عمر کوٹ کا 7صدیاں دیکھنے والا قلعہ
اسپیشل فیچر
مجھے نہیں پتہ کہ عمرکوٹ شہر اور اس قلعہ کے آسمان پر سے لوک گیتوں کی کتنی فاختائیں اڑیں اور کتنی بْجھتی آنکھوں نے عمر کوٹ کے نیلے آسمان کو آخری بار دیکھا۔ میں یہ بھی شاید یقین سے نہ کہہ سکوں کہ اس قلعہ کے بنیاد کی پہلی اینٹ کب اور کس نے رکھی؟’عمر‘ نے رکھی یا ’امر‘ نے رکھی، لیکن مجھے اتنا ضرور معلوم ہے کہ سندھ اور مارواڑ کے مرکزی راستے کے بیچ میں ہونے کی وجہ سے ماضی میں یہ بہت اہم شہر رہا ہے۔تاریخ کے کتابوں کی اگر ورق گردانی کی جائے تو وہاں بھی غلط فہمیوں کا ایک جنگل سا اُگا ہوا ہے، جہاں سے راستہ بنا کر نکلنا بہت ہی مشکل اور پریشان کر دینے والا کام ہے۔ البتہ قدیم تاریخ کے مورخین کی کتابوں جیسے ’’تاریخِ فرشتہ‘‘، ’’آئین ِ اکبری‘‘، ’’اکبر نامہ‘‘، ’’تاریخ ِطاہری‘‘ اور ’’ٹاڈ کے راجھستان‘‘ میں اسے ’’امرکوٹ‘‘ کے نام سے پکارا گیا ہے۔کچھ محققین کا خیال ہے کہ امرکوٹ اور عمر کوٹ دو الگ الگ شہر تھے، مگر اشتیاق انصاری صاحب ان باتوں سے اختلاف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پرانا امر کوٹ موجودہ شِو مندر کے قریب تھا یا کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اس وقت جہاں اکبر بادشاہ کی پیدائش کی جگہ بتائی جاتی ہے، عمر کوٹ وہیں تھا، مگر میری کی گئی تحقیق کے مطابق ایسا کچھ نہیں ، یہ ہی وہ کوٹ ہے، جو مختلف ادوار میں آباد و برباد ہوتا رہا، جس کو پہلے امر کوٹ اور بعد میں عمر کوٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔کچھ محققوں کا خیال ہے کہ موجودہ قلعہ میاں نور محمد نے 1747ء میں تعمیر کروایا تھا اور اس زمانہ میں یہاں 400 سپاہی رہتے تھے۔ اس کے جواب میں محقق غلام محمد لاکھو تحریر کرتے ہیں کہ میاں نورمحمد کلہوڑو نے یہاں نیا قلعہ تعمیر نہیں کروایا تھا بلکہ اس قدیم قلعہ کی مرمت اور تزئین کا حکم دیا تھا۔ڈاکٹر مبارک علی تحریر کرتے ہیں؛جب 1739ء میں نادر شاہ نے سندھ پر حملہ کیا ،تو کلہوڑا حکمران میاں نور محمد نے بھاگ کر عمر کوٹ کے قلعے میں اس لیے پناہ لی تھی کہ نادر شاہ عمر کوٹ تک نہیں آئے گا، مگر یہ بس ایک خوش فہمی ہی تھی۔ جب نادر شاہ نے گھیرا تنگ کیا تو معافی مانگنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا میاں نور محمد کے پاس۔ معافی کے ساتھ خراج بھی بھرنا پڑا جو اندازاً اس وقت کے 22 لاکھ روپے اور ایک قیمتی ہیرا تھا۔قلعے کی قدامت کے متعلق بہت ساری باتیں ہیں، مگر مل ملا کر نتیجہ یہ اخذ ہوتا ہے کہ یہ شہر سومرا گھرانے کے پہلے حاکم عمر نے بنوایا۔ تیرہویں صدی کے آخر میں راجپوت حکمران پرمار سوڈھو نے اس شہر پر اپنا تسلط قائم کیا۔ ہمایوں کا استقبال کرنے والا رانا پرساد اسی پرمار سوڈھو کی اولاد میں سے تھا۔ عمر کوٹ میں جو بھی حکومت کرتا اس کو رانو (رانا) کا خطاب دیا جاتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ راجپوتوں نے یہ قلعہ کلہوڑا حکمرانوں کے حوالے کر دیا۔ کلہوڑوں نے قلعہ آگے چل کر جودھپور کے راجا کو بیچ دیا اور تالپور حکمرانوں نے 1813ء میں اس قلعے پر قبضہ کرلیا۔انگریزوں نے جب 1843 ء میں سندھ فتح کیا ،تو یہ قلعہ انگریز سرکار کا حصہ بنا۔اب تو باقی نہیں البتہ ایک زمانے میں اس قلعہ کے چاروں طرف ایک خندق تھی ،جو اس کو دشمن کے حملوں سے تحفظ فراہم کرتی۔ دفاعی نقطۂ نظر سے یہ قلعہ ریگستان کی بالکل اختتامی لکیر پر بنایا گیا تھا، ایک حوالہ سے یہ ایک سرحد کا کام دیتا تھا۔ جودھپور اور دوسرے شمال مشرقی شہروں سے اونٹوں کے قافلے پہلے عمرکوٹ آتے، اس کے بعد حیدرآباد یا کہیں اور جا پاتے۔شہر کے بیچوں بیچ ناگفتہ بہ حالت میں یہ قلعہ اب بھی سر جھکائے کھڑا ہے۔ اگر آپ اس قلعے کو باہر سے دیکھیں گے تو اس قلعے کی بے بسی اور خستگی کا احساس آپ کو یقینا ہو جائے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ شہر میں ہوتے ہوئے بھی اس کا کوئی مالک نہیں ۔جتنی اچھی حالت مرکزی دروازے اور دمدمے کی ہے، اتنی بری حالت ان فصیلوں کی ہے ،جنہوں نے صدیوں تک اس قلعے کو تحفظ دیا، مگر اب ان فصیلوں کو کوئی تحفظ دینے کے لیے تیار نہیں ۔ وقت کے بے رحم لمحے ان فصیلوں کو خستگی کے سوا کچھ نہیں دے رہے۔ کونوں پر بنے ہوئے برجوں کی حالت ان فصیلوں سے بھی بری ہے۔قلعے کے شمالی دروازے کے قریب بارش کے پانی کی نکاسی کی نالیاں موجود ہیں۔ ان نالیوں کی حالت بھی اتنی اچھی نہیں ہے۔ اچھی حالت میں انگریز ڈپٹی کمشنر مسٹر واٹسن کی وہ قبر ہے، جس پر ایک خوبصورت سی چھتری بنی ہوئی ہے۔یہ وہ ہی قلعہ ہے جس سے عمر ماروی (مارئی) کی مشہور لوک کہانی وابستہ ہے۔ یہ کہانی عمر سومرو کے زمانے (1390ء-1355ء) کی ہے، جو اس وقت بادشاہ تھا اور اس کوٹ (قلعے) میں رہتا تھا۔ تھر کے علاقے ملیر کی ماروی کو عمر بادشاہ وہاں سے اٹھا کر اس کوٹ میں لایا اور شاہی محل میں قید کر دیا۔ وہ مسلسل اس کوشش میں لگا رہا کہ ماروی اس محل کی مہارانی بن جائے، مگر ماروی کو نہ محل سے دلچسپی تھی اور نہ خوبصورت کپڑوں اور طرح طرح کی خوراکوں سے۔ وہ ہر حالت میں واپس اپنے ملیر جانا چاہتی تھی۔شاہ عبدالطیف بھٹائی نے ماروی کے اس حُب الوطنی کے جذبے کو دل کی گہرائیوں سے محسوس کیا اور ’’شاہ جو رسالو‘‘ میں ’’سر مارئی‘‘تخلیق کر کے عمر ماروی کی داستان اور ماروی کے جذبہ ٔحُب الوطنی کو امر کر دیا۔ شاہ سائیں قلعے کی زندگی سے ماروی کی عدم دلچسپی یوں بیان کرتے ہیں:اپنے گھر کی رنگی ہوئی لوئیکیوں نہ ہو رشکِ اطلس و کمخواباے عمر کیا ہے اس کے سامنےمخملیں بافتے کی آب و تابمیں نہ پہنوں گی ریشمی ملبوسچاہے جس رنگ کا بھی ہو کوئیجان سے بھی عزیز ہے مجھ کواپنے پنہوار کی رضا جوئی(ترجمہ شیخ ایاز)عیش و آرام کا لالچ جب کارگر نہ ہوا، تو عمر نے ماروی کو قید و بند کی صعوبتیں دیں ،مگر قلعے کی پر تعیش زندگی سامنے ہونے کے باوجود ماروی اپنے ملیر، اپنی جھونپڑی اور اپنے غریب رشتے داروں کو بھول نہ سکی۔ آخرکار عمر کو جب یقین ہو گیا کہ زور کی مہندی نہیں لگنی تو اس نے بڑے احترام سے ماروی کو قید سے آزاد کر دیا۔خیر ذکر ہو رہا تھا عمر کوٹ کے قلعے کا۔۔۔!قلعے کے مرکز میں ایک وسیع برج بنا ہوا ہے۔ ایک سو دس فٹ اونچے اس برج پر پہنچنے کے لیے آپ کو ساٹھ کے قریب سیڑھیاں چڑھنی پڑتی ہیں، اور جب آپ وہاں پہنچ جاتے ہیں تو چار سُو ایک سحر انگیز منظر آپ کا منتظر ہوتا ہے۔ مغرب کی طرف ہری بھری فصلیں اور مشرق کی طرف ریت کے ٹیلے ہیں جو صدیوں سے وقت کا سارا کھیل تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ اگر ان کو زبان مل جائے تو بہت سارے راز راز نہیں رہیں گے، مگر ایسا ممکن نہیں اس لیے تاریخ پُراسراریت کی دھند میں لپٹی ہوئی ہے۔٭…٭…٭