رسائل کی دنیا
اسپیشل فیچر
سویرا : ادبی مجلے ’’سویرا‘‘ کا نام آتے ہی ادبی صحافت کے اعلیٰ پائے کے مدیران کی ایک کہکشاں ماضی کی دھند میں سے ظاہر ہو کر جگمگانے لگتی ہے۔۔۔ کیسے کیسے نام تھے ،جنھوں نے اس کی ادارت کی: ساحرؔ لدھیانوی، احمدؔ راہی، صلاح الدین محمود، حنیف رامے۔۔۔ کیسے کیسے نایاب ادیبوں کی نگارشات اس پرچے کی زینت ہوا کرتی تھیں۔۔۔ کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، بلونت سنگھ، سعادت حسن منٹو،اشفاق احمد ،شفیق الرحمن۔۔۔ یہ فہرست بہت طویل ہے۔یاد رہے کہ اس مجلہ کے بانی نذیر احمد چودھری تھے۔ دنیائے ادب میں ’’نقوش‘‘، ’’فنون‘‘، ’’نیا دَور‘‘ اور ’’اوراق‘‘ ایسے پرچے نمایاں ہوئے، جنھوں نے ادب کی ترویج اور ترقی میں درخشاں کردار ادا کیا اور پھر ماضی کا حصہ بن کر اوجھل ہو گئے۔ ظاہر ہے ’’سویرا‘‘ بھی اس فہرست میں شامل رہا،لیکن یہ پرچہ ان سب میں سے منفرد اس لیے تھا کہ اعلیٰ ادب کی اشاعت کے علاوہ اس کی تزئین اور آرائش ایسی خوش نظر اور خوش جمال تھی کہ اس پر ایک آرٹ ورق کا گمان ہوتا تھا اور اس کے لیے ’’سویرا‘‘ کے مدیران محمد حنیف رامے کے تخلیقی کمالات اور ان کے جدید اور منفرد ذوق جمال کا اعتراف کرتے آئے ہیںاور رامے صاحب کے شاہکار باقاعدگی سے ’’سویرا‘‘ کی زینت بنتے تھے۔’’سویرا‘‘ اب بھی ہر چار چھ ماہ کے بعد شائع ہوتا ہے ۔محمد سلیم الرحمن اور ریاض احمد اس کے مدیر ہیں، جنھوں نے اپنی زندگی ’’سویرا‘‘ کے لیے وقف کر رکھی ہے۔۔۔ اپنے حصے کی شمع جلاتے چلے جاتے ہیں اور یہ شمع بھی وہ اپنے پلے سے خرید کر جلاتے ہیں اور یہ پلا وہ کسی کے آگے پھیلاتے بھی نہیں ،تو یہ کیسے لوگ ہیں؟؟؟۔حال ہی میں محمد سلیم الرحمن اور ریاض احمد کی ادارت میں ’’ سویرا‘‘ 90کا تازہ شمارہ زیورِ طبع سے آراستہ ہو کر منصہ شہود پر جلوہ گر ہوا ہے،جس کو ’’ قوسین‘‘ سویرا15۔سر کلر ورڈ،اُردو بازار ،لاہور نے شائع کیا ہے جب کہ اس کی تقسیم ِ کار کا بیڑا’’القا‘‘ پبلی کیشنز نے اُٹھایا ہے،جو شہر ادب و ثقافت،لاہور کے معروف کتاب اور اشاعت مرکز ’’ ریڈنگز‘‘ کا ذیلی ادارہ ہے۔زیر نظر شمارے کا سرورق عقیل سولنگی کے موئے قلم کا شاہکار ہے جب کہ اس کے مندرجات کو مضامین،افسانے،غزلیں،نظمیں اور ناول کے عنوان سے درجہ بند کیا گیا ہے۔آغاز خورشید رضوی کے سلسلہ وار مضمون ’’عربی ادب قبل از اسلام (18) سے ہوتا ہے جب کہ افسانوں میں مستنصر حسین تارڑ،طاہرہ اقبال، محمود احمد قاضی، نجم الدین احمد، مسعود میاں،ظہیر عباس اور سلیم الرحمن کے جن پارے شامل ہیں۔غزلیات میں ذوالفقار احمد تابش،قاضی حبیب الرحمن،قاضی ظفر اقبال، ضیا ء الحسن کی تخلیقات جب کہ نظموں میں گلزار کی گیارہ نظموں کے علاوہ ایوب خاور، انوار ناصر، تنویر قاضی،سلیم سہیل،حماد نیازی، احمد عطا،عنبرین صلاح الدین،ایرک پنکی(ترجمہ: سلیم الرحمن) اور ریاض احمد کے نظمیں پڑھنے کے لائق ہیں۔آخر میں اسلم سراج الدین کے ناول’’ تلاشِ وجود دَر اطراف چند۔۔۔ایک کوشش ِ محض‘‘ شامل اشاعت ہے۔ مجلہ12-Kمین بلیوارڈ، گلبرگ2،لاہور سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ صحیفہ : ’’صحیفہ‘‘ مجلس ِترقی ِادب ،لاہور کا علمی و ادبی مجلہ ہے ۔مجلس کے قیام کے بعد اس کے ترجمان کے طور پر سہ ماہی ’’صحیفہ‘‘ کااجرا کیا گیا تھا اور اس کے پہلے مدیر عابد علی عابد تھے۔ اُنھوں نے دس سال تک اس کی ادارت کے فرایض انجام دئیے اور’’ صحیفہ‘‘ کو معیاری علمی و ادبی جریدوں کی صف میں ممتاز مقام دلایا۔ 1967ء میں صحیفہ کی ادارت معروف محقق اور نقاد ڈاکٹر وحید قریشی کے ذمے لگائی گئی۔ اُن کے دَورِ ادارت میں’’ صحیفہ‘‘ ایک تحقیقی علمی جریدے کے طور پر معروف ہوا۔ 1974ء میں مجلس کے نامساعد حالات کے سبب ’’صحیفہ‘‘ بند کردیا گیا۔ 1976ء میں احمد ندیم قاسمی نے اس کو دوبارہ ایک علمی و تحقیقی مزاج کے ساتھ شائع کرنا شروع کیا۔ قاسمی صاحب کے دَور میں کلب علی خان فائق اور پھر ڈاکٹر یونس جاوید اس مجلے کے مدیر رہے۔2005ء میں احمد رضا اس کے مدیر بنے۔ کچھ عرصہ قبل ڈاکٹر تحسین فراقی ،مجلس ِ ترقی ِادب کے ناظم ِ اعلیٰ مقرر ہوئے ہیں اور انھوں نے اس کی ادارت کے فرایض افضل حق قرشی اور عمران نقوی کے سپرد کیے ہیں۔’’صحیفہ‘‘ کے دَورِ نَو کا پہلا شمارہ (204۔206) مدیر اعلیٰ :ڈاکٹر تحسین فراقی،مدیر افضل حق قرشی اور معاون مدیر عمران نقوی کی زیر ادارت حال ہی میں چھپ کر منظر عام پر آیا ہے۔یاد رہے کہ ’’صحیفہ‘‘ کے بعض خاص نمبروں نے علمی اور ادبی حلقوں میں وقعت اور شہرت حاصل کی اور آج بھی یہ نمبر حوالہ جاتی مواد کے طور پر استعمال ہوتے ہیں،جن میں غالبؔ نمبر، حالیؔ نمبر، ادبیات فارسی، اقبالؒ اور قائداعظمؒ نمبرشامل ہیں۔ زیر نظر شمارہ بھی اپنے مواد کے حوالے سے کافی وقیع ہے۔اس شمارے میں معین الدین عقیل کا مقالہ ’’نظریۂ پاکستان: تفہیم اور تقاضے‘‘۔ این میری شمل کا مقالہ ’’ عرائس الہٰی-تقدیم‘‘ جس کے مترجم : تحسین فراقی ہیں۔ شاہ ضیاء الدین حسین کا مضمون ’’ حالات حضرت سید رضا علیؒ المخاطب بہ شیریں رقم‘‘۔ڈاکٹر عبدالکریم خالد کا مضمون ’’ سندھ میں عربوں کا ورود اور ادب و شعر‘‘۔ نگہت جمال کا لکھا مقالہ ’’ فرانسیسی افسانوی ادب کے اُردو ادب پر اثرات‘‘۔محمد یسٰین آفاقی کا مضمون’’ اقبال کی نظمیہ شاعری میں ہیئت کے تجربات‘‘۔ عمارہ طارق کا مضمون ’’ قرۃ العین حیدر کے افسانوں میں جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کے مظاہر‘‘ ۔ عبدالعلیم قدوائی کا مضمون ’’ اکبر الہ آبادی اور مولانا عندالماجد دریابادی‘‘۔احمد سجاد کا ’’پروفیسر عندالمغنی: کچھ یادیں،کچھ باتیں‘‘۔ افضل حق قرشی کا لکھا مضمون ’’ خطوط پوفیسر حمید احمد خاں‘‘ اور آخر میں رفتارِ ادب کے عنوان سے تبصرے شامل ہیں۔’’صحیفہ‘‘ کا زیر نظر مجلہ نرسنگھ داس گارڈن،2 کلب روڈ،دی مال،لاہور سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔٭…٭…٭