رعشہ…دوائیں اور علاج
اسپیشل فیچر
رعشہ کی بیماری میں ہاتھ ہر وقت لرزتے اور کانپتے رہتے ہیں۔ پھٹوں میں سختی آ جاتی ہے۔ ارادی حرکات کم اور غیر ارادی زیادہ ہو جاتی ہیں۔ اس بیماری میں استعمال ہونے والی مشہور دوائیں درج ذیل ہیں: سائنا میٹ Sinemet جیومیکس Jumex ریکواپ Requip سیرو کوئل Serequell مضر اثرات٭:جسم میں خشکی، ہونٹ خشک ہونا ٭:بار بار پیاس لگنا، جسم کی غیر ارادی حرکات ٭: پژمردگی، پیشاب کی تکلیف ٭:پٹھوں میں سختی نیند کی خرابی احتیاط٭:دوائوں کو ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورہ سے استعمال کریں اور اس کی مقدار کو کبھی خود سے کم یا زیادہ نہ کریں۔ ٭:دوران حمل احتیاط سے استعمال کریں۔ ٭:پیٹ اور آنتوں کے السر کی صورت میں استعمال کرنے سے پہلے ڈاکٹر کو اپنی دوری تکالیف کا ضرور بتائیں۔ ٭:دوا کھانے کے بعد اگر کوئی تکلیف ہو تو فوراً ڈ اکر سے رجوع کریں۔ دوا کی نوعیت اور ضرورت کی اہمیترعشہ کی بیماری میں دوائوں کو ڈاکٹر کے مشورہ سے استعمال کیا جائے تو بیماری پر کسی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔اس بیماری میں سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ بیماری کی صحیح تشخیص ہو اور اس کے بعد علاج بیماری اور علاج کے لیے کسی ماہر نیورولوجسٹ ماہر دماغی امراض سے مشورہ کرنا بہت ضروری ہے۔ اس سلسلے میں میوہسپتال لاہور میں ایک مکمل نیورولوجی وارڈ ہے، جہاں مختلف دماغی امراض کا علاج کیا جاتا ہے۔ متبادل علاج٭:رعشہ کے مریض کے لیے ضروری ہے کہ وہ یہ بات ذہن نشین کرے کہ اس بیماری کو ڈاکٹر کے مشورہ کے مطابق دوائوں کے صحیح استعمال سے کسی حد تک کنٹرول تو ضرور کیا جا سکتا ہے مگر اس کا مکمل اور شافی علاج تھوڑا مشکل ہے۔ کچھ ہومیو پیتھک دوائیں بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔ ٭:مریض کا نفسیاتی طور پر خیال رکھا جانا چاہیے اور اسے ذہنی و نفسیاتی طور پر سہارا دینا ضروری ہے تاکہ وہ بیماری کے دوران کسی قسم کی ڈیپریشن کا شکار نہ ہو کیونکہ اس طرح کی بیماریوں میں ڈیپریشن بہت خطرناک ثابت ہوتی ہے، جس سے علاج زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔٭:مریض دوائوں کے ساتھ ساتھ اپنی خوراک کا خاص خیال رکھے۔ زیادہ تر نرم اور سادہ غذا استعمال کی جائے۔ سبزیوں اور پھلوں کا زیادہ ا ستعمال کیا جائے۔ مرغن ا ور زیادہ نشاستہ والی غذائوں سے پرہیز کیا جائے۔ ( کتاب ’’ دوا،غذا اور شفاء-نیو ایڈیشن‘‘ سے مقتبس)٭…٭…٭