بھوکا مسافر
اسپیشل فیچر
صبر و شکر پر آمادہ کرنے والا نصیحت آموز واقعہوہ انتہائی افسردہ کھڑا تھا۔ اس کے چہرے پر پریشانی و غم کے آثار بالکل عیاں تھے۔ اسی کشمکش میں مبتلا، سوچوں میں ڈوبا، ارد گرد کے ماحول سے غافل، اپنے ہی من میں مگن، اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی شاید کہ کچھ ہاتھ آجائے۔ مگر اس کی نظریں خاب و خاسر لوٹ آئیں۔ اس کی پریشانی و فکر میں مزید اضافہ ہو گیا۔ آخر وہ کیوں پریشان نہ ہوتا؟ دراصل اسے سخت بھوک لگ رہی تھی بھوک سے نڈھال ہونے کی وجہ سے اسے کچھ سجھائی نہ دے رہا تھا۔ آخر وہ کیا کرتا، اس کے پاس کھانے کے لیے کچھ تھا ہی نہیں۔ اس نے ایک بار پھر اس اُمید سے اپنے ارد گرد نظریں دوڑائیں کہ شاید کہ کچھ مل جائے مگر ناکامی نے اس کا استقبال کیا۔ پریشانی کی حالت میں بھوک سے نڈھال وہ اپنی جگہ بیٹھ گیا۔ بھوک کیا تھی گویا کہ اس کے پیٹ میں چوہے ناچ رہے ہیں۔ جو اسے چین سے بیٹھنے نہ دے رہے تھے۔ جب اس کی تمام کوششیں اور کاوشیں بے سود ثابت ہوگئیں تو اس پر ایک بار پھر مایوسی چھانے لگی۔ مکمل تگ و دو کے بعد بھی اسے کچھ بھی نہ مل پایا تھا۔ اسی مایوسی کے عالم میں وہ سخت بھوک کی وجہ سے موت کو اپنے سر پر منڈلاتے دیکھنے لگا۔ وہ عجیب و غریب خیالات کے سمندر میں ڈبتا چلا گیا مگر اس سے تو کچھ حاصل نہ ہونا تھا لہٰذا اس نے پھر آخری بار کسی آسرے کے بارے میں غور کیا۔ اچانک اس کے دل میں ایک خیال آیا اس خیال کے ابھرتے ہی اس کے چہرے کی حالت بدلنے لگی، مایوسی بھرے چہرے پر خوشی کی کرن لوٹ آئی۔ اسی اُمید کی کرن میں وہ کھانے کی تلاش میں اپنی جگہ سے اٹھا اور چل نکلا۔ کچھ ہی دیر بعد وہ کائنات کی عظیم ہستی، رحم دل، مہربان و مشفق نبی جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار رسالت میں حاضر تھا پھر وہ آپؐ کے پاس آیا سلام کرنے کے بعد آپ سے کچھ یوں مخاطب ہوا: آقا بھوک لگی ہے بھوک سے جان نکلنے کو ہے مگر میرے پاس کھانے کے لیے بھی نہیں بھوک نے آپ کے پاس حاضر ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ پیٹ کی آگ بجھانی ہے کچھ تو بندوبست کر دیں۔مہربان نبیؐ نے جب اپنے اس پیارے ساتھی کی یہ حالت دیکھی اور چہرے پر نگاہ ڈالی تو آپ تڑپ اٹھے، دل بے قرار ہوگیا آپ نے فوراً ازواج مطہرات کے گھر پیغام بھجوایا کچھ کھانے کے لیے ہو تو میرے پاس بھیج دو۔ پیغام لے کے جانے والا ام المومنین کے گھر کے دروازے پر پہنچا، پیغام پہنچایا کہ کچھ کھانے کے لیے ہو تو دے دو، جواب ملا کہ پانی کے علاوہ گھر میں کھانے یا پینے کے لیے کچھ بھی نہیں، پھر وہ دوسرے گھر جاتا ہے پیغام پہنچاتا ہے مگر وہی پہلے والا جواب ملا۔ پیغام دینے والا حیران ہو جاتا ہے، پھر وہ تیسرے گھر جاتا ہے مگر وہی سابقہ جواب اس کا منتظر تھا اس کی حیرت میں اضافہ ہوگیا اب اس نے ایک ایک کر کے سب گھر والوں میں یہ پیغام پہنچایا لیکن… ساری کائنات کے سردار، اللہ کے لاڈلے، امام الانبیاء جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں سے کھانے کے لیے کچھ بھی نہ مل سکا۔ہاں ہاں! سرور کائنات کے گھر پانی کے علاوہ کچھ نہیں پانی پر گزارا چل رہا ہے پیغام رساں جیسے ہی خالی ہاتھ گیا تھا ویسے ہی واپس لوٹ آیا اور کہنے لگا آقا وہاں تو سب گھروں میں پانی کے علاوہ کچھ نہیں ملا۔ سبحان اللہ! یہ تھی سرور کائنات، اللہ کے چہیتے اور لاڈلے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کی حالت۔ آپ نے جب اسے دیکھا کہ یہ خالی ہاتھ واپس لوٹ آیا ہے پھر آپ مضطرب ہو گئے۔ بھوکے شخص نے جب یہ سارا منظر دیکھا تو وہ ششدر و حیرانی کی حالات میں ہکا بکا رہ گیا وہ تو یہ سوچ کر چلا تھا کہ چلو آقائے کائنات کے پاس جاتا ہوں، وہاں شاید کھانے کو کچھ مل جائے مگر ادھر تو سارا معاملہ ہی الٹ تھا وہ انتہائی افسردہ و پریشانی کی حالت میں کھڑا تھا کیوں کہ نتیجہ اس کے خیالات کے برعکس نکلا تھا۔آپؐ نے جب اس کی یہ حالت دیکھی تو آپ سے رہا نہ گیا، آپ نے اپنے اصحاب میں اعلان کیا کون ہے جو میرے اس بھوکے ساتھی کی آج رات مہمان نوازی کرے گا؟ کون ہے جو اس کو اپنے ساتھ گھر لے جائے اور اسے کھانا کھلائے؟ تو انصاری صحابیوں میں سے ابو طلحہ انصاریؓ فوراً کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے: آقا میں اسے اپنے گھر میں مہمان نوازی کے لیے لے جاتا ہوں تو آپ نے اس کو اس کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔ وہ انصاری خوشی خوشی سے مہمانِ رسولؐ کو گھر میں لے آیا، بیوی کے پاس گیا اور اسے خوشی ہوئی مگر ساتھ ساتھ اس کے چہرے پر پریشانی کے آثار ظاہر ہونے لگے۔ اس کا اظہار اس نے کچھ ان الفاظ میں کیا، گھر میں ہمارے کھانے کے لیے کھانا ہی نہیں صرف بچوں کے لیے تھوڑا سا کھانا ہے۔ بچوںکو تو بہت بھوک بھی لگی ہے وہ بغیر کھانا کھائے کیسے سوئیں گے؟ اس کا خاوند کہنے لگا کہ اے اللہ کی بندی بچوں کو تھپکیاں دے کر سُلا دینا ہم دونوں بھی اپنے پیٹ پر کپڑا باندھ کر سو جائیں گے تاکہ بھوک و پیاس کا احساس نہ ہو مگر مہمانِ رسول کو کھانا ضرور کھلانا ہے اسے بھوکا پیٹ نہیں سُلانا، بچوں کی اور ہماری خیر ہے۔پھر ابو طلحہ انصاریؓ فرمانے لگے تو کھانا تیار کر اور کمرے میں چراغ جلا کر کھانا رکھ دینا اس کی بیوی نے ایسا ہی کیا کھانا مہمان کے سامنے پیش کیا گیا، کھانا ایک ہی آدمی کا تھا۔ انصاری صحابی بھی اس مہمان کے ساتھ بیٹھا تھا اس نے سوچا کہ اگر میں اس کے ساتھ کھانا نہیں کھاتا تو یہ مروت کے خلاف ہے اور اگر کھاتا ہوں تو کھاناکم پڑتا ہے اور مہمان بھوکا رہ جائے گا۔ اب اس نے اپنی بیوی کو ایک ترکیب بتلائی۔ اب جیسے ہی مہمان نے کھانا تناول کرنا شروع کیا تو انصاری کی بیوی چراغ کے پاس گئی اور اسے چھیڑنے لگی گویا کہ وہ اسے صحیح کر رہی ہے مگر اسی بہانے اس نے چراغ بجھا دیا یوں اس انصاری صحابی نے اندھیرے میں یہ ظاہر کیا کہ گویا وہ بھی اس مہمان کے ساتھ کھانے میں شریک ہے۔ یوں انہوں نے اپنے مہمان کو پیٹ بھر کر کھانا کھلایا لیکن خود بیوی بچوں کے ساتھ بھوکے پیٹ رات گزاری۔ جب صبح ہوئی تو یہ انصاری مہمان رسولؐ کو ساتھ لے کر دربار رسالت میں حاضر ہوئے تو آپؐ نے فرمایا تم نے رات میں جوکام کیا ہے اللہ تمہارے اس عمل سے اتنا خوش ہوا کہ مسکرا دیا اور اللہ نے یہ آیت ناز فرما دی۔ ’’یہ تو ایسے لوگ ہیں باوجود اس کے کہ انہیں خود بھی ضرورت ہوتی ہے لیکن پھر بھی دوسرے بھائیوں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں بے شک جو شخص نفس کی بخیلی سے بچا لیا گیا وہ کام یاب ہوگیا۔‘‘ (الحشر:9) (صحیح بخاری: 4889) یہ ہمارے پیارے رسولؐ اور صحابہ کرام ؓ کی گھریلو اور معاشی حالت تھی مگر ان میں صبر بھی انتہا کا تھا وہ چیخنے چلانے، ہڑتالیں کرنے، فریادیں سنانے اور ہاتھ پھیلانے والے نہیں تھے۔ انہوں نے کبھی بھی صبر کے دامن کو ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ مگر افسوس آج ہم بھی انہیں اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں۔ کیا ہم نے ان جیسا بننے کی کوشش کی؟ نہیں تو کیوں؟؟؟