دھاتوں کو سونے میں بدلنے کا کلاسکی فن ’کیمیا‘
اسپیشل فیچر
یونانی سائنس دانوں کی اس فن کی طرف توجہ سکندر اعظم کے دور میں مصر کی فتح کے بعد مبذول ہوئی۔ انہوں نے مصریوں کے علم سے استفادہ کرتے ہوئے اس میں اضافے کیے۔ وہ کائنات کے بنیادی عناصر چار مانتے تھے، جو کچھ یوں تھے: آگ، مٹی، ہوا اور پانی۔ اس نظریے کو انھوں نے الکیمیا کے فن میں مدغم کیا۔مصری لفظ ’کیم‘ سے، جو مصر میں سیلابی میدانوں کی زرخیزی کے حوالے سے استعمال کیا جاتا تھا۔ انہوں نے لفظ ’کیمیا‘ (Khemia)کی اصطلاح اختراع کی۔ کرسچن فرمانرواڈائیو کلیٹئن نے مصر پر قبضہ کیا تو اس نے الکیمیا کو خلاف مذہب سائنس قرار دے کر اس سے متعلق کتابوں کے ذخیرے کو، جس کی بڑی تعداد اسکندریہ کے معروف کتب خانے میں موجود تھی، جلا کر خاکستر کردیا۔ ساتویں صدی عیسوی میں جب مسلمانوں نے مصر پر قبضہ کیا تو انہوں نے ’کیمیا‘ کو ’الکیمیا‘ کا نام دیا، جس کا مطلب ’سیاہ زمین‘ ہے۔ اسلامی دنیا میں سائنس کے احیاء نے ماہرین کو الکیمیا کی طرف متوجہ کیا۔ جابر بن حیان کو اس حوالے سے تخصیص حاصل ہے۔انہوں نے پہلی بار الکیمیا کے تجربات کو لیبارٹری میں کرنے کی بنا ڈالی اور اس فن سے متعلق سائنسی خطوط پر تحقیق شروع کی۔اسے کیمیا کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس نے اسلامی سلطنت کے عروج کے دور میں اس فن میں گراں قدر اضافے کیے۔ وہیں الکیمیا کی روشنی میںجدید کیمیا کی مبادیات پر کام ہوا۔ اسلامی سائنس دانوں نے اس علم کی بنیادیں قائم کیں۔جابر بن حیان نے پانچ بنیادی عناصر میں جن کے تفصیل سائنس دانوں نے یونانی فلاسفہ سے حاصل کی تھی اور جو یوں تھے، ہوا، پانی، آگ، مٹی اور ایتھر، دو مزید عناصرسلفر اور پارے کا اضافہ کیا، جنہوں نے کیمیا کی جدید خطوط پر افزائش میں بنیادی کردار ادا کیا۔ بعدازاں ان عناصر میں نمک کا اضافہ کیاگیا۔ جابر بن حیان کے علاوہ الکندی اور محمد ابن زکریا رازی نے بھی اس ضمن میں اہم خدمات انجام دیں۔ ان سائنس دانوں کا خیال تھا کہ دھاتیں پارے اور سلفر کی آمیزش سے بنتی ہیں۔ سونا اعلیٰ ترین دھات ہے جبکہ باقی سبھی دھاتیںاس کے مقابلے میں خام ہیں۔ یوں خام دھاتوں کو مختلف کیمیائی تجربوں کے اور ایک خاص عنصر کی آمیزش سے اعلی ترین دھات میں بدلا جا سکتا ہے، جسے وہ ’فلسفیوں کا پتھر‘پکارتے تھے ۔ یہی خیال یورپی سائنس دانوں نے مسلمانوں سے مستعار لیا۔ چین میں اسی پتھر کے بارے میں یہ خیال عام ہوا کہ اس سے حیات ابدی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اسے انھوں نے ’لافانیت کی گولی‘ کا نام دیا۔ یورپ میں الکیمیا کے حوالے سے تحقیق کا آغاز مسلمان سائنس دانوں کے کام کے ایک تسلسل کی صورت میں ہوا۔ آٹھویں صدی میں عربوں نے سپین میں اس کی داغ بیل ڈالی۔سپین سے یہ علم یورپ بھر میں معروف ہوا۔بارھویں صدی میں مسلمانوں کی الکیمیا سے متعلق کتابوں کے یورپی زبانوں میں تراجم کا سلسلہ شروع ہوا۔ سترھویں صدی تک وہاں یہ فن ایک باقاعدہ سائنس کی حیثیت اختیار کرچکا تھا۔ وہاں الکیمیا کے ماہرین میں لیووئزیئر، بوئیل اور ڈالٹن قابل ذکر نام ہیں۔ انہوں نے مختلف دھاتوں اور کیمیکلز کی مدد سے نئی دھاتیں اور کیمیکلز تیار کرنے کے طریقے وضع کیے۔ یوں سولہویں صدی تک الکیمیا ہی کے ماہرین دو گروہوں میں تقسیم ہوگئے۔ ایک تو وہ تھے، جو اسے دھاتوں کو سونا بنانے اور آب حیات تیار کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے جبکہ دوسری طرح کے سائنس دان کیمیا کے شعبے میں خالص سائنسی بنیادوں پر کام کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔ زمانہ قدیم سے ماہرین کا خیال تھا کہ وہ ’سنگ فلسفی‘ تیار کرسکتے ہیں، جس کی مدد سے آب حیات تیار کیا جا سکتا ہے ،جو انسان کو لافانیت کا تحفہ دے گا۔ اسی طرح اس پتھر کی مدد سے عام دھاتوں کو بھی سونے اور چاندی جیسی قیمتی دھاتوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ آج ’سنگ فلسفی‘ ایک دلکش ماورائی تصور ہے۔ آج کیمیا کی صورت میں الکیمیا کی جدید صورت ہمارے سامنے موجود ہے ،تاہم یہ حقیقت ناقابل تردید ہے کہ الکیمیا کے بغیر جس کی شروعات مصر کی سرزمین پر ہوئی تھی، جدید کیمیا کی ساخت و پرداخت ممکن نہیں تھی۔ (کتاب ’’دانش ِ مشرق‘‘ سے مقتبس)٭…٭…٭