اسوہ حسنہ کی آفاقیت اور جدید دور کے تقاضے
اسپیشل فیچر
اﷲ تعالیٰ انسانوں کی اصلاح کے لیے انبیاؑکرام مبعوث فرماتا رہا ،لیکن کسی بھی نبی کی بعثت پوری انسانیت کے لیے نہیں ہوئی۔ کرۂ ارض کے تمام لوگوں کے لیے جس رسول کی بعثت ہوئی، وہ صرف نبی آخر الزّماں آنحضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔جس اﷲ نے اپنے آخری رسولؐ کو رحمۃ لّلعالمین بناکر مبعوث فرمایا، وہ خود رَبّ العالمین ہے، اُس کی کتاب ذِکر ِالعالمین ہے۔ دین ِاسلام اور اﷲ کی ربوبیت بھی آفاقی ہے اور اُس کے رسول ؐ کی بعثت بھی آفاقی ہے۔آفاق اُفق کی جمع ہے۔اُفق کے معنٰی کنارے کے ہیں۔ آفاق کے معنی ہیں زمین کے چاروں اطراف۔ اس سے مراد پورا کرہ ٔارض ہے۔نبی کریم آنحضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلّم کی نبوت نہ صرف پوری انسانیت کے لیے ہے ،بلکہ دائمی بھی ہے کیوں کہ آپ ؐ کے بعد کسی نبی کے مبعوث ہونے کی ضرورت نہیں رہی۔ اس طرح آپ ؐ کا اُسوۂ حَسنہ آفاقی اور دائمی ہے۔ اس حقیقت کی بنیاد تین دلائل پر ہے۔ تاریخ کی گواہی، مشاہداتی دلیل اور عقلی یا منطقی دلیل۔ تاریخ کی گواہی یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک آنے والے تمام پیغمبروں اور انبیاء علیھم السلام نے اپنا پیغام اپنی قوم تک محدود رکھا ۔ ہر پیغمبرؑ نے یہی کہا: ’’اے میری قوم! صر ف اﷲ کی بندگی اختیار کرو۔‘‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خود کو بنی اسرائیل تک محدود رکھا، کیوں کہ اُن کی بعثت صرف انہی کی اصلاح کے لیے ہوئی تھی۔ خود انہوںنے فرمایا: ’’میں بنی اسرائیل کی گم شدہ بھیڑوں کی تلاش میں آیا ہوں۔‘‘ کسی نے ان سے دریافت کیا: ’’آپ اﷲ کا پیغام بنی اسرائیل کے علاوہ دوسرے لوگوں تک کیوں نہیں پہنچاتے۔‘‘ انہوںنے فرمایا: ’’میں بچّوں کی روٹی کتوں کو نہیں کھلانا چاہتا۔‘‘اس کے برعکس نبی آخرالزّمان ؐنے اپنے پیغام کا آغاز یَاَیھالنّاسُ سے فرمایا۔ یہ قرآن کریم کے دوسرے سورہ کا تیسرا رکوع ہے۔اُسوۂ حَسنہ کی آفاقیت کی مشاہداتی دلیل خود اﷲ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے:’’اے نبیؐ!ہم نے آپؐ کو اللہ کے پیغام کی گواہی دینے والا اور نیک لوگوں کو خوش خبری دینے والا،اور بُرے کام کرنے والوں کو بُرے انجام سے خبردار کرنے والابنا کر بھیجاہے،آپ ؐ اللہ کی طرف لوگوں کو بلانے والے ہیں،اور اللہ نے آپؐ کو روشن سورج بناکربھیجاہے۔‘‘(سورۂ احزاب، 46.47 )اﷲ تعالیٰ نے ان آیات ِکریمہ میں اپنے رسول ؐ کی پانچ صفات بیان فرمائی ہیں۔ یہ صفات نہ صرف آپؐ کی ذِمّے دار یاں ظاہر کرتی ہیں بلکہ ان سے آپؐ کا ارفع و اعلیٰ مقام و مرتبہ بھی واضح ہوتا ہے۔پہلی صفت یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے آپ ؐ کو اس بات کی گواہی اور شہادت دینے کے لیے مبعوث فرمایا کہ انسان کی حقیقی کام یابی اُس دین کو قبول کرنے میں ہے جو اﷲ تعالیٰ نے آپ ؐ پر نازل فرمایا ہے۔ آپ ؐ کی دوسری صفت اور ذِمّے داری یہ ہے کہ آپؐ اسلام قبول کرنے والوں اور معقول رویّہ اختیار کرنے والوں کو خوش خبری سُنائیں کہ اہل ِایمان ہی اﷲ تعالیٰ کے اجر و انعام کے مستحق ہیں۔آپ ؐ کی تیسری صفت او رذمّے داری یہ ہے کہ آپؐ نذیر ہیں، یعنی زندگی کا مقصد سمجھنے سے قاصر یا غفلت کا شکار لوگوں کو خبردار کریں کہ ایسی زندگی کا انجام ناکامی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ آپؐ کی چوتھی صفت اور ذِمّے داری یہ ہے کہ آپ ؐ داعی ہیں ،یعنی آپ ؐ لوگوں کو دین اسلام پر ایمان لانے کی دعوت دیں۔آپ ؐ کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے آپ ؐ کو سراجِ منیر کا مقام و مرتبہ عطا فرمایا ہے۔ دُنیا میں سراجِ منیر دو ہی ہیں۔ ایک سورج اور دوسرے اﷲ کے آخری رسول آنحضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلّم ۔مشاہدے کی بات یہ ہے کہ سورج طلوع ہونے کے بعد دُنیا کی ساری روشنیاں ماند ہوجاتی ہیں۔ سورج کی طاقت ور روشنی پورا کرۂ ٔارض روشن کردیتی ہے،اور اس کے بعد کسی روشنی کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اسی طرح آپ ؐ کے اُسوۂ حَسنہ کے بعد کسی اُسوہ کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ آپؐ سورج کی طرح سراج منیر ہیں۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ آپؐ کے بعد کسی نبی کی گنجائش نہیں۔آپؐ کے اُسوۂ حَسنہ کے آفاقی ہونے کی عقلی اورمنطقی دلیل یہ ہے کہ اس کائنات میں اﷲ تعالیٰ کے تدریجی ارتقاء کا اصول کارفرما ہے، بچّہ پیدائش کے وقت اتنا کم زور ہوتا ہے کہ وہ چلنے پھرنے اور کھڑا ہونے سے قاصر ہوتا ہے۔ وہ بتدریج جوان ہوکر طاقت حاصل کرتا ہے کہ بڑے بڑے کام انجام دے سکے۔اسی طرح حضور اکرمؐ کے عہد تک انسان شعوری طور پر اتنا کم زور تھا کہ اس کے لیے اجتماعی نظام ناقابل ِبرداشت تھا۔ اس لیے اﷲ تعالیٰ نے اُس وقت انسان کی انفرادی اصلاح ہی پر اکتفا کیا۔ جب انسان شعورِ بلوغت تک پہنچا تو اﷲ تعالیٰ نے حضور اکرم ؐ کے ذریعے ایک آفاقی انفرادی اور اجتماعی نظام کی ضرورت پوری کردی۔ دوسرے الفاظ میں حضور اکرم ؐ سے قبل انبیائے اکرام ؑ کی بعثت انفرادی اصلاح کے لیے تھی۔ جب کہ سرکار دو عالم ؐ کی بعثت کا مقصد انسانی معاشرے کی انفرادی اور اجتماعی اصلاح تھی ۔یہی وجہ ہے کہ نبی آخرالزّمان ؐ کو جو نظام عطا کیا گیا اُسے مذہب کے بجائے دین کا نام دیا گیا۔ مذہب انفرادی اصلاح تک محدود ہوتا ہے۔ جب کہ دین انفرادی اصلاح کے ساتھ اجتماعی اصلاح کا فریضہ بھی انجام دیتا ہے۔ مذہب کے تین مظاہر ہیں، عقیدہ، عبادت اور مذہبی رسومات، جب کہ اجتماعی نظام کے بھی تین مظاہر ہیں، معاشرتی نظام، معاشی اصول اور سیاسی نظام۔ ان چھے مظاہروں کے مجموعے کو’’دین‘‘ کہا جاتا ہے۔آج انسان کو قرآنی تعلیمات اور اُسوۂ حَسنہ کی زیادہ ضرورت ہے کیوں کہ آج کے مسلم یا مغربی معاشرے مادّی اور سائنسی ترقی کے باوجود روحانی ترقی، اَخلاقی بلندی اور ذہنی سکون سے محروم ہوچکے ہیں۔ خاص طور پر مغربی معاشرے میں روحانیت کا خلا تشویش ناک ہے اور اَخلاقی بحران کے مناظر بھی بہت واضح ہیں۔ذہنی سکون اور قلبی اطمینا ن کا فطری نسخہ جو خود خالقِ کائنات نے تجویز کیا ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’اﷲ ہی کے ذکر سے قلب سکون پاتے ہیں۔‘‘یہ ذِمّے داری مسلم زعما ء کی ہے کہ وہ ذرائع ابلاغ سے بھر پور فائدہ اٹھائیں۔ اس ضمن میں چار مفیدتجاویز پر عمل کیا جاسکتا ہے۔1۔ یکساں اور معیاری نظامِ تعلیم کا اہتمام، نصاب ِتعلیم کی ترتیب اور تدوین۔ دینی اور دنیاوی نظام اور نصاب تعلیم دونوں کا اصل محور روز گار کا حصول ہے۔ یہ افسوس ناک حقیقت ہے کہ اکثریتی مسلم دُنیا میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے معیار کی درس گاہیں بہت کم ہیں۔2۔ قرآنی تعلیمات اور اُسوۂ حَسنہ کا فہم رکھنے والوں کو اپنے اندر اخلاص پیدا کرنا چاہیے اور یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ کام یابی اﷲ تعالیٰ کی رضا کے بغیر ممکن نہیں۔ اس کی تائید و نصرت صرف اخلاص سے حاصل کی جاسکتی ہے۔3۔ اﷲ تعالیٰ کا یہ بھی قاعدہ ہے کہ ہر چیز کے لیے تدریجی طریقہ نافذ کیا۔ دعوتِ دین میں بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس کی نمایاں مثال یہ ہے کہ شراب تین مراحل کے بعد حرام کی گئی۔ دلوں کو فتح کرنے کے لیے ترجیحات طے کیے بغیر کوئی قدم نہ اٹھایا جائے۔ تنقید کے بجائے بنیادی تصوّرات کو دلائل سے واضح کرنے کی جدوجہد کی جائے۔4۔ قرآنی تعلیمات اور اُسوۂ حَسنہ کی صداقت غیر مسلموں اور بے عمل مسلمانوں پر واضح کرنا، سنجیدہ اور مشکل کام ہے۔ اس لیے قرآنِ کریم اور اُسوۂ حَسنہ کے تحقیقی مطالعے کے علاوہ جدید علوم بھی تن دہی سے حاصل کیے جائیں۔ غور و فکر اور بحث و مکالمے کے جدید اسلوب کو خاطرخواہ اہمیت دی جائے۔