اسلامی فن تعمیر
اسپیشل فیچر
مسلم ثقافت کی اپنی انفرادیت اور پہچان کے لیے عرب لوگوں نے جو عمارتیں تعمیر کیں ان میں خصوصاً مسجدیں، محلات اور مدرسے شامل ہیں۔عہد بنو اُمیہ کی تعمیرات: بنو اُمیہ کے خلفاء نے تعمیرات کی بڑی سرپرستی کی اُموی خلیفہ امیر معاویہ نے تعمیرات میں مینار متعارف کروائے مقریزی لکھتا ہے کہ حضرت امیر معاویہ نے مسلمہ کو حکم دیا کہ اذان دینے کے لیے مینار تعمیر کرو اور منبر بھی حضرت امیر معاویہ نے تعمیر کروایا۔ عہد بنو اُمیہ کی اہم عمارتیں مندرجہ ذیل ہیں:(1) قبہ الصنحراء: یہ گنبد عبدالملک نے 691ء میں یروشلم میں تعمیر کروایا یہ ایک خوبصورت اور متاثر کرنے والا گنبد تھا اور ابتدائی مسلم تعمیرات کا ایک بہترین نمونہ تھا یہ جگہ مسلمانوں کے لیے مقدس ہے کیونکہ یہاں سے حضور انور ؐ نے شب معراج کا سفر شروع کیا۔ گنبد لکڑی سے بنایا گیا تھا اور اندرونی طرف سے پلستر کیا گیا تھا۔(2) مسجد اقصی: یہ مسجد عبدالملک نے گنبد کے قریب تعمیر کروائی۔ یہ مسجد 769ء میں زلزلے کی وجہ سے گر گئی جس کو المنصور نے دوبارہ تعمیر کروایا۔(3) جامع مسجد دمشق: یہ مسجد آٹھویں صدی کے پہلے سال تعمیر کی گئی۔MARTIN BRINGS کے مطابق یہ تاریخی ترتیب کے لحاظ سے دوسری عمارت ہے اس میں نماز پڑھانے کے لیے ایک محراب بھی تھی۔ مسجد کی محرابیں گھوڑے کے پائوں کے نعل کی شکل کی تھیں۔ مسجد کی آرائش میں سنگ مرمر استعمال کیا گیا ہے مسجد میں بازنطینی فن تعمیر کی جھلک نظر آتی ہے۔ 1893ء۔1400ء اور 1069ء میں یہ مسجد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی۔ مسلمان تاریخ دانوں کے مطابق یہ مسجد دنیا کا چوتھا عجوبہ ہے۔(4) قصرامراء: یہ ولید اول نے تعمیر کروایا۔ جس میں قریبی پہاڑوں سے سرخ، سخت جپسم پتھر استعمال کیا گیا ہے۔ ولید اول نے مدینہ کی مسجد کی تعمیر نو کی۔ یہ پہلا حکمران تھا جس نے محراب اور مینار متعارف کروائے۔ مسلمانوں کے مقدس مقامات میں آرائش کے لیے خطاطی کا استعمال کیا گیا ہے اور تصاویر سے گریز کیا گیا۔ خلیفہ سلیمان نے رملہ میں مسجد تعمیر کروائی جس میں سنگ مرمر کے ستون اور سنگ مرمر کے فرش استعمال کیے گئے ایک اور مسجد ایسپو کے مقام پر بھی اس نے تعمیر کروائی۔ عوامی خلفاء کے دور کی تعمیر: بنواُمیہ عباسی دور حکومت میں دارالخلافہ کو دمشق سے بغداد منتقل کیا گیا۔ تعمیرات میں یونانی کلاسیکل طرز تعمیر کی جگہ ایران، ساسانی اور عراقی طرز تعمیر نے لے لی۔ یہ دور مسجدوں، بادشاہوں، بزرگوں اور شرفاء کے مقبروں، محلات، عمارتوں اور قلعوں کے حوالے سے بہت مشہور ہے اس دور کی عمارات میں ایک تبدیلی یہ آئی کہ لکڑی کے ستونوں کے اوپر چھت ڈالی جاتی تھی یعنی بغیر محرابوں کے تقریباً500 سال تک عباسی خلفاء تعمیرات کی سرپرستی کرتے رہے۔ خلیفہ المنصور نے 762ء میں بغداد شہر بسایا اس کے چار دروازے تھے۔(1) کوفی دروازہ (2) بصرہ دروازہ(3) خراساں دروازہ (4) دمشق دروازہ اس کے بعدآنے والے خلفاء نے کچھ اور محلات اور مسجدیں بنائیں۔ سپین کی تعمیرات: امام الدین کے مطابق اس دور کی اکثر عمارات برباد ہو گئی ہیں لیکن ان کے باقیات ہمیں آٹھویں صدی کے سپین اور مسلمانوں کے بعد حکومت کی عظیم اور وسیع تعمیرات کے بارے میں بہت کچھ بتاتی ہیں انہوں نے گاتھک اور بربری آرٹ کو اپنے ہاں سمویا۔ عربوں کا طرز تعمیر سپین کے ان لوگوں سے بہت مختلف تھا جو رومن طرز سے بہت متاثر تھے۔ مندرجہ ذیل عمارات مسلم حکمرانوں کے دور سپین میں اہم تھیں:(1) قرطبہ مسجد(2) قصرۃ الزہرا(3) القصر(4) غرناطہ(5) الحمرا۔(1) قرطبہ مسجد: امام الدین کے مطابق قرطبہ مسجد سپین میں مسلمان حکمرانوں کی پہلی تاریخی عمارت ہے مسجد قرطبہ عبدالرحمن نے 786ء میں شروع کی اور اس کے بیٹے حسان اول نے 793ء میں مکمل کی۔ اس کی بعد میں توسیع عبدالرحمن دوم اور عبدالرحمن سوئم نے کی۔ مسجد کی اصل چوڑائی تقریباً300 فٹ تھی۔ تین دروازے عورتوں کے لیے مختص تھے اس کے ستون سنگ مرمر کے تھے اس کے کل ستون1239 تھے حکم دوم نے اس کا موجودہ ہشت پہلو(آٹھ کونوں والا) محراب بنایا۔ مسجد کے منبر پر36000 ہاتھی دانت اور لکڑی کے ٹکڑے اور قیمتی پتھر استعمال کئے گئے تھے۔ ان پتھروں کو سونے کی میخوں سے لگایا گیا تھا۔ جس پر 35705 دینار خرچ ہوئے تھے۔ مینار کی بلندی 180 فٹ تھی یہ ایک شاہکار عمارت تھی۔ عبدالرحمن نے اس کی تعمیر پر 80000 دینار خرچ کئے جبکہ عبدالرحمن سوئم نے اس کی آرائش اور مینار پر 261530 دینار خرچ کئے۔ عبدالرحمن سوم کے دور حکومت میں اس مسجد میں 10000 لیمپ تھے اور اس کی دیکھ بھال کے لیے 300 ملازم تھے انجینئر ابو جعفر نے اس مسجد کی تعمیر اپنی نگرانی میں کی۔ (2) قصرۃ الزہرا: قصرۃ الزہرہ قرطبہ سے تقریباً 4 میل دور وادی جبل العروس میں واقع تھا یہ عبدالرحمن ثالث کی ملکہ زہرہ کی یاد میں تعمیر کیا گیا تھا۔ موسم گرما کی رہائش گاہ تھی جو 100 ایکڑ رقبے پر مشتمل تھی شہر 15000 دروازوں کے اندر محفوظ کیا گیا تھا۔(3) القصرSerille کا القصر اور جیرالڈ اور سپین کے الحمرا اور غرناطہ کا مینار اہم عمارات ہیں۔ سیوے میں القصر ابو یعقوب یوسف، مواحدین حکمران کے حکم پر ماہر تعمیر جنوبی نے تعمیر کیا تھا۔ بعد میں عیسائی بادشاہوں نے اس میں کئی ترامیم کیں۔ اس کے خوبصورت حصے مندرجہ ذیل ہیں:(1) سفراء کا ہاء(2) میڈن کورٹ یارڈ۔(4) غرناطہ: یہ مینار احمد بن علی یسث نامی معروف ماہر تعمیر نے بنایا تھا۔برگز کے مطابق جیرالڈ مینار کا طرز تعمیر گاتھک ہے۔ اس کی اونچائی 300 فٹ ہے چبوترہ 43 مربع فٹ ہے اور یہ اینٹ اور پتھر سے بنایا گیا ہے۔(5) الحمرا: پروفیسر پی کے ہنی کے مطابق ’’اسلامی طرز تعمیر کی خوبصورتی الحمرا کے بنو نصر کے محل میں اپنے عروج پر دکھائی دیتی ہے۔’’یہ غرناطہ میں بنو نصر کے حکمران محمد اول 1232-1354 عیسوی کے دور میں تعمیر کیا گیا۔ یوسف اول 1333-1354 عیسوی نے اس عمارت میں توسیع کی۔٭…٭…٭