اتحاد میں طاقت ہے!
اسپیشل فیچر
یہ کہاوت برسوں سے دہرائی جا رہی ہے۔’’اتحاد میں طاقت ہے۔‘‘ اسے آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں، طاقت کا راز اتحاد میں ہے۔‘‘ اتحاد کی اہمیت اور طاقت کا اندازہ لگانا ہو تو تاریخ انسانی پر نظر ڈالیے۔ بڑی بڑی جنگوں کا مطالعہ کیجیے۔ ہر بڑی جنگ میں فتح کا دارومدار باہمی اتحاد پر ہوتا ہے۔ تاریخ میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جو اس بات کی شاہد ہیں کہ بہت سی جنگوں میں جس فریق کو شکست ہوئی، اس کا سبب نااتفاقی تھا۔ اسی لیے کہا گیا ہے۔’’تقسیم کرو اور حکومت کرو!‘‘(Divide and Rule) اس مقولے پر عمل کرکے بہت سی قوموں نے دوسری قوموں کو محکوم بنالیا۔ بڑے بڑے نامور فاتحین کو شکست کا منہ دکھایا۔ اتحاد ایک ایسی طاقت ہے جسے ہر شعبہ حیات میں کامیابی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایک پرانی کہاوت ہے،’’اکیلا چنا بھاڑ نہیں پھوڑ سکتا۔‘‘ اتحاد اور اتفاق کی اہمیت پر ایک نہیں بہت سی کہانیاں لکھی گئی ہیں اور شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو، جہاں اتحاد کی اہمیت پر کوئی لوک کہانی نہ دہرائی جاتی ہو۔ ان ابتدائی سطور کا مقصد آپ کو اتحاد یا تعاون کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ اس کی اہمیت سے بے خبر نہیں اور آپ نے بھی اس کے متعلق بہت سی کہانیاں پڑھی ہوں گی۔ میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص محض اپنی ذاتی صلاحیت کے باعث کامیاب ہوا ہو۔؟ اور اس نے کسی دوسرے کا تعاون حاصل نہ کیا ہو۔ دوسروں کی مدد طلب نہ کی ہو۔؟ مشہور ماہر ریاضی دان’’چارلس ستین میتس‘‘ کا قول ہے۔’’تعاون، اتفاق یا اتحاد محض ایک احساس یا جذبہ نہیں، بلکہ یہ ایک معاشی ضرورت ہے۔‘‘ ایک پرانی کہاوت ہے۔’’ایک اکیلا دو گیارہ‘‘ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے۔-1 سب سے پہلے ’’متحد ہو جائیں۔‘‘-2 پھر متحد رہیں۔!-3 اور پھر متحد ہو کر کام کریں۔اگر آپ دولت مند بننے کے خواہش مند ہیں تو مندرجہ بالا اقوال کو ہمیشہ ذہن میں رکھیں اور ان سے رہنمائی حاصل کرتے رہیں۔ کامیابی کے حصول کے لیے ان تمام لوگوں کی فہرست بنالیں جو آپ کی مدد کر سکتے ہوں۔(ایم- آر- کوپ میئر کی تصنیف ’’آپ چاہیں ،تو امیر بن سکتے ہیں‘‘ سے مقتبس)