صحت کی دشمن 5عادات : جنھیں مفید سمجھ لیا گیا

صحت کی دشمن 5عادات : جنھیں مفید سمجھ لیا گیا

اسپیشل فیچر

تحریر : سیّد عاصم محمود


امریکہ کا مشہور ڈاکٹر ،دیپک چوپڑا اپنے قیمتی مشوروں سے لوگوں کو زندگی بسر کرنے کے ڈھنگ سکھاتا ہے۔اس کا قول ہے:’’آپ اپنی سوچ،رویّوں،طرز حیات اور کھانے پینے کی عادات کو مثبت رخ دے کر عمر کے 30تا 40 برس بڑھا سکتے ہیں۔‘‘درج بالا قول سولہ آنے سچ ہے۔انسان اگر اچھی سوچ رکھے، صحت بخش غذا کھائے،متحرک رہے اور نیند پوری لے،تو تندرستی کی لازوال دولت پا سکتا ہے۔تاہم صحت پانے کے چکر میں روزمرہ معمولات انجام دیتے بہت سے لوگ ایسے عمل بھی اپنا لیتے ہیں جو فائدہ کم،نقصان زیادہ پہنچاتے ہیں۔ذیل میں انہی اعمال کا تذکرہ پیش ہے اور انھیں درست طریقے سے اپنانے کا سلیقہ بھی!دانت برش کرنابچوں بڑوں میں یہ نظریہ مقبول ہو چکا کہ ہر کھانے کے بعد دانت برش کرنے چاہئیں تاکہ وہ جراثیم سے پاک رہ سکیں۔مسئلہ یہ ہے،بہت سی غذائیں ہمارے دانتوں پہ تیزابی اثرات مرتب کرتی ہیں۔چناں چہ تیزاب کی موجودگی سے دانتوں کی حفاظت کرنے والا قدرتی مادے،اینمل کمزور پڑ جاتاہے۔لہذا جب ہم کھانے کے فوراً بعد دانت برش کریں،تو کمزور ہوئے اینمل کا کچھ حصہ اتر سکتا ہے۔اور جب اینمل نہ رہے ،تو ہمارے دانت بھربھرے ہو کر بوسیدگی کا نشانہ بن جاتے ہیں۔اس خرابی سے بچنے کا طریق کار یہ ہے کہ کھانے کے بعد صرف کُلی کیجیے تاکہ دانتوں میں پھنسے غذائی ریشے باہر نکل جائیں۔جبکہ صرف رات اور صبح کو نرمی سے دانت صاف کریں۔مزید براں جدید تحقیق سے انکشاف ہوا ہے ، دانت صاف کرنے کا بہترین طریق یہ ہے کہ برش کو دانتوں پہ گھمایا جائے۔یوں دانتوں اور مسوڑھوں سے چمٹے جراثیم دور ہو جاتے ہیں۔جبکہ دائیں بائیں یا اوپر نیچے برش کرنے سے نہ صرف جراثیم صحیح طرح صاف نہیں ہوتے، بلکہ مسوڑھوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ایک وقت کا کھانا چھوڑناکئی مرد وزن ناشتہ یا دوپہر کا کھانا یہ سوچ کر نہیں کھاتے کہ وہ اگلے وقت کھا لیں گے۔ایسے لوگ مصروف یا پھر کم کھا کر وزن کم کرنے کے چکر میں ہوتے ہیں۔مگراس چلن میں خرابی یہ ہے کہ غذا نہ ملے،تو نہ صرف ہماری بھوک بڑھتی ہے،بلکہ ہمارا جسم بے چینی کا بھی اظہار کرتا ہے۔اسی لیے انسان عموماً بعد ازاں ایک آدھ چپاتی زیادہ کھا جاتا اور یوں موٹاپے کو دعوت دیتا ہے۔صحیح طریق یہ ہے کہ اعتدال کے ساتھ ناشتہ کیجیے اور دوپہر کا کھانا کھائیے۔یوں رات کو آپ دسترخوان پہ بیٹھے،تو ہرگز یہ تمنّا نہیں کریں گے کہ پلیٹ سالن سے بھر لیں۔بوتل والا پانی پیناہمارے ہاں بوتل والا(Bottled)پانی پینے کا رواج جڑ پکڑ چکا۔وجہ یہی کہ نلکے کے پانی کو جراثیم آلودہ اور گندا سمجھا جاتا ہے۔مگر بوتل والے پانی کا نقصان یہ ہے کہ اس میں فلورائڈ موجود نہیں ہوتا۔یہ قدرتی نمک ہمارے دانتوں کو شکست و ریخت سے بچاتا ہے۔اسی باعث ماہرین طب اب مشورہ دیتے ہیں کہ واٹر فلٹر سے نکلا پانی نوش کیجیے۔فلٹر پانی کو تمام جراثیم اور آلودگی سے پاک کر دیتا ہے،مگر اس میں موجود فلورائڈ ضائع نہیں کرتا ۔ایروبک ورزش کرنابہت سے لوگ ایروبک(Aerobics) ورزشوں مثلاً پیدل چلنے،سائیکل چلانے ،تیرنے یا دوڑنے کے ذریعے خود کو فٹ رکھنے کی سعی کرتے ہیں۔مگر اس نظام ِورزش کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا جسم جب ایروبک ورزشوں کا عادی ہو جائے،تو کم چکنائی جلانے لگتا ہے۔سو تب وہ سود مند نہیں رہتیں۔اس خرابی سے بچنے کا گُر یہ ہے کہ ہفتے میں ایک دن صرف اناایروبک(Anaerobic)ورزشیں کیجیے۔ان میں وزن اٹھانے والی سبھی ایکسرسائزیں شامل ہیں۔یوں انسانی بدن ایروبک ورزش کا عادی نہیں بن پاتا اور وہ صحت پہ خوشگوار اثرات مرتب کرتی ہے ۔ملٹی وٹامن گولیوں کا استعمالآج خصوصاً تعلیم یافتہ خواتین و حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ فارمی غذائوں میں غذائیت (وٹامن و معدنیات)نہیں ہوتی۔سو وہ ملٹی وٹامن گولی تقریباً روزانہ کھا کر مطلوبہ غذائیت پانے کی سعی کرتے ہیں۔مگر جدید تحقیق انکشاف کر چکی کہ فارمی اور دیسی غذائوں میں ذائقے کا فرق تو ہوتا ہے،غذائیت کے معاملے میں وہ تقریباً یکساں ہوتی ہیں۔اسی لیے وٹامن والی گولیوں کا خصوصاً روزانہ استعمال نقصان دہ بھی بن سکتا ہے۔وجہ یہ کہ جب انسانی بدن میں بعض وٹامن یا معدنیات کثیر تعداد میں جمع ہو جائیں،تو وہ خطرناک ثابت ہوتی ہیں۔مثال کے طور پہ وٹامن اے کی زیادتی شکم میں نشوونما پاتے بچے کو معذور بنا سکتی ہے۔وٹامن سی کی سطح بڑھ جائے،تو وہ معدے کا نظام تہ وبالا کر ڈالتا ہے۔وٹامن بی کی زیادتی سے ہمارے اعصاب پہ بُرا اثر پڑتا ہے۔درج بالا خرابیوں کے باعث ہی ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ مطلوبہ غذائیت ملٹی وٹامن گولیاں نہیں صحت بخش خوراک کھا کر حاصل کیجیے۔حتی کہ جسم میں کسی وٹامن یا معدن کی کمی ہو جائے،تو ایسی غذائیں کھائیے جن میں وہ بکثرت ملتا ہو۔مثلاً آپ میں کیلشیم کی کمی ہے،تو پالک کھائیے یا دودھ پیجئیے۔گولیاں کھانی ہی ہیں،تو صرف ڈاکٹر کے مشورے سے کھائیے۔٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
چاند کے نیچے چھپی دنیا کی تلاش!

چاند کے نیچے چھپی دنیا کی تلاش!

چاند کا پراسرار سوراخ سائنس دانوں کی توجہ کا مرکزچاند ہمیشہ سے انسان کیلئے تجسس اور حیرت کا مرکز رہا ہے، مگر جدید خلائی تحقیق نے اس کے پوشیدہ رازوں سے پردہ اٹھانے کی جستجو مزید بڑھا دی ہے۔ اب ناسا نے چاند کی سطح پر موجود ایک پراسرار سوراخ کو اپنی توجہ کا مرکز بنا لیا ہے، جس کے بارے میں سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ کسی وسیع زیر سطح غار یا قدیم لاوے کی سرنگ کا دہانہ ہو سکتا ہے۔ اگر اس امکان کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ دریافت چاند کی ارضیاتی تاریخ کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں انسانی خلائی مشنز کیلئے محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں بھی اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ناسا نے ''میریئس ہلز پٹ‘‘ (Marius Hills Pit) کے نام سے معروف اس سوراخ کی تحقیقات کیلئے ایک منصوبے کا انتخاب کیا ہے۔ اس تحقیق کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا یہ سوراخ کسی ایسی زیر سطح غار تک پہنچتا ہے جو مستقبل میں خلا بازوں کو خطرناک تابکاری اور شدید درجہ حرارت سے محفوظ پناہ گاہ فراہم کر سکتی ہے۔ اس منصوبے کو ''جیو فزیکل انسٹرومنٹس فار میریئس لونر پٹ انویسٹی گیشن‘‘ (GIMLI) کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے تحت سطح کے نیچے موجود ساخت کا جائزہ لینے کیلئے سطح کے اندر تک پہنچنے والے ریڈار، زلزلہ پیما سینسرز اور مقامی کشش ثقل کی پیمائش کرنے والے ایک آلے کو یکجا کیا جائے گا۔اس گڑھے کے گرد و نواح میں طویل عرصے تک آتش فشانی سرگرمیاں جاری رہی ہیں۔ ''میریئس ہلز پٹ‘‘ کی دیواروں پر چاند کی مٹی، جسے ریگولِتھ کہا جاتا ہے، اور لاوے کے بہاؤ کی ایسی تہیں نمایاں ہیں جو عام طور پر سطح کے نیچے دفن رہتی ہیں۔ ان تہوں کا تفصیلی جائزہ سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ ماضی میں لاوا چاند کے منظرنامے کی سطح اور اس کے نیچے کس طرح بہتا رہا۔ یہ بھی معلوم ہو گاکہ مختلف آتش فشانی سرگرمیوں یا لاوے کے اخراج کے واقعات کے درمیان طویل وقفے موجود تھے یا نہیں۔ناسا نے '' پلینیٹری سائنس انسٹی ٹیوٹ‘‘ کو اس تحقیق کی قیادت کی ذمہ داری سونپی ہے۔ ناسا کے مطابق اگر چاند کی سطح کے نیچے ایسی کوئی غار موجود ہے تو مستقبل میں یہ خلا بازوں کو خطرناک تابکاری اور چاند کی سطح پر درجہ حرارت میں ہونے والی انتہائی تبدیلیوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔چاند کی سطح پر تابکاری کی سطح بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے مقابلے میں تقریباً 2.6 گنا زیادہ ہے، جو زمین کی سطح سے تقریباً 250 میل کی بلندی پر گردش کر رہا ہے، جبکہ چاند پر تابکاری کی سطح زمین کے مقابلے میں تقریباً 200 گنا زیادہ ہے۔ اگر خلا بازوں کو اس قدر بلند تابکاری کا سامنا کرنا پڑے تو انہیں صحت کے سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ صرف اوپر سے حاصل ہونے والی معلومات اور مشاہدات پر انحصار کرنے کے بجائے محققین کو چاند کی سطح پر موجود میریئس ہلز پٹ کا براہِ راست جائزہ لینے کا موقع فراہم کرے گا۔پلینیٹری سائنس انسٹی ٹیوٹ کے سائنسدان تھین پٹزگ کا کہناہے کہ ان کی طویل عرصے سے خواہش تھی کہ سیاروں کی سائنس میں فعال ماخذ پر مبنی زلزلہ پیما طریقہ دوبارہ متعارف کرایا جائے، کیونکہ اپالو مشنز کے خلا بازوں کی جانب سے چاند پر ابتدائی زلزلہ جاتی سروے کیے جانے کے بعد بنیادی طور پر اس طریقے کا دوبارہ استعمال نہیں کیا گیا۔ اس طریقے کو زمین کے اندر تک پہنچنے والے ریڈار اور کششِ ثقل کی پیمائش کے ساتھ یکجا کرنا اس تحقیق کو مزید دلچسپ بنا سکتا ہے۔ ان طریقوں کو ایک ساتھ استعمال کرنے سے چاند کی سطح کے نیچے موجود خصوصیات کو زیادہ بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی، جس میں میریئس ہلز پٹ سے دور تک پھیلی ہوئی ممکنہ لاوے کی سرنگ کی موجودگی کا پتا چلانا بھی شامل ہے۔ اگر زیر سطح غار دریافت نہ بھی ہو سکے، تب بھی چاند کے یہ گڑھے سائنسی اعتبار سے انتہائی اہم ہیں۔ زیرسطح جگہیں ان آتش فشانی عمل کے شواہد بھی محفوظ رکھ سکتی ہیں جنہوں نے چاند کی موجودہ ساخت تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی بڑی لاوے کی سرنگ کی موجودگی کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ چاند پر آتش فشانی سرگرمیاں کس طرح وقوع پذیر ہوتی رہی ہیں۔ لاوے کی سرنگیں زمین پر آتش فشانی سرگرمی کی ایک عام خصوصیت ہیں، اس لیے چاند پر ایسی سرنگوں کی شناخت سے ہم زمین پر موجود ان غاروں کے بارے میں حاصل شدہ معلومات کو استعمال کرتے ہوئے چاند کی ارضیاتی تاریخ کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ ''میریئس ہلز پٹ‘‘ کی گہرائی 10منزلہ عمارت کے برابریہ گڑھا چاند کے اس علاقے میں واقع ہے جہاں آتش فشانی سرگرمی کی تاریخ بہت متنوع رہی ہے۔ اس کی گہرائی تقریباً ایک 10 منزلہ عمارت جتنی ہے، جبکہ اس کا دہانہ تقریباً ایک امریکی فٹ بال میدان کے برابر چوڑا ہے۔ یہ چاند کی سطح پر اب تک دریافت کیے جانے والے تقریباً 300 گڑھوں میں سے ایک ہے۔ ان میں سے بعض گڑھے قدیم آتش فشانی سرگرمی کے نتیجے میں بننے والی زیر سطح غاروں کے داخلی راستے ہو سکتے ہیں۔ ''میریئس ہلز پٹ‘‘ کو 2009ء میں جاپان کے SELENE خلائی جہاز نے دریافت کیا تھا۔ تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد صرف ممکنہ زیرسطح ساخت کا مطالعہ کرنا نہیں بلکہ اس علاقے کے دیگر ارضیاتی پہلوؤں کا بھی جائزہ لینا ہے۔2028ء میں خلاء باز چاند پر اتارنے کا منصوبہیہ منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ناسا نے 2028ء میں آرٹیمس چہارم مشن کے دوران خلا بازوں کو چاند پر اتارنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ جب مشن کا عملہ چاند پر پہنچے گا تو دو خلا باز سطحِ چاند پر اتریں گے اور تقریباً ایک ہفتہ چاند کے جنوبی قطب کے قریب قیام کریں گے۔ اس دوران وہ سائنسی تحقیق اور نئے تجربات انجام دیں گے۔ بعدازاں وہ دوبارہ چاند کے مدار میں موجود اپنے ساتھی خلا بازوں کے پاس پہنچیں گے اور سب مل کر زمین پرواپسی کا سفر شروع کریں گے۔

ایپل کی تاریخ، جدت کی داستان

ایپل کی تاریخ، جدت کی داستان

ایک چھوٹے سے آغاز سے عالمی ٹیکنالوجی دیوبننے تک کا سفردنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کی تاریخ جدت، مسلسل تجربات اور بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ آج آئی فون، آئی پیڈ، میک، ایپل واچ اور دیگر مصنوعات کے باعث عالمی سطح پر پہچانی جانے والی یہ کمپنی اپنے ابتدائی دور میں شوقیہ کمپیوٹر صارفین کیلئے تیار کی جانے والی کٹس فروخت کرنے والا ایک چھوٹا سا کاروبار تھی۔ ایپل کے سفر کا آغاز یکم اپریل 1976ء کو اسٹیو جابز، اسٹیو ووزنیاک اور رونالڈ وین کی جانب سے کمپنی کے قیام سے ہوا۔ اس دور میں ووزنیاک کمپیوٹر کٹس خود تیار کرتے اور انہیں شوقیہ صارفین کیلئے پیش کیا جاتا تھا۔ ابتدائی مصنوعاتکمپنی کی پہلی مصنوعات میں ''ایپل I‘‘ شامل تھا،جس کے ایک سال بعد 1977ء میں ایپل نے ''ایپل II‘‘ متعارف کرایا۔ یہ ایسا کمپیوٹر تھا جس نے کمپیوٹر کو محدود ماہرین اور شوقیہ افراد کی دنیا سے نکال کر بڑے پیمانے پر صارفین تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1981ء میں اسٹیو جابز ایپل کے چیئرمین بنے۔ میکنٹوش کمپیوٹر متعارف1984ء ایپل کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا جب میکنٹوش کمپیوٹر متعارف کرایا گیا۔ تاہم ایک سال بعد میکنٹوش کو بند کر دیا گیا جبکہ اسٹیو جابز نے بھی ایپل چھوڑ دیا۔ 1987ء میں کمپنی نے ''میکنٹوش II‘‘ پیش کیا، جو رنگین ڈسپلے رکھنے والا پہلا میک کمپیوٹر تھا۔ NeXT کی خریداری1997ء میں ایپل نے NeXT سافٹ ویئر کمپنی کو 40 کروڑ ڈالر میں خریدنے کا اعلان کیا۔ اس معاہدے کے ساتھ اسٹیو جابز ایک مرتبہ پھر ایپل میں واپس آئے۔ 2000ء میں انہوں نے باضابطہ طور پر چیف ایگزیکٹیو کا منصب سنبھال لیا۔ آئی پوڈ متعارف2001ء میں کمپنی نے آئی ٹیونز، او ایس ایکس اور پہلی نسل کا آئی پوڈ متعارف کرایا۔ 23 اکتوبر 2001ء کو کیوپرٹینو میں پیش کیا جانے والا پہلا آئی پوڈ ایک ہزار تک گانے محفوظ کر سکتا تھا۔ اس چھوٹے سے میوزک پلیئر نے موسیقی سننے کے انداز میں نمایاں تبدیلی پیدا کی اور ایپل کی شناخت صرف کمپیوٹر بنانے والی کمپنی کے بجائے صارفین کی روزمرہ ٹیکنالوجی سے جڑی کمپنی کے طور پر مستحکم ہونے لگی۔آئی فون و آئی پیڈ2007ء میں اسٹیو جابز نے آئی فون متعارف کرایا، جس نے موبائل فون، انٹرنیٹ اور تفریح کو ایک ہی آلے میں یکجا کرنے کی نئی راہ دکھائی۔ اس کے تین سال بعد 2010ء میں پہلا آئی پیڈ پیش کیا گیا۔ ٹِم کک کی انٹری2011ء میں صحت کے مسائل کے باعث اسٹیو جابز نے چیف ایگزیکٹو کے عہدے سے استعفیٰ دیا اور ٹِم کک نے یہ ذمہ داری سنبھالی۔ ٹِم کک کے دور میں بھی ایپل نے اپنی مصنوعات کے دائرے کو وسیع کیا۔ 2014ء میں ایپل واچ کے ساتھ آئی فون 6 اور آئی فون 6 پلس متعارف کرائے گئے۔ ایپل میوزک کا آغاز2015ء میں Beats کے حصول کے بعد ایپل میوزک شروع کیا گیا، جس کے ذریعے کمپنی نے اسپاٹی فائی سمیت دیگر میوزک اسٹریمنگ سروسز کے میدان میں قدم رکھا۔چھوٹے فون2016ء میں کمپنی نے نسبتاً چھوٹے سائز کے فونز کی جانب توجہ دیتے ہوئے چار انچ اسکرین والا آئی فون SE پیش کیا۔آئی فون X2017ء میں آئی فون X کے ذریعے ایپل نے ایک مرتبہ پھر اپنے ڈیزائن میں بڑی تبدیلی کی۔ ہوم بٹن ختم کرکے کنارے سے کنارے تک پھیلی اسکرین متعارف کرائی گئی جبکہ ''فیس آئی ڈی‘‘کے ذریعے چہرے کی شناخت سے فون کھولنے کی سہولت دی گئی۔ 2018ء میں ''آئی او ایس12‘‘ کے ساتھ اسکرین ٹائم اور دیگر خصوصیات متعارف کرائی گئیں۔منافع میں کمی2019ء میں ایک دہائی کے دوران پہلی مرتبہ کمپنی نے آمدنی اور منافع میں کمی کی اطلاع دی۔ 2020ء میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث چین کے علاوہ دنیا بھر میں ایپل کے ریٹیل اسٹورز عارضی طور پر بند کیے گئے۔ کاربن نیوٹرل وAI2021ء میں کمپنی نے کاربن نیوٹرل بننے کے عزم کا اظہار کیا اور اسی سال آئی فون 13 بھی متعارف کرایا۔2022ء میں آئی فون 14 کے ساتھ حادثے کی نشاندہی کرنے والے سینسر اور بہتر کیمرہ نظام جیسی خصوصیات پیش کی گئیں۔ 2023ء میں ہوم پوڈ دوبارہ متعارف کرایا، جبکہ 2024ء میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اپنی پیشرفت کو ایپل انٹیلی جنس کے ذریعے نمایاں کیا۔قیادت کی تبدیلی2026ء ایپل کی قیادت کے حوالے سے بھی اہم سال ثابت ہوا۔ ٹِم کک نے چیف ایگزیکٹو کے عہدے سے الگ ہو کر ایگزیکٹو چیئرمین کی ذمہ داری سنبھالی، جبکہ کمپنی کے ہارڈویئر شعبے کے سربراہ 51 سالہ جان ٹرنَس نے یکم ستمبر کو چیف ایگزیکٹو کا منصب سنبھال لیا۔ 1976ء میں کمپیوٹر کٹس سے شروع ہونے والا ایپل کا یہ سفر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں مسلسل تبدیلی کے باوجود جدت اور نئے تصورات کسی کمپنی کی شناخت کو کئی دہائیوں تک برقرار رکھ سکتے ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

کراچی:سانحہ کارسازسابق وزیراعظم بینظیر بھٹوکے قافلے پر کراچی کے علاقے کارساز میں اس وقت خودکش حملہ کیا گیا جب وہ 18 اکتوبر 2007ء کو 7 برس بعد خود ساختہ جلا وطنی ختم کرکے واپس پاکستان آئیں۔وہ پر ہجوم ریلی کی صورت میں اپنی رہائش گاہ کی جانب رواں دواں تھیں کہ یکے بعد دیگرے 2 خودکش دھماکے ہوئے۔تقریباً 200 افراد ہلاک ہوئے ۔الاسکا کی خریداری 1867ء میں آج کے روز امریکہ نے روس سے الاسکا خریدنے کے بعد اس کا کنٹرول سنبھالا۔ابتدا میں امریکی عوام نے اس خریداری کا مذاق اڑایا کیونکہ الاسکا برف پوش علاقہ تھا۔بعد میں جب وہاں معدنی وسائل دریافت ہوئے تو یہ سودا امریکی تاریخ کے منافع بخش فیصلوں میں شمار ہوا۔ الاسکا کو 1959ء میں امریکہ کی 49ویں ریاست کا درجہ ملا۔بی بی سی کا قیامبرطانوی نشریاتی کمپنی (بی بی سی)کا18 اکتوبر 1922ء کوقیام عمل میں آیا ، جس کی بنیاد برطانوی اور امریکی کمپنیوں نے رکھی تھی۔ بی بی سی ایک تجارتی نشریاتی ادارے کے طور پر ایئر ٹائم فروخت نہیں کرتا تھا لیکن اس کے پاس متعدد اسپانسر شدہ پروگرام ہوتے تھے جن کی ادائیگی برطانوی اخبارات کرتے تھے۔تھامس ایڈیسن کا انتقال عظیم امریکی موجد تھامس ایڈیسن کا1931ء میں آج کے روز انتقال ہوا۔11 فروری 1847ء کو امریکی ریاست اوہائیو کے شہر میلان میں پیدا ہونے والے تھامس ایڈیسن دنیا کے ان چند موجدوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے انسانی زندگی کو صنعتی انقلاب کے بعد سب سے زیادہ بدل دیا۔ان کے نام ایک ہزار سے زائد ایجادات رجسٹرڈ ہیں۔ان کی اہم ایجادات میں برقی بلب،گراموفون،موشن پکچر کیمرہ ،ٹیلی گراف اور ٹیلی فون شامل ہیں۔ سلمبر کی جنگسلمبر کی جنگ18اکتوبر1599ء کو لڑی گئی۔اس جنگ میں رومانیہ اورہنگری کی افواج مدمقابل تھیں۔ہنگری کی فوج تقریباً 30ہزار افراد پر مشتمل تھی لیکن جنگ کے دوران بہت سے فوجی منحرف ہو گئے۔ جنگ کے آغاز میں رومانیہ کی فوج نے بالادستی حاصل کی لیکن ہنگری فوج سے انہیں تیزی سے پیچھے دھکیل دیا۔دنیا کا پہلا ٹرانزسٹر ریڈیو 1954ء میں آج کے روز امریکی کمپنی ٹیکساس انسٹرومنٹس نے دنیا کا پہلا ٹرانزسٹر ریڈیو تجارتی طور پر متعارف کرایا۔یہ ایجاد جدید پورٹ ایبل الیکٹرانکس کے دور کا آغاز ثابت ہوئی۔اس ریڈیو کا نام''ریجنسی ٹی آر1‘‘تھا۔اس کاوزن تقریباً 340 گرام تھا اور سائز چھوٹا ہونے کی وجہ سے یہ آسانی سے ہاتھ یا جیب میں رکھا جا سکتا تھا۔سنڈون کی لڑائیڈنمارک اور انگریز افواج کے درمیان 18اکتوبر1016ء میں سنڈون کی لڑائی لڑی گئی۔ تاریخ میں اس جنگ کے مقام پر کچھ اختلافات پائے جاتے ہیں لیکن اس لڑائی کا اختتام ڈینز کی فتح پر ہوا۔فاتح فوج کی قیادت کنگ کینٹ کر رہے تھے جنہوں نے نگریزی فوج کو شکست دی۔یہ جنگ ڈنمارک کیلئے بہت اہم تھی کیونکہ اس کے بعد ڈنمارک نے انگریزوں کو بہت سے محاذوں پر شکست دی۔

غربت کا خاتمہ، باوقار زندگی کی ضمانت

غربت کا خاتمہ، باوقار زندگی کی ضمانت

ہر سال 17 اکتوبر کو''غربت کے خاتمے کا عالمی دن‘‘ منایا جاتا ہےغربت محض خالی جیب، بے روزگاری یا خوراک کی کمی کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی معاشرتی محرومی ہے جو انسان سے اس کی بنیادی ضروریات، خوابوں کی تکمیل اور باوقار زندگی گزارنے کے مواقع چھین لیتی ہے۔ جب کسی گھر میں بچوں کی تعلیم کے بجائے دو وقت کی روٹی کا انتظام اوّلین ترجیح بن جائے، علاج کی استطاعت نہ ہونے کے باعث مریض بیماری سہنے پر مجبور ہوں اور محنت کرنے کے باوجود خاندان اپنی بنیادی ضروریات پوری نہ کر سکیں تو غربت کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اسی اہم مسئلے کی جانب دنیا کی توجہ مبذول کرانے کیلئے ہر سال 17 اکتوبر کو غربت کے خاتمے کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔اقوام متحدہ نے 1992ء میں 17اکتوبر کو غربت کے خاتمے کا عالمی دن قرار دیا۔ اس دن کا مقصد غربت اور محرومی کا شکار افراد کی مشکلات کو اجاگر کرنا، ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا اور غربت کے خاتمے کیلئے اجتماعی کوششوں کو فروغ دینا ہے۔ غربت کی کثیرالجہتی وجوہاتدنیا کے مختلف معاشروں میں غربت کے اسباب مختلف ہو سکتے ہیں، تاہم بے روزگاری، کم آمدنی، مہنگائی، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، تعلیم کی کمی، سیاسی و معاشی عدم استحکام اور قدرتی آفات اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں آبادی میں تیز رفتار اضافہ، محدود روزگار، صحت کی ناکافی سہولتیں اور معیاری تعلیم تک عدم رسائی بھی غربت کے دائرے کو وسیع کرتی ہیں۔غربت کا سب سے زیادہ اثر بچوں پر پڑتا ہے۔ غذائیت کی کمی، اسکول چھوڑنے کی مجبوری، کم عمری میں مزدوری اور صحت کے مسائل ان کی شخصیت اور مستقبل کو متاثر کرتے ہیں۔ دوسری جانب غربت سے دوچار خاندانوں کو غیر محفوظ رہائش، صاف پانی اور مناسب طبی سہولتوں کے حصول میں بھی مشکلات پیش آتی ہیں۔ یوں غربت ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہونے لگتی ہے اور معاشرے کی مجموعی ترقی متاثر ہوتی ہے۔پاکستان میں غربت کا چیلنجپاکستان بھی غربت کے مسئلے سے دوچار ہے۔ مہنگائی، محدود آمدنی، بے روزگاری، معاشی عدم استحکام اور روزمرہ اخراجات میں اضافے نے کم آمدنی والے خاندانوں کی مشکلات بڑھائی ہیں۔عالمی بینک کی خطے میں غربت سے متعلق چشم کشا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں غربت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور انتہائی غربت کی شرح 6.4 فیصد بڑھی ہے۔ خطے کے انتہائی غریب افراد کا تقریباً 48 فیصد پاکستان میں رہتا ہے۔اس کے علاوہ افغانستان، شام اور یمن بھی غربت کے بڑے مراکز بن چکے ہیں جہاں مجموعی طور پر خطے کے 47 فیصد انتہائی غریب افراد بستے ہیں۔ خطے کی شدید غریب ترین آبادی 3 ڈالر یومیہ سے بھی کم کمانے والے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ریجنل سطح پر غربت کی شرح قبل از کورونا سطح سے بھی اوپر اور مسلسل اضافے کا شکار ہے جاری مالی سال کے دوران پاکستان کا مالیاتی خسارہ 3.5 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔پاکستان میں غربت کے خاتمے کیلئے ضروری ہے کہ معاشی ترقی کے ثمرات معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچیں۔ روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں، چھوٹے کاروباروں کی حوصلہ افزائی ہو، فنی تعلیم کو فروغ دیا جائے اور نوجوانوں کو جدید تقاضوں کے مطابق ہنر سکھائے جائیں۔ زراعت، صنعت اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کی ترقی سے آمدنی کے ذرائع بڑھائے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح صحت اور تعلیم کے شعبوں میں سرمایہ کاری غریب خاندانوں کو مشکلات کے دائرے سے نکلنے میں مدد دے سکتی ہے۔اجتماعی ذمہ داری اور روشن مستقبلغربت کے خاتمے کی ذمہ داری صرف حکومتوں پر عائد نہیں ہوتی، بلکہ نجی اداروں، فلاحی تنظیموں، مخیر حضرات اور معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ صاحب استطاعت افراد مستحق خاندانوں کی مدد، بچوں کی تعلیم، مریضوں کے علاج اور ہنرمندی کے فروغ میں حصہ لے سکتے ہیں۔غربت کے خاتمے کا عالمی دن محض ایک یادگاری موقع نہیں، بلکہ یہ عہدِ نو کی دعوت ہے کہ کسی انسان کو بھوک، بے گھری، بیماری یا تعلیم سے محرومی کے باعث بے بسی کی زندگی نہ گزارنا پڑے۔ ایک خوشحال معاشرہ وہی ہے جہاں ترقی کے مواقع سب کیلئے موجود ہوں، محنت کرنے والے کو مناسب معاوضہ ملے اور ہر فرد کو عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع میسر آئے۔2026ء کا عنوان: سب کیلئے محفوظ گھرغربت کے خاتمے کا عالمی دن ایک خاص تھیم کے ساتھ منایا جاتا ہے جو دو سال کیلئے ہوتی ہے۔ 2026ء سے 2028ء تک اس دن کا موضوع ''امن اور انسانی حقوق کیلئے متحد‘‘ ہے، جبکہ 2026ء میں خصوصی توجہ ''سب کیلئے محفوظ گھر‘‘ کے عنوان پر مرکوز ہے۔ اس کا مقصد اس حقیقت کو اجاگر کرنا ہے کہ مناسب رہائش تحفظ، معاشرتی سرگرمیوں میں شرکت اور باوقار زندگی گزارنے کی بنیاد ہے۔دنیا بھر میں 2.8 ارب سے زائد افراد رہائش کی کسی نہ کسی قسم کی ناکافی سہولت کا سامنا کر رہے ہیں۔ غربت اور معاشرتی محرومی کا شکار افراد کو اس صورتحال کا سب سے زیادہ بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ محفوظ اور مستحکم گھر کی عدم موجودگی میں صحت کی سہولتوں، تعلیم، روزگار اور معاشرتی زندگی میں شرکت تک رسائی کہیں زیادہ مشکل ہو جاتی ہے۔رہائش کا عدم تحفظ محض چھت کی کمی کا مسئلہ نہیں ہے۔ غیر محفوظ، ناقابلِ برداشت اخراجات والی، ضرورت سے زیادہ گنجان یا غیر یقینی رہائش غربت اور معاشرتی محرومی کو مزید بڑھا سکتی ہے اور دیگر انسانی حقوق سے استفادے کی راہ میں بھی رکاوٹ بن سکتی ہے۔ اسی لیے 2026ء کیلئے جاری کردہ تصوراتی دستاویز میں ایسی رہائشی پالیسیوں اور نظاموں پر زور دیا گیا۔

بلڈ پریشر چیک کرتے وقت یہ غلطیاں نہ کریں!

بلڈ پریشر چیک کرتے وقت یہ غلطیاں نہ کریں!

بازو کی پوزیشن ریڈنگ میں بہت بڑا فرق پیدا کر سکتی ہے:ماہرینبلڈ پریشر کی درست پیمائش صحت کی نگرانی میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے، مگر معمولی سی بے احتیاطی بھی ریڈنگ کو حقیقی مقدار سے زیادہ ظاہر کر سکتی ہے۔ بلڈ پریشر چیک کرتے وقت جسم کی پوزیشن، ٹانگوں کی حالت، بات چیت اور خصوصاً بازو کو مناسب جگہ پر نہ رکھنا نتیجے کو گمراہ کن بنا سکتا ہے۔ بعض افراد بلند ریڈنگ دیکھ کر بلاوجہ تشویش میں مبتلا ہو جاتے ہیں یا دوا کے بارے میں غلط فیصلہ کر لیتے ہیں، حالانکہ مسئلہ پیمائش کے طریقۂ کار میں بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے درست تشخیص اور بروقت علاج کیلئے بلڈ پریشر ناپنے کے بنیادی اصولوں پر عمل کرنا ضروری ہے۔ہزاروں افراد میں معمول کے چیک اپ کے دوران معمولی غلطیوں کے باعث غلط طور پر بلند فشارِ خون (ہائی بلڈ پریشر) کی تشخیص کیے جانے کا خدشہ ہے۔ ماہرین طب نے خبردار کیا ہے کہ بلڈ پریشر چیک کرنے کے طریقۂ کار میں معمولی کوتاہی بھی نتائج کو متاثر کر سکتی ہے۔مریض کو سیدھا بیٹھائیںماہرین کی ہدایات کے مطابق بلڈ پریشر ناپتے وقت مریض کو سیدھا بیٹھنا چاہیے اور اس کا بازو میز پر مناسب انداز میں سہارا دیا جانا چاہیے۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اکثر ہسپتالوں میں اس ہدایت پر ہمیشہ عمل نہیں کیا جاتا، جس سے غلط ریڈنگ آنے اور غلط تشخیص کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ برطانوی ڈاکٹر ڈین ایگٹ کا کہنا ہے کہ اگر ہم بلند فشارِ خون سے لاحق نقصان کے خطرے سے دوچار افراد کی درست شناخت اور ان کا علاج کرنا چاہتے ہیں تو بلڈ پریشر کی درست پیمائش انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت سے زیادہ علاج اور ادویات کے باعث پیدا ہونے والے مضر اثرات حقیقی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں، خصوصاً ایسے مریضوں میں جو پہلے ہی کسی بیماری یا کمزوری کا شکار ہوں۔بلڈ پریشر ناپنے کی ناقص تکنیک بالآخر نامناسب علاج کے فیصلوں کا باعث بن سکتی ہے اور مریض کے معیارِ زندگی کو متاثر کر سکتی ہے۔بازو کی پوزیشن یہ انتباہ امریکہ میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں بتایا گیا کہ بلڈ پریشر ناپتے وقت بازو کی پوزیشن ریڈنگ میں ''بہت بڑا فرق‘‘ پیدا کر سکتی ہے۔ جان ہاپکنز میڈیسن کے ماہرین نے دریافت کیا کہ اگر مریض کا بازو بغیر سہارے کے جسم کے پہلو میں لٹکا ہوا ہو توسسٹولک بلڈ پریشریعنی بلڈ پریشر کی ریڈنگ میں اوپر والا نمبر تقریباً 7 ملی میٹر مرکری تک بڑھ سکتا ہے۔بازو کو گود میں رکھنے کی صورت میں بھی سسٹولک بلڈ پریشر کی ریڈنگ تقریباً 4 ملی میٹر مرکری (mmHg) زیادہ ظاہر ہوئی۔بازو دل کی سطح پر رکھیں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج ماہرین کی اس ہدایت کو مزید تقویت دیتے ہیں جس میں بلڈ پریشر چیک کرتے وقت مریض کا بازو دل کی سطح پر میز یا ڈیسک پر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جب بازو بغیر سہارے کے نیچے لٹکا رہتا ہے تو پٹھے سکڑ سکتے ہیں، جس سے عارضی طور پر بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے۔ دوسری جانب بازو کو گود میں رکھنے سے بازو اور دل کے درمیان فاصلہ بڑھ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں بازو میں بلڈ پریشر زیادہ ہو سکتا ہے۔لاعلمی نقصاندہہائی بلڈ پریشر، جو تقریباً ہر تین بالغ افراد میں سے ایک کو متاثر کرتا ہے، فالج، ہارٹ اٹیک، گردوں کے امراض اور حتیٰ کہ ڈیمنشیا کے خطرے میں اضافہ کرتا ہے۔تاہم چونکہ بلند فشارِ خون کی علامات شاذونادر ہی ظاہر ہوتی ہیں، اس لیے اکثر اس کا بروقت پتا نہیں چل پاتا اور تشخیص بہت دیر سے ہوتی ہے۔ اس مرض میں مبتلا بیشتر افراد کو اس کا علم ہی نہیں۔مریضوں کیلئے مشورہمریضوں کو یہ بھی مشورہ دیا جاتا ہے کہ بلڈ پریشر ناپنے سے پہلے کم از کم پانچ منٹ خاموشی سے بیٹھیں، دونوں پاؤں زمین پر رکھیں اور کمر کو مناسب سہارا حاصل ہو۔ بلڈ پریشر ناپنے والے ایڈجسٹ ایبل کف کا درمیانی حصہ دل کی درمیانی سطح پر ہونا چاہیے، جبکہ بازو میز یا ڈیسک پر رکھا ہو۔ اس تحقیق کیلئے جان ہاپکنز میڈیسن کے محققین نے 18 سے 80 سال کی عمر کے 133 بالغ افراد کا بلڈ پریشر ناپا۔ریڈنگ لینے سے قبل تمام شرکاء نے دو منٹ چہل قدمی کی، تاکہ ایسا محسوس ہو جیسے وہ ابھی ڈاکٹر کے کلینک پہنچے ہوں۔ اس کے بعد انہیں پانچ منٹ بیٹھنے کیلئے کہا گیا۔شرکاء کے بلڈ پریشر کی متعدد ریڈنگز لی گئیں، جن کے درمیان 30، 30 سیکنڈ کا وقفہ تھا۔نتائج سے ظاہر ہوا کہ صرف بازو کی پوزیشن کی وجہ سے بھی بعض مریضوں میں ہائی بلڈ پریشر، جسے طبی اصطلاح میں ہائپرٹینشن کہا جاتا ہے، کی تشخیص ہو سکتی ہے۔ بازو کو جسم کے پہلو میں بغیر سہارے کے لٹکانے کی صورت میں سب سے زیادہ ریڈنگ سامنے آئی۔ محققین نے پایا کہ اس پوزیشن میں سسٹولک بلڈ پریشر 6.5 ملی میٹر مرکری (mmHg) اور ڈائسٹولک بلڈ پریشر 4.4 ملی میٹر مرکری زیادہ ظاہر ہوا۔ نارمل ریڈنگماہرین کے مطابق نارمل بلڈ پریشر 90/60 ایم ایم ایچ جی سے 120/80ایم ایم ایچ جی کے درمیان ہوتا ہے۔ گھر پر بلڈ پریشر ناپنے کی صورت میں 135/85 ایم ایم ایچ جی سے زیادہ ریڈنگ کو بلند فشارِ خون تصور کیا جاتا ہے، جبکہ ہسپتال میں طبی ماہر کے ذریعے پیمائش کی جائے تو 140/90ایم ایم ایچ جی یا اس سے زیادہ بلڈ پریشر ہائی تصور کیا جاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق ہائی بلڈ پریشر کے ساتھ زندگی گزارنے والے نصف سے زیادہ افراد اس بات سے لاعلم ہیں کہ وہ اس مرض میں مبتلا ہیں، جس کے باعث ان میں قبل از وقت موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

تیل کا عالمی بحران1973ء میں تیل کا عالمی بحران پیدا ہوا۔ عرب اسرائیل جنگ کے دوران خلیج فارس کی تیل برآمد کرنے والی ریاستوں نے امریکہ سمیت دیگر مغربی ممالک کو تیل کی فروخت کم کر دی تھی جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت چار گنا بڑھ گئی تھی اور دنیا خوفناک کساد بازاری کی شکار ہوئی۔ عرب ممالک نے تیل کی قیمت فروخت میں 70 فیصد اضافہ کر دیاتھا۔نیویارک میں آتشزدگی17اکتوبر1966ء کو نیویارک، مین ہیٹن کے فلیٹیر ون دسٹرکٹ کے پڑوس میں آتشزدگی کا ایک واقعہ پیش آیا۔ اس کو 23ویں سٹریٹ آتشزدگی کے نام سے بھی یا د کیا جاتا ہے۔ نیویارک سٹی فائر ڈیپارٹمنٹ کے فائر فائٹرز کا ایک گروپ آگ بجھانے کے عمل میں مصروف تھا کہ اچانک ایک عمارت گر گئی جس کے نتیجے میں12فائر فائٹر ہلاک ہو گئے۔یہ حادثہ 11 ستمبر 2001ء کے حملوں میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے گرنے تک فائر فائٹر محکمہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جانی نقصان تھا۔لوما پریٹازلزلہ17اکتوبر1989ء کو کیلیفورنیا کے وسطی ساحل لوماپریٹا میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کئے گئے۔ان جھٹکوں کا مرکز وزکاؤنٹی کی نیسین مارکس اسٹیٹ پارک کے جنگل میں تھا۔زلزلے کی شدت6.9ریکارڈ کی گئی۔ اس کے نتیجے میں 63 افراد ہلاک جبکہ 3 ہزار 757شدید زخمی ہوئے۔سانتا کروز کاؤنٹی میں بہت زیادہ نقصان ہوا۔ اس کے اثرات شمال کی طرف سان فرانسسکو کے خلیجی علاقے تک محسوس کئے گئے ۔17اکتوبر کا احتجاج17اکتوبر کا احتجاج، جسے عام طور پر ''انقلاب 17 اکتوبر ‘‘ بھی کہا جاتا ہے، لبنان میں سول احتجاج کا ایک سلسلہ تھا۔ احتجاج پیٹرول اور تمباکو پر ٹیکسوں کی وجہ سے شروع ہوا تھا۔جمود معیشت، بے روزگاری،بجلی، پانی اور صفائی جیسے بنیادی مسائل کی وجہ سے احتجاج تیزی سے پورے ملک میں پھیل گیا۔مظاہروں سے سیاسی بحران پیدا ہونے پر وزیر اعظم سعد حریری نے استعفیٰ دے دیا ۔ حسن دیاب کی سربراہی میں نئی کابینہ تشکیل دی گئی لیکن بیروت دھماکوں کے بعد اس نے بھی استعفیٰ دے دیا۔دوسری کوسوو جنگ17 اکتوبر1448ء کو دوسری کوسوو جنگ کے دوران عثمانی فوج نے ہنگیرئن فوج کو شکست دی۔ یہ زمینی جنگ تین روز تک جاری رہی جس میں سلطان مراد دوئم کی سربراہی میں عثمانی فوج نے ریجنٹ جان ہنیادی کی صلیبی فوج کو شکست دی۔اس جنگ کے بعد ترکوں کیلئے سربیا اور بلقان کی دیگر ریاستوں کو فتح کرنے کا راستہ صاف ہو گیا۔اس فتح سے عثمانیوں نے چار سال قبل ورنا میں شکست کا بدلہ چکایا۔پیرس میں قتل عام17اکتوبر1961ء کو پیرس میں ایک خوفناک قتل عام کیا گیا۔ پولیس نے نیشنل لبریشن فرنٹ الجزائر کے ایک مظاہرے پر حملہ کیا گیاجس میں تقریباً30ہزار مظاہرین شریک تھے۔1998ء میں فرانسیسی حکومت نے 40مظاہرین کی اموات کو تسلیم کیا۔ بعض مورخین کا اندازہ ہے کہ اس حملے کے دوران 200 سے 300 کے درمیان لوگ مارے گئے تھے۔ زیادہ تر کی موت پولیس کی جانب سے تشدد اور ڈوبنے کی وجہ سے ہوئی کیونکہ کہ پولیس نے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو دریائے سین میں پھینکاتھا۔