صحت مند جلد کیلئے فیشل
اسپیشل فیچر
جلد آپ کی اندرونی صحت اور آپ کی تندرستی کا ایک سچا اور کھرا آئینہ پیشکرتی ہے۔ذرا اس بات پر غور کریں کہ آپ ایسی چکنی غذا یا چکنی غذائیں خوب جی بھر کر کھاتی ہیں کہ جن سے آپ کو الرجی ہو جاتی ہے آپ کی جلد ایسی صورت میں اس بات کا سب سے پہلے اشارہ دیتی ہے کہ آپ نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہے۔دوسری جانب اگر آپ صحت مند غذا کھا رہی ہیں اور ڈھیروں تازہ پانی پینے کے ساتھ ورزش بھی کر رہی ہیں تو آپ کی جلد ایک صحت مندانہ تمتماہٹ ظاہر کرے گی اور یہ اس توجہ کا نتیجہ ہوگا جوآپ اس پر دیتی رہی ہیں۔ فیشیل صحت مند جلد کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے اور جلد کو مسائل سے آزاد رکھتا ہے۔ فیشلز اس طریقے سے ڈیزائن ہوتے ہیں کہ ہر قسم کی جلد کو ٹریٹ کر سکیں۔جلد کی بنیادی طور پر 5 قسمیں ہوتی ہیں:۔چکنی جلد‘ خشک جلد‘ نارمل جلد ‘ حساس جلداور ان تمام کی کمبی نیشن جلد!20 سال سے 30 سال کی عمر کی درمیان بیشتر خواتیں یہی سوچتی ہیں کہ ان کے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا 30 سال کی عمر میں حقیقت ان پر آشکار ہونے لگتی ہے اور 40 سال کی عمر تک پہنچنے پر بات حد سے تجاوز کرجاتی ہے اور جو نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے اس کا ازالہ ممکن نہیں ہوتا۔فیشیلز جلد کی گہرائی تک اثر کرنے والے ٹریٹمینٹ ہیں جو کہ جلد کے داغ دھبوں‘ ایکنی ‘ ڈرائی اسکن اور جھریوں کو کم سے کم کرنے کے علاوہ جلد کی صفائی کرتے ‘ اس کونمی پہنچاتے (ری ہائیڈیشن) اور اسے دوبارہ جوانوں کی سی تازگی عطا کرتے ہیں۔ اس میں صفائی کا عمل‘ مساج اور بھاپ شامل ہوتے ہیں اور فیس ماسک کا لگانا بھی۔ ایک اچھا بیوٹی سیلون فیشلز کی وسیع رینج فراہم کرتا ہے۔ان میں سے چند یہ ہیں۔ اسپیشل فیشل :ان میں خصوصی طورپر فارمولا سازی کی ہوئی ہائپو الرجینک کریمیں استعمال ہوتی ہیں‘ فیس پیکس فرمائشی تیار ہوتے ہیں اور بحالی خوبصورتی کی تیکنیکس اس عمل کا حصہ ہوتی ہیں۔ حساس جلد کے لئے اس کی پْر زور سفارش کی جاتی ہے۔ بائولفٹ فیشل:اس کا ہدف آنکھوں کے نیچے کے سیاہ حلقے ہوتے ہیں اور بائو ماسک کا استعمال ہوتا ہے جو کہ جلد کو ٹون کرتا اورتنائو بخشتا ہے۔ AHA فیشل:AHA ایسڈز جو پھلوں اور پھولوں سے نکالے جاتے ہیں وہ اپنی اینٹی ایجنگ (عمر رسیدگی کے برخلاف) خصوصیا ت کی بناء پر مشہور ہیں۔ یہ رنگ دار اور ایسی جلد کے لئے آئیڈیل ہیں جس پر آسانی سے جھریاں اور شکنیں پڑجاتی ہیں۔ پیرافن فیشل:یہ اکثر دلہن کے میک اپ کا حصہ ہوتے ہیں۔ اس میں چہرے پر گاز ( باریک جالیوں) کی تہوں پر ایک اسپیشل پیرافن ماسک لگایا جاتا ہے جوکہ ان کریموں کو سیل کرنے میں مدد دیتا ہے جو لگائی گئی ہوں۔ اینٹی آکسی ڈینٹ اور پولوشن فائٹنگ فیشل :یہ کریمیں اور ماسک ہوتے ہیں جو ریڈیکل یعنی بنیادی فائٹنگ ایجنٹس سے بھر پور ہوتے ہیں جیسے کہ وٹامن A بیٹا کیروٹین اور وٹامن E یہ ان لوگوں کے آئیڈیل ہیں جنہیں اکثر آئوٹ ڈور میں رہنا پڑتا ہے۔ کسٹمائزڈ فیشل:خاص مقصد کے لئے بنائے جاتے ہیں جن کا ہدف مخصوص جلدیں اور جلد کے مسائل ہوتے ہیں۔فیشیل آپ کی جلد کو فوری طورپر تروتازگی بھری چمک عطا کرتے ہیں‘ ایسے کئی اقسام کے کوئیک فکس ٹریٹ منٹس ہوتے ہیں جس میں خصوصی آلات استعمال کئے جاتے ہیں تاکہ جلد پر فوری نتائج ظاہر ہو جائیں یہ عمر رسیدہ خواتین کے لئے عمدہ رہتا ہے۔جلد کی بعض کیفیات پر جب یہ اپلائی کیاجاتا ہے تو وہ الرجی کا شکار ہوجاتی ہیں لہٰذا کسی مخصوص علاج کا فیصلہ کرنے سے قبل اپنی بیوٹیشن سے مشورہ طلب کریں۔لیزر ٹریٹمینٹ:آج کل چہرے اور جسم کے غیر ضروی بالوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے لیزرتیکنیک کا آزادانہ استعمال کاکیا جار ہا ہے۔ حالیہ دور میں غیر ضروری بال دور کرنے کی تیکنیکس نے حیرت انگیز طورپر ترقی کی ہے ڈرما ٹولوجسٹس (ماہرین امراضِ جلد) اب غیر ضروری بالوں کو صاف کرنے کے لئے لیزر او لائٹ پلس استعمال کر رہے ہیں۔لیزر کے کام کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ یہ بال کے غدود کی تہہ میں رنگنے والے جوہر کو نشانہ بناتی ہے جس سے فوٹو تھرمولائسس یا تھرمل ڈیمیج رونما ہوتا ہے جو کہ سرگرمی سے نشوونما پانے کے لئے بال کو مفلوج کر دیتا ہے۔کسی بھی ایک وقت میں تمام کے تمام بال نشوونما پانے کے عمل میں سر گرم نہیں ہوتے ۔پس اس لئے یہ ضروری ہے کہ بعد میں کسی وقت اس حصے کو دوبارہ سے ٹریٹ کیا جائے تاکہ ان بالوں کو مفلوج کیا جا سکے جو کہ ابتدائی ٹریٹمنٹ کے وقت آرام کرنے کے فیز میں تھے اور سرگرم نہیں تھے اطمینان بخش نتائج کے حصول کے لئے اوسطاََ 6سے 8 سیشنزکی ضرورت پڑتی ہے جس کا انحصار جنس‘ ہارمون لیول‘ پگمینٹیشن اور دیگر عوامل پر ہوتا ہے۔چونکہ روشنی کی توانائی پگمنٹ میلانن جذب کر لیتے ہیں ‘ اس لئے جن کے بال سیاہ اور جلد ہلکی ہوتی ہے وہ بہترین طور پر ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ وہ جن کی جلد کی رنگت گہری ہوتی ہے ان میں جلد لائٹ انرجی (روشنی کی توانائی) کیلئے بالوں سے مقابلہ کرنے کا رجحان رکھتی ہے۔ اس کے سبب جلد کو نقصان پہنچ سکتا ہے لیکن غدودوں کو نقصان نہیں پہنچتا۔لیزر بمقابلہ الیکٹرولائسز:لیزر اور الیکٹرولائسز (برقی رو سے بالوں کی جڑوں کو ختم کرنے کا عمل ) کے درمیان اہم فرق یہ ہے کہ لیزر ایک وقت میں بالوں کے متعدد غدودوں کو ٹریٹ کر سکتی ہے اور اس میں بال کے ہر غدود کی شناخت اور ٹٹولنے کی چنداں ضرورت نہیں پڑتی۔ جیساکہ الیکٹرولائسزمیں کیا جاتا ہے ۔بالوں کی افزائش کو گھٹانے کے لئے لیزر کے ذریعے بالوں کو صاف کرنا زیادہ موثر ہوتا ہے۔ اس سے جسم کو تقریباََ کوئی بھی حصہ یا چہرہ ٹریٹ کیاجاسکتا ہے اور مقبول حصوں میں چہرہ‘ گردن ‘ بازوٹانگیں اور بغلیں شامل ہیں۔اگر آپ لیزر ٹریٹ منٹ کی پلاننگ کر رہی ہیں تو پھر جلد کو دھوپ میں سنولانے سے گریز کریں۔ ٹریٹ منٹ سے کئی ہفتے قبل ویکسنگ‘پلکنگ اور بلیچنگ سے بھی اجتناب کریں۔ بالوں کو تراشنا اور شیو کرنا درست ہے۔ حقیقت میں میں تو بہترین یہی رہتا ہے کہ ٹریٹ منٹ سے عین پہلے اس حصے کو تازہ شیو کرلیں یا بالوں کو کلپ کرلیں۔بعض اوقات ہلکی سی سرخی یا سوجن ظاہر ہو سکتی ہے۔لیکن یہ 24 گھنٹوں کے اندر تہہ نشین ہو جاتی ہے۔ٹریٹ منٹ کے بعد آپ سن اسکرین استعمال کر کے سورج کے براہِ راست سامنے سے گریز کریں کسی بھی کھر چنے یا رگڑنے والے کلینز سے بھی اجتناب کریں۔ بیشتر لوگوں کو ٹریٹمینٹ کے بعد مخالف ضمنی اثرات سے دوچار نہیں ہونا پڑتا۔٭٭٭٭