اک خاک نشیں،شہ نشین پر
اسپیشل فیچر
’’اوہو ہو ہو دیکھو چچا ‘‘نذیر نے شور مچادیا ۔’’کیا ہے کیا ہے ‘‘ منیر نے اپنی موٹی موٹی آنکھوں کو اور موٹا کرتے ہوئے کہا۔ وہ میرے پاس کھڑا تھا۔ لیکن اب کچھ دور چل کراسی جگہ سے میرے طرف دیکھنے لگا جہاں نذیر دیکھ رہا تھا۔ ’’چچا کو انڈے کھانے کا ڈھنگ نہیں ہے ‘‘۔ ’’ہاہا‘‘ اس کے بعد کوئی بات ہوگئی اور وہ دونوں ایک دوسرے پر باکسنگ اور کشتی کے ملے جلے دائو چلانے لگے۔ میں جیسے بھی ہوانیم ابلے ہوئے انڈے کھاتا رہا۔ یہ 1942ء کا آغاز تھا میں بے۔ اے کرچکا تھا۔ فوج میں کمیشن کے لیے منتخب ہوچکا تھا اور ٹریننگ کے لیے بنگلور جانے کی تیاری تھی۔ صوفی حمیدعلی صاحب بھی جوان دنوں گورنمنٹ کالج لاہور میں ڈائریکٹر فیزیکل ٹریننگ تھے، کمیشن کیلئے منتخب ہوچکے تھے۔ ہم دونوں ایک ہی بیچ (Batch)میں تھے اور اکٹھے بنگلور پہنچنا تھا ۔ اس لیے میں سفر کی تفصیلات طے کرنے کیلئے ان کے ہاں لاہور حاضر ہواتھا۔ بہت صبح چلا گیا تھا تاکہ ان کو کالج جانے سے پہلے پکڑ سکوں۔ ان کو جب پتہ چلا کہ میں نے ابھی تک ناشتہ نہیں کیا تو دونیم ابلے ہوئے انڈے اور چائے ٹوسٹ وغیرہ بھجوادیئے۔ یہ نہیں ، کہ میں نے ابلے ہوئے انڈے پہلے کبھی کھائے نہیں تھے۔ ریل کے سفر میں کئی دفعہ ابلے ہوئے انڈے کھانے کا اتفاق ہوا تھا۔ گھر میں بھی جس سال مرغیاں وبا کی نذر نہیں ہوجاتی تھیں کھانے کو انڈے مل جایا کرتے تھے، جو ابلے بھی ہوتے تھے۔ اب کے یہ مشکل پیش آئی تھی کہ انڈے ہاف بوائل (یعنی ادھ پکے ) تھے ، ان کے ساتھ طشتری میں ایک ننھا منا اکڑوں سا پیالہ بھی تھا جس کا مصرف تو ایک طرف ، میں اس کی شکل تک سے واقف نہیں تھا۔ پاس ہی تھوڑا سا نمک اور ایک چھوٹا چمچہ پڑا تھا۔ پہلے تو میں طشتری کو سامنے رکھ کر ان سب چیزوں کا جوڑ میل کرتا رہا۔ جب کوئی معقول حل نہ ملا تو باقی سامان چھوڑ کر انڈوں کی طرف متوجہ ہوا اور ایک انڈے کو اٹھا کر طشتری کے کنارے سے ٹھوکردے کر تھوڑا سا چھلکا اتارا۔ آن کی آن میں اندر کا مواد نکل کر کچھ میری انگلیوں پر اور کچھ طشتری میں پھیل گیا۔ چمچے کا مصرف تو بجلی کی طرح میرے ذہن میں اتر گیا اور میں نے ٹوٹے ہوئے انڈے پر نمک برورکرچمچے سے کھانا شروع کردیا۔ البتہ پیالے کو کنکھیوں سے گھورتا رہا۔ یکایک ہاتف غیب نے میرے کان میں کچھ کہا اور عرفان وایقان کے نورسے میری آنکھیں جگمگا اٹھیں۔ اتنے میں پہلا انڈا بھی ختم ہوچکا تھا۔ چنانچہ میں نے دوسرا انڈا توڑا اور پوری تمکنت کے ساتھ جو ایسے موقعوں پر صرف ایک کسان کا ہی حصہ ہے اس کو پیالے میں انڈیلنا شروع کردیا۔ عین اس وقت نذیر نے شور مچادیا۔ یہ واقعہ بیان کرکے مجھے اپنی ہنسی اڑانا مقصود نہیں ہے ۔ ظاہر یہ کرنا چاہتا ہوں کہ سرکار انگلیشیہ کی فوج کی افسری کے پر شکوہ دروازے پر کس بے سروسامانی کے ساتھ حاضر ہوا تھا۔ ایک کسان کے بیٹے کو طشتری ، ناشتے ،پیالے ،چمچے ، ہاف بوائل انڈے اور تہذیب کے اسی قسم کے دوسرے لوازمات سے کم ہی واسطہ پڑتا ہے۔ لیکن میں نراد یہاتی نہیں تھا۔ پنجاب یونیورسٹی کا گریجویٹ تھا اور چارسال شہر میں گزارے تھے۔ میری انگلیوں میں کم ازکم اتنی پھرتی تو ہونی چاہیے تھی کہ ایک بہتے ہوئے انڈے کو سمیٹ سکتا۔ دراصل شہر کی رہائش میں میں نے شہر کا اثر قبول نہیں کیا تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ انٹرمیڈیٹ کے دوسال میں اپنا کھانا خود پکایا کرتا تھا۔ پڑھائی کیلئے وقت بچانے کیلئے نہایت سادہ قسم کا کھانا پکانا ہی ممکن تھا اور گیلی لکڑیاں (سستی ہونے کی وجہ سے ) اس سادگی میں اور اضافہ کردیتی تھیں۔ (میجر اسحاق احمد کی کتاب’’شُتر غمزے‘‘ سے انتخاب،پبلشر، نیو لائن،لاہور)