نواب آف کالا باغ کی یادیں! ملک عطا محمد خان آف کوٹ فتح خان سے براہ راست
اسپیشل فیچر
نواب امیر محمد خان کے بارے آپ کو کیا بتائوں وہ تو شیر تھے۔ ان کی سادگی کا ذکر کروں تو وہ عام لوگوں کے ساتھ پتھروں پر بیٹھ جایا کرتے تھے ۔ ان کی گورنری سے میں بھر پور لطف اندوز ہوا ہوں انہیں نوکری کی کوئی ضرورت نہیں تھی ۔ قوم کے لئے قربانی دی ۔ کام کی زیادتی کی وجہ سے ان کی صحت خراب ہوگئی تھی ۔ گورنری کے دوران وہ صرف تین گھنٹے آرام کرتے تھے ۔ فوجداری مقدمات کی چھان بین رات کے وقت تنہائی میں بیٹھ کر کیا کرتے ۔ 1961ء میں سبی کے تاریخی میلے پر صدر ایوب خان کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا ۔ بدنام زمانہ ڈکیٹ محمد علی مینگل نے ایوب خان کو چیلنج کردیا کہ اگر انہوں نے میلے میں شرکت کی تو میرا گینگ انہیں گولیوں سے بھون ڈالے گا۔ سیکورٹی سٹاف نے ایوب خان کو وہاں جانے سے منع کردیاکہ غیر محفوظ علاقہ ہے آپ کا وہاں جانا خطرے سے خالی نہیںہوگا۔ ایوب خان نے نواب صاحب سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا اگر چیلنج ہے تو ضرور جائیں گے ۔ مرنا ضروری ہوتا ہے جس کادن مقرر ہے وہ آگے پیچھے نہیں ہو سکتا۔ نواب صاحب اپنے ذاتی محافظوں کے ہمراہ میلے پر گئے ایوب خان بھی ساتھ تھے ۔ محمد علی مینگل کو جب نواب صاحب کے آنے کی اطلاع ملی تو وہ میلے پر نہیں آیا۔ نواب صاحب نے کمشنر کوبلایا اور کہا رات کو کھانے کا اہتمام کرو ۔ علاقے کے تمام قبائل جن میں مری ، مگسی ،لاشاری ،بگٹی اور جمالی شامل ہیں کے سرداروں کو کھانے کی دعوت دے دو۔ رات کے کھانے پرتمام بلوچ سردار جمع ہوئے تو کمشنر نے کہا جناب میں نے کھانا لگوادیا ہے ۔ تمام لوگ کھڑے ہو کر کھاناکھائیں گے ۔نواب صاحب نے کہا ہم سب دیسی لوگ ہیں زمین پر بیٹھ کر کھانا کھائیں گے ۔کھانا کھانے کے بعد نواب صاحب نے تمام بلوچ سرداروں سے کہا میں تھوڑی سی جاگیر کا مالک ہوں وہاں کوئی جرم ہوتا ہے تو مجھے تین دن پہلے پتہ چل جاتاہے ۔ تم علاقے کے سردار ہو تمہیں ڈاکوئوں کا پتہ کیوں نہیں ہوتا۔نواب صاحب نے کہا میرا فارمولا ہے کہ چھوٹی چھوٹی مچھلیاں پکڑنے کے بجائے بڑے مگرمچھوں پر ہاتھ ڈالاجائے ۔نواب صاحب نے کہا آج کے بعد بلوچستان میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچا تو اس علاقے کے قبائلی سردار کے خلاف مقدمہ درج کیاجائے گا۔ کسی بھی سردار کا کوئی مسئلہ ہو میرے ملٹری سیکرٹری سے بات کرے ان کا کام بروقت ہوگا عوام کو تکلیف پہنچی تو اب صرف بڑے لوگ گرفتار ہوں گے ۔نواب صاحب کے جانے کے بعد بلوچ سرداروں نے تمام بدمعاشوں کی ماہانہ تنخواہ مقرر کردی ۔ انہیں خصوصی ہدایت کی جب تک نواب صاحب گورنر ہیں ۔ اسی طریقے سے کام چلائو ورنہ ہماری شامت آجائے گی ۔ ان کے دور میں کسی ایم ایل اے کی یہ جرات نہیں تھی کہ جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی کرے ۔ نوا ب صاحب گورنر بنے تو لاہور میں ایک نامی گرامی بدمعاش اچھا شوکر کے بڑے چرچے تھے ۔ کوئی پولیس آفیسر اس کے اڈے پر چھاپہ مارنے کی جرات نہیں کرتا تھا ۔ نواب صاحب کو اپنے مخبروں نے اچھا کی دہشت کی اطلاع دی تو نواب صاحب نے ایک روز گورنر ہائوس بلایا ۔وہ مقر ر ہ وقت سے پہلے دفتر پہنچ گیا ۔ نواب صاحب جونہی دفتر آئے تو اسے کہا بیٹھ جائو تمہارے ساتھ ایک ضروری بات کرنی ہے ۔ اچھا نے کہا جناب میں نوکر ہوں آپ کے سامنے کرسی پر کیسے بیٹھوں کھڑے ہو کر بات کروںگا۔ نواب صاحب نے کہا میں خود اجازت دے رہا ہوں نیچے بیٹھ جائو ۔اچھا بیٹھ گیا تو نواب صاحب نے لاہور شہرکے نقشے پر اپنی چھڑی کے ذریعے اسے سمجھایا ۔ دیکھو مسٹرپورے لاہور میں صرف تمہارے علاقے پر سرخ دائرہ لگا ہوا ہے میں چاہتا ہوں تم خود اس دائرے کو ختم کردو ۔ میری مراد غنڈا گردی سے ہاتھ کھینچ لو ۔ آج کے بعد اس علاقے میں کوئی گڑ بڑ ہوئی تو پھر تم میرے مہمان ہوگے ۔(سید صادق حسین شاہ کی مرتبہ کتاب ’’ سوانح ِ حیات:نواب آف کالا باغ،ملک امیر محمد خان‘‘ سے مقتبس)٭…٭…٭