سرسید احمد خان کے بچپن کے دن
اسپیشل فیچر
بسم اللہ کی تقریب سر سید کہتے تھے کہ:’’ مجھ کو اپنی بسم اللہ کی تقریب بخوبی یاد ہے۔ سہ پہر کا وقت تھا اور آدمی کثرت سے جمع تھے ، خصوصاً حضرت شاہ غلام علی صاحب بھی تشریف رکھتے تھے، مجھ کو لا کر حضرت کے سامنے بٹھا دیا تھا۔ میں اس مجمع کو دیکھ کر ہکا بکا سا ہو گیا ، میرے سامنے تختی رکھی گئی اور غالباً شاہ صاحب ہی نے فرمایا کہ پڑھو ، بسم اللہ الرحمن الرحیم ، مگر میں کچھ نہ بولا اور حضرت صاحب کی طرف دیکھتا رہا۔ انہوں نے اٹھا کر مجھے اپنی گود میں بٹھا لیا اور فرمایا کہ ہمارے پاس بیٹھ کر پڑھیں گے \" اور اول بسم اللہ پڑھ کر ’’اقراء ‘‘ کی اول کی آیتیں \" مالم یعلم \" تک پڑھیں۔ میں بھی ان کے ساتھ ساتھ پڑھتا گیا۔ \" سر سید نے جب یہ ذکر کیا تو بطور فخر کے اپنا یہ فارسی شعر ، جو خاص اسی موقع کے لئے انھوں نے کبھی کہا تھا ، پڑھا ’’بہ مکتب رفتم و آموختم اسرار یزدانی زفیض نقش بند وقت و جان جان جانانی ‘‘ مجلسِ ختم قرآن بسم اللہ ختم ہونے کے بعد سر سید نے قرآن مجید پڑھنا شروع کیا۔ ان کے ننھیال میں قدیم سے کوئی نہ کوئی استانی نوکر رہتی تھی۔ سر سید نے استانی ہی سے، جو ایک اشراف گھر کی پردہ نشین بی بی تھی ، سارا قرآن ناظرہ پڑھا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ :’’میرا قرآن ختم ہونے پر ہدیہ کی مجلس جو زنانہ میں ہوئی تھی، وہ اس قدر دلچسپ اور عجیب تھی کہ پھر کسی ایسی مجلس میں وہ کیفیت میں نے نہیں دیکھی۔‘‘قدیم نوکرانی کی موت سر سید کو مسمات ماں بی بی نے، جو ایک قدیم خیر خواہ خادمہ ان کے گھرانے کی تھی ، پالا تھا ، اس لئے ان کو ماں بی بی سے نہایت محبت تھی۔ وہ پانچ برس کے تھے جب ماں بی بی کا انتقال ہوا ، ان کا بیاں ہے کہ :’’مجھے خوب یاد ہے ، ماں بی بی مرنے سے چند گھنٹے پہلے فالسہ کا شربت مجھ کو پلا رہی تھی۔ جب وہ مر گئی تو مجھے اس کے مرنے کا نہایت رنج ہوا۔ میری والدہ نے مجھے سمجھایا کہ وہ خدا کے پاس چلی گئی ہے ، بہت اچھے مکاں میں رہتی ہے ، بہت سے نوکر چاکر اس کی خدمت کرتے ہیں اور اس کی بہت آرام سے گزرتی ہے، تم کچھ رنج مت کرو۔‘‘مجھ کو ان کے کہنے سے پورا یقین تھا کہ فی الوقت ایسا ہی ہے۔ مدت تک ہر جمعرات کو اس کی فاتحہ ہوا کرتی تھی اور کسی محتاج کو کھانا دیا جاتا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ یہ کھانا ماں بی بی کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ اس نے مرتے وقت کہا تھا کہ ’’میرا تمام زیور سید کاہے‘‘ مگر میری والدہ اس کو خیرات میں دینا چاہتی تھیں ۔ ایک دن انہوں نے مجھ سے پوچھا : ’’ اگر تم کہو تو یہ گہنا ماں بی بی کے پاس بھیج دوں ؟ ‘‘ میں نے کہا ’’ہاں بھیج دو۔‘‘ والدہ نے وہ سب گہنا مختلف طرح سے خیرات میں دیدیا۔‘‘گاؤں کی یاددلی سے سات کوس دورمغل پور ایک جاٹوں کا گائوں ہے۔ وہاں سر سید کے والد کی کچھ ملکیت بطور معافی کے تھی۔ اگر کبھی فصل کے موقع پر ان کے والد مغل پور جاتے تو ان کو بھی اکثر اپنے ساتھ لے جاتے اور ایک ایک ہفتہ گائوں میں رہتے۔ سر سید کہتے تھے کہ :’’ اس عمر میں گائوں جا کر رہنا ، جنگل میں پھرنا ، عمدہ دودھ ، دہی، تازہ تازہ گھی اور جاٹنیوں کے ہاتھ کی پکی ہوئی باجرے یا مکئی کی روٹیاں کھانا نہایت ہی مزہ دیتا تھا۔‘‘خلعت کا حصول سر سید کے والد کو اکبر شاہ کے زمانہ میں ہر سال تاریخ جلوس کے جشن پر پانچ پارچہ اور تین رقوم جواہر کا خلعت عطا ہوتا تھا مگر اخیر میں… انہوں نے دربار کا جانا کم کر دیا تھا اور اپنا خلعت سر سید کو ، باوجودیکہ ان کی عمر کم تھی ، دلوانا شروع کر دیا تھا۔ سر سید کہتے تھے کہ:’’ ایک بار خلعت ملنے کی تاریخ پر ایسا ہوا کہ والد بہت سویرے اْٹھ کر قلعہ چلے گئے اور میں بہت دن چڑھے اْٹھا۔ ہر چند بہت جلد گھوڑے پر سوار ہو کر وہاں پہنچا مگر پھر بھی دیر ہو گئی۔ جب لال پردہ کے قریب پہنچا تو قاعدہ کے موافق اول دربار میں جا کر آداب بجا لانے کا وقت نہیں رہا تھا۔ داروغہ نے کہا کہ بس اب خلعت پہن کر ایک ہی دفعہ دربار میں جانا۔ جب خلعت پہن کر میں نے دربار میں جانا چاہا تو دربار برخاست ہو چکا تھا اور بادشاہ تخت پر سے اْٹھ کر ہوادار پر سوار ہو چکے تھے۔ بادشاہ نے مجھے دیکھ کر والد سے ، جو اس وقت ہوادار کے پاس ہی تھے ، پوچھا کہ ’’تمہارا بیٹا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا، ’’حضور کا خانہ زاد! ‘‘ بادشاہ چپکے ہو رہے۔ لوگوں نے جانا بس اب محل میں چلے جائیں گے ، مگر جب تسبیح خانہ میں پہنچے تو وہاں ٹھہر گئے۔ تسبیح خانہ میں بھی ایک چبوترہ بنا ہوا تھا جہاں کبھی کبھی دربار کیا کرتے تھے۔ اس چبوترہ پر بیٹھ گئے اور جواہر خانہ کے داروغہ کو کشتیِ جواہر حاضر کرنے کا حکم ہوا۔ میں بھی وہاں پہنچ گیا تھا۔ بادشاہ نے مجھے اپنے سامنے بلایا اور کمال عنایت سے میرے دونوں ہاتھ پکڑ کر فرمایا کہ’’ دیر کیوں کی؟‘‘ حاضرین نے کہا ، ’’ عرض کرو کہ تقصیر ہوئی ‘‘ مگر میں چپکا کھڑا رہا۔ جب حضور نے دوبارہ پوچھا تو میں نے عرض کیا کہ ’’سو گیا تھا! ‘‘ بادشاہ مسکرائے اور فرمایا، ’’ بہت سویرے اْٹھا کرو! ‘‘ اور ہاتھ چھوڑ دئیے۔ لوگوں نے کہا، ’’ آداب بجا لاؤ! ‘‘ میں آداب بجا لایا۔ بادشاہ نے جواہرات کی معمولی رقمیں اپنے ہاتھ سے پہنائیں۔ میں نے نذر دی اور بادشاہ اْٹھ کر خاصی ڈیوڑھی سے محل میں چلے گئے۔ تمام درباری میرے والد کو بادشاہ کی اس عنایت پر مبارک سلامت کہنے لگے… اس زمانہ میں میری عمر آٹھ نو برس کی ہو گی۔کھیل کْود اور شرارتیںبچپن میں سر سید پر نہ تو ایسی قید تھی کہ کھیلنے کودنے کی بالکل پابندی ہو اور نہ ایسی آزادی تھی کہ جہاں چاہیں اور جن کے ساتھ چاہیں کھیلتے کودتے پھریں۔ ان کی بڑی خوش نصیبی یہ تھی کہ خود ان کے ماموں ، ان کی خالہ اور دیگر نزدیکی رشتہ داروں کے چودہ پندرہ لڑکے ان کے ہم عمر تھے جو آپس میں کھیلنے کودنے کے لئے کافی تھے…خواجہ فرید کی حویلی جس میں وہ اور ان کے ہم عمر رہتے تھے ، اس کا چوک اور اس کی چھتیں ہر موسم کی بھاگ دوڑ کے کھیلوں کے لئے کافی تھیں۔ ابتداء میں وہ اکثر گیند بلّا ، کبڈی ، گیڑیاں ، آنکھ مچولی ، چیل چلو وغیرہ کھیلتے تھے۔ اگرچہ گیڑیاں کھیلنے کو اشراف معیوب جانتے تھے مگر ان کے بزرگوں نے اجازت دے رکھی تھی کہ آپس میں سب بھائی مل کر گیڑیاں بھی کھیلو تو کچھ مضائقہ نہیں۔ سر سید کہتے تھے کہ:’’کھیل میں جب کچھ جھگڑا ہو جاتا تو بڑوں میں سے کوئی آ کر تصفیہ کر دیتا اور جس کی طرف سے چنید معلوم ہوتی اس کو برا بھلا کہتا اور شرمندہ کرتا کہ چنید کرنا بے ایمانی کی بات ہے ، کبھی چنید مت کرو اور جو چنید کرے اس کو ہرگز اپنے ساتھ مت کھیلنے دو۔‘‘ان کا بیان تھا کہ:’’باوجود اس قدر آزادی کہ بچپن میں مجھے تنہا باہر جانے کی اجازت نہ تھی ، جب میری والدہ نے اپنے رہنے کی جدا حویلی بنائی اور وہاں آ رہیں تو باوجودیکہ اس حویلی میں اور نانا صاحب کی حویلی میں صرف ایک سڑک درمیان تھی ، جب کبھی میں ان کی حویلی میں جاتا تو ایک آدمی میرے ساتھ جاتا ، اسی لئے بچپن میں مجھے گھر سے باہر جانے اور عام صحبتوں میں بیٹھنے یا آوارہ پھرنے کا بالکل اتفاق نہیں ہوا۔‘‘(کتاب’’سرسید کی کہانی: سرسید کی زبانی‘‘ سے اقتباس) ٭…٭…٭