نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیرصحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشدکی زیرصدارت اجلاس
  • بریکنگ :- پنجاب حکومت کا 8 مئی سےصوبےمیں مکمل لاک ڈاؤن کافیصلہ
  • بریکنگ :- لاہور:ہرقسم کی پبلک ٹرانسپورٹ اورسیاحتی مقامات بندرہیں گے
  • بریکنگ :- شہروں کےداخلی وخارجی راستوں پرچیک پوائنٹس قائم کیےجائیں گے
  • بریکنگ :- چیک پوائنٹس پرپولیس،رینجرزاورفوج تعینات کی جائےگی
  • بریکنگ :- کوروناپرقابوپانےکیلئےآئندہ 15 سے 20 روزاہم ہیں،یاسمین راشد
  • بریکنگ :- شہری کوروناپرقابوپانےکیلئےحکومت کاساتھ دیں،ڈاکٹریاسمین راشد

قلعہ ملوٹ

قلعہ ملوٹ

اسپیشل فیچر

تحریر :


کوہستان نمک اور پوٹھوہار میں لاتعداد چھوٹے اور بڑے قلعے ہیں ان قلعوں میں حکمرانوں کی قسمت کے فیصلے ہوتے رہے ہیں مقامی حکمران یہ قلعے پہاڑیوں کی چوٹیوں پر تعمیر کرکے اپنے آپ کو کسی حد تک حملہ آوروں سے محفوظ خیال کیا کرتے۔ یہ قلعے تراشے ہوئے پتھروں سے تعمیر کیے گئے ہیں۔ اس دور میں انسان کتنا جفاکش اور مضبوط جسم کامالک ہوتا تھا۔ بلند سے بلند پہاڑ پر تعمیرات کا سامان لے کر چڑھ جاتا، کوہستان نمک کے ایسے ہی قلعوں میں قلعہ ملوٹ اور اس کے مندر کسی حد تک صحیح حالت میں ہیں۔ کلرکہار سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر چواسیدن شاہ، کٹاس روڈ پر جلیبی چوک سے ایک سڑک ملوٹ گائوں کی طرف جاتی ہے۔ جلیبی چوک سے ملوٹ تقریباً چودہ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔قلعہ ملوٹ اور مندر کے لیے کوئی راستہ نہیں۔ ہر طرف قلعہ کے تراشے ہوئے پتھر بکھرے پڑے ہیں ملوٹ گائوں سے تقریباً ڈیڑھ دو کلو میٹر کے فاصلے پر پہاڑ کے عین چوٹی پر قلعہ اور مندر تعمیر کیے گئے ہیں مندر تعداد میں دو ہیں مغرب کی جانب مندر صحیح حالت میں ہے دوسرے مندر کے نقش و نگار صحیح حالت میں ہیں۔ سرخ پتھر تراش کر چاروں اطراف خوبصورتی پیدا کی گئی ہے۔ یہ مندر تقریباً چھ سات فٹ بلند چبوترے پر تعمیر کیے گئے ہیں چاروں کونوں پر پتھروں کو تراش کر مینار تعمیر کیے گئے ہیں دیواروں پر مورتیاں بنائی گئی ہیں مورتیوں کے نیچے چھوٹی مورتیاں شیر اور دوسرے جانوروں کی شکلیں بنائی گئی ہیں۔ یہ فن سنگ تراشی کا بہترین نمونہ ہیں۔ پتھروں کی تراش اور صفائی اپنی مثال آپ ہے یہ مندر جو کشمیری اسلوب تعمیر کا نمونہ ہے اس میں ریتلا پتھر استعمال ہوا ہے جو موسم کے اثرات سے متاثر ہوتا ہے چنانچہ سنگ تراشی کے نمونے ریتلا پتھر ہونے کی وجہ سے ختم ہو رہے ہیں۔ اس کے بارے میں جنرل کنگھم کا کہنا ہے کہ یہ مندر اندر کی طرف 18 مربع فٹ تھا مشرق کی طرف دروازے کے قریب ایک محرابی شکل کی عمارت تھی، باہر کی طرف چاروں کونے سجائے گئے تھے اور ایسے محراب جن پر آرائش و تزئین کی گئی تھی ہر مینارے پر دو زانوں شکل نظر آتی تھی۔ چبوترے کے ارد گرد نقوش کے آثار ملتے ہیں اس کا مجموعی تاثر شاندار اور خوبصورت ہے البتہ زمانے نے اس کے قدیم حسن کو مجروح کر دیا ہے۔ اس کی بلندی 350 فٹ تک ہے۔ مندر کا داخلی حصہ سادہ نظر آتا ہے اور اس میں کسی بت کے آثار دکھائی نہیں دیتے روایت ہے کہ اس جگہ شیولنگ نصب تھا اور غالباً یہ روایت صحیح ہے کہ یہ بدھ کا مندر نہیں تھا۔ اس کا دروازہ مندر سے 58 فٹ مشرق کی طرف تھا یہ بڑی بھاری اور مضبوط عمارت ہے 25 فٹx 22 فٹ اس میں دو کمرے8x15 کے ہیں ستون خالص کشمیری فن تعمیر کا نمونہ ہیں کشمیری مندروں کی نسبت ان پر یونانی فنی تعمیر کا زیادہ اثر ہے ستونوں کے ارد گرد نیم دائرے کی وسعت میں ابھرے ہوئے نقش بنے ہیں جو کسی زمانے میں بہت خوبصورت ہوں گے۔ کہا جاتا ہے کہ اس مندر کو پانڈیوں نے تعمیر کیا تھا اور کشمیر کے مندروں کے بارے میں بھی یہی کہا جا سکتا ہے۔ جہاں تک ملوٹ کے وجہ تسمیہ کا تعلق ہے اس سلسلہ میں ایک اساطیری روایت کے مطابق جنجوعہ راجپوتوں کے ایک مورث اعلیٰ کے نام ’’ملودیویا ملو‘‘ کی نسبت سے اس کا نام ملوٹ پڑا لیکن تاریخ راجپوتاں کے مصنف کے مطابق ملوٹ ملک کوٹ کا مخفف ہے۔ اس کے مطابق مسلم سلاطین ملک کا خطاب اس راجہ کو دیتے تھے جو اس کی بالادستی کو قبول کر لیتا تھا اور خودمختار بھی ہوتا تھا اس بیان کی تائید تزک بابری سے بھی ہوتی ہے۔(پاکستان کے آثارِ قدیمہ)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
ہنا ڈسٹن سر کاٹنے والی امریکی عورت ، 10 دشمنوں کے سرکاٹ کر انکی قید سے بھاگ نکلی تھی

ہنا ڈسٹن سر کاٹنے والی امریکی عورت ، 10 دشمنوں کے سرکاٹ کر انکی قید سے بھاگ نکلی تھی

امریکی عورت ہنا ڈسٹن کو کئی ممالک میں ایک قاتل مہم جو کے نام سے جاناجاتا ہے ا سکا ایک اور نام بھی ہے وہ ہے ، ''سرکاٹنے والی عورت ‘‘۔تاریخ میں اس کا واقعہ اس قدر مشہور ہوا کہ اسے '' امریکہ میں سر کاٹنے کی روایت کی بانی ‘‘ کا خطاب مل گیا۔دورجہالیت میں دوران جنگ ہلاکتوں کے ثبوت کے طور پر کٹے ہوئے سروں کی نمائش کی جاتی تھی لیکن اس ''رسم ‘‘ کی بانی ہنا ڈسٹن قرار پائی۔19صدی عیسوی میں ڈسٹن کی داستان خاصی مقبولیت اختیار کر چکی تھی۔ یہ پہلی عورت تھی جس کا امریکہ میں مجسمہ لگایا گیاتھااس سے پہلے مجسمہ لگانے کا اعزاز کسی امریکی عورت کو حاصل نہیں ہوا تھا۔ اب اسے گرانے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ہنا ڈسٹن (23دسمبر 1657ء تا6مارچ 1737ء) کا پیدائشی نام ہنا ایمرسن رکھا گیا تھا،اس نے میساچوسٹس میں ایک فوجی افسر کے گھر آنکھ کھولی۔وہ 15بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی۔مگر1697ء میں ہونے والی ''کنگ ولیم وار‘‘ کے دوران ایبانکی (Abenaki) قبائلیوں نے ہنا ڈسٹن کے 9بچوں کو قیدی بنا لیا،نوزائیدہ بیٹی اس کی گود میں تھی ،قبائلی جنگجوئوں نے بچی کو بھی معاف نہیں کیا ،دوسروں کے ساتھ اسے بھی بھوکا پیاسا رکھا ۔ وہ پہلی ہی رات میں قبائلیوں کے سر کاٹنے کے بعد بچوں کو اپنے ساتھ لے کر قید سے بھاگ نکلی۔ جاتے جاتے مرنے والوں کے سر بھی ساتھ لے گئی ،اس کی رہائی پر نیو ہیمپشائرمیں جشن منایا گیا ،بہادری کے صلے میں وہ ایک فوجی گروپ کی قائد بن گئی ۔''کنگ ولیم وار‘‘کے دوران ہناڈسٹن اپنے نو بچوں اور شوہر کے ساتھ نیو ہیمپشائر میں مقیم تھی۔کیوبک فوج نے اپنے قبائلیوں کے ساتھ مل کر ہیور ہلز پر دھاوا بول دیا اسے تاریخ میں ''ریڈ آف ہیور ہلز‘‘ کہا جاتا ہے۔ حملے میں27نوآبادکار مارے گئے تھے جن میں زیادہ تر بچے شامل تھے۔15مارچ 1697ء کو 30کے قریب کیوبک قبائلیوں نے اسے بھی نوزائیدہ بیٹی سمیت حراست میں لے لیا۔راستے میں ہی حملہ آوروں نے اس کی چھ دن کی بیٹی کا سر درخت سے دے مارا،دماغ پھٹ گیا ، ایک چیخ کے ساتھ بچی کا جسم ساکت ہو گیا۔ماں تڑپی لیکن بدلہ لینے کے عزم نے اسے مضبوط رکھا۔اس وقت ہنا ڈسٹن چالیس برس کی تھی۔حملے کے وقت شوہر بھٹے پر کام کر رہا تھا وہ وہیں سے آٹھ بچوں کے ساتھ فرار ہو گیا۔حملہ آوروں نے اسکے گھر کو آگ لگا دی۔تمام قیدی ''میرمک ریور‘‘(Merrimack River)نامی جزیرے میں رکھے گئے تھے ۔ نیو ہیمپشائرکا یہ علاقہ اب بوسکیون کہلاتا ہے۔چاروں طرف پہرا اور پانی تھا لیکن ہنا ڈسٹن بھی بہادر عورت تھی، اس نے ہمت ہارنے کی بجائے خود کو منظم رکھا اورپہلی ہی رات میں دس مقامی امریکیوں کے سر تن سے جدا کر دیئے۔ہنا ڈسٹن نے کہا کہ ''حملہ آوروں نے میری بیٹی کو مار ڈالا تھا اس لئے مجھے ان کے سر اڑانا پڑے‘‘۔ہناڈسٹن مقامی امریکیوں کیخلاف ظلم کی ایک علامت بن چکی تھی امریکیوں نے بھی اسی طرح لیا اور بتایا کہ کس طرح مقامی امریکیوں کے سر کاٹے گئے تھے اس جبر کو امریکیوں نے کچھ زیادہ ہی مشہور کر دیا۔ بلیک لائف میٹرز کے بعد اسے بھی مقامی امریکیوں پر ہونے والے جبر کا ایک سبب بتایا جا رہا ہے۔20سال کی عمر میں اینٹوں کا کاروبار کرنے والے تھامس ڈسٹن کے ساتھ ہاتھ پیلے کر دیئے گئے۔ اس خاندان نے اس وقت شہرت حاصل کرنا شروع کی جب ایمرسن خاندان کی ایک بیٹی ایلزبیتھ ایمرسن کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ جادوگری کے لئے بچوں کوقتل کر رہی ہے، جادوگرجن بچوں کا قتل کرتے ، ان میں ایلزبیتھ کا نام بھی لیا جانے لگا۔کچھ نے کہا کہ ایلزبیتھ کی ایک کزن مارتھا ٹوٹھاکر ایمرسن اور اسکا باپ راجر ٹوتھاکر بھی جادوگر تھے۔ چنانچہ بہن ایلزبیتھ کو8جون 1693ء کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔راجر اور مارتھا کو بھی ٹکٹکی پر باندھ کر قتل کردیا گیا۔29اپریل کی رات کو اس نے دو تین دوسر ی ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک کلہاڑی کی مدد سے حملہ آورورں کے سر کاٹ ڈالے ، یوں وہ سبھی بھاگ نکلے۔اس واقعے کے چند ہی دن بعد وہ تھامس ڈسٹن ہنا، میری اور سیموئل کو بوسٹن لے آیا جہاں انہیں کوئی نہیں جانتا تھا۔ کٹے ہوئے سر اور انڈینز کا کچھ سامان بھی ان کے پاس تھا، اسی سے انہیں انعام و اکرام بھی ملنا تھا ۔ نیو ہیمپشائر حکومت1694ء تک فی کھوپڑی 50پائونڈ انعام دیا کرتی تھی جو 1995میں گھٹا کر 25 پائونڈ کر دیا گیا تھا۔ اسے کھوپڑی کا انعام ستمبر1694ء میں مل گیا۔یہ قانون دسمبر 1696ء میں سرے سے منسوخ کر دیا گیا۔1680ء میں نیو ہیمپشائر بھی کالونی کا روپ دھار چکا تھا۔اس سے ملحقہ علاقے اسی کالونی کاحصہ تھے۔1707ء میں ''کوئین اینی جنگ‘‘ چھڑ گئی وہ بھی اس کا شکار ہوئی۔اس جنگ میں ایک بار پھر انڈینز نے اس کے شہر پر حملہ کر دیا،حملہ آور فوج کی قیادت فرانسیسی بپٹسٹ ہرٹل دی روویل کر رہے تھے۔اس تین سالہ جنگ کے دوران ایک وزیر سمیت بے شماربے گناہ مارے گئے۔تاہم وہ جنگ میں بچ نکلی، جنگ کے خاتمے کے بعد اس نے مئی 1724ء میں گرجا گھر سے مد دکی اپیل کی، کہا جاتا ہے کہ اس دوران اس کی موت واقع ہو گئی۔ہنا کی جدوجہد کا ثمر اس کے وارثان کو مل گیا حکومت نے انڈینز حملہ آروں کے انجام تک پہنچانے کے صلے میں وارثان کو دوسو ایکڑ زمین الاٹ کر دی۔وہ ایک اچھی مصنفہ بھی تھی ،قید و بند کی داستان لکھی جو بہت پسند کی گئی ، پانچ سال میں تین کتابیں قارئین تک پہنچیں۔ بعدازاں وہ مبلغ بن گئی اور مذہب کی تبلیغ میں لگ گئی۔

چین میں غار جیسی بل کھاتی لائبریری

چین میں غار جیسی بل کھاتی لائبریری

کون کہتا ہے کہ کتابیں مر رہی ہیں؟ کس نے کہا ہے کہ لائبریوں کا دور ختم ہونے والا ہے ؟یونیسکو نے 123ممالک کی مدد سے جب ڈیٹا اکھٹا کیا تو معلوم ہوا کہ دنیا بھر میں کتابوں کی اشاعت میں اضافہ ہوا ہے ۔2010ء سے پہلے کئی برسوں میں ان کی مجموعی تعداد22لاکھ سالانہ ہوا کرتی تھی جو 2010ء میں بڑھ کرچار لاکھ سے تجاوز کر گئی ۔اس سال صرف امریکہ میں3.5 لاکھ ٹائٹلز شائع ہوئے جبکہ چین میں امریکہ سے چند سو کتب کم شائع ہوئی تھیں۔تاہم 2015ء میں امریکہ میں 3.30لاکھ اور چین میں تعداد بڑھ کر 4.70لاکھ ہو گئی۔چین نے امریکہ میں کم ہونے والی تعداد کے فرق کو دور کر دیا۔دنیا میں آج بھی عالیشان لائبریاں موجود ہیں۔ برٹش لائبریری میں 17کروڑ سے 20کروڑ تک کتب موجود رہتی ہیں۔ واشنگٹن ڈی سی ، امریکہ کی لائبریری میں بھی 17کروڑ کتب ہیں۔ دنیا کی تیسری بڑی لائبریری شنگھائی (چین )میں ہے جہاں 5.6کروڑ کتب رکھی گئی ہیں۔ نیویارک سٹی (امریکہ) کی لائبریری میں5.5 کروڑ ، اوٹاوا( کینیڈا) کی لائبریری میں 5.40کروڑ، ماسکو (روس) کی لائبریری میں 4.75 کروڑ، ٹوکیو (جاپان) کی لائبریری میں 4.41 کروڑ، کوپن ہیگن( ڈنمارک )کی لائبریری میں 4.25 کروڑ ، بیجنگ (چین)کی لائبریری میں 3.77 کروڑ ، سینٹ پیٹرز برگ( روس )کی لائبریری میں 3.65 کروڑ ، جرمنی کی لائبریری میں3.61کروڑ اور میڈرڈ (سپین) کی لائبریری میں 3.31کروڑ کتب رکھی گئی ہیں۔ دنیا میں کہیں بھی عالی شان لائبریریوں کی تعداد کم نہیں ہوئی ۔یہاں کیوں نہ میں ایک ایسی بات بتا تا چلوں جسے سن کر آپ حیران رہ جائیں گے ۔ آپ سوچیں گے کہ کیا پاکستان میں بھی ایسا ہوتا تھا؟ اسی سے ہمیں یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ ہم علم (اور عمل ) میں کتنا پیچھے رہ گئے ہیں ہمارا سفر الٹی سمت میں جاری ہے ۔ایک روز میں دیال سنگھ لائبریری (لاہور) میں بیٹھی تھی، ایک کتاب کا مطالبہ کیا جو پہلے وہاں موجود ہوا کرتی تھی لیکن اس وقت غائب تھی۔ میں نے ایک کارکن سے پوچھا کہ '' نئی کتابیں کیوں نہیں آ رہیں؟ وہ مجھے ایک جانب لے گیا اور کہنے لگا .....''میڈم !وہ ریک دیکھ رہی ہیں‘‘ ؟ میں بولی : ''ہاں، نظر تو آ رہا ہے‘‘۔''ایک وقت تھا جب کسی بھی ممبر یا لائبریری میں آنے والے کی درخواست پر اسی روز نئی کتاب منگوا لی جاتی تھی، اس کے لئے فنڈز موجود ہوتے تھے۔ بہت تاخیر ہو گئی تو اگلے دن تک کتاب آجاتی تھی۔ممبرز کے لئے منگوائی جانے والی کتب کا رجسٹر بنا ہوا تھا، وہاں رکھا ہوتا تھا ‘‘اس نے ہاتھ کے اشارے سے بتایا۔وہ کہنے لگا .....''سنا ہے کہ یہ لائبریری ایوب دور میں زیادہ فعال تھی، پھر اس کی ا ہمیت کم ہونے لگی ۔ اب برائے نام رہ گئی ہے‘‘۔ہماری وہ روش چین نے اپنا لی ہے جہاں نئی لائبریری میں ہر جدید سسٹم کے علاوہ کتب منگوانے کی سہولت بھی موجود ہے۔چین میں دنیا کی ایک منفرد ترین لائبریری بنا ئی گئی ہے۔ یہ لائبریری اس قدر خوبصورت ہے کہ یہاں آنے والا خود کو کسی افسانوی دنیا میں محسوس کرتا ہے اسے لگتا ہے کہ کسی پرستان کی دنیا میں آ گیا ہے ،ایک ایسی دنیا میں جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی ۔ہاں !بچپن میں شایدکسی کہانی میں اس کا ذکر سنا ہو ۔چین کی اس شاندار اور منفرد لائبریری کا نام ہے '' تیاژن بنہائی لائبریری‘‘ ۔اسے ''آنکھ‘‘ بھی کہا جاتا ہے یہی مستقبل میں جھانکنے کا دروازہ ہے۔'' آنکھ‘‘ اس لئے بھی کہا جاتا ہے کہ کار پارک کرتے وقت آپ ایک بڑی سی آنکھ میں سے اس کا اندرونی منظر دیکھ سکتے ہیں۔ اس لائبریری کی چمک دمک آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی ہے اسی لئے دنیا کی ''روشن ترین لائبریریوں‘‘ میں بھی اس کانام شامل ہے۔یہ لائبریری بنہائی کے بڑے ثقافتی مرکز کے پانچ اہم ترین حصوں میں سے ایک ہے۔ آپ اندر داخل ہوتے ہی سامنے ایک بڑا ساگلوب پائیں گے، یہ گلوب ایک علامت ہے کہ یہاں کے محققین اب دنیا کو فتح کرنے والے ہیں ۔پہلی اور دوسری منزل پر لاوئنجز ور ریڈنگ رومز بنائے گئے ہیں یہاں محققین کو مکمل تنہائی مہیا کرنے کے لئے کھلے ریکس کے سامنے بٹھانے کی بجائے الگ الگ کمرے بھی بنائے گئے ہیں ۔دنیا کی کسی اور لائبریری میں یہ سہولت موجود نہیں ، اس سے اوپر کی منزلوں میں میٹنگ رومز اور دفاتر بنائے گئے ہیں۔ یہاں ایک اچھی سی انتظار گاہ بھی بنائی گئی ہے ۔پانچ سطحوں یعنی منزلوں پر مشتمل یہ لائبریری 33700ہزار مربع میٹر پر پھیلی ہوئی ہے۔ یہاں کم و پیش بارہ لاکھ کتابیں رکھی گئی ہیں ،تاہم نئی کتاب منگوانے کی درخواست کی جا سکتی ہے ۔ لائبریری کا ایک اہم حصہ ڈیجیٹل ہے جہاں بیٹھ کر محققین اور عمل متلاشی افراد گھر جانے سے پہلے تمام ڈیٹا کو کمپیوٹر میں محفوظ کر سکتے ہیں ۔ اس کا آڈیٹوریم بہت بڑا ہے لیکن رش سے بچنے کے لئے بیک وقت 110افراد بیٹھ سکتے ہیں۔ 2017ء میں افتتاح کے پہلے ہی دن دس ہزار افراد نے قطاربند ہو کر لائبریری میں مطالعہ کیاتھا۔لائبریری کا نقشہ کچھ زیادہ ہی خاص ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ انسانوں نے بہت وقت غاروں میں گزارا ہے ، غاروں سے نکل کر اس نے دنیا کو سر کرنے کا سلسلہ شروع کیا جو اب تک جاری ہے ۔اپنے قدیم انسانوں سے خود کو جوڑنے کی خاطر '' تیاژن بنہائی لائبریری‘‘ کو بل کھاتی غار کی طرز پر بنایا گیا ہے ۔ اس لائبریر ی کے تمام امور ''میونسپلٹی آف بنہائی ‘‘کے سپرد ہیں ۔علم کے رسیا ای۔ بکس میں بھی دل چسپی لے رہے ہیں مگر یہ اتنی زیادہ نہیں ہے ۔ایک رپورٹ کے مطابق ای بکس کی فروخت 2006ء میں 20کروڑ ڈالر زتھی ، اب بڑھ کر ایک ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے لیکن کتابوں کی خرید و فروخت اس سے کہیں زیادہ ہے۔

79 سالہ جوڑے کی  100 لے پالک بچیاں

79 سالہ جوڑے کی 100 لے پالک بچیاں

امریکی شہر سنساٹی میں مقیم 79سالہ ایل ہل (AI Hill) اور اس سے چند مہینے چھوٹی این کی شادی کو 53برس بیت گئے ہیں۔ گزشتہ دنوں یہ جوڑا اپنی شادی کی 53ویں سالگرہ مناتے وقت کس قدر مطمئن تھا،دونوں میاں بیوی اپنی ایک سو لے پالک بچیوں کو یاد کر کے خوش ہو رہے تھے۔ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے بیتے دنوں کو یاد کر رہے تھے ۔جب 30برس میں انہوں نے ایک سو بچیوں کو گلیوں اور سڑکوں سے اٹھایا ،اپنے گھر میں رہائش دی، ماں باپ کا پیار دیا،اپنی بیٹیوں کی طرح پال پوس کر ، پڑھا لکھا کر پیا کے گھر بھیج دیا۔ سبھی اپنے اپنے گھروں میں آباد ہیں، کبھی کبھار کوئی ملنے آجاتی ہے۔ اجنبی لڑکیوں کو اس قدر پیار دینے کی مثالیں آج کے کارپوریٹ دور میں ملنا مشکل ہے ۔ایک بار گلی میں واقع ایک گھر میں آگ بھڑک اٹھی تھی،ایک بہن کو بھائی نے کھڑکی سے باہر پھینکا، بھائی نے بہن کو تو بچا لیا لیکن خود اسی آگ میں جل مرا ۔ این اسے گھر لے آئی ، اس کی تصویر بھی ایک فریم میں بستر کے قریب پڑی تھی۔اس برس ان کے چہرے کی مسکراہٹ پہلے جیسی نہ تھی، این چپ چپ سی تھی، ان کی پیاری لے پالک بیٹی روہنڈا کی اسی برس وفات ہوئی تھی۔ اسے کینسر تھا ،کئی برس روہنڈا کینسر کے موذی مرض سے لڑتی رہی لیکن ہار گئی، اس دنیا سے جاتے جاتے وہ این کی مسکراہٹ بھی ساتھ لے گئی۔آخر اسے بھی تو اپنی ماں کی ضرورت تھی!۔اس جوڑے کی کہانی کچھ یوں ہے کہ ان دونوں نے جارجیا میں جنم لیا، روزگار کی تلاش دونوں کو سنسناٹی کھینچ لائی ۔ہل کی سولہ بہنیں تھیں لیکن وہ ان کے ساتھ نہ رہ سکی ۔این کا بھی اپنا گھر نہیں تھا اس کی پرورش نانی کے ہاں ہوئی۔این ، ہل کے بارے میں کہا کرتی تھی کہ '' سکول میں ہل کافی شیطان ہوا کرتا تھا جبکہ ہل کہتا ہے کہ ''این سکول میں بے حد شاطر لڑکی تھی‘‘۔ہل بڑاہواتو فوج میں چلا گیاا سے ویت نام بھیج دیا گیا۔ دونوں میں اس قدر پیار تھا کہ دوران جنگ بھی اسے این کے ہاتھوں کے بنے ہوئے کیک ملا کرتے تھے ۔ وہ کہتا ہے کہ'' ان لذیذ کیکس کے ذکر سے ہی منہ میں پانی بھر جاتا ہے۔ پوری دنیا میں ایک ہی عورت اچھا کیک بناتی تھی اور وہ تھی میری نانی۔ لیکن این ان کا مقابلہ کر سکتی تھی‘‘۔فوج چھوڑ کر ہل نے بس ڈرائیوری کی نوکری کر لی، پھر ایک کمپنی میں37برس منیجر رہا۔ اس دوران اس کی بیوی اپنی بچیوں کو بھی اپنے بنائے ہوئے کیکوں سے تواضعوں کیا کرتی تھی۔وہ کہتے ہیں کہ شادی کے بعد کا کچھ عرصہ کافی تلخ رہا ،جب ان کے ہاں اپنی کوئی اولاد نہ ہوئی تواللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں بن ماں باپ کی بچیوں کے لئے ایسا رحم ڈالا کہ وہ آج ہمارے ان داتائوں کے لئے لازوال مثال بن گئے۔ انہوں نے سڑکوں ،گلیوں میں بھٹکنے والی بچیوں کو بے رحم زمانے سے بچایا ،جن کا کوئی والی وارث نہ تھا انہیں اپنے گھر لے آئے ۔ اس خاندان نے ان کے سروں پر ہاتھ رکھا، ہر خواہش پوری کی،مسٹر ہل ہر چیز یںلینے خود بازار جاتے تھے۔ گراسری شاپ قریب ہی تھی۔ ان کے لئے دکان سے چیزیں لانا کتنا اچھا لگتاتھا، اپنی بیٹیاں تھیں، تھکن کیسے ہوتی۔ ''کتنا اچھا وقت تھا وہ‘‘....میاں نے بیوی سے کہا۔''چھوٹے سے گھر میں کتنی رونقیں ہوا کرتی تھیں ،ہر کونے سے ہنسی پھوٹ رہی ہوتی تھی۔ مسرتیں تھیں اور ہم تھے۔اب کتناسناٹا ہے، ہمارے سواکوئی نہیں رہتا‘‘ ۔ میاں نے سرگوشی کے انداز میں سر ہلایا۔بیوی بھی خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی۔ اثبات میں سر ہلایا۔ شوہر نے کہا ''ہائے رے بڑھاپا!اکثر بیٹیوں کے نام بھی ذہن سے مٹ چکے ہیں‘‘۔ہل کافی ہوشیار ہے ،وہ جانتا ہے کہ اس کی شریک حیات این کی دماغی حالت دن بدن کمزور ہوتی جا رہی ہے لیکن وہ بھی اس کا امتحان لیتا رہتا ہے تاکہ 53سالہ جیون ساتھی کو فٹ رکھ سکے۔ کبھی پوچھتا ہے کہ ''تمہیں وہ وقت یاد ہے جب ہم فلاں بیٹی کو گھر لائے تھے‘‘۔ این زیادہ اونچی آواز میں نہیں بولتی نہ ہی بات کرتی ہے اس کے منہ سے صرف .....''مم ہم....مم‘‘ جیسے بے معنی الفاظ نکلتے ہیں۔ا سکے جوش سے ہل کو پتہ چل جاتا ہے کہ اس کی بیوی ٹھیک ٹھاک ہے۔ پھر ہل پوچھتا ہے ''تمہیں یاد ہے کہ جب فلاں بچی کو دانتوں میں برش بھی کرنا نہیں آتا تھا ، تم نے ہاتھ پکڑ کر دانت صاف کرنا سکھایا تھا۔ این پھر پرجوش لہجے میں کہتی...''ہم مم‘‘ !اب این چل پھر نہیں سکتی،79 سالہ ہل خود بھی چلنے پھرنے میں دقت محسوس کرتے ہیں لیکن اپنی بیوی کو وہیل چیئر پر سیر ضرور کراتے ہیں، یہ ان کی واحد تفریح ہے۔ اب تواپنے گھر کی چھت پر دھوپ سینکتے ہوئے شام ہو جاتی ہے۔گلیوں میں رہنے والے سبھی لوگ ان کے نام سے واقف ہیں، وہ جب کبھی باہر نکلتے ہیں تو پورا محلہ خیر مقدم کرتا ہے ۔وہ بھی ہاتھ ہلا کر جواب دیتے ہیں۔ان کی بوڑھی ہڈیوں میں جان کم ہے ،وہ کسی کو سہارا دینے کی بجائے خود ہی اپنا سہارا بن جائیں تو بڑی بات ہے۔ اب ان کے کمانے اور لے پالک بیٹیاں پالنے کے دن گزر چکے ہیں ، کبھی کبھار کوئی بیٹی ملنے آ جاتی ہے ان کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کوئی تیر نہیں مارا۔ میاں نے کہا: ''میرے دوستو ! کسی کمزور اجنبی کا ہاتھ تھامنے سے کبھی نہ ہچکچانا۔جو کچھ ہم نے کیا ہے وہ فرض تھا ،باقیوں کو بھی یہی کرنا چاہئے۔اگر سبھی ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیں گے تو زندگی کتنی آسان ہو جائے گی‘‘۔ 

’’ سرکہ‘‘ کے باغبانی میں 10 فائدے

’’ سرکہ‘‘ کے باغبانی میں 10 فائدے

'' سرکہ‘‘ صرف کچن میں ہی اہم نہیں، جہاں اس کی مدد سے بے شمار مزیدار ڈشیں بنائی جا سکتی ہیں، وہیں ماہرین نباتات نے سرکہ کو باغبانی کی ضرورت بھی قراردیا ہے۔ اس کی مدد سے کچھ اقسام کے کیڑے بھی مارے جا سکتے ہیں اور باغبانی کے آلات کی صفائی بھی کی جا سکتی ہے۔یہ جڑی بوٹیوں کا صفایا کرنے میں بھی مفید ہے اور کھاد کے طور پر بھی کام آ سکتا ہے۔ باغبانی میں سرکہ کے فائدے یہیں ختم نہیں ہوتے ، یہ گرین بیلٹ کو سانپوں سے بھی محفوظ رکھنے میں مدد کر سکتا ہے۔ تو آیئے، ہم آپ کو باغبانی میں سرکہ کے استعمال سے بھی آگاہ کرتے ہیں۔جڑی بوٹیوں کا خاتمہ:سرکہ میں پانچ فیصد ایسیٹک ایسڈ ہوتا ہے جو جڑی بوٹیوں کے خاتمے کے لئے مفید ہے، اسپرے کی بوتل میں سرکہ ڈال کرجڑی بوٹیوں کے قریب جا کر سپرے کیجئے تاکہ سرکہ اس کی جڑوں میں پہنچ جائے، یہ کیمیکل جڑی بوٹیوں سے نجات دلا دے گا۔ تاہم اس میں پانی ملانے کی چنداں ضرورت نہیں، پانی ملانے سے یہ کمزور پڑ جائے گا اور جڑی بوٹیاں بچ نکلیں گی !۔جڑی بوٹیوں کو سرکے میں ڈبونے کی ضرورت نہیں ،بس ذرا سا گیلا کر دیجئے ، کام بن جائے گا۔ اگر یہ سرکہ کسی دوسرے پودے میں شامل ہو گیا تو اسے بھی نقصان پہنچا سکتا ہے لہٰذا صرف نقصان دہ جڑی بوٹیوں کی جڑوں یا ان کے قریب سپرے کرنا مفید ہوگا۔ بارش یا آندھی کی صورت میں بھی سپرے ہرگز نہ کیجئے یہ خود بخود دوسرے پودوں تک بھی پھیل سکتا ہے۔سانپوں سے نجات :بعض خطرناک جانور سرکہ کی بو سے نفرت کرتے ہیں، جیسا کہ سانپ ۔ استعمال شدہ پرانے کپڑوں کے ٹکڑوں کو سرکے میں بھگو کر اپنے لان یا قابل کاشت جگہ کے اطراف میں چار دیواری کے ساتھ ساتھ رکھ دیجئے ۔ اس سے سانپوں کے علاوہ خرگوش اور ہرن بھی بھاگ جائیں گے۔ تاہم بارش کے بعد یا جب آپ محسوس کریں کہ سرکے کی بو ختم ہو چکی ہے تو ان کپڑوں کو سرکے میں دوبارہ بھگو لیں ۔ جن علاقوں میں سانپ زیادہ پائے جاتے ہیں وہاں چار دیواری کے علاوہ سانپ کے ممکنہ بلوں کے قریب بھی سرکہ میں ڈبو کر کپڑے رکھنے سے آپ کسی حد تک محفوظ ہو جائیں گے ۔گھونگھوں سے نجات: سلگ ( Slug) اور گھونگھے (Snails)بھی باغبانوں کو کافی تنگ کرتے ہیں، یہ دھیرے دھیرے پودوں کو چاٹ جاتے ہیں، ان پر ذرا سا سرکہ چھڑکیے ، وہ گھل کر مائع بن جائیں گے۔ویسے ان کے لئے نمک بھی کافی ہے ۔ہم بچپن میں اپنے سائنسی تجربات کے وقت ان پر نمک چھڑک کر صفایا کردیتے تھے ، یہ اچھا شغل ہوا کرتا تھا۔ سرکہ کی بو سے کئی دوسرے کیڑے مکوڑے بھی دور بھاگتے ہیں۔جلدی پودے نکلنے میں مدد:بیجوں کو بوائی سے پہلے سرکہ میں بھگو لیجئے، ''جرمی نیشن ‘‘میں مدد ملے گی اورفصل اچھی ہو گی۔ کسی پیالے یا برتن میں بیج ڈال کر اتنا پانی ڈالیے کہ بیج اس میں تقریباََڈوب جائیں،اب ایک کھانے کا چمچ سرکہ ڈال کر 8 سے 12گھنٹے کے لئے اس محلول کو رکھ دیجئے۔ یاد رہے کہ بیج کسی بھی صورت میں اس محلول میں 24گھنٹے سے زیادہ دیر کے لئے ہرگز نہ رکھے جائیں۔ اس عمل سے بیج کا بیرونی حصہ نرم ہونے سے نشوو نما میں تیزی آئے جائے گی۔باغبانی کے آلات کی صفائی :سرکہ کی مدد سے آپ باغ میں استعمال ہونے والے لوہے کے آلات کی زنگ بھی اتار سکتے ہیں۔ نمی سے آلات جلد ہی زنگ آلود ہو جاتے ہیں۔ صفائی کے لئے ان پر سرکہ کا اسپرے کرنے کے بعد پانی سے صاف کر لیجئے ۔زیادہ گندہ ہونے کی صورت میں آدھا پانی اور آدھا سرکہ ملا کر سپرے کرنے کے بعد رات بھر پڑا رہنے دیجئے۔صبح کو کسی چیز سے رگڑنے کے بعد صابن سے دھو لیجئے ، صاف ہوجائے گا۔پودوں کی حفاظت: ہم سمجھتے ہیں کہ مائوتھ واش کی مدد سے بھی پھولوں کے پودوں کی زندگی بڑھائی جا سکتی ہے لیکن سرکہ بھی پھولوں کو غذائی اجزا مہیا کر سکتا ہے ،یعنی اسے کھاد کے بطور پر بھی استعمال کیاجا سکتا ہے ۔ ایک گیلن پانی میں ایک کپ سرکہ ملا لیجئے، یہ چنبیلی ،گل ادریسی (Hydraneas) ، ''ہولی‘‘ (Hollies) اور ''روڈوڈنڈون ‘‘(Rhododendron) جیسے پھولوں کے پودوں کے لئے بہترین کھاد بن جائے گا۔مٹی میں الکلائن کی مقدارمعلوم کیجئے:آپ سرکے کی مدد سے مٹی میں الکلائن (قلمی صفت )کی مقدار کا پتہ چلا سکتے ہیں۔ کئی جگہوں سے مٹھی بھر مٹی نکال لیجئے ، اس کے بعد ایک کپ پانی اور آدھا کپ سرکہ ڈال دیجئے۔ جتنے زیادہ جھاگ (fizz) بنیں گے اتنی ہی زیادہ پی ایچ (pH)ویلیو ہو گی۔ کھانے کا سوڈا پانی میں ملا کر بھی یہی ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے۔فنگس کا خاتمہ :ایک گیلن پانی میں تین کھانے کے چمچ سیب کے رس کا سرکہ (Apple cider) ملا کر فنگس زدہ پودوں یا پتوں پر سپرے کیجئے،یہ کئی اقسام کی فنگس کو ختم کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔اینٹو ں کی صفائی: اینٹوں پر وقت کے ساتھ ساتھ چونا نمودار ہو جاتا ہے، یہ بہت ہی برا لگتا ہے ، مکان سو بر س پرانا لگتا ہے، سرکہ اس کا بھی علاج ہے۔ ایک کپ ( Distilled white Vinegar) اور ایک گیلن پانی کا محلول تیار کیجئے، اگر کم یا زیادہ مقدار درکار ہو تو سرکہ اور پانی کا تناسب یہی رکھیے، اینٹوں پر اس محلول کا چھڑکائو کرنے کے بعد برش سے صاف کر لیجئے، کیلشیم اور چونا غائب ہو جائے گا۔پرندوں کے برتن کی صفائی: لوگ اکثر پرندوں کے لئے برتنوں میں پانی رکھ دیتے ہیں جن پر کچھ ہی دنوں میں کائی جم جاتی ہے ان کی صفائی بھی 9حصے پانی میں ایک حصہ سرکہ ملا کر کی جا سکتی ہے۔ اس سے پانی پینے والے پرندوں کی تعداد بھی بڑھ جائے گی انہیں بھی تو صاف ستھری چیزیں اچھی لگتی ہیں ۔

’’قلوپطرہ‘‘ نام کی سات ملکائیں ، جلا وطن قلو پطرہ کی جنگی مہم جوئی پر نئی تحقیق

’’قلوپطرہ‘‘ نام کی سات ملکائیں ، جلا وطن قلو پطرہ کی جنگی مہم جوئی پر نئی تحقیق

''قلوپطرہ‘‘ تاریخ کا ایک ایسا کردار ہے جس کے بارے میں لوگوں کی اکثریت بس اتنا جانتی ہے کہ وہ مصر کی ایک حسین و جمیل ملکہ تھی ۔ حقیقت اس سے یکسر مختلف ہے ۔قدیم مصر ی تاریخ میں قلوپطرہ نام کی سات ملکائیں ہو گزری ہیں ۔ سب سے زیادہ شہرت قلوپطرہ ہفتم کے حصے میں آئی ۔بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ قلوپطرہ کا نام آنے سے مراد یہی قلوپطرہ ہفتم ہوتی ہے ، بے پناہ شہرت کے باعث اسے فقط قلوپطرہ ہی کہا جاتا ہے ۔ شہرت کی نمایاں وجہ اس کا بے پناہ حسن اور شخصیت تھی۔اس کی موت کے بارے میں مشہور تھا کہ سانپ کے کاٹے سے ہوئی تھی لیکن جرمنی کے ایک مشہور تاریخ دان پروفیسر کرسٹو فر شیفر نے اس مفروضے کو رد کر دیا ہے کہ قلوپطرہ کی موت کوبرا سانپ کے کاٹنے سے ہوئی تھی ۔وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود کشی کی غرض سے ایک محلول پی لیا تھا۔وہ 69قبل مسیح میں مصر کے ایک حکمران بطلیموس دوازدہم کے ہاں پیدا ہوئی۔ 51 قبل مسیح میں جب والد کا انتقال ہوا تو 18 سالہ قلوپطرہ سب سے بڑی اولاد تھی۔ اسکے بعد بیٹی آرھینو ، بڑا بیٹا بطلیموس چہار دہم اور سب سے چھوٹا بیٹا بطلیموس پانز دہم تھے ۔ اصولی طور پر اقتدار قلوپطرہ کے پاس آنا چاہئے تھا مگر اس زمانے میں عورت کی تخت نشینی کو اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا ،اس لئے طے یہ پایا کہ اسے بڑے بھائی کے ساتھ مشترکہ طور پر شریک اقتدار کر دیا جائے۔ تاریخ میں اس کی تصدیق ملتی ہے کہ وہ اور اس کا بھائی مشترکہ طور پر تخت کے وارث تھے، لیکن جلد ہی قصر شاہی دو دھڑوں میں تقسیم ہو گیا۔ قلوپطرہ کا حامی دھڑا کمزور نکلا جس کے سبب اسے جلا وطن ہوناپڑالیکن تھوڑے ہی عرصے بعد قلوپطرہ شام سے ایک فوج لیکر مصر میں داخل ہو گئی۔انہی دنوں روم میں شہنشاہ پومپئی اور اس کے حریف جولئیس سیزر میں اقتدار کی رسہ کشی شروع ہو چکی تھی۔پومپئی شکست کے بعد مصر میں پناہ کی تلاش میں داخل ہوا لیکن جولیئس سیزر کے حامیوں کے ہاتھوں مارا گیا ۔ مصر میں پومپئی ملکہ قلوپطرہ کے دام حسن میں گرفتار ہو گیا۔ اس طرح سیزر اور قلوپطرہ نے ملکر اپنے ''دشمنوں‘‘ کا صفایا کر دیا جن میں قلوپطرہ کا چھوٹا بھائی اور چھوٹی بہن بھی شامل تھے ۔ جبکہ سیزر کی عدم موجودگی میں اس کا قابل اعتماد نائب انتھونی روم کے معاملات کی نگرانی کرتا رہا۔اب سیزر اور ملکہ قلو پطرہ دشمنوں کے خوف سے بے نیاز آزاد زندگی گزارنے لگے ۔اسی دوران قلو پطرہ کے بطن سے سیزر کا ایک بیٹا سیزارین پیدا ہوا۔ بیٹے کی پیدائش کے فوراََبعد سیزر کو واپس روم جانا پڑا۔ اس کے بعد سیزر کی فتوحات کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا۔جشن فتوحات کے موقع پر قلوپطرہ بھی روم کی ملکہ بننے کا خواب دیکھتے دیکھتے روم آن پہنچی لیکن پومپئی کے حامیوں نے پھر سر اٹھا لیا اور سیزر کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اب قلوپطرہ نے اپنے بیٹے سیزارین کو تخت پر بٹھانے کے خواب دیکھنے شروع کر دئیے جو ظاہر ہے انتھونی کے تعاون کے بغیر ناممکن تھے ۔لہٰذا اس نے انتھونی کو اپنے جال میں پھنسا لیا۔ انتھونی نے اسے مصر واپس لوٹ جانے اور مناسب وقت کے انتظار کا مشورہ دیا ۔حالات پر انتھونی کی گرفت دن بدن کمزور ہوتی چلی گئی ، آکٹوین پہلے ہی موقع کی تلاش میں تھا اس نے روم پر قبضہ کر کے انتھونی کو فرار ہونے پر مجبور کر دیا اور یوں انتھونی بھی قلوپطرہ کے پاس مصر پہنچ گیا۔دونوں میں شادی ہو گئی۔ 40 قبل مسیح میں انتھونی واپس روم آ گیا۔ واپسی کے چھ ماہ بعد قلوپطرہ اس کے دو جڑواں بچوں کی ماں بن گئی۔انتھونی نے شام میں قدم جمانے کی کوششیں کی لیکن اسے مسلسل ناکامیوں کا منہ دیکھنا پڑا ۔چنانچہ یہ مرتا کیا نہ کرتا مصر واپس آ گیا ۔آکٹوین نے مصر پر چڑھائی کر کے انتھونی کا قصہ ہمیشہ کے لئے صاف کر دیااور قلوپطرہ کو پس دیوار زنداں کر دیا ۔ اسے اپنا مستقبل تاریک اور زندگی خطرے میں نظر آنے لگ گئی۔وہ جان چکی تھی کہ اگر وہ زندہ رہ گئی تو آکٹوین اسے اور اس کے بچوں کو مصر کی شاہراہوں پر ذلیل کرے گا۔قلوپطرہ نے آکٹو ین سے انتھونی کی قبر پر جانے کی اجازت مانگی ۔انتھونی کی قبر پر پھول چڑھائے اور واپس آ کر صوفے پر لیٹ گئی ۔شام کو محل میں ہنگامہ بپا ہو گیا ۔پہرہ داروں نے بتایا کہ آج صبح ایک دہقان انجیر کی ایک ٹوکری لے کر آیا تھا ۔معلوم ہوا کہ دراصل یہ سانپوں کا ٹوکرا تھا جو ملکہ نے خود منگوایا تھا ۔ملکہ قلوپطرہ نے سانپ نکالااور اپنے جسم پر ڈسنے کے لئے چھوڑ دیا ۔تاریخ کی کتابیں بتاتی ہیں کہ زہرنے فوری اثر کیا ، دیکھتے ہی دیکھتے سابق ملکہ نے اپنی زندگی اپنے ہی ہاتھوں ختم کر ڈالی۔یہ وہ حقائق ہیں جو قلوپطرہ کی موت بارے تاریخ کی کتابوں میں بیان کئے گئے ہیں جنہیں جرمنی کی ''یونیورسٹی آف ٹرائیر‘‘ کے پروفیسر ہسٹری کرسٹو فر شیفر نے یکسر جھٹلا دیا ہے ۔ ایک سائنسی پروگرام میں پروفیسر شیفر کہتے ہیں کہ ''قلوپطرہ کی موت واقعی کوبرا سانپ کے ڈسنے سے واقع ہوئی تھی یا نہیں،اس بات کی تہہ تک پہنچنے کے لئے کہ میں متعدد تاریخ دانوں کے ساتھ اسکندریہ گیا تھا۔ جہاں قدیم طبی علوم اور سانپوں کے ماہرین سے معلومات حاصل کیں ، ہم سب متفقہ طور پر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ قلوپطرہ کی موت سانپ کے کاٹنے سے ہرگز نہیں ہوئی بلکہ کوئی زہریلی چیز کھانے سے ہوئی تھی۔ اس نے ممکنہ طور پر افیون، صنوبر اور ایک زہریلے پودے تاج الملوک کا محلول پیا ہو گا۔ جس سے فی الفور موت واقع ہو جاتی ہے ۔اس علاقے میں اس ''دوا‘‘ کا استعمال عام تھا ۔بہر حال حقائق کچھ بھی ہوں یہ بات تو طے ہے کہ قلوپطرہ نے اپنی 39سالہ مختصرزندگی میں تاریخ میں نام کمایا ، سب سے بڑھ کر یہ کہ صدیاں گزر جانے کے باوجود بھی وہ سلیبرٹی کی حیثیت سے زندہ ہے ،یہ اہمیت تاریخ میں بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے ۔

ادبی چٹکلے

ادبی چٹکلے

استاد امام دین گجراتی اپنے شاگردوں میں بیٹھے مشقِ سخن فرما رہے تھے۔ انہوں نے شاگردوں کو اپنا ایک تازہ شعر سنایا :یہ سڑک ......جاتی ہے جلال پور جٹّاں کو؟کافی دیر تک واہ واہ ہوتی رہی۔ پھر ایک نئے شاگرد نے ڈرتے ڈرتے کہا،'' استاد جی مصرع کچھ زیادہ لمبا نئیں ہوگیا؟‘‘۔استاد نے متانت سے کہا:''تے ْپترا سڑک چھوٹی ایہہ؟...٭٭...میر تقی میر کی عادت تھی کہ جب گھر سے باہر جاتے تو تمام دروازے کھلے چھوڑ دیتے تھے اور جب گھر واپس آتے تو تمام دروازے بند کر لیتے تھے۔ ایک دن کسی نے وجہ دریافت کی تو انہوں نے جواب دیا۔'' میں ہی تو اس گھر کی واحد دولت ہوں‘‘۔ایک دن سید انشاء اللہ خان انشاء نواب صاحب کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ گرمی کی وجہ سے دستار سر سے اتار کر رکھ لی۔ انشاء کا منڈا ہوا سر دیکھ کر نواب صاحب کو شرارت سوجھی اور ہاتھ بڑھا کر پیچھے سے ٹھونگ ماری۔ جس پر انشاء نے جلدی سے دستار سر پر رکھ لی اور کہنے لگے کہ'' سبحان اللہ! بچپن میں بزرگوں سے سنا کرتے تھے کہ جو لوگ ننگے سر کھانا کھاتے ہیں شیطان ان کے ٹھونگیں مارتا ہے۔ آج معلوم ہوا کہ وہ بات سچی تھی‘‘۔