گیبریل گارشیا مارکیز کا ,ماکوندو, آباد رہے گا ...!

گیبریل گارشیا مارکیز کا ,ماکوندو, آباد رہے گا ...!

اسپیشل فیچر

تحریر : ڈاکٹر امجد طفیل


مارکیز عالمی سطح پر ایک ایسے ناول نگار کے طور پر جانا اور مانا جاتا ہے، جو ساری دُنیاکے ادیبوں اور قارئین کے لیے حیرتوں کے نئے جہان تخلیق کرتا رہا*********دنیا بھر کے ادبی حلقوں میں گذشتہ ماہ کی سترہ تاریخ کو یہ خبر غم ناکی سے سُنی گئی کہ وہ جو ہمیں اپنی کہانیوں سے مسحور کرتا ہے، اب خود موت کے طلسم کا اسیر ہو چکا ۔مارکیز کے بارے میں ایک خبر کچھ عرصہ قبل بھی کان میں پڑی تھی ،تب سے افوا تھی جب کہ اب مصدقہ بات ۔مارکیز نے لاطینی امریکا کو شناخت دینے میں اہم کردار ادا کیا۔دُنیا کا وہ خطہ جو شمالی امریکا کی چکا چوند کے پیچھے چھپا ہوا تھا، اسے ہماری آنکھوں کے سامنے اتنا روشن کر دیا کہ کم از کم ادبی سطح پر بیسویں صدی میں شمالی امریکا کی روشنی ماند پڑ گئی۔مارکیز کا تخیل مجھے اُن داستان سنانے والوں کی یاد دلاتا ہے، جو اپنے لفظوں سے طلسم تخلیق کرتے تھے اور سننے، پڑھنے والے اس طلسم میں کھو سے جاتے تھے۔طلسم کے معانی ہی یہ ہیں کہ سب کچھ نظر کا دھوکہ ہو، لیکن دیکھنے والے کو اس پر ایسا اعتبار آئے کہ فریب، حقیقت میں ڈھل جانے اور انسان اس میں ایسا اسیر ہو کہ اسے باہر نکلنے کا راستہ تک نہ مِلے ،مارکیز کے عظیم تخلیقی شاہکار ’’تنائی کے سو سال‘‘(One Hundred Year of solitude)پڑھتے ہوئے ،مجھے یہی گمان گزرا، جیسے میں ایک ایسی دُنیا میں داخل ہو چکا ہوں، جس میں انسان،روحیں ،چرند،پرند اور پودے سب ایک دوسرے میں گوندھے ہوئے ہیں۔مارکیز کے اس ناول کا آغاز لاطینی امریکا کے نو آبادیاتی بننے کے عمل سے شروع ہوتا ہے۔دو خاندانوں کے گرد گھومتا یہ ناول تین صدیوں کے سفر کو مختصر طور پر بیان کرتا’’اوسلا ‘‘اور’’بوئنڈیا ‘‘کی شادی کی خاندان کی طرف سے مخالفت کے عمل سے آغاز ہوتا ہے ۔وہ شادی تو کر لیتے ہیں، لیکن بددعا کے اثر سے نہیں نکل پاتے۔اس سے بچنے کے لیے وہ ایک لمبے سفر پر نکلتے ہیں، اس سفر کا اختتام دو سال کے بعد ایک بے آباد علاقے میں دریا کے کنارے پر ہوتا ہے، جہاں وہ ایک نئے جہان ’’ماکوندو‘‘ (Marcondo)کی تخلیق کرتے ہیں ،وہ ایک بچے کی حیرت سے اس نئے جہان کو دیکھتے ہیں۔ ’’ماکوندو‘‘مارکیز کا خواب نگر(Dream Land) ہے، جو بار بار اس کے تخیل کو مہمیز لگتا ہے۔اس ناول میںمارکیز اپنی تخلیقی قوت ’’یاد ‘‘کے مظہر سے حاصل کرتا ہے، وہ یادیں جو اُس کے بچپن کے لاطینی امریکا اور خاص طور پر کولمبیا کے معاشرے میں موجود حقیقت کے بیان پر مبنی ہیں۔ یادیں ہی مارکیز کا وہ سرمایہ ہیں، جن سے وہ اپنی تخلیقات کی بنیادیںاستوار کرتا ہے اور پھر اپنے تخیل کی بے پناہ جوانی سے ایک طلسمی فضا تعمیر کرتا ہے۔مارکیز نے اپنے افسانوں اورناولوں میں جو کردار تراشے ہیں، وہ روز مرہ زندگی میں نظر آنے والے معمولی لوگ نہیں بل کہ غیر معمولی صلاحیتوں ،خوبیوں اور جسمانی خصائص کے حامل افراد ہیں۔ مارکیز کو غیر معمولی افراد اور واقعات اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ اُن غیر معمولی کرداروں کو پیش کرنے کے لیے مارکیز جو فضا تیار کرتا ہے، وہ بھی غیر معمولی عناصر سے بھری ہوتی ہے۔مافوق الفطرت عناصر،انسان ،جانور ،پودے بے جان چیزیں اور مرد ے سب ایک دوسرے میں یوں گوندے ہیں کہ انھیں ایک دوسر ے سے جدا کرنا ممکن نہیں۔ اس سے اس مخصوص فضا کی تشکیل ہوتی ہے، جسے نقاد مارکیز کے حوالے سے طلسمی حقیقت نگاری (Magical Realism) کا نام دیتے ہیں۔مارکیز کے ادبی اور تخلیقی سفر کا آغاز 1950ء کے قریب ہوتا ہے، جب اُس نے تعلیم چھوڑ کر اپنی صحافتی زندگی کا آغاز کیا۔ابتدا میں اُس نے کہانیاں لکھیں اور اس کے ساتھ اپنے پہلے ناول’’ پتوں کا طوفان‘‘ (Leaf Storm)پر کام کرتا رہا۔1955ء میں ایک اخبار ’’ایل ایسپکیتا دور‘‘ کے نامہ نگار کی حیثیت سے اس نے یورپ کا سفر کیا۔فرانس میں اُس نے اپنے ناول ’’کرنل کو کوئی خط نہیں لکھتا‘‘(No One Writes to The Colonel)کو مکمل کیا اوریہ ناول 1961ء میں شائع ہوا ۔اس کا ایک اور ناول’’ منحوس وقت‘‘(In Evil Hour) 1962ء میں چھپا۔ اس دوران مارکیز کی آٹھ کہانیوں پر مشتمل مجموعہ ’’بڑی اماں کا جنازہ‘‘(Big Mama\'s Funeral)شائع ہو چکا تھا،تاہم مارکیز کے یہ ابتدائی ناول اور افسانوی مجموعے، اس کے لیے کوئی اہم ادبی مقام بنانے میں ناکام رہے۔مارکیز کا سب سے اہم مذکور ناول’’ تنہائی کے سو سال‘‘ 1967ء میں چھپا اور اس کے ساتھ ہی اُس کی عالم گیر شہرت کاآغاز ہو گیا ۔’’تنہائی کے سوسال ‘‘میں ہمیں وقت کی تباہ کاریاں اور تقدیر کا جبر بہت اہم موضوع کے طور پر ملتے ہیں۔اس ناول کا مرکزی کردار ’’بوئنڈیا ‘‘ خاندان اپنی سو سال کی زندگی میں جگہ جگہ اپنے بزرگ کے کرموں کا پھل چھکتا ہے۔ مارکیز نے خود’’بوئنڈیا ‘‘ خاندان کی تنہائی کا منبع،اس خاندان میں محبت کے فقدان کو قرار دیا ہے۔مارکیز کے ناولوں میں یادیں اُس کی اپنی ذات اور اپنے خاندان کی زندگی کی عکاس ہیں۔ اس کے ناولوں میں جہاں ہمیں یہ دکھائی دیتا ہے کہ فلش بیک کی تکنیک سے وہ بار بار اپنے کرداروں کے ماضی کی طرف پلٹتا ہے ،وہاں بعض جگہ مستقبل میں رونما ہونے والے واقعات کی طرف اشارہ کر کے وہ تقدیر کی جبریت کو نمایاں کرتا ہے۔’’تنہائی کے سو سال‘‘ سے زیادہ اس موضوع پر اُس کی تخلیق ’’ ایک پیش گفتہ موت کی روداد‘‘(Chronicile of a death foretold)میں ہمیں وضاحت سے اس کے نقطۂ نظر سے آگاہی دیتی ہے۔ یہ بات بھی یاد رہے کہ مارکیز کے کم و بیش تمام ناولوں کا آغاز وہاں سے ہوتا ہے ،جہاں ناول میں رونما ہونے والے واقعات پہلے ہی سے پیش آ چکے ہوتے ہیں۔مارکیز کے اُسلوب کا ایک امتیاز یہ ہے کہ وہ فرد کے خارج و باطن سماجی سیاسی اور شخصی سطحوں ایک دوسرے میں یوں گوندھتا ہے کہ ایک پیچیدہ متن تشکیل پا جاتا ہے ۔مارکیز کی فنی پختگی بیان پر اُس کی گرفت کو مضبوط رکھتی ہے ،جس سے مختلف فکری سطحیں ایک دوسرے میں یوں مدغم ہوتی ہیں کہ وہ اپنے اپنے امتیازات کو قائم بھی رکھتی ہیں اور ایک بڑے دائرے میں ایک دوسرے میں تحلیل بھی ہو جاتی ہیں۔ یہ فکشن کے فن کی معراج ہے اور مارکیز کے نام’’ تنہائی کے سوسال‘‘ اور’’ ہیضے کے دنوں میں محبت‘‘(Love in the time of Cholera)اس کی عمدہ ترین مثالیں ہیں۔’’ہیضے کے دنوں میں محبت‘‘ مارکیز کے پسندیدہ موضوعات ہی سے عبارت ہے۔وقت کی تباہ کاری غیر عقلی رویے اور محبت کی کہانی بقول مارکیز وہ محبت کی ایک ایسی کہانی لکھنا چاہتا تھا ،جس کا انجام طربیہ ہو۔ یہ کہانی مارکیز نے بہت کامیابی سے لکھی ہے، لیکن حقیقی زندگی میں کتنے عاشق اس قدر خوش قسمت ہوسکتے ہیں کہ اُنھیں اپنی کامیابی کے لیے زندگی اکیاون سال نو ماہ اور چاردن کی مہلت دے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود مارکیز نے جب 1984-85ء میں یہ ناول مکمل کیا، تو اس کی اپنی عمر بھی کم و بیش اکیاون ،باون سال ہی تھی ۔یوں ایک سطح پر یہ ناول مارکیز کی تخلیقی زندگی کا استعارہ بھی بن جاتا ہے۔مارکیزکے 1985ء کے بعد دو ناول(the General in his labyrinth) اور ’’ محبت اور دوسرے آسیب‘‘ (of love and other demons) اور کہانیوں کا ایک مجموعہ(The strange pilgrims) شائع ہوئے۔وہ اپنی قریباً 12 کہانیوں میں ہمیں اپنی یادوں سے باہر دکھائی دیتا ہے، جہاں وہ جدید زندگی کے مختلف پہلوئوں کو اپنا موضوع بناتا ہے۔مثلاً’’خوابیدہ حسن اور ہوائی جہاز‘‘ ایک ایسے سفر کی روداد ہے، جو دُنیا کی خوبصورت ترین عورت کے پہلو میں بیٹھ کر کیا گیا ہے،لیکن آخر تک معلوم نہیں ہوتا کہ یہ دُنیا حقیقت تھی یا خواب! اس مجموعے میں شامل کہانی’’ میَں صرف فون کرنے آتی تھی‘‘ میںایک عورت سب کو یقین دلانے کی کوشش کرتی ہے کہ وہ پاگلوں کی بس میں اس لیے سوار ہوئی تھی کہ اس کی گاڑی خراب ہو گئی تھی اور اسے فون کرنا تھا۔ اس افسانے میں حقیقت اور افسانے کی حدیں جگہ جگہ دھندلا جاتی ہیں۔ولی(The Saint)ایک ایسے کردار کو سامنے لاتی ہے، جو دُور درازکا سفر کر کے روم آتا ہے تاکہ یورپ کو ایک معجزے کے بارے میں بتائے، لیکن برسوں کی جدوجہد کے بعد بھی وہ کسی کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا ۔بے انتہا مشکلات اور تکالیف برداشت کرنے اور اپنے مضبوط اعتقاد کے باعث افسانے کا کردار خود ولی کے رو پ میں ڈھل جاتا ہے۔’’محبت اور دوسرے آسیب‘‘ جنوبی امریکا کے ساحل پر نو آبادیاتی عہد میں جنم لینے والی کہانی ہے ۔ ’’سرویا ماریہ‘‘ (Sierva Maria)ایک معزز خاندان کی اکلوتی اولاد ہے، جو اپنے باپ کے مکان میں غلاموں کے کوارٹر میں پرورش پاتی ہے۔ ماریہ کا والد اس کو آسیب سے نجات دلانے کے لیے ایک مذہبی عبادت گاہ میں بھیج دیتا ہے ، جہاںپادری کالڑکا اُس کا آسیب نکالتے نکالتے خود محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے اور اپنی عبادت ،نیکی اور پرہیز گاری سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔اس ناول میں مارکیزنے محبت کو ایک تحریبی قوت کے طور پر بیان کیا ہے، جو ایک آسیب کی طرح فرد کی شخصیت کے تاروپود بکھیر دیتی ہے۔الغرض مارکیز عالمی سطح پر ایک ایسے ناول نگار کے طور پر جانا اور مانا جاتا ہے، جو ساری دُنیاکے ادیبوں اور قارئین کے لیے حیرتوں کے نئے جہان تخلیق کرتا رہا۔ اُس نے دُنیاکے ایک پسماندہ خطے سے تعلق رکھتے ہوئے مغربی معاشرے میں اپنے تخلیقی تجربوں سے بڑا مقام بنایا، وہ اگرچہ اب ہم میں نہیں لیکن اُس کا خواب نگر’’ ماکوندو‘‘ قارئین کے دلوں میں آباد رہے گا۔٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
روبوٹ پولیس افسر

روبوٹ پولیس افسر

مصنوعی ذہانت میں اہم پیشرفتٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی نے جہاں انسانی زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو بدل کر رکھ دیا ہے، وہیں اب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے طریقہ کار میں بھی ایک بڑی تبدیلی کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق آئندہ چند برسوں میں روبوٹ پولیس افسر حقیقت کا روپ دھار سکتے ہیں اور 2031ء تک دنیا کے کئی شہروں کی سڑکوں پر گشت کرتے دکھائی دے سکتے ہیں۔ یوں سائنس فکشن فلموں کا تصوراتی کردار''روبو کوپ‘‘ اب محض کہانی نہیں رہے گا بلکہ عملی دنیا میں ایک نئی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت، چہرہ شناسی ٹیکنالوجی، خودکار نگرانی کے نظام اور ڈیٹا اینالیٹکس میں تیز رفتار پیش رفت نے اس خیال کو قابلِ عمل بنا دیا ہے۔ جدید روبوٹ نہ صرف مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی کر سکیں گے بلکہ ہجوم کو کنٹرول کرنے، ٹریفک کی نگرانی کرنے اور ہنگامی حالات میں فوری ردعمل دینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں گے۔ ان میں نصب کیمرے اور سینسر لمحہ بہ لمحہ معلومات مرکزی کنٹرول روم تک پہنچائیں گے، جس سے جرائم کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔تاہم اس ممکنہ پیش رفت کے ساتھ کئی سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔ کیا روبوٹ انسانی حساسیت اور فیصلہ سازی کی جگہ لے سکیں گے؟ کیا عوام انہیں قبول کریں گے؟ اور سب سے اہم، شہری آزادیوں اور پرائیویسی کا تحفظ کس طرح یقینی بنایا جائے گا؟ بلاشبہ، روبوٹ پولیس کا تصور جہاں جدیدیت کی علامت ہے، وہیں اس کے سماجی اور اخلاقی پہلوؤں پر سنجیدہ بحث بھی ناگزیر ہے۔ایک ماہر نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ صرف پانچ برسوں میں روبوٹ پولیس افسر ہماری سڑکوں پر گشت کرتے نظر آئیں گے۔ یونیورسٹی آف ڈیلاویئر سے تعلق رکھنے والے پروفیسر آئیون سن کے مطابق حقیقی زندگی کے یہ ''روبو کوپس‘‘ مشتبہ افراد کی نشاندہی کرنے، ان کا تعاقب کرنے اور انہیں گرفتار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ دنیا بھر کی پولیس فورسز بڑھتے ہوئے جرائم، منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس اور افرادی قوت کی کمی جیسے مسائل سے پہلے ہی نبرد آزما ہیں۔چین میں انسانی شکل کے روبوٹس پہلے ہی استعمال ہو رہے ہیں، اور پروفیسر سن کا خیال ہے کہ جلد ہی دیگر ممالک بھی اس رجحان کو اپنالیں گے۔ان کی پیش گوئی ہے کہ 2031ء تک روبوٹ پولیس افسر چہرہ شناسی ٹیکنالوجی کے ذریعے مجرموں کی شناخت کرنے، ان کا پیچھا کرنے اور انہیں حراست میں لینے کے قابل ہو جائیں گے۔اگرچہ ممکن ہے کہ انہیں ایک انسانی ساتھی کی ضرورت ہو، تاہم خطرناک حالات میں وہ انتہائی مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امکانات کی کوئی حد نہیں۔ مثال کے طور پر اگر ڈکیتی ہو جائے تو وہ موقع پر مکمل کنٹرول سنبھال سکتے ہیں۔وہ پانچ میل تک تعاقب کر سکتے ہیں اور تھکن محسوس نہیں کریں گے۔ اسی دوران وہ مشتبہ شخص کی حیاتیاتی معلومات اور خصوصیات کو اسکین بھی کر سکتے ہیں۔ ان کی مصنوعی ذہانت 200 میٹر کے فاصلے سے یہ معلوم کر سکتی ہے کہ مشتبہ شخص کے پاس ہتھیار ہے یا نہیں، جو ایک انسانی افسر کیلئے ممکن نہیں۔اگرچہ روبوٹ پولیس افسران کی تعیناتی سے واضح قانونی اور اخلاقی سوالات جنم لیتے ہیں، تاہم پروفیسر آئیون سن کا ماننا ہے کہ ان کا نفاذ ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ طاقت کے استعمال یا تیز رفتار تعاقب جیسے اقدامات اب محض تصور نہیں رہے، یہ حقیقت بننے جا رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق مستقبل میں انسانی پولیس اہلکاروں کو بھی مصنوعی ذہانت سے لیس ہیلمٹس فراہم کیے جا سکتے ہیں، جو ان کی صلاحیتوں میں اضافہ کریں گے۔ مثال کے طور پر کسی ہنگامی صورتحال میں اے آئی یہ تجزیہ کرنے میں مدد دے سکتی ہے کہ گولی چلانی چاہیے یا نہیں۔پروفیسر سن نے خبردار کیا ہے کہ روبوٹ پولیس کو مقامی کمیونٹیز میں شامل کرنے سے قبل متعدد امور پر سنجیدہ غور و خوض ضروری ہے، خصوصاً قانون سازی اور شہریوں کی نجی زندگی کے تحفظ سے متعلق معاملات پر۔ اس وقت وہ برطانیہ سمیت دنیا بھر کے پولیس افسران کی رائے جاننے کیلئے ایک سروے کر رہے ہیں، جس میں اے آئی سے لیس پولیس اہلکاروں کے بارے میں ان کے خیالات معلوم کیے جا رہے ہیں۔پروفیسر سن کا خیال ہے کہ مغربی ممالک بشمول برطانیہ، میں پولیس افسران ممکنہ طور پر جرائم سے نمٹنے والے روبوٹ کو ترجیح دیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک روبوٹ ممکنہ طور پر تین افسران کا کام انجام دے سکتا ہے اور اسے وقفے یا آرام کی ضرورت نہیں ۔پروفیسر سن کی جانب سے کی گئی حالیہ تحقیق، جو ایشین جرنل آف کرائمینالوجی میں شائع ہوئی، میں لکھا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والی اداروں پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور جرائم کی بڑھتی ہوئی پیچیدگی کے درمیان، دنیا بھر کے علاقوں نے پولیس آپریشنز میں مصنوعی ذہانت (AI) سے لیس روبوٹ شامل کرنا شروع کر دیے ہیں۔ چین، امریکہ، سنگاپور اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک نے مختلف خودمختاری کی سطح کے ساتھ روبوٹک نظام آزمایا ہے، جن میں اکثر چہرہ شناسی اور پیش گوئی کرنے والے الگوردمز جیسی ٹیکنالوجیز شامل کی گئی ہیں۔ یہ پیش رفت پولیس کے تکنیکی انقلاب کے وسیع رجحان کی عکاسی کرتی ہے، جہاں روبوٹ سمیت اے آئی کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے، تاکہ عملی کارکردگی، پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود اور آخر کار عوام کی حفاظت کو بہتر بنایا جا سکے۔

بسکنگ کا منفرد عالمی ریکارڈ

بسکنگ کا منفرد عالمی ریکارڈ

سڑک کنارے فن کا مظاہرہ کرنے والی نوجوان آرٹسٹ ''پیانو بائیک گرل‘‘ کلوئی جن کا تعلق جنوب مغربی انگلینڈ کے علاقے ڈیوون سے ہے، ایک بار پھر اپنے مخصوص انداز کے ساتھ عوام کے درمیان لوٹ آئی ہیں۔ چند روز قبل ان کی وین کی چوری نے جہاں ان کے مداحوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا تھا، وہیں یہ واقعہ ان کیلئے ایک کڑا امتحان بھی ثابت ہوا۔ اسی وین میں ان کا پرفارمنس سے متعلق ضروری سامان موجود تھا، جس کے بغیر ان کی روزمرہ کی سرگرمیاں تقریباً ناممکن ہو گئی تھیں۔ تاہم حوصلہ اور عزم کی مثال قائم کرتے ہوئے کلوئی نے ہمت نہیں ہاری اور دوبارہ اپنی ''پیانو بائیک‘‘ کے ساتھ سڑکوں پر موسیقی کا جادو جگانے کا فیصلہ کیا۔کلوئی اپنی منفرد پہچان کی بدولت سوشل میڈیا اور شہری حلقوں میں خاصی مقبول ہیں۔ وہ سائیکل کے ساتھ منسلک پیانو پر مختلف دھنیں بجاتی ہیں اور راہگیروں کو چند لمحوں کیلئے روزمرہ کی مصروفیات سے نکال کر موسیقی کی دنیا میں لے جاتی ہیں۔ ان کی پرفارمنس نہ صرف تفریح فراہم کرتی ہے بلکہ مثبت توانائی اور امید کا پیغام بھی دیتی ہے۔ وین کی چوری کے بعد یہ واپسی محض ایک فنکار کی واپسی نہیں بلکہ عزم، خود اعتمادی اور فن سے وابستگی کی روشن مثال بن کر سامنے آئی ہے۔قدیم فنِ بسکنگ (busking) عوامی جگہوں پر پرفارم کرنا اور رضاکارانہ چندہ وصول کرنا، رومی دور تک پھیلا ہوا ہے حالانکہ لفظ ''بسکنگ‘‘ نے انگریزی زبان میں 1800 کی دہائی کے وسط میں ہی شہرت حاصل کی۔ بہت سے گلوکار و موسیقار شاید اپنے کریئر کا آغاز انہی مصروف شہر کے گوشوں یا کم روشنی والے سب ویز سے کر چکے ہیں۔ ایڈ ایلی جوہانسن (Ed Alleyne Johnson )، ٹریسی چیپمین (Tracy Chapman)، آسٹریلوی بینڈ ''5 سیکنڈز آف سمر‘‘، مائیکل روزنبرگ (جسے ''پسینجر‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے) اور ایڈ شیئرن(Ed Sheeran)۔ یہ وہ نام ہیں جنہوں نے شہرت اور دولت کیلئے ''بسکنگ‘‘ کے معروف راستے پر قدم رکھا یا اپنے پاؤں جمائے۔برطانوی گلوکارہ کرسٹینا مائلز نے 2005ء میں بی بی سی ریڈیو 5 لائیو کے ''بسک آئیڈل‘‘ میں کامیابی حاصل کی۔ اب ''بسکنگ‘‘ کی دنیا میں ایک نیا ستارہ نمودار ہوا ہے، جس نے جس نے روایتی قواعد کو توڑا ہے کہ سٹریٹ پرفارمنس صرف مائیکروفون، پرانی گٹار یا بے تال کی بورڈ کے ساتھ ہی کی جا سکتی ہے۔کلوئی ماری ایسٹن نے حال ہی میں سب سے زیادہ شہروں اور قصبوں میں ''بسکنگ‘‘ کرنے والی گلوکارہ کا ریکارڈ اپنے نام کیا ہے۔ وہ 190 شہروں میں اب تک ''بسکنگ‘‘ کا مظاہرہ کر چکی ہیں۔یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔وہ جنوب مغربی انگلینڈ کے علاقوں لیسٹر، اِپس وچ، آئل آف وائٹ اور ویلز کے علاقے پیمبروک شائر میں واقع سینٹ ڈیویڈز (آبادی کے لحاظ سے برطانیہ کا سب سے چھوٹا شہر) تک جا چکی ہیں۔اپنی ویب سائٹ پر وہ ہر بسکنگ سفر کو نقشے میں مقام کا نام شامل کر کے دستاویزی شکل دیتی ہیں، اور ان کی خواہش ہے کہ ایک دن برطانیہ کے ہر قصبے اور شہر کا دورہ کریں،جن کی تعداد ایک ہزار سے بھی زیادہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دن ہو یا رات، اور موسم کیسا ہی کیوں نہ ہو، ''پیانو بائیک گرل‘‘ کلوئی ہکی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ اکتوبر 2025ء میں اسٹافورڈ شائر کے شہر ٹیمورتھ میں بے رحم چوروں کے ہاتھوں ان کی ٹورنگ وین کی چوری،جس نے وقتی طور پر ان کی بسکنگ سرگرمیوں کو روک دیا تھا،بھی اس باہمت اور پُرعزم نوجوان خاتون کو اپنے مشن سے باز نہ رکھ سکی۔وہ ایک خوبصورت ہلکے نیلے رنگ کے الیکٹرک پیانو کے ساتھ بسکنگ کرتی ہیں، جو ایک سائیکل کے ساتھ منسلک ہے۔ ڈیون کے علاقے اِلیفراکامب سے تعلق رکھنے والی 21 سالہ کلوئی بچپن ہی سے گانے اور پرفارم کرنے کی شوقین ہیں۔ 14 برس کی عمر میں انہوں نے بسکنگ کا آغاز کیا۔ ابتدا میں وہ گٹار بجاتی تھیں، مگر اس سے ان کی انگلیوں میں تکلیف ہوجاتی تھی۔ اپنے والد لی کے مشورے پر انہوں نے پیانو آزمایا۔ والد نے محبت سے ان کیلئے ایک منفرد ''پیانو بائیک‘‘ تیار کی، جس نے ان کے فنی سفر کو باقاعدہ طور پر رواں کر دیا۔کلوئی 18 برس کی عمر تک مختلف میوزیکل تھیٹر گروپس سے وابستہ رہیں۔ اُنہوں نے پیٹروک (موجودہ نارتھ ڈیون کالج) سے میوزک کی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں انہیں BIMM (برٹش اینڈ آئرش ماڈرن میوزک) برسٹل میں داخلے کی پیشکش ہوئی، مگر پیانو بائیک کے ذریعے طے شدہ پرفارمنسز کی وجہ سے انہوں نے یہ پیشکشقبول نہ کی اور فیصلہ کیا کہ اسی راستے کو بھرپور انداز میں آگے بڑھایا جائے۔یہ ایسا فیصلہ تھا جس پر انہیں کبھی پچھتاوا نہیں ہوا۔ کلوئی کہتی ہیں، ‘‘میں اب ملک بھر کے زیادہ سے زیادہ شہروں میں جا کر بسکنگ کرتی ہوں، اس کے علاوہ کاؤنٹی شوز اور شادیوں میں بھی پرفارم کرتی ہوں۔کلوئی مستقبل میں اسٹیڈیم ٹورز کرنے اور پیشہ ورانہ سطح پر موسیقی ریکارڈ اور ریلیز کرنے کا عزم رکھتی ہیں۔ یوں ان کا سفر محض سڑکوں تک محدود نہیں بلکہ بڑے اسٹیجز تک پہنچنے کی واضح منزل کی جانب گامزن ہے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!مرزا اسد اللہ غالب اُردو شاعری کا اہم ترین نام(1869-1797)

آج تم یاد بے حساب آئے!مرزا اسد اللہ غالب اُردو شاعری کا اہم ترین نام(1869-1797)

٭... 27 دسمبر 1797ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔اصل نام اسد اللہ بیگ خان تھا۔جہانِ سخن میں غالب کے تخلص سے مشہور ہوئے۔ آبا ؤ اجداد کا پیشہ سپہ گری تھا۔٭... لڑکپن سے ہی شعر کہنا شروع کر دیئے تھے۔٭... شادی کے بعد غالب دہلی منتقل ہوگئے، جہاں انھوں نے ایک ایرانی باشندے عبد الصمد سے فارسی کی تعلیم حاصل کی۔٭...غالب اردو اور فارسی میں شعر کہتے تھے۔٭...نقادوں کے مطابق غالب پہلے شاعر تھے جنھوں نے اردو شاعری کو ذہن عطا کیا۔٭...1855ء میں بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے دربار میں استاد مقرر ہوئے۔ دربار سے نجم الدولہ، دبیرُ الملک اور نظام جنگ کے خطابات عطا ہوئے۔٭...غالب نے سہل ممتنع اور سادہ و رواں بحروں میں مضامین کو اس خوبی اور عمدگی سے باندھا کہ آج بھی ہر خاص و عام میں مقبول ہیں۔ ٭... شاعری کے ساتھ نثر نگاری میں نئے اسلوب کو متعارف کروایا۔ ان کے خطوط ان کی نثر نگاری کا عمدہ نمونہ اور مثال ہیں۔٭...مرزا غالب پر ہندوستان اور پاکستان میں کئی فلمیں بھی بنائی گئیں اور ٹی وی ڈرامے بھی۔ ٭...غالب کی اردو اور فارسی غزلیات کی تشریح و توضیح پر کم و بیش 150 سے زائد کتابیں لکھی جا چکی ہیں ۔٭...15 فروری 1869ء کو دہلی میں وفات پائی۔منتخب اشعارعشق نے غالب نکما کر دیاورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے............پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہےکوئی بتلائو کہ ہم بتلائیں کیا............اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدالڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں............بے خودی بے سبب نہیں غالبکچھ تو ہے، جس کی پردہ داری ہے............ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکندل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے............ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونقوہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے............یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتااگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا............عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبکہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے٭٭٭ہم کو ان سے وفا کی ہے امیدجو نہیں جانتے وفا کیا ہے٭٭٭وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہےکبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

آج کا دن

آج کا دن

سوویت افواج کا افغانستان سے انخلاء1989ء میں 15فروری کو سوویت یونین نے 9 سالہ قبضہ ختم کرتے ہوئے افغانستان سے افواج کے مکمل انخلاء کا اعلان کیا۔ اس جنگ میں سپر پاور کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران 15 ہزار فوجی اور 10 لاکھ افغان شہری ہلاک ہو ئے۔ اس جنگ میں امریکہ، برطانیہ اور پاکستان نے مجاہدین کی مدد کی۔سقراط کو سزائے موت15 فروری 399ء میں اخلاقی اقدار اور مہذب فلسفے کے بانی سقراط کو یونانی دیوتائوں کی مخالفت کرنے پر سزائے موت دی گئی۔ سقراط جنہیں جدید فلسفے کا بانی بھی کہا جاتا ہے کی موت کے بعد ان کے اقوال کو زندہ رکھنے کیلئے بہت سے تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں لایا گیا، جنہوں نے سقراط کے نظریات و افکار کو دنیا بھر میں پھیلانے کیلئے اہم کردار ادا کیا۔عراق جنگ کے خلاف احتجاج15 فروری 2003ء کو دنیا بھر میں احتجاج کیلئے مختص کیاگیا، جس میں 600 سے زیادہ شہروں میں لوگوں نے عراق جنگ کی مخالفت کا اظہار کیا۔ اس احتجاج کو محققین نے ''انسانی تاریخ کا سب سے بڑا احتجاج‘‘ قرار دیا۔2004 ء کے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں یہ احتجاج تاریخ کی سب سے بڑی جنگ مخالف ریلی کے طور پر درج ہے۔

فیراری کی نئی الیکٹرک کار ’’لوسے‘‘

فیراری کی نئی الیکٹرک کار ’’لوسے‘‘

ایپل کار کے خواب کی عملی جھلکدنیا کی آٹو موبائل صنعت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں رفتار اور طاقت کے ساتھ ساتھ پائیداری، ذہانت اور ڈیزائن کی نفاست بھی فیصلہ کن اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ اسی بدلتے ہوئے منظرنامے میں ''فیراری‘‘ (Ferrari) نے اپنی پہلی مکمل الیکٹرک سپورٹس کار متعارف کرانے کی تیاری کر لی ہے، جسے ''فیراری لوسے‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ''لوسے‘‘ یعنی روشنی اور بظاہر یہ نام محض علامتی نہیں بلکہ ایک نئے عہد کی علامت ہے، جہاں روایتی انجن کی گرج کے بجائے برقی طاقت کی خاموش رفتار مستقبل کی سمت متعین کرے گی۔دلچسپ امر یہ ہے کہ اس گاڑی کے ڈیزائن میں ٹیکنالوجی کی دنیا کی ایک عظیم شخصیت کا تخلیقی لمس شامل ہے۔ سر جونی آئیو ( Sir Jony Ive) جنہیں جدید صنعتی ڈیزائن کا معمار سمجھا جاتا ہے، اس منصوبے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہی ڈیزائنر جنہوں نے ''ایپل‘‘ (Apple) کی معروف مصنوعات کو نئی بصری شناخت دی اور سادگی کو جدت کا استعارہ بنا دیا۔ ان کی سوچ ہمیشہ اس اصول کے گرد گھومتی رہی ہے کہ بہترین ڈیزائن وہ ہے جو کم سے کم اجزا کے ساتھ زیادہ سے زیادہ فعالیت فراہم کرے۔ یہی فلسفہ اب ایک اطالوی سپر کار کی دنیا میں داخل ہو رہا ہے۔ طویل انتظار کے بعد متوقع ایپل کار اگرچہ حقیقت کا روپ نہ دھار سکی، تاہم ٹیکنالوجی کی دنیا کے اس خواب کا عکس اب فیراری (Ferrari) کی پہلی مکمل الیکٹرک سپورٹس کار ''فیراری لوسے‘‘ میں دکھائی دینے والا ہے۔ ڈیزائن میں ایپل کی جھلکاس شاندار گاڑی کے اندرونی ڈیزائن کے پیچھے وہی تخلیقی ذہن کارفرما ہے جس نے ''ایپل‘‘ (Apple) کی معروف مصنوعات کو نئی شناخت دی یعنی سر جانی آئیو ( Sir Jony Ive)۔ میک سے لے کر آئی فون تک، سادگی، نفاست اور فعالیت کو یکجا کرنا اُن کا امتیاز رہا ہے۔ یہی فلسفہ ''فیراری لوسے‘‘ کے کیبن میں بھی نمایاں ہے، جہاں ایلومینیم کے باریک تراشے گئے حصے اور شیشے کی نفیس تکمیل ایک پرتعیش فضا پیدا کرتے ہیں۔سر آئیو کے متعارف کردہ ''یونی باڈی‘‘ ڈیزائن کی یاد دلاتا ہوا اندرونی ڈھانچہ ایک مربوط، مضبوط اور ہم آہنگ تاثر دیتا ہے۔ کنٹرول پینل اور شفٹر میں استعمال ہونے والا مضبوط شیشہ جدید اسمارٹ فونز کی ٹیکنالوجی کی بازگشت سناتا ہے، جس سے گاڑی کا اندرونی حصہ مستقبل کی جھلک پیش کرتا ہے۔فعالیت اور تحفظ کا امتزاجفیراری کے مطابق گاڑی کے ہر جزو کو صارف کے تجربے اور فعالیت کو مدنظر رکھ کر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اسپیڈومیٹر اور دیگر آلات پر مشتمل ڈیش بورڈ اسٹیئرنگ وہیل کے ساتھ مربوط ہے، تاکہ موڑ کاٹتے وقت بھی ڈرائیور کی نظر ہمیشہ اہم معلومات پر مرکوز رہے۔ بظاہر اینالاگ دکھائی دینے والے ڈسپلے درحقیقت باریک OLED اسکرینز ہیں جو شفاف اور روشن گرافکس فراہم کرتے ہیں۔دلچسپ امر یہ ہے کہ جہاں جدید الیکٹرک گاڑیاں بڑے ٹچ اسکرینز پر انحصار کرتی ہیں، وہیں ''فیراری لوسے‘‘ اس رجحان سے ہٹ کر متوازن راستہ اختیار کرتی ہے۔ ایک چھوٹا، آئی پیڈ نما ڈسپلے بال ساکٹ پر نصب ہے، جو ڈرائیور یا مسافر کی جانب جھکایا جا سکتا ہے۔ اسے پام ریسٹ کے ساتھ اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ ڈرائیور بغیر نگاہ ہٹائے کنٹرولز استعمال کر سکے۔ یوں ''کگنیٹو لوڈ‘‘ کم ہوتا ہے اور توجہ سڑک پر برقرار رہتی ہے۔حالیہ مطالعات نے بھی اشارہ کیا ہے کہ بڑے ٹچ اسکرین انٹرفیس ڈرائیونگ کے دوران توجہ منتشر کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں فیراری کا یہ فیصلہ نہ صرف ڈیزائن کا جرات مندانہ قدم ہے بلکہ ممکنہ طور پر حفاظتی اعتبار سے بھی اہم پیش رفت ہے۔فزیکل کنٹرولز کی واپسیسر آئیو کے ایپل دور میں بٹنوں کی کمی کو جدت کی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر ''فیراری لوسے‘‘ اس کے برعکس ایک نئی سمت دکھاتی ہے۔ اسٹیئرنگ وہیل اور کنٹرول پینل پر بڑے دھاتی ڈائلز، سوئچ اور بٹن نمایاں ہیں۔ حتیٰ کہ ریئر ویو مرر کے قریب اوور ہیڈ پینل میں فوگ لائٹس، ڈی مسٹرز اور لانچ کنٹرولز کیلئے علیحدہ سوئچ نصب ہیں۔ یہ سب کچھ ڈرائیونگ کے عملی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا ہے۔حتمی رونمائی کا انتظارفی الحال فیراری نے انجن، بیٹری کی گنجائش اور بیرونی ڈیزائن سے متعلق تفصیلات کو راز میں رکھا ہوا ہے۔ تاہم ابتدائی جھلک سے اندازہ ہوتا ہے کہ ''فیراری لوسے‘‘ محض ایک الیکٹرک گاڑی نہیں بلکہ ڈیزائن، ٹیکنالوجی اور کارکردگی کے امتزاج کی نئی تعریف ثابت ہو سکتی ہے۔موٹرنگ اور ایپل کے شائقین اب مئی کی متوقع رونمائی کے منتظر ہیں، جب یہ ''روشنی‘‘ واقعی سڑکوں پر اترے گی اور دیکھا جائے گا کہ کیا یہ خواب حقیقت سے بھی زیادہ دلکش ثابت ہوتا ہے۔

ہاؤس برپنگ: صحت مند گھریلو فضا کا سادہ مگر مؤثر طریقہ

ہاؤس برپنگ: صحت مند گھریلو فضا کا سادہ مگر مؤثر طریقہ

جدید دور میں جہاں گھروں کو ہر موسم میں بند رکھنا معمول بنتا جا رہا ہے، وہیں صحتِ عامہ سے متعلق نئے خدشات بھی جنم لے رہے ہیں۔ بند کمروں میں گردش کرتی ہوا جراثیم، وائرس اور مضر ذرات سے آلودہ ہو کر انسانی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔ ایسے میں ''ہاؤس برپنگ‘‘ کا نیا رجحان توجہ حاصل کر رہا ہے، جس کے تحت لوگ باقاعدگی سے کھڑکیاں اور دروازے کھول کر گھروں کی فضا کو تازہ ہوا سے بدلتے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ سائنس دانوں نے بھی اس سادہ مگر مؤثر عادت کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عمل واقعی گھروں میں موجود جراثیم سے بھرپور ہوا کو خارج کرنے اور صحت مند ماحول قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اب صاف ستھری اور تازہ ہوا کو بہتر صحت کی بنیادی ضرورت قرار دے رہے ہیں۔''ہاؤس برپنگ‘‘ سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہونے والا نیا رجحان ہے، جس میں لوگ سردیوں کی شدید ٹھنڈ میں بھی اپنے گھروں کی کھڑکیاں پوری طرح کھول دیتے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ جراثیم سے بھرپور ہوا کو باہر نکالا جا سکے۔ایک صارف نے کہاکہ مجھے نہیں معلوم آپ نے اس کے بارے میں سنا ہے یا نہیں، لیکن میں نے یہ ابھی ٹک ٹاک پر سیکھا ہے۔ آپ کو اپنے گھر کو ''برپ‘‘ کرنا چاہیے۔ ایک اور صارف نے زور دیتے ہوئے کہا کہ سردی کے باوجود گھر کی ''ہاؤس برپنگ‘‘ بے حد ضروری ہے۔جبکہ ایک صارف نے مذاقاً کہا کہ نئے لوگ اسے ''ہاؤس برپنگ‘‘ کہتے ہیں، میں تو اسے ''روزانہ گھر میں تازہ ہوا آنے دینا محض عام سی عقل کی بات‘‘ کہتا ہوں۔اس کے منفرد نام کی وجہ سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ''ہاؤس برپنگ‘‘ محض ایک فضول فیشن ہے، لیکن اب آئرلینڈ کی یونیورسٹی آف لیمریک میں شعبہ صحتِ عامہ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر وکرم نیرنجن کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ واقعی مؤثر ہے۔ وہ گھر جہاں کبھی ''ہاؤس برپنگ‘‘ نہیں کی جاتی، وہاں اندرونی آلودگی کی سطح زیادہ اور سانس سے خارج ہونے والی ہوا کا اجتماع بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر وائرس کے موسم میں۔انہوں نے مزید کہاکہ اپنے گھر کو درست وقت پر ایک مختصر ''اسپا بریک‘‘ دیں۔ کھڑکیاں کھول دیں، باسی ہوا کو باہر نکلنے دیں اور تازہ ہوا کو اندر آنے دیں۔ آپ کے پھیپھڑے، دماغ اور حتیٰ کہ آپ کے پالتو جانور بھی اس پر شکر گزار ہوں گے۔اگرچہ اس وقت ''ہاؤس برپنگ‘‘ ٹک ٹاک پر تیزی سے مقبول ہو رہی ہے، لیکن درحقیقت یہ عمل جرمنی میں برسوں سے رائج ہے۔وہاں اسے ''لوفٹن‘‘ (Lüften) یعنی ہوا کی تبدیلی، یا ''شٹوس لوفٹن‘‘ (Stoßlüften) یعنی جھٹکے سے ہواداری کہا جاتا ہے۔اس کا تصور نہایت سادہ ہے۔آپ چند منٹ کیلئے اپنے گھر کی کھڑکیاں اور دروازے پوری طرح کھول دیتے ہیں تاکہ تازہ ہوا تیزی سے اندر داخل ہو کر باسی اندرونی ہوا کی جگہ لے لے۔ڈاکٹر نیرنجن کے مطابق: گھروں کی اندرونی فضا میں غسل اور کھانا پکانے سے نمی، چولہوں اور موم بتیوں سے دھواں اور ذرات، صفائی کے اسپرے اور فرنیچر سے نکلنے والے کیمیکلز، اور انسانوں کے سانس سے خارج ہونے والے باریک ذرات اور وائرس جمع ہو جاتے ہیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ جب گھر کو ''برپ‘‘ کیا جاتا ہے تو باہر کی تازہ ہوا کا اچانک بہاؤ اس مرکب کو پتلا کر دیتا ہے اور اس کا بڑا حصہ باہر دھکیل دیتا ہے۔تاہم، ہاؤس برپنگ کے فوائد آپ کے گھر کے محل وقوع کے لحاظ سے مختلف ہو سکتے ہیں۔مثال کے طور پر، اگر آپ کسی مصروف مرکزی سڑک یا موٹر وے کے قریب رہتے ہیں تو گھر کی ''ہاؤس برپنگ‘‘ الٹا آلودہ ہوا کو اندر لے آنے کا سبب بن سکتی ہے۔اس حوالے سے ڈاکٹر نیرنجن نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ مصروف اوقات میں سڑک کے کنارے واقع گھروں کی کھڑکیاں کھولنے سے گاڑیوں کے دھوئیں، ٹائروں اور بریک کی گرد کا ریلا اندر آ سکتا ہے، عین اس وقت جب ٹریفک کی آلودگی اپنی انتہا پر ہوتی ہے۔گھر کی ''ہاؤس برپنگ‘‘ کیلئے درست وقت کا انتخاب بھی نہایت اہم ہے۔اگر آپ کسی شہر میں رہتے ہیں تو بہتر یہی ہے کہ صبح اور شام کے اوقاتِ آمد و رفت (کمیوٹ ٹائم) سے گریز کریں، کیونکہ ان اوقات میں بیرونی فضائی آلودگی عموماً اپنی بلند ترین سطح پر ہوتی ہے۔ڈاکٹر نیرنجن نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ان اوقات کے علاوہ مختصر وقفوں کیلئے ''ہاؤس برپنگ‘‘ کرنایا بارش کے فوراً بعد، جب ہوا میں موجود کچھ ذرات عارضی طور پر دھل جاتے ہیںانفیکشن سے بچاؤ اور آلودگی سے نمائش کے درمیان بہتر توازن فراہم کر سکتا ہے۔اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہاؤس برپنگ کا عمل صرف مختصر وقت کیلئے ہو، کیونکہ زیادہ دیر تک کھڑکیاں کھلی رکھنے سے گھر باقی دن کے لیے ٹھنڈا ہو سکتا ہے۔