خوردنی تمباکو کا بڑھتا ہوا استعمال اور اس کے نقصانات
اسپیشل فیچر
منہ کا کینسر پاکستان سمیت جنوبی ایشیا میں انسانوں کو دوسرا سب سے زیادہ لاحق ہونے والا سرطان ہے،جس کی بڑی وجہ ملک میں گٹکا،مین پوری اورمیٹھی چھالیہ کی کھلے عام فروخت ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق منہ کے سرطان کی بڑی وجہOral sub mucous fibrosisنامی بیماری ہے۔ اس بیماری کے باعث منہ کا اوپر اور نیچے کا جبڑاسکڑنا شروع ہو جاتاہے یہاں تک کہ دونوں جبڑے مل جاتے ہیں اور مریضوں کے لئے ٹھوس غذا کھانامحال ہو جاتا ہے اور وہ صرف مائع غذا یعنی دودھ یا جوس وغیرہ استعمال کرسکتے ہیں۔اس بیماری سے 16سے 20 سال کی عمر کے نوجوان زیادہ متاثر ہورہے ہیں جس کی اہم وجہ نوجوانوں میں چھالیہ اور گٹکے وغیرہ کا بے دریغ استعمال ہے۔ گٹکا ، چھالیہ اور مین پوری چونکہ ہر جنرل اسٹور اورپنواڑی کے کھوکے پر کم قیمت اور با آسانی دستیاب ہیں اس لیے نوجوانوں میں گٹکے کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (PCSIR) کی ایک تحقیق میں بازار میں دستیاب چھالیہ،سپاری،مین پوری،ماوا،پان، نسوار اور میٹھی سپاری کے دو سو مختلف نمونوں کے تجزیہ سے ان میں زہریلی دھاتی عناصر جیسے تانبہ، سیسہ، لوہا، قلعی،جست اور کرومیم انسانی صحت کے لیے نقصان دہ حد تک پائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔گٹکے, چھالیہ اور مین پوری کا سب سے زیادہ اثرمعدے ،منہ اور خوراک کی نالی پر ہوتا ہے۔ انہیں منہ میں رکھ کردیر تک چبانے سے ان میں موجودکیمیکلزمعدے کی تیزابیت،بھوک کی کمی اورسنگین صورتوں میں منہ اور زبان کے کینسر کا باعث بنتے ہیں۔گٹکا،مین پوری ،تمباکواور چھالیہ استعمال کرنے والوں میں سستی،مدہوشی اور متلی کی شکایت عام ہو تی ہے جبکہ بعض افراد اعصابی تناؤ کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ گٹکا، مین پوری،چھالیہ،تمباکو وغیرہ بھی منشیات کی طرح استعمال کنندگان کو اپنا عادی بنالیتے ہیں جو آہستہ آہستہ ان اشیاء کی مقداربڑھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ خوردنی تمباکو کی مختلف صورتوں کا مسلسل استعمال عادی افراد کی صحت کو بری طرح متاثر کرنا شروع کر دیتا ہے ، ان اثرات کے سامنے آنے کے باوجود بھی ان اشیاء کا استعمال ترک کرنا ممکن نہیں ہوتا۔منشیات کی طرح خوردنی تمباکو کے عادی افراد بھی جب تک ان اشیاء کا استعمال نہ کرلیں تب تک انہیں سر چکرانے اور شدید سر درد کی شکایت رہتی ہے۔ان تمام چیزوں کامسلسل استعمالvission cellsکو کمزور کر دیتا ہے،جس سے آہستہ آہستہ بینائی کمزور ہوتی جاتی ہے۔اگر شہر کراچی کی بات کی جائے تو یہاں لگتا ایسے ہے کہ شہر میں جان بچانے والی ادویات سے زیادہ گٹکے،چھالیہ اور مین پوری کے برانڈ میسر ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ماہرین کے مطابق میٹھی اور اچھے قسم کی چھالیہ بھی سرطان جیسے موذی مرض کا باعث بنتی ہے۔ چھالیہ کارس Carcinogen نامی مادہ کی پیداوار کا باعث بنتا ہے جو منہ کے کینسر کا باعث بنتا ہے۔ پاکستان بھر میں بھارت سے غیر قانونی طور پر بر آمد کی گئی چھالیہ بھی دستیاب ہے جبکہ بعض مقامی تاجر سستی چھالیہ منگوا کراس میں کپڑے رنگنے والامصنوعی رنگ اورمصنوعی شکر استعمال کرتے ہیں۔کراچی جیسا گنجان شہر جہاں کی آبادی کا ایک بڑا حصہ پان چھالیہ کے عادی افراد پر مشتمل ہے اور غیر معیاری گٹکا ،مین پوری وغیرہ بنانے اور بیچنے والو ں کے لئے جنت بن گیا ہے۔ آج خوردنی تمباکو کاغیر قانونی کاروبار ایک صنعت کی صورت اختیار کر گیا ہے ،صوبائی حکومت کی جانب سے بارہا اس کاروبار کی روک تھام کی کوششیں کی جا چکی ہیں جو تاحال کامیاب نہیں ہو سکیں۔کراچی پریس کلب میں سال 2012میں اس وقت کے ایڈمنسٹریٹرکراچی محمد حسین سید نے10 دسمبر2012 کو منہ کے کینسر سے متعلق آگاہی بیدار کرنے کے لیے منعقد کی گئی ساتویں عالمی کانفرنس کے دوران پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا تھا کہ شہر میں ڈیڑھ سے دو لاکھ افراد منہ کے کینسر میں مبتلا ہیں اور ان کے علاج کے لئے انسٹیٹیوٹ آف اورل کینسر قائم کیا جائے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ منہ کا کینسر انسانوں کو لاحق ہونے والا دوسرا بڑاکینسر ہے جو کراچی کے مضافاتی علاقوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے،کیونکہ ان علاقوں میں مضر صحت اشیاء یعنی گٹکا،مین پوری وغیرہ کا استعمال بے حد زیادہ ہے۔ اس موقع پر بلدیہ عظمیٰ کراچی اور پاکستان ایسوسی ایشن آف اورل کینسر کے اشتراک سے ہفتہ آگہی واک برائے منہ کے کینسر کا انعقاد بھی کیا گیا تھا۔پچھلے دور حکومت میں ٹھٹھہ سے تعلق رکھنے والے کچھ ممبران سندھ اسمبلی کے توسط سے خوردنی تمباکو پر پابندی عائد کرنے کے لئے ایک کوشش کی گئی تھی، ٹھٹہ سے تعلق رکھنے والی ممبر سندھ اسمبلی حمیرہ علوانی کی جانب سے ایک پرائیوٹ بل سندھ اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا جو دی مین پوری اینڈ گٹکا ایکٹ2009 کہلاتا ہے،مگر افسوس کہ اس بل پراب تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی اور نہ ہی اس بل پر اسمبلی میں بحث ہوئی۔بل کے مقاصد میں مین پوری اور گٹکاجیسی مضر صحت اشیاء پر پابندی لگانے کے لیے قانو ن سازی کرناشامل تھا۔ اس بل میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ تمباکو کا استعمال عوام کی صحت کو درپیش بڑے چیلنجوں میں سے ایک بن گیا ہے،کیونکہ منہ کے کینسر کے 82 سے 90 فیصد کیسزاسی کے باعث ہوتے ہیں۔منہ کے کینسر میں مبتلا افراد میں سے 50 فیصد محض 5 سال تک زندہ رہ پاتے ہیں،جبکہ 48 فیصد مریض تشخیص کے بعددس سال تک زندہ رہتے ہیں۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صحت کا شعبہ صوبوں کو منتقل کیا جا چکا ہے تاہم اب تک صوبائی حکومتیں صحت عامہ کے حوالے سے درپیش مسائل کے حل کے لیے خاطر خواہ وسائل پیدا نہیں کر سکیں۔خوردنی تمباکو کے مضر اثرات سے متعلق عوام میں آگہی کے فروغ اور مضر صحت خوردنی تمباکو کی فروخت کے انسداد کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہ ہونا بھی اس مرض میں اضافے کی ایک اہم وجہ ہے۔سگریٹ نوشی کے حوالے سے وفاقی وزارت صحت کی طرف سے چلائی گئی ابلاغی مہم نے تمباکو نوشی کے مضر اثرات سے لوگوں کو آگاہ کرنے کے ضمن میں متاثر کْن کردار ادا کیا ہے۔ تمباکو جیسے گٹکا،ماوا وغیرہ کے مضر صحت اثرات سے لوگوں کو آگاہ کرنے کے لیے بھی اسی طرح کی حکومتی مہم ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔(بشکریہ: لالٹین ڈاٹ کام)