سٹروک، پانی کی کمی اور دیگر طبی مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

  ون ہیلتھ ڈے

ون ہیلتھ ڈے

انسان، جانور اور ماحولیاتی صحت کی بنیاد ہر سال 3 نومبر کو دنیا بھر میں ون ہیلتھ ڈے (One Health Day) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا بنیادی مقصد دنیا کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرنا ہے کہ انسانی صحت، جانوروں کی صحت اور ماحول کی سلامتی ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں۔ انسان چاہے جدید ترین ہسپتالوں اور طبی سہولتوں تک رسائی حاصل کر لے لیکن اگر اس کے اردگرد کا ماحول آلودہ، پانی غیر محفوظ، خوراک مضر صحت اور جانور بیماریوں کا شکار ہوں تو صحت مند معاشرے کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح جانوروں اور پودوں کی صحت کو نظرانداز کرکے انسانی صحت کو محفوظ بنانا بھی ممکن نہیں۔پاکستان جیسے ملک کے لیے ون ہیلتھ کا تصور غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے جہاں ایک طرف آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، دوسری طرف ماحولیاتی آلودگی، موسمیاتی تبدیلی، غیر محفوظ خوراک، پانی کی قلت، متعدی بیماریوں اور صحت کے ناقص انتظامات جیسے مسائل شدت اختیار کر رہے ہیں۔ ان مسائل کا حل صرف محکمہ صحت یا ہسپتالوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس کے لیے زراعت، لائیو سٹاک، جنگلی حیات، ماحولیات، بلدیاتی اداروں اور عوام کو مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ ون ہیلتھ کا تصور اور بدلتی دنیاون ہیلتھ صحت کا ایک ایسا جامع تصور ہے جو انسانوں، جانوروں، پودوں اور ماحولیاتی نظام کی باہمی وابستگی کو تسلیم کرتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں کے مطابق اس طریقہ کار کے تحت مختلف شعبے مل کر بیماریوں کی روک تھام، تشخیص اور علاج کے لیے کام کرتے ہیں۔ اس کا مقصد صرف بیماری سامنے آنے کے بعد علاج کرنا نہیں بلکہ ان عوامل کی نشاندہی کرنا بھی ہے جو بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔دنیا میں ابھرنے والی متعدد متعدی بیماریوں کا تعلق جانوروں سے ہے۔ کورونا وبا نے بھی عالمی سطح پر یہ حقیقت واضح کی کہ کسی ایک خطے میں پیدا ہونے والا صحت کا بحران پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔پاکستان میں بھی جانوروں اور انسانوں کی مشترکہ صحت کے مسائل موجود ہیں۔ دیہی علاقوں میں انسانوں کا مویشیوں کے ساتھ قریبی تعلق، جانوروں کی بیماریوں کی بروقت تشخیص میں مشکلات، غیر معیاری گوشت اور دودھ کی فروخت اور مویشی منڈیوں میں صفائی کے ناقص انتظامات صحت کے خطرات بڑھاتے ہیں۔ اگر جانوروں میں بیماری کی بروقت نشاندہی اور علاج نہ ہو تو اس کے اثرات انسانی آبادی تک پہنچ سکتے ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیپاکستان کو درپیش صحت کے مسائل میں موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی آلودگی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ شدید گرمی، غیر معمولی بارشیں، سیلاب، خشک سالی اور فضائی آلودگی انسانی زندگی کے ساتھ جانوروں، فصلوں اور قدرتی ماحول کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔2022ء کے تباہ کن سیلاب اس کی نمایاں مثال ہیں۔ سیلاب سے نہ صرف لاکھوں افراد متاثر ہوئے بلکہ فصلوں، مویشیوں، گھروں اور صحت کے بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ سیلاب کے بعد آلودہ پانی اور مچھروں کی افزائش کے نتیجے میں ہیضہ، اسہال، ملیریا اور ڈینگی جیسی بیماریوں کے پھیلاؤ کے خطرات بڑھ گئے تھے۔ پانی کھڑا ہونے، نکاسی آب کے نظام کی تباہی اور صاف پانی کی عدم دستیابی نے صحت عامہ کے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ اسی طرح لاہور، کراچی، فیصل آباد اور دیگر بڑے شہروں میں فضائی آلودگی اور سموگ انسانی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ فضائی آلودگی صرف انسانوں کے پھیپھڑوں اور نظام تنفس کو متاثر نہیں کرتی بلکہ فصلوں، پودوں، جانوروں اور پورے ماحولیاتی نظام پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ صنعتی فضلے، سیوریج اور زرعی کیمیکلز کا دریاؤں، نہروں اور زیر زمین پانی میں شامل ہونا بھی ایک ایسا مسئلہ ہے جسے صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ صحت عامہ کا بحران سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اینٹی بائیوٹک ادویات کا غیر محتاط استعمال ون ہیلتھ کے حوالے سے ایک اور بڑا چیلنج اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس (Antimicrobial Resistance ہے جسے عام طور پر ادویات کے خلاف جراثیم کی مزاحمت کہا جاتا ہے۔ اس صورت حال میں بیکٹیریا، وائرس، فنگس اور دیگر جراثیم ادویات کے اثرات کے خلاف مزاحمت پیدا کر لیتے ہیں اور عام انفیکشن کا علاج بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ جب جانوروں میں استعمال ہونے والی ادویات کے خلاف جراثیم مزاحمت پیدا کرتے ہیں تو یہ خطرہ خوراک، پانی اور ماحول کے ذریعے انسانی صحت تک بھی پہنچ سکتا ہے۔اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے پاکستان نے 2024ء سے 2028ء تک کا قومی ایکشن پلان برائے اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس مرتب کیا ہے جس میں انسانی صحت، جانوروں کی صحت، زراعت اور ماحولیات کے شعبوں کے درمیان تعاون کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ون ہیلتھ ڈے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ صحت مند انسان کے لیے صحت مند ماحول اور صحت مند جانور بھی ضروری ہیں۔ اگر ہم بیماریوں کے پھیلاؤ سے پہلے ان کی وجوہات پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں تو نہ صرف انسانی جانیں بچائی جا سکتی ہیں بلکہ قومی معیشت پر صحت کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا بوجھ بھی کم کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کو بھی بیماریوں کی روک تھام، ماحولیاتی تحفظ اور مشترکہ صحت کے نظام پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی، یہی ون ہیلتھ کا اصل پیغام اور صحت مند پاکستان کی بنیاد ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

پاناما کی کولمبیا سے آزادی3 نومبر 1903ء کو وسطی امریکہ کے ملک پاناما نے کولمبیا سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اپنی آزادی کا اعلان کیا۔ اس زمانے میں پاناما کولمبیا کا حصہ تھا لیکن امریکہ پاناما کے راستے ایک نہر تعمیر کرنا چاہتا تھا تاکہ دونوں سمندروں کے درمیان بحری سفر مختصر ہو سکے۔ امریکہ اور کولمبیا کے درمیان 1903ء میں ہونے والے معاہدے کی مالی شرائط پر اختلافات پیدا ہوئے اور کولمبیا کی سینیٹ نے اسے منظور نہیں کیا۔ اس صورتحال نے پاناما کی آزادی کی تحریک کو تقویت دی۔3 نومبر کو پاناما میں کولمبیا کی حکومت کے خلاف بغاوت ہوئی اور ایک عبوری حکومت قائم کر دی گئی۔ اس عمل میں امریکہ کی حمایت نے اہم کردار ادا کیا۔ بعد ازاں امریکہ اور پاناما کے درمیان نہر کی تعمیر اور اس کے انتظام سے متعلق معاہدہ ہوا۔ لائیکا کی خلا میں روانگی3 نومبر 1957ء کو سوویت یونین نے سپوتنک 2 خلائی جہاز خلا میں روانہ کیا۔ اس مشن میں لائیکا نامی کتا بھی موجود تھا جسے ماسکو کی گلیوں کے آوارہ کتوں سے منتخب کیا گیا تھا اور یہ زمین کے گرد مدار میں جانے والا پہلا جاندار بنا۔ یہ واقعہ خلائی تحقیق کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل تھا کیونکہ اس سے سائنسدانوں کو یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ جانداروں پر خلا کے ماحول کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔سپوتنک دوم نے کئی ماہ تک زمین کے گرد چکر لگائے اور بالآخر 14 اپریل 1958ء کو فضا میں دوبارہ داخل ہونے پر جل کر تباہ ہو گیا۔یہ مشن سائنسی لحاظ سے اہم تھا۔ لائیکا کی پرواز نے مستقبل میں انسانوں کو خلا میں بھیجنے کی تیاریوں کے لیے اہم معلومات فراہم کیں۔ جاپان کے نئے آئین کا اعلان3 نومبر 1946ء کو جاپان کے نئے آئین کا اعلان کیا گیا۔ دوسری جنگ عظیم میں جاپان کی شکست کے بعد ملک اتحادی افواج کے زیرِ انتظام آ گیا تھا۔ اس دور میں جاپانی حکومت کے نظام میں اصلاحات کی گئیں تاکہ جنگ سے پہلے کے آمرانہ اور عسکری اثرات کو محدود کیا جا سکے۔ اس سے پہلے جاپان میں بادشاہت کو آئینی اور سیاسی نظام میں مرکزی حیثیت حاصل تھی لیکن نئے آئین نے بادشاہ کو ریاست اور عوام کے اتحاد کی علامت قرار دیا۔اس آئین کی سب سے نمایاں خصوصیات میں جنگ سے دستبرداری کا اصول شامل تھا۔ نئے آئین نے ریاستی اقتدار کے بنیادی اصولوں کو تبدیل کیا اور عوام کی خودمختاری، بنیادی انسانی حقوق اور امن کو ریاستی نظام کا اہم حصہ بنایا۔ ڈومینیکا کی آزادی3 نومبر 1978ء کو کیریبین خطے کے جزیرہ نما ملک ڈومینیکا نے برطانیہ سے سیاسی آزادی حاصل کی۔ آزادی کا حصول اس جزیرے کی سیاسی تاریخ میں ایک بنیادی تبدیلی تھی جس کے نتیجے میں ملک کو اپنے حکومتی ادارے اور قومی نظام چلانے کا اختیار حاصل ہوا۔آزادی حاصل کرنے کے بعد ڈومینیکا کو معاشی ترقی، محدود قدرتی وسائل، سمندری طوفانوں اور دیگر قدرتی آفات جیسے مسائل کا سامنا رہا۔ اس کے باوجود ملک نے اپنے قومی تشخص، جمہوری اداروں اور بین الاقوامی تعلقات کو آگے بڑھایا۔ اس واقعے کی اہمیت اس لیے بھی نمایاں ہے کہ بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں کیریبین خطے کے متعدد ممالک نے نوآبادیاتی اقتدار سے آزادی حاصل کی اور اپنی الگ قومی شناخت کو مضبوط کیا۔ ون ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا افتتاح3 نومبر 2014ء کو نیویارک میں ون ورلڈ ٹریڈ سینٹر باضابطہ طور پر کھولا گیا۔ یہ عمارت ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے علاقے میں تعمیر کی گئی جہاں 11 ستمبر 2001ء کے دہشت گرد حملوں میں ٹوئن ٹاورز تباہ ہو گئے ۔اسے ابتدا میں فریڈم ٹاور بھی کہا جاتا تھا۔ اس عمارت کی مجموعی بلندی 1776 فٹ ہے، جو امریکی تاریخ میں 1776ء کے اس سال کی علامتی یاد دلاتی ہے جب امریکی اعلانِ آزادی منظور ہوا تھا۔عمارت کا ڈیزائن جدیدتعمیراتی ٹیکنالوجی، مضبوط ساخت اور شہری ماحول کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا۔یہ عمارت اہم تجارتی اور تعمیراتی مراکز میں شمار ہوتی ہے۔ اس کا افتتاح 3 نومبر کی تاریخ کے ان واقعات میں شامل ہے۔ جو جدید شہری تعمیر نو، دہشت گردی کے بعد بحالی اور قومی یادداشت کے حوالے سے تاریخی اہمیت رکھتے ہیں۔