فتح جنگ

فتح جنگ

اسپیشل فیچر

تحریر :


ضلع اٹک کا شہر اور ایک تحصیل۔ یہ قصبہ راولپنڈی کوہاٹ ریلوے لائن پر راولپنڈی سے 48کلومیٹر اور اور اٹک سے45 کلومیٹر کے فاصلے پر کالا چٹا پہاڑ کے دامن میں ایک سر سبز و شاداب کُھلی وادی میں آباد ہے۔ یہاں سے پنڈی سلطان ، ڈھلیان اور اٹک کو پختہ سڑکیں جاتی ہیں۔ روایت کے مطابق راجہ اِندر نامی کسی قدیم ہندو راجہ نے یہاں ایک قلعہ تعمیر کرایا تھا، جس کی وجہ سے یہ آبادی اِندر کوٹ کے نام سے پہچانی جانے لگی، تاہم اس کا موجودہ نام یہاں کے جدید آبادکاروں کے کسی بزرگ سے منسوب ہے جنہوں نے کئی جنگیں لڑیں اور ہمیشہ فتح پائی۔ اِس شہر کے محلہ اِندر کوٹ میں آج بھی پرانے وقتوں کی ایک مسجد موجود ہے۔ اس کے طرزِ تعمیر سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مسجد سینکڑوں سال قدیم ہے۔ یہ مسجد پتھر، چھوٹی اینٹ اور چونے گچ سے تعمیر شدہ ہے۔ اپنی اصلی حالت میں تین گنبد والی یہ مسجد ایک ایوان پر مشتمل ہے۔ درمیان والا گنبد کسی وقت شہید ہو گیا تھاچنانچہ اسے از سرِ نو تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ مسجد اُن آثار قدیمہ میں سے ہے جنہیں ملکی قانون کے تحت تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔سکھوں کے دَور میں علاقائی جاگیردار مقامی حاکم رہے اور سکھ حکومت کو مالیہ ادا کرتے رہے۔ انگریزی عہد میں فتح جنگ راولپنڈی کی تحصیل بنی، پھر 1940ء میں اٹک ضلع بنا ،تو اس میں شامل کر دیا گیا۔ اس وقت تحصیل میں203 دیہات شامل تھے اور یہ 1393مربع کلومیٹر پر مشتمل تھی۔1891ء میں اس تحصیل کی آبادی 113041 افراد پر مشتمل تھی۔ اس کے شمال میں کالا چٹا کا کچھ میدانی علاقہ، جنوب میں خیری مور ت کی شاداب وادی جبکہ ان دونوں پہاڑی سلسلوں کے درمیان میں مشرق کی سمت تنگ اور مغرب کی طرف کھلا میدانی علاقہ ہے۔ فروری1910ء میں فتح جنگ کو نوٹیفائیڈ ایریا قرار دیا گیا جبکہ جنوری1924ء میں سمال ٹائون کمیٹی کا درجہ حاصل ہوا۔ بعد ازاں ٹائون کمیٹی اور پھر میونسپلٹی کا درجہ ملا۔ آجکل تحصیل فتح جنگ14 یونین کونسلوں پر مشتمل ہے۔1919 ء کے اعداد و شمار کے مطابق یہاں پولیس اسٹیشن، تحصیل دفاتر، پوسٹ آفس، ریلوے اسٹیشن اور ڈسپنسری موجود تھے۔اب یہاں طلبا و طالبات کے ڈگری کالجز، کامرس کالج ، ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ، تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال، متعدد سرکاری و غیر سرکاری سکول اور ایک بڑی غلہ منڈی موجود ہیں۔ یہاں لڑکوں کا کالج1976 ء میں انٹر سطح پر بنا تھا جبکہ گرلز کالج 1983ء میں قائم ہوا۔ 2004 ء میں اپنی نئی عمارت میں منتقل ہوا۔2007 ء میں ڈگری کا درجہ حاصل ہوا غلہ منڈی والی مسجد کا نامـ ’’ــمشہورمسجد‘‘ہے۔ مسجد کے ساتھ ایک دینی مدرسہ بھی ہے۔ انگریزوں کے عہد میں فوجی ضروریات کے لیے یہاں ایک چھوٹا ہوائی اڈہ قائم کیا گیا تھا۔ اب یہ پاک فضائیہ کی تحویل میں ہے اور ٹریننگ سنٹر کے طور پر کام آتا ہے۔ فتح جنگ کی لکڑی کی بنائی ہوئی چھوٹی بڑی کنگھیاں پورے پاکستان میں مشہور ہیں، یہاں وولن انڈسٹری بھی ہے جبکہ مونگ پھلی کی کاشت عام ہوتی ہے۔ فتح جنگ میں گھیبہ، الپیال، اعوان، بھٹی، گُجر، ملیار اور مغل قوموں کے افراد آباد ہیں۔ جنرل (ر) محمد شریف اور جنرل (ر) محمد اقبال کا تعلق یہیں سے تھا۔ محمد ریاض کاوش یہاں کے شاعر اور افسانہ نگار ہیں۔فتح جنگ میاں والی روڈ پر15کلومیٹر کے فاصلے پر گلی جاگیر کا مقام ہے۔ یہاں سوئی سدرن گیس لمیٹڈ کا مکسنگ پلانٹ ہے اور یہاں سے پنجاب کے کئی شہروں کو گیس فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ سکھوال کے مقام پر مشہور آئل اینڈ گیس فیلڈ ہے۔ یہاں سے گیس 1980ء میںدریافت ہوئی اور یہ مقام فتح جنگ سے چندکلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ( اعزاز فضیلت پانے والے لکھاری اسد سلیم شیخ کی تصنیف ’’نگر نگر پنجاب:شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے مقتبس)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
 شیخ زید جامع مسجد اسلامی فن تعمیر کا شاہکار

شیخ زید جامع مسجد اسلامی فن تعمیر کا شاہکار

متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں واقع شیخ زید جامع مسجد جدید اسلامی فن تعمیر کا ایک ایسا شاہکار ہے جس نے دنیا بھر کے ماہرین تعمیرات اور سیاحوں کو یکساں طور پر متاثر کیا ہے۔ سفید سنگِ مرمر سے مزین یہ عظیم الشان مسجد نہ صرف عبادت گاہ ہے بلکہ اتحاد، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کی علامت بھی سمجھی جاتی ہے۔یہ مسجد متحدہ عرب امارات کے بانی صدر شیخ زید بن سلطان النہیان کے وژن کا عملی نمونہ ہے، جن کی خواہش تھی کہ ایک ایسی جامع مسجد تعمیر کی جائے جو اسلامی تہذیب کی خوبصورتی اور وسعتِ نظر کی عکاسی کرے۔ 1996ء میں شروع ہونے والا یہ عظیم منصوبہ 2007ء میں مکمل ہوا۔ مسجد میں بیک وقت تقریباً چالیس ہزار نمازیوں کی گنجائش موجود ہے، جو اسے دنیا کی بڑی مساجد میں شامل کرتی ہے۔شیخ زید مسجد کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کے 82 سفید گنبد اور چار بلند و بالا مینار ہیں جو تقریباً 107 میٹر کی بلندی تک پہنچتے ہیں۔ مرکزی صحن میں سنگِ مرمر پر کی گئی نفیس پھولدار نقش و نگاری دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتی ہے۔ مسجد کے اندر نصب عظیم الشان کرسٹل فانوس جرمنی سے تیار کروا کر لائے گئے، جبکہ مرکزی ہال میں بچھا قالین ہاتھ سے بْنے ہوئے دنیا کے بڑے قالینوں میں شمار ہوتا ہے جو ایرانی ماہرین کا تیار کردہ ایک شاہکار ہے۔ یہ مسجد محض ایک عبادت گاہ نہیں بلکہ ایک ثقافتی مرکز بھی ہے۔ یہاں دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کیلئے رہنمائی کے خصوصی انتظامات موجود ہیں تاکہ وہ اسلامی تعلیمات اور فن تعمیر کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ ہو سکیں۔ خاص طور پر غروبِ آفتاب کے وقت مسجد کا منظر، جب سفید گنبد سنہری روشنی میں نہا جاتے ہیں، دلکش اور یادگار ہوتا ہے۔ شیخ زید جامع مسجد دراصل جدید دور میں اسلامی فنِ تعمیر کی نئی جہتوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ مسجد اس بات کا ثبوت ہے کہ مذہبی روحانیت اور عصری جمالیات ایک ساتھ چل سکتی ہیں۔ ابو ظہبی کی یہ عظیم مسجد آج نہ صرف امارات کی پہچان ہے بلکہ عالمِ اسلام کیلئے فخر کا باعث بھی ہے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!فاروق ضمیر منفرد لب و لیجے کے اداکار (2017-1941ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!فاروق ضمیر منفرد لب و لیجے کے اداکار (2017-1941ء)

٭...1941ء میں لاہور میں پیدا ہوئے، پورا نام فاروق ضمیر غوری تھا۔٭...گورنمنٹ کالج سے آرکیالوجی میں بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ ٭...دوران تعلیم ہی ان کا رجحان اداکاری کی طرف ہو گیا تھا۔ فنی کریئر کا آغاز 90 کی دہائی میں اسٹیج سے کیا۔ ٭...وہ اداکاری شوقیہ کرتے تھے۔والد کی طرف سے وراثت میں ملاہوا پرنٹنگ پریس چلاتے ر ہے۔ ٭...بے پناہ فنی صلاحیتوں کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انھیں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا۔ ٭...انہیں ان کی اداکاری کے اعتراف میں پی ٹی وی ایوارڈ ز اور بولان ایوارڈ سمیت سینکڑوں ایوارڈز سے نوازا گیا۔٭...ان کے مقبول ڈراموں میں ''گڈریا‘‘، ''رانی‘‘ ، ''سراغ زندگی‘‘، ''کاغذ کی ناؤ‘‘، ''بوڑھا احمق‘‘ اور ''شمالی ترانوے‘‘ شامل ہیں۔٭... ٹی وی کے علاوہ فلم میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے۔٭...وہ اپنی سنجیدہ اداکاری اور منفرد لب و لہجے کے باعث ہر خاص و عام میں مقبول تھے۔٭...23فروری 2017ء کو خالق حقیقی سے جا ملے۔سوگواران میں ایک بیوہ،اور 4 بچے چھوڑے ہیں۔بڑا بیٹا عمر بینکر اور چھوٹا سعد کمپیوٹر ہارڈ ویئر انجینئر اور بیٹی امریکہ میں مقیم ہیں۔ سب سے چھوٹا بیٹا فہد پاکستان ایئر فورس میں اسکواڈرن لیڈر ہے۔ اہلیہ مہوش انٹیریئر ڈیزائنر ہیں۔

رمضان کےمشروب و پکوان:ورقی سموسے

رمضان کےمشروب و پکوان:ورقی سموسے

اجزاء: ایک کلو گوشت کا قیمہ، ایک کلو گھی، ایک کلو میدہ، دارچینی، الائچی ہر ایک 10 ،10 گرام، مرچ ایک چائے کا چمچ، پیاز 250 گرام، ادرک، دھنیا ہر ایک کھانے کا ایک ایک چمچ، بکرے کی چربی 100 گرام۔ترکیب: پہلے قیمہ کو گھی میں بھون کر بگھاریئے اور معمولی مصالحہ دے کر دو پیازہ پکایئے اور جوش دے کر رکھ لیجیے۔ پھر میدہ کو نمک کے پانی سے اچھی طرح گوندھیے اوربیلن سے پوریاں بنا کر سانٹھ لیجیے اورقیمہ بھر کر سموسہ کی شکل کی مروڑی دے کر سانٹھ کے گھی میں تلیے اور استعمال میں لایئے۔ بجائے دو پیازہ کے اگر پستہ وبادام اور مصری اور کشمش بھریئے تو اور بھی زیادہ مزیدار ہو جائیں گے۔ اگر نمکین چاہیے تو بجائے مصری کے میدہ میں حسب ضرورت نمک بھی ڈالیے۔ سانٹھ کا گھی اس طرح بنتا ہے کہ اگر ہوا گرم ہو تو چربی کا ایک حصہ اور گھی دو حصے اور اگر ٹھنڈی ہوا ہو تو چربی اور گھی دونوں ہم وزن ملا کر استعمال میں لاتے ہیں۔کھجور اور دودھیہ ان بہترین مشروبات میں سے ایک ہے جس کا استعمال افطار کے لیے یقینی بنانا چاہیے۔ ہم چند کھجوروں کو ایک کپ ملائی والے دودھ میں بھگو کر تقریباً 12 گھنٹے کے لیے چھوڑ سکتے ہیں، پھر اس فائدہ مند اور بھرپور مشروب سے افطار شروع کریں، جو ہمیں توانائی دیتا ہے اور بلڈ شوگر کی معتدل سطح کو برقرار رکھتا ہے، جو عام طور پر روزے کے اوقات میں کم ہو جاتی ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

''سویت ریڈ آرمی‘‘ کا قیام23 فروری 1918ء کو ''سویت ریڈ آرمی‘‘ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اکتوبر 1917ء کے انقلاب کے بعد لو تروچکی کے حکم پر شاہی فوج کیخلاف جنگ کیلئے ریڈ آرمی کو تیار کیا گیا تھا۔ریڈ آرمی کا بنیادی مقصد سوویت حکومت کا دفاع کرنا تھا۔ 1946ء میں اس کا نام بدل کر جمہوریہ سویت یونین کی مشترکہ مسلح افواج رکھ دیا گیا۔الاباما کا اینٹی ٹرسٹ قانون23فروری 1883ء کو امریکی ریاست الاباما (Alabama) نے کاروباری اجارہ داری کے خلاف قانون منظورکیا۔ الاباما امریکا کی پہلی ریاست تھا جس نے اینٹی ٹرسٹ قانون نافذ کیا۔ اس قانون کا مقصد بڑی تجارتی کمپنیوں کو منڈی پر مکمل قبضہ جمانے سے روکنا تھا تاکہ منصفانہ مسابقت کو فروغ ملے اور صارفین کا استحصال نہ ہو۔ ایلومینیم کی دریافت1886ء میں آج کے روز چارلس مارٹن ہال نے کئی برس کی مسلسل محنت اور تجربات کے بعد ایلومینیم کے نمونے تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ یہ سائنسی کارنامہ دھات سازی کی تاریخ میں ایک بڑی پیش رفت ثابت ہوا۔ اس سے قبل ایلومینیم کا حصول نہایت مشکل اور مہنگا عمل تھا۔ ہال کی تحقیق نے ایلومینیم کو عام استعمال کی دھات بنا دیا۔ پاناما نہرکا کنٹرول 23 فروری 1904ء کو امریکہ نے 10 ملین ڈالرز کے بدلے پاناما نہر کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لیا۔پہلے جہاز براعظم جنوبی امریکا کے گرد چکر لگا کر راس ہارن سے بحر الکاہل تک پہنچتے تھے۔ اس کی تعمیر کے بعد سے نیویارک سے سان فرانسسکو کے درمیان بحری فاصلہ 9 ہزار 500 کلومیٹر ہوگیا جو راس ہارن کے گرد چکر لگانے پر 22 ہزار 500 کلومیٹر تھا۔

چاند سکڑ رہا ہے!

چاند سکڑ رہا ہے!

چاند کی سطح میں تبدیلیاں، مستقبل کیلئے خطرے کی گھنٹیاگر آپ رات کو آسمان کی طرف دیکھیں اور محسوس کریں کہ چاند کچھ چھوٹا نظر آ رہا ہے تو آپ غلط نہیں ہیں۔ سائنس دانوں کی تازہ تحقیق نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے کہ چاند بتدریج سکڑ رہا ہے، جس کے نتیجے میں اس کی سطح پر ایک ہزار سے زائد نئی دراڑیں نمودار ہو چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ دراڑیں دراصل چاند کے اندرونی حصے کے ٹھنڈا ہونے اور سکڑنے کا نتیجہ ہیں، جس سے اس کی بیرونی پرت میں دباؤ پیدا ہوتا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ سمیت کئی ممالک چاند پر دوبارہ انسانی مشنز بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں۔نیشنل ایئر اینڈ اسپیس میوزیم کے سینٹر فار ارتھ اینڈ پلینیٹری اسٹڈیز کے سائنس دانوں نے چاند کی سطح پر ایک ہزار سے زائد ایسی دراڑیں دریافت کی ہیں جو پہلے نامعلوم تھیں۔ماہرین کے مطابق یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ چاند سکڑ رہا ہے اور اپنی ساخت کو دوبارہ ترتیب دے رہا ہے۔تشویشناک امر یہ ہے کہ ان نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل میں چاند کی سطح پر جانے یا وہاں رہنے والے خلا نورد تباہ کن قمری زلزلوں کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ مطالعے کے مرکزی مصنف کول نائپیور نے کہاکہ ہم قمری سائنس اور تحقیق کے ایک نہایت سنسنی خیز دور میں داخل ہو چکے ہیں۔آنے والے قمری تحقیقی پروگرام، جیسے آرٹیمس، ہمیں چاند کے بارے میں بے شمار نئی معلومات فراہم کریں گے۔قمری ارضیات اور زلزلہ جاتی سرگرمیوں کی بہتر سمجھ بوجھ ان اور مستقبل کے مشنز کی حفاظت اور سائنسی کامیابی کیلئے براہِ راست فائدہ مند ثابت ہوگی۔2010ء سے سائنس دان یہ جانتے ہیں کہ چاند بتدریج سکڑ رہا ہے، کیونکہ اس کا اندرونی حصہ ٹھنڈا ہو رہا ہے اور اس کی سطح سمٹ رہی ہے۔ اس سکڑاؤ کے نتیجے میں قمری بلند علاقوں (لُونر ہائی لینڈز) میں مخصوص زمینی ساختیں پیدا ہوئیں، جنہیں ''لوبیٹ اسکارپس‘‘(lobate scarps) کہا جاتا ہے۔یہ ساختیں اس وقت بنتی ہیں جب چاند کی پرت دباؤ کا شکار ہوتی ہے اور پیدا ہونے والی قوتیں مادّے کو فالٹ لائن کے ساتھ ساتھ اوپر اور قریبی پرت پر دھکیل دیتی ہیں، جس سے ایک ابھرا ہوا کنارہ وجود میں آتا ہے۔تاہم اپنی نئی تحقیق میں محققین نے ایک مختلف علاقے، جسے لونر ماریا(lunar maria) کہا جاتا ہے،یعنی چاند کی سطح پر پھیلے وسیع اور تاریک میدان میں عجیب و غریب دراڑیں دریافت کیں۔ انہوں نے ان دراڑوں کو ''سمال ماری رِجز‘‘ (SMRs) کا نام دیا ہے۔مطالعے کے مرکزی محقق نائپیور (Nypaver) نے کہا کہ اپولو دور سے ہم قمری بلند علاقوں میں لوبیٹ اسکارپس کی کثرت سے واقف ہیں، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ سائنس دانوں نے قمری ماریا میں بھی اسی نوعیت کی ساختوں کی وسیع موجودگی کو دستاویزی شکل دی ہے۔یہ تحقیق ہمیں چاند پر حالیہ زمینی حرکات (ٹیکٹونزم) کے بارے میں عالمی سطح پر مکمل تناظر فراہم کرتی ہے، جس سے اس کے اندرونی ڈھانچے، حرارتی اور زلزلہ جاتی تاریخ، اور مستقبل میں ممکنہ قمری زلزلوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔نئی تحقیق میں ٹیم نے 1,114 اسمال ماری رِجز دریافت کیں، جس سے چاند پر اب تک دریافت شدہ ایسی ساختوں کی مجموعی تعداد 2,634 ہو گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ عمل لاکھوں برسوں سے جاری ہے، تاہم نئی دریافت شدہ دراڑیں مستقبل کے خلائی مشنز، خصوصاً چاند کے جنوبی قطب پر منصوبہ بند سرگرمیوں کیلئے خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔ زمین کے برعکس چاند پر زلزلوں جیسی حرکات زیادہ دیر تک جاری رہ سکتی ہیں، جو کسی بھی انسانی یا روبوٹک مشن کیلئے چیلنج بن سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خلائی ادارے، بالخصوص ناسا، ان جغرافیائی تبدیلیوں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ آئندہ مشنز کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

رمضان کے پکوان:ڈیٹس پائی

رمضان کے پکوان:ڈیٹس پائی

تیاری کا وقت :بیس سے پچیس منٹ بیکنگ کا وقت : بیس سے پچیس منٹ تعداد : دس سے بارہ عدد اجزاء :میدہ دوپیالی ، کھجوریں 200گرا م ، نمک چٹکی بھر ، بیکنگ پائوڈر دوچائے کے چمچ ،پسی ہوئی چینی دوکھانے کے چمچ ، مکھن یا مارجرین ایک کھانے کا چمچ ، ترکیب : بناسپتی گھی کو کانٹے کی مددسے ہلکا سا پھینٹ لیں اور فریج میں رکھ کر ٹھنڈا کرلیں۔ میدہ میں بیکنگ پائوڈر ڈال کر چھان لیں پھر اس میں نمک اوربناسپتی گھی ڈال کر دوکانٹوں کی مدد سے ملالیں۔ درمیان میں حسب ضرورت ٹھنڈا یخ پانی ایک ایک چمچ کرکے ڈالتے جائیں تاکہ وہ گندھے ہوئے آٹے کی شکل میں آجائے۔ خیال رہے کہ یہ سارا عمل ٹھنڈی جگہ پر کریں اور اس آٹے کو دس منٹ کیلئے فریج میں رکھ دیں۔ پھر اس کی روٹی بیل لیں اور کٹر کی مددسے گول پور یوں کی طرح کاٹ لیں ۔مفن پین کو ہلکا سا چکنا کرکے اس میں خشک میدہ چھڑک لیں اور ہرپوری کو احتیاط سے ایک ایک سانچے میں لگالیں۔ کانٹے سے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر سوراخ کردیں تاکہ بیک ہوتے ہوئے پھولنے نہ پائے۔ اوون کو 180Cپربیس منٹ پہلے گرم کرکے اس سانچے کو اس میں رکھیں اور بیس سے پچیس منٹ کیلئے بیک کرلیں۔ گولڈن برائون ہونے پر اوون سے نکال کر ٹھنڈا کرلیں۔ فلنگ بنانے کیلئے : کھجوروں کو صاف دھوکر ان کے بیج نکال لیں اور ان کو ہلکی آنچ پر پکنے رکھ دیں، پانچ سے سات منٹ پکانے کے بعد اس میں ایک کا چمچ مارجرین یا مکھن اور چینی ڈال کر چولہے سے اتارلیں ۔چمچ سے کچلتے ہوئے ٹھنڈا کرلیں اور ہرپائی شیل میں ایک ایک کھانے کا چمچ ڈال دیں۔ اس خوبصورت اور مزیدار ڈش کوآج کل مہمانوں کو بنا کر پیش کریں۔