نواب آف کالا باغ، کیا آدمی تھے!
اسپیشل فیچر
سابق آرمی سٹاف کار ڈرائیور ملک محمد خان کی یادیں نواب آف کالا باغ نکی کے دور ے پر گئے تو مجھ سے پوچھا کونسی جماعت میں پڑھتے ہو ؟بتایا بنی افغانان مڈل سکول میں پڑھتا ہوں ۔ نواب صاحب نے کہا آنے جانے میں دشواری ہوتی ہوگی ۔ کالاباغ آجائو وہاں کچھ لڑکے پہلے بھی پڑھ رہے ہیں ان کے ساتھ شامل ہوجائو ۔ میں اس وقت ساتویں پڑھتا تھا ۔دوبارہ چھٹی جماعت میں داخل ہو گیا ۔ 1960ء میں میٹرک کا امتحان دیا تو فیل ہوگیا ۔ نواب صاحب سخت ناراض ہوئے اور کہا ایک موقع دیتاہوں ورنہ تمہارے لئے اصطبل میں جگہ خالی پڑی ہے ۔ دوسرے سال پاس ہوگیا تو نواب صاحب نے کھاد فیکٹری میں کلرک کے انٹرویو کے لئے بھیج دیا ۔ ایم ڈی کھاد فیکٹری بریگیڈیئر غلام محمد نے انٹرویو کے دوران مجھ سے صرف ایک سوال کیا کہ مغربی پاکستان کا گورنر کون ہے ؟ نواب صاحب جب گورنر بنے تو ان کی ڈاک چیک کرکے نور محمد کے حوالے کرتا ۔ وہ پڑھا لکھا نہیں تھااس لئے پڑھ کر سناتا اور مناسب جواب بھی تحریر کرتا۔ ایک خط میں نواب صاحب نے نور محمد کو تنبیہ کی کہ میں اب گورنر بن چکا ہوں تم نے کسی بندے سے رشوت لے کر اس کا کام نہیں کرنا ۔ اگر مجھے تمہارے بارے میں کوئی شکایت ملی تو کچومر نکال دوں گا ۔ ہارس اینڈ کیٹل شو کے دوران نواب صاحب ، ایوب خان اور ملکہ الزبتھ کی ایک تصویر اخبار میں شائع ہوئی جس میں ان کا کلاہ صحیح نظر نہیں آرہاتھا ۔ نورمحمد المعروف کالا کو بلایا اور کہا میرا کلاہ صحیح بنائو اور اونچی ایڑھی والی چپل لے کر آئو ۔ ذرا دیکھو تو اخبارمیں میری تصویر عورت کے مقابلے میں کمزور نظر آرہی ہے ۔ایچی سن کالج میں حالات خراب ہوئے تو نواب صاحب نے انتظامیہ سے کہا طلباء راہ ِ راست پر نہ آئیں تو گولی چلانی پڑے گی ۔ میٹنگ کے بعد نور محمد نے کہا اجازت دیں تو میں ملک اسد خان کو کالج سے لے آئوں ۔ نواب صاحب نے جواب دیا تم کس کس کو لائو گے وہاں تو سارے ہی اسد خان پڑھتے ہیں ۔ اس بات کا کسی سے ذکر بھی نہیں کرناجو بھی ہوگا سب کے ساتھ برابر ہوگا ۔ ایوب خان کے پُتلے کو گدھے پر بٹھایا ہے اب کچھ سزاتو ملنی چاہیے ۔ طلباء کا سیاست سے کیا لینا دینا ۔ ڈی آئی جی سرگودہا بنگش کو کہا بارہ گھنٹے میں مولانامودودی صاحب کو گرفتار کرکے جیل بند کردو ۔ بنگش نے کہا جناب اتنی دیر میں مشکل ہے ۔ پتہ نہیں چل سکے گا کہ کہاں روپوش ہے ۔ نواب صاحب نے کہا پھر تمہیں بند کرنا پڑے گا ۔ اسلحہ ،نفری سب کچھ مانگ سکتے ہو مزید وقت کی گنجائش نہیں ۔ نواب صاحب پردے کے بڑے سخت پابند تھے ۔ میجر دوست اور ملک شیرمحمد بھی ڈیوڑھی میں نواب صاحب کی بیگم سے ملاقات کرکے واپس چلے جاتے ۔ ننگے سر اندر جانے کی کسی کو اجازت نہیں تھی۔ اسکندر مرزا کالاباغ کے دورے پر آئے تو ان کی بیگم زبیدہ نے کہا میں اندر جانا چاہتی ہوں ۔ نواب صاحب نے جواب دیا ہماری عورتوں کا پردہ ہے ۔ زبیدہ نے کہا میں بھی عورت ہوں ۔ نواب صاحب نے کہا آپ جیسی عورتوں سے بھی پردہ ہے ۔ ملک اعظم خان چھوٹے تھے تو محمد علی دایا ان کو گھمانے کے لئے قلعہ میں لے آتا ۔ نواب صاحب کے قریب سے گزرتے تو کہتے محمد علی ہمارے چھوٹے ملک کیاکر رہے ہیں؟کبھی کبھار نور محمد کا بیٹا نور زمان آجاتا تو نواب صاحب گود میں بٹھا لیتے ۔ نور محمد نے مرحلہ وار ترقی کی اورا سٹیٹ کے معاملات وہی چلاتا تھا ۔ وہ نوکروں کو برملا کہتا تھا کہ کوئی بھی کام ہو مجھے بتایا کریں ۔ میرے علاوہ یہاں کوئی مجاز نہیں ہے ۔ اگر کوئی ملازم حکم عدولی کرتا تو کوئی نہ کوئی الزام لگا کر نوکری سے نکال دیتا ۔ چھوٹے ملک صاحبان کے ملازمین کو وقتا ً فوقتا ً تبدیل کردیتا ۔ سواری کے لئے کسی گھوڑے کی فرمائش کرتے تو دوسرا گھوڑا بھیج دیتا ۔ شیور لائٹ کار ضرورت ہوتی تو جیپ پر اصرار کرتا ۔ چھوٹے ملک صاحبان کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے سے ان کے اندر نفرت پیدا ہوگئی۔ جس نے آگے جاکر خوفناک صورتحال اختیار کرلی ۔چھوٹے ملک صاحبان نے نورمحمد کی بے عزتی کی تو نواب صاحب نے کہا عطا محمد خان کو لے آئو تاکہ ان کی صلح کرائی جائے ۔ ڈاکٹر حفیظ طوسی اور نور محمد کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے ہیں ۔ نواب صاحب کو حالات کی سنگینی کا انداز ہو گیا تھا ۔ عثمان ، دولت خان اور احمد خانسامہ کو تیار رہنے کا عندیہ دے دیا تھا ۔ لاہور منتقل ہونے کا پروگرام بنالیاتھا ۔ شام کے وقت ملک مظفرخان نے احمد کوکہا گیلری والا دروازہ کھول دینا نواب صاحب کے ساتھ ضروری بات کرنی ہے ۔ کھاناکھانے کے بعد نواب صاحب اخبار پڑھ رہے تھے کہ ملک مظفرخان نے کار بین سے فائر کیے ۔ نواب صاحب کو سمجھ نہیں آیااور کہامظفر خان دیکھو مجھے کسی نے فائر مار دیا ہے ۔صبح سویرے نواب صاحب کے خاندان کی خواتین نے رونا شروع کیا تو ملازمین کو پتہ چلا کہ نواب صاحب کی رات کے وقت وفات ہوگئی ہے ۔ شیخ حنیف وکیل نے کمرے میں جاکر نواب صاحب کی لاش دیکھی تو خوف کی وجہ سے بے ہوش ہوگیا تھا ۔نواب صاحب کی وفات سے پہلے فوج میں بھرتی ہوگیا تھا ۔ جہاں جنرل سوار خان ، جنرل سرفراز ، اقبال ملک ، جنرل خالد نواز ملک ، جنرل عسکررضا ملک اور جنرل ضیاء الحق کی بیٹی کے ساتھ بطور سٹاف کارڈرائیور فرائض سر انجام دئیے۔( کتاب ’’ سوانح ِ حیات:نواب آف کالا باغ،ملک امیر محمد خان‘‘ سے مقتبس)٭…٭…٭