علم نجوم: آغاز و ارتقاء
اسپیشل فیچر
رات کو حد نگاہ سے بھی آگے تک پھیلا خاموش اور مہیب آسمان جو ایک ٹک آپ کو تکتا ہے، ہمیشہ سے انسان کے دل میں اپنے لیے دہشت اور دبدبہ پیدا کرتا رہا ہے۔ اس میں موجود ستاروں اور ان کی پراسرار ترتیب اور چاند کی ساختوں کا گھٹنا بڑھنا، یہ سب باتیں آسمان اور اس کے اجرام سے متعلق انسانی ذہن کو تحیر میں مبتلا کرتی رہیں۔ چاند کی چودھویں رات کو سمندرو ں میں اٹھنے والے مدوجزر نے قدیم انسان کو یہ سوچنے پر مائل کیا کہ ان اجرام فلکی اور انسان کے درمیان تعلق موجود ہے اور ان کا نہ صرف بے جان اشیا بلکہ جانداروں پربھی اثر ہوتا ہے۔ اسی سے ان اجرام کے انسانی قسمت سے تعلق اوراس پر اثرات کا خیال پیدا ہوا نیز ستاروں کے جمگھٹوں اور ان کی گردش کے عمل نے بھی اجرام فلکی کو پرُکشش اور معنی خیز بنادیا۔ یوں آسمان کے ذریعے انسان اپنی زندگیوں کی معنویت کی تلاش کی راہ میں نکل کھڑا ہوا۔ ان جمگھٹوں سے مختلف صورتیں بنتی دکھائی دیتی تھیں،جنہیں سمجھنے کی کوشش کی گئی۔آسمان اخترشماروں کے لیے ایک جہان معنی تھا جبکہ بات کچھ ایسی ہی ہے کیونکہ آج بھی سائنس دانوں کے لیے اس کی وسعتیں ایک معما ہیں۔ تقریباً پندرہ سو سال قبل مسیح میں بابل کے ہیئت دان پروہتوں نے آسمان کا نقشہ بنالیا تھا ۔ ان کے مطابق اجرام فلکی کی تعداد آٹھ تھی، جن میں سے زمین کے سب سے قریب چاند تھا ۔ آسمان کو کل تین منطقوں میںتقسیم کیا گیا، ہر منطقہ مزید بارہ حصوں پر مشتمل تھا ۔انڈو یورپین لوگوںنے علم ہیئت کے حوالے سے ابتدائی کوششیں تین ہزار سال قبل مسیح میں شروع کیں۔تب تک زراعت کا دور شروع ہوچکا تھا اور انسان شکار سے کہیں زیادہ خود سے بوئی ہوئی فصلوں پر انحصار کرنے لگا تھا، لیکن زرعی عمل موسموں سے جڑاہوا ہے۔ خاص موسم میں بارشیں ہوتی ہیں، سیلاب آتے ہیں، گرمی ہوتی ہے یا سردی اور ایسا سب کچھ ایک تسلسل اور باقاعدگی کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس تسلسل کو سمجھنے کے لیے چاند کی گھٹتی بڑھتی صورتوں کی بنیاد پر قمری کیلنڈر بنایا گیا۔ان کیلنڈروں کی بنیاد پر موسمی تبدیلیوں کے بارے میں پیشین گوئی کرنا سہل اور موسمی چکروں کو سمجھنا آسان ہوگیا۔ اس دور میں غیر متوقع موسمی تبدیلیوں کو الہامی اشارے تصور کیا جاتا تھا اسی لیے پروہتوں نے ان کو سمجھنے کی منظم کوششوں کا آغاز کیا۔ یہ علم فلکیات کا آغاز تھا۔ اس شعبہ تحقیق نے سیاسیات سے لے کر زندگی کے سبھی شعبوں پر اپنے اثرات مرتب کیے۔موسمی تبدیلیوں کو سمجھنے کی ابتدائی کوششیں مختلف خام ریکارڈز کی صورت میں ہڈیوں پر اور غاروں کی دیواروں پر موجود ہیں، جن کی قدامت کے بارے میں پچیس ہزار سال سے بھی زیادہ کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ سب سے پہلے تو چاند کے سمندر پر اثرات کا مشاہدہ کیا گیا ہوگا اور ان اثرات میں ایک معمول اور قاعدے کا اندازہ لگایا گیا ہوگا۔اس کی گھٹتی بڑھتی صورتوں کے اوقات کار کو ریکارڈ کیا گیا ہوگا۔ اسی سے انسانی ذہن دیگر اجرام فلکی کے زمینی عوامل اور انسانی قسمتوں پر اثرات کی طرف مائل ہوااور اسے اندازہ ہوا کہ فلکی نظام کسی ترکیب اور قاعدے کے بغیر نہیں ، انہی قواعد کو تلاش کرنے کی راہ پر انسان نکلا کیونکہ ان قواعد کو تلاش کرکے ہی یہ جاننا سہل ہوسکتا تھا کہ یہ کس طور انسانی زندگیوں پر اپنے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ تین ہزار سال قبل مسیح تک بابلی علما اور پروہتوں نے ستاروں کے مختلف جمگھٹوں اور دیگر اجرام فلکی کے بارے میں اتنی معلومات حاصل کرلیں کہ وہ فن ِتعمیرات کے معاملات میں بھی فلکی اشاروں کی بنیاد پر پیش گوئیاں کرنے لگے۔ ڈھائی ہزار سال قبل مسیح میںقدیم بابلی حکمران سارگون بادشاہ کے عہد کی الواح دریافت ہوئی ہیں، جن میں ستاروں کے جمگھٹوں کے بارے میں تفصیلات اور ان میں متوقع تبدیلیوں سے متعلق پیش گوئیاں موجود ہیں۔ یہ الواح پروہتوں کی تیار کردہ ہیں، جن میں بتایا گیا ہے کہ بادشاہ کو دیوتاؤں نے اطلاع دی کہ آئندہ فصلوں کی بوائی یا کٹائی کے لیے ستاروں کے کون سے جمگھٹے موافق ہیں۔اس علم کو حکمران اور پروہت اپنے اقتدار و اختیارات میں اضافے کے لیے استعمال کرتے۔اسی ہزاریے میں برجوں اور سیاروں کا چارٹ مکمل کیا گیا۔ یہ اہل ِبابل ہی تھے، جنہوںنے علم فلکیات کو ایک باقاعدہ علم کی صورت دی۔ سولہویں صدی قبل مسیح میں فلکیاتی اشاروں پر مبنی ایک حوالہ جاتی دستاویز تیار کی گئی، جس کا عنوان ’انوما انو انلل‘ ہے۔ اس دستاویز میں سات ہزار فلکیاتی اشاروں پر مشتمل میخی رسم الخط میں 70 گوشوارے موجود ہیں۔ تب تک علم فلکیات کا تعلق موسمی تبدیلیوں اور زمینی عناصر پر اجرام فلکی کے اثرات سے متعلق تحقیق و جستجو تک محدود تھا۔ ساتویں صدی تک ماہرین فلکیات کی معلومات خام تھیں، تاہم اس کے بعد ستاروں اور سیاروں کی چال اور زائچوں کی بنیاد پر ان کی پیش گوئیوں کی استعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ان کا خیال تھا کہ فلکی اجرام کی صورتوں میں دیوتاؤں کی شبیہیں جھلکتی ہیں۔یہی نہیں بلکہ یہ شبیہیں دیوتاؤں کے مزاج اور اس میں آنے والی تبدیلیوں کو ظاہر کرتی ہیں۔ ان کی ناراضی اور مسرت اور رضامندی جیسے تاثرات کا اظہار بھی ان شبیہوں کے ذریعے ممکن ہے۔ قربان کیے گئے جانور کے جگر پر موجود اشارے دیوتاؤں کی طرف سے بادشاہ وقت کے لیے پیغامات تصور کیے جاتے۔ ان معلومات کو مندروں کی حد سے باہر جانے سے روکا جاتاکیونکہ یہ خیال کیا جاتا کہ یہ علم دیوتاؤں کا انسانوں سے رابطے کا مقدس وسیلہ ہے۔ عوام کا فریضہ دیوتاؤں کے احکامات کے مطابق جو پروہتوں کے ذریعے ان تک پہنچیں، عمل پیرا ہونا ہے۔پروہت ان معلومات کی بنیاد پر پیش گوئیاں کرتے۔یہ پروہت جادوگری کے علم میں بھی طاق ہوتے۔ قدیم بابل میں کھدائی کے دوران دریافت ہونے والی ایک لو ح پر ایسی ہی ایک پیش گوئی کچھ یوں درج ہے: ’’ سال کے شروع میں ایک سیلاب آئے گا اور پشتے توڑ دے گا۔ جب چاند پر گرہن اترے گا، تو میرے آقا بادشاہ کو مجھ سے رجوع کرنا چاہئے۔ میں بادشاہ کے متبادل کے طورپر یہاں بابل میں رات کی تاریکی میں ایک پشتہ توڑ دوں گا۔ کوئی اس بارے میں کچھ نہیں جان پائے گا۔ ‘‘332قبل مسیح میں سکندر اعظم نے مصر پر قبضہ کیا تو یہاں علم فلکیات بھی یونانی علوم کے زیراثر اور یونانی مفکروں کی رسائی میں آیا اور اس میں زائچہ سازی کے عمل نے ترقی پائی۔ برجوں کی چال کی بنیاد پر ہی دن رات کی مختلف پہروں میں تقسیم کی جاتی ہے، جیسے رات کا تیسرا پہر یا آخری پہر۔علم نجوم کی مذہبی مسالک سے وابستگی نے اسے اقتدار اور اختیارات کے کھیل میں شامل کیا اور یہ ایک نہایت مضبوط آلہ کار ثابت ہوا۔ یہ حقیقت مانتے ہوئے کہ ستاروں کی روش کا انسانی قسمت سے گہرا تعلق ہے، اہل ِبابل نے بارہ برجوں اور سیاروں والی راس منڈل تیار کی، جو آج بھی زیر استعمال ہے ۔ اہل ِبابل نے ہر برج میں موجود ستاروں کی ترکیب بندی کا مشاہدہ کرکے ان سے مختلف صورتیں اخذ کیں ،جو ہنوز علم نجوم میں رائج ہیں۔بابلیوں کے بعد اس علم کو سینچنے اور اس کی آب یاری کرنے کا کام اہلِ مصر نے انجام دیا۔ وہاں اولین منطقہ البروج ایک صدی قبل مسیح میں بنایا گیا۔زائچہ سازی کے فن کی ترقی میں اوّلین نام پٹولمی کا لیا جاتا ہے، جو مصر کے شہر سکندریہ میں مقیم تھا۔ اس کی کتاب Tetrabiblosنے جدید علم فلکیات کی بنیادیں استوار کیں۔ آئندہ ہزار سال یا اس سے بھی زائد عرصہ کے لیے اس کتاب کی ماہرین فلکیات کے نزدیک حیثیت بائبل سے کم نہیں رہی۔عربی میں ترجمہ ہونے کے بعد اس کتاب کی شہرت چار دانگ عالم میں پھیلی اور پھر عربی سے دنیا بھر کی بڑی زبانوں میں ترجمہ ہوکر خاص و عام تک پہنچی۔اس کتاب نے علم فلکیات میں گراں قدر اضافے کیے اور زائچہ سازی سے متعلق بنیادی اصول وضع کیے، جن میں سے بیشتر آج بھی تسلیم کیے جاتے ہیں۔ بھارتی منجموں نے بھی علم نجوم میں اہم اضافے کیے۔پانچویں صدی عیسوی میں گپتا دور حکومت میں بہار، بھارت میں پیدا ہونے والے آریہ بھٹہ نے سیاروں کے مقام سے آگاہی حاصل کرنے کے لیے اہم سائنسی کلیہ سازی کی۔ اس نے یہ خیال پیش کیا کہ چاند اور سیارے سورج کی روشنی سے چمکتے ہیں۔ اسی بنا پر اس نے شمسی اور قمری گہن کی وجوہ پر بات کرتے ہوئے توہمات کو رد کیا، جو تب بھارتی سماج میں بہت گہرائی تک مروج تھے۔ ساتویں صدی میں مصر پر مسلمانوں کے قبضے کے بعد مسلم دنیا میں علم فلکیات نے وسیع پیمانے پر لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کی۔ عباسی خلیفہ المنصور نے بغداد کے قیام کے بعد بیت الحکمہ کی بنیاد رکھی، تو اس ادارے کے تحت دنیا بھر کے علم کو عربی میں منتقل کرنے کی دور رس اثرات کی حامل کاوشیں شروع ہوئیں۔ انہی میں Tetrabiblosاور علم فلکیات پر ایسی ہی دیگر کتب بھی شامل تھیں۔ آ ج علم فلکیات اگرچہ مکمل طورپر سنجیدہ علمی حلقوں کی توجہ اپنی جانب منعطف نہیں کرسکا۔ زائچہ سازی کی سائنسی حیثیت مشکوک مانی جاتی ہے، لیکن اس علم نے آج بھی انسانی ذہن کو اس سے کم مسحور نہیں کیاہوا ہے، جتنا ہمیشہ سے یہ انسانی معاملات میںداخل اور ان پر اثرانداز رہا۔ (کتاب ’’دانش ِ مشرق‘‘ سے مقتبس)٭…٭…٭