نواب مظفر خان سدوزئی شہید نواب مظفر خان اپنے 6 بیٹوں اور اہل خانہ سمیت 2 جون 1818ء کو ملتان کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہو ئے
اسپیشل فیچر
تاریخ کے اوراق ایسے لوگوں سے بھرے پڑے ہیں، جنہوں نے ملک و قوم کے مفاد میں اپنی جانوں کی قربانی دی ۔ دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جانے والی ان ہستیوںکی عظمت کے گن آج بھی دنیا گاتی ہے ۔ سر زمین ِملتان کے لئے سدوزئی خاندان کے فرمانروائوں کی قربانیاں بے پناہ ہیں۔ افغان قبائل میں سدوزئی بابائے افغانستان کہلائے۔ احمد شاہ ابدالی سدوزئی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اورانہوں نے غور، خراسان اور کوہِ سلیمان کے علاقوں کو یکجا کر کے افغانستان کی سلطنت کی بنیاد رکھی تھی۔ احمد شاہ ابدالی، ملتان میں پیدا ہوئے ،ان کے نام سے ایک سڑک ابدالی روڈ آج بھی موجود ہے۔ نواب شجاع خان سدوزئی ایک اور نمایاں حکمران تھے جن کے نام پر شجاع آباد شہر موجود ہے ۔ نواب مظفر خان سدوزئی شہید ،نواب شجاع خان سدوزئی کے سب سے بڑے فرزند تھے، جو 1757ء میں ملتان میں پیدا ہوئے۔ نواب مظفر سدوزئی کو جب ملتان کا ناظم مقرر کیا گیا ،اس وقت ان کی عمر 23 سال تھی۔ نواب مظفر خان سدوزئی کی تعلیم و تربیت ان کے والد نے کی۔ جب ان کے والد نواب شجاع خان ،ملتان سے ترک ِسکونت کر کے شجاع آباد میں رہائش پذیر ہوئے، تو نوجوان مظفر خان نے دینی علوم کی تعلیم شجاع آباد کے قاضی خاندان سے حاصل کی۔ نواب مظفر خان سدوزئی مضبوط جسم کے مالک تھے۔ ان کے والد نے انہیں جفاکشی اور محنت کا عادی بنایا ۔ سپاہ گری ، شمشیر زنی ، پہلوانی اور گھڑ سواری کے ہنر سکھائے ۔نواب مظفر خان سدوزئی بہترین کاتب اور خطاط بھی تھے ۔ نواب شہید تمام شرعی عیوب سے پاک رہے۔ وہ صوم و صلوٰۃ کے سختی سے پابند تھے ۔ خود عالم باعمل تھے اور علماء کی صحبت میں بیٹھنا ان کو بے حد مرغوب تھا ۔ چشتیہ سلسلہ سے تعلق تھا اور حضرت حافظ محمد جمال اللہ ملتانی ؒسے بیعت تھے اور ان کی نگرانی میں سلوک کی منازل طے کی ہوئی تھیں ۔ سماع سے بھی دلچسپی رکھتے تھے اور اکثر ایسی محافل منعقد کرتے تھے۔ دیوان ِ شیرازی اکثر زیر مطالعہ رکھتے تھے اور یہ شعر ہر وقت زبان پر جاری رہتا تھا : دست از طلب نداریم تا کامِ مابرآید یاجان رسدیحاناں یاجان زتن برآید وہ اس شعر کی زندہ تصویر تھے ۔ نواب موصوف کو شکار کا شوق تھا ، لیکن بندوق سے شکار کرنا مستحسن نہ سمجھتے تھے۔ صرف تیر سے شکار کرتے تھے ۔ نواب مظفر سدوزئی خاندانی روایات اور رکھ رکھائو کے سختی سے پابند تھے۔ نواب صاحب کو روپے پیسے جمع کرنے کا ذرا بھر شوق نہ تھا۔ عموماً باقی داروں کو مالیہ معاف کر دیتے تھے اور کوئی سوالی ان کے دربار سے خالی نہ جاتا تھا ۔ غیر متعصب تھے چنانچہ ان کے دربار میں کئی ہندو اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔ نواب مظفر خان شہید سدوزئی کی عملداری کی شمال مشرقی حد پاکپتن تھی، جو دریائے راوی کے ساتھ ساتھ تلمبہ تک چلی آتی تھی ۔ جنوب مغرب میں پنجند ، جلال پور پیر والا اور آدم واہن تک حکام ملتان کا عمل و دخل تھا ۔ علاقہ لڈن سمیت نیلی بار کا تمام علاقہ حکومت ِملتان کا حصہ تھا۔ تلمبہ سے سردار پور اور دریائے چناب کے دونوں کناروں پر واقع اراضیات مع رنگ پور کا تعلقہ حدود ملتان میں شامل تھا ۔ مظفر گڑھ خان گڑھ ، کچی جنوبی اور سندھ اور چناب کے مابین زیریں علاقہ،جس میں سیت پور اور علی پور کے علاقے شامل تھے۔ وہاں بھی نواب مظفر خان کا عمل دخل تھا اس طرح سے ماسوائے تھل اور کچھی شمالی کے باقی تمام موجودہ ضلع مظفر گڑھ ، ضلع ملتان مع ضلع وہاڑی ونصف ضلع ساہیوال ، نواب مظفر خان سدوزئی شہید کی عملداری میں شامل تھے ۔ حکومت سنبھالتے ہی سب سے پہلے زراعت کی ترقی کی طرف توجہ دی گئی اور اس سلسلہ میں پرانی منہدم شدہ نہروں کی فی الفور مرمت کرائی گئی اور جدید نہریں کھدوائی گئیں اور کاشتکاروں کو چاہات اور وسائل آبپاشی قائم کرنے کے لئے قرضے دئیے گئے اور ہمسایہ علاقوں میں جو کاشتکار کاشت چھوڑ کر چلے گئے تھے، ان کو واپس بلا لیا گیا۔ ان اقدامات سے کاشتہ رقبہ میں بے حد اضافہ اور ریاست میں خوشحالی کا دور دورہ ہو گیا ۔ نواب مظفر خان کو تعمیرات اور باغبانی کا شوق ورثہ میں ملا تھا ۔ خانوادہ سدوزئی نے اپنے دورِ حکومت میں کئی عمارات یادگار چھوڑی ہیں ۔حضرت دائود جہانیاں ؒکے مقبرہ کی وسیع پیمانے پر مرمت کرائی اور توسیع کی ،یعنی مسافروں کی رہائش کے لئے عمارات اور سماع کے لئے عالی شان محفل خانہ تعمیر کرایا، جو آج تک موجود ہیں ۔ انہوں نے اپنے دورِ حکومت کے ابتدائی ایام میں مظفر گڑھ شہر کی بنیاد بھی ڈالی، شہر کے گرد پختہ فصیل اور عالیشان دروازے تعمیر کرائے اور شہر کے نزدیک تلیری باغ قائم کیا ۔ ملتان میں باغ ِعام و خاص کی تعمیر نو کروائی اور اس میں ایک حوض برائے آب پاشی تعمیر کروایا، باغ میں پھل دار اور پھول دار درخت اور پودے بھی لگوائے۔ ملتان میں نواب مظفر خان کا رہائشی محل،قلعہ ملتان میں واقعہ تھا۔ اس محل کی خوبصورتی لاثانی تھی ، یہ محل سقوط ملتان کے وقت گولہ باری کی وجہ سے بری طرح تباہ ہوا ۔ ایک عالی شان مسجد قلعہ ملتان میں نواب صاحب نے تعمیر کرائی تھی ۔ یہ سب عمارات محاصرہ کے دوران تباہ ہو گئیں اور کچھ کو 2 جون 1818 ء کی آگ نے خاکستر کر دیا ۔ 1818ء میں رنجیت سنگھ نے ملتان پر بھرپور حملہ کیا ،تو نواب مظفر خان اپنے دو ہزار ساتھیوں کے ساتھ قلعہ میں محصور ہو گئے۔ حملے میں قلعے کا دروازہ اڑا دیا گیا۔ قلعے کی فوج نے سکھوں کاڈٹ کر مقابلہ کیا۔مدافعت کرنے والوں کی تعداد گھٹتے گھٹتے تین سو رہ گئی تھی، جن میں سے اکثر نواب مظفر خان کے قبیلے یا خاندان کے لوگ تھے۔ 2 جون کو سکھوں نے بھرپور حملہ کیا۔ لڑائی میں نواب مظفر کے 6 بیٹوں سمیت تمام ساتھی شہید ہو گئے۔ آخر میں نواب مظفر خان نے بھی دلیری کے ساتھ لڑتے ہوئے اپنی جان، ملتان پر نچھاور کر دی۔نواب مظفر خان سدوزئی کا مزار حضرت بہائوالدین زکریا ملتانی ؒکی خانقاہ میں داخلی دروازہ کے عین سامنے واقع ہے ۔٭…٭…٭