بالغ رائے دہی کی تاریخ
اسپیشل فیچر
-11 مئی 2013 کو 18 سال یا اس سے زائد عمر کے پاکستانی خواتین اور مرد مرکز و صوبوں میں نئی سرکار بنانے کے لیے اپنے ووٹ ڈالیں گے۔ عوامی ووٹوں کے ذریعے حکومت کی تبدیلی کا خیال ایک جدید طریقہ ہے تاہم بالغ رائے دہی کے ذریعے حکومتوں کو بنانے کا طریقہ 20ویں صدی میں جا کر حضرت انسان نے سیکھا۔ سیکھا بھی کیا، آہستہ آہستہ اس طرف سفر کیا۔ کچھ لوگ تو سمجھتے ہیں کہ شاید 13ویں صدی کے میگناکارٹا کے بعد برطانیہ والوں نے بالخصوص اور یورپ والوں نے بالعموم اور 1776 کی جنگ آزادی کے بعد امریکیوں نے جدید جمہوری سٹرکچر مکمل طور پر اپنالیا تھا۔ مگر حقائق یہی بتاتے ہیں کہ اس سفر میں کئی صدیاں لگیں۔ جدید جمہوریت کا ایک اہم ترین ستون انتخابات کا انعقاد ہے جس میں بالغ رائے دہی کو ممتاز مقام حاصل ہے۔ جب تاریخی حقائق کا دفتر کھولا جاتا ہے تو معلوم ہوتاہے کہ بالغ رائے دہی کے تحت زیادہ ترممالک میں تمام شہریوں کو بلاامتیاز مذہب، رنگ و نسل ووٹ ڈالنے کا حق 1947 تک نہیں مل سکا تھا۔ کہیں صرف سفید رنگت کے لوگوں کو ووٹ ڈالنے کا حق حاصل تھا، کہیں جائیداد والوں کا ہی ووٹ بنتا تھا تو کہیں ووٹ کا حق صرف متمول مردوں کے لیے مخصوص تھا۔ من مرضی کی جمہوریت پر مبنی یہ بندوبست تھوڑے بہت فرق کے ساتھ 20ویں صدی کے ابتدائی عشروںمیں یورپ میں بھی رائج رہا۔ فرانس میں 1792 میں صرف 25 سال سے زائد عمر کے مردوں کو ووٹ کا حق دیا گیا تو سوئٹزرلینڈ نے 1848 میں اپنے مردوں کو ووٹ کے ذریعے حکومتیں بنانے کا اختیار دیا۔ نیوزی لینڈ اور فن لینڈ جیسی چھوٹی ریاستوں نے عورتوں کو بھی بالترتیب 1894 اور 1906 میں جا کر کہیں ووٹ کا حق دے دیا مگر ان ریاستوںکا بین الاقوامی سیاست پر اثر اس قدر کم تھا کہ یہ قابل تقلید مثال نہ بن سکے۔ اسی طرح ناروے اور ڈنمارک میں بالترتیب 1913 اور 1915 میں عورتوں و مردوں کو ووٹ کا حق دیا گیا۔ امریکہ بہادر نے ویسے تو مخصوص ریاستوں میں 1870 سے بالغ مردوں جبکہ 1920 سے بالغ عورتوں کو بھی ووٹ کا حق دیا۔ مگر بہت سی امریکی ریاستوں میں کالوںکو ووٹ ڈالنے کا حق نہیں ملا تھا۔ بھلا ہو جان ایف کینیڈی کا کہ انہوں نے اپنی جان کا نذرانہ دے کر تمام کالوں کو ووٹ کا حق دلوایا۔ یوں ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں ایکٹ برائے سول حقوق 1964 اور ووٹ ڈالنے کے حق سے متعلق قوانین منظور کیے گئے۔ جمہوریت کی ماں یعنی برطانیہ میں بھی 1917 کے بالشویک انقلاب کے ایک سال بعد یعنی 1918 میں تمام بالغوں کو ووٹ کا اختیار ملا۔ تاہم پھر بھی ایک پخ رہ گئی۔ ووٹ کا یہ حق صرف وفاقی سطح پر تھا جبکہ 30 سال سے کم عمر عورتوں کو بھی ووٹ دینے کے قابل نہ گردانا گیا۔ 1928 میں جا کر کہیں اس قضیہ کو ختم کیا گیا مگرابھی بہت کچھ باقی تھا۔ 1948 میں جا کر یعنی اقوام متحدہ کے قیام اور ووٹ کے حق کے حوالے سے بل کی منظوری کے بعد عوامی ایکٹ 1948 آیا جس میں نہ صرف ون مین-ون ووٹ کی بات تسلیم کی گئی بلکہ ووٹ کا حق بلدیاتی سطح تک عوام کو دے دیا گیا۔ حیران نہ ہوں، اپنا سری لنکا تو ان سب سے بازی لے گیا کہ یہاں1931 ہی میں بالغ شہری کو بلاامتیاز رنگ،نسل، صنف، مذہب ووٹ کاحق حاصل ہو گیا تھا۔ اسی طرح فرانس جرمنی سمیت لاتعداد ممالک نے ووٹ کے حق کو بلاامتیاز 1948 ہی میں تسلیم کیا۔ درحقیقت 1948 میں اقوام متحدہ نے عالمی دستاویز برائے انسانی حقوق کو تسلیم کیا تو اس وقت یو این او میں شامل ممالک کو ووٹ کے بنیادی حق کو ماننا پڑ گیا۔ بھارت نے 1950 میں اس حق کو مانا تو پاکستان میں آئین سازی کے پہلے دونوں ڈرافٹوں یعنی 1950 اور 1952 میں بالغ رائے دہی کے حق کو تسلیم کیا گیا تھا۔ پاکستان میں پنجاب میں ہونے والے پہلے صوبائی انتخابات میں بھی اس حق کو مانا گیا۔ 1956 میں پاکستان کا پہلا آئین بنا تو اس میں بالغ رائے دہی کے اصول کو تسلیم کر لیا گیا۔ ان تمام اعدادوشمار سے یہ نتیجہ نکالنا مشکل نہیں کہ دنیا بھر میں ’’بی جمہوریت‘‘ کی عمر ابھی خاصی ناپختہ ہے اور اس کو جوان ہونے میں اگر کچھ وقت لگ رہا ہے تو اس کو سب کو تسلیم کرنا چاہیے۔ مثالی جمہوریت تو وہی ہو گی جو نہ صرف وفاقی، صوبائی اور بلدیاتی سطح پر کام کرے بلکہ انتخابات پر کوئی بھی شخص، پارٹی یا گروہ تحکم، رقم اور اختیارات کے ناجائزاستعمال سے اثرانداز نہ ہو سکے۔ مگر ایسی مثالی جمہوریت تبھی بن پائے گی جب بری جمہورتیں تسلسل سے چلتی رہیں گی۔ امید کی جاسکتی ہے کہ گیارہ مئی تک کے دن خیر و عافیت سے گذر جائیں گے اور ہم جمہوری تسلسل کا کوہِ گراں اٹھانے کے قابل بھی ہو جائیں گے۔٭٭٭٭