لاؤ زی چینی انسان دوست مفکر کے حالات و واقعات
اسپیشل فیچر
چینی مفکر لاؤ زی کو تاؤ مت کا بانی قرار دیا جاتا ہے۔ اُن کی پیدائش سے متعلق روایات ابہام کا شکار ہیں، تاہم قیاس ہے کہ وہ چوتھی صدی قبل مسیح میں پیدا ہوئے۔ لاؤزی سے متعلق مختلف روایات میں ایک یہ بھی ہے کہ اپنے افکار کا پرچار کرنے سے پہلے وہ کنفیوشس مت کے مبلغ تھے۔ کنفیوشس مت کی روایتی اخلاقیات اور سماجی طبقاتی درجہ بندی سے اپنے اختلافات کی بنیاد پر انہوں نے ذاتی فکر کو پروان چڑھایا اوراپنے فلسفہ حیات میں انفرادیت پسندی، فطرت سے ہم آہنگی اور بے ساختگی پر اصرار کیاہے۔ تاؤ مت میں لاؤزی کو دیوتا کا درجہ دیا جاتا ہے۔تاؤ مت کا فلسفہ حکمرانوں کی نسبت عوام کے مسائل کو زیادہ اپنا موضوع بناتا اور اجتماع کی نسبت فرداور اس کے باطنی معاملات کو پیش نظر رکھتا ہے۔ ماضی میںحکمرانوں کی حاکمیت کے خلاف چین میں جاری ہونے والی تحریکوں میں تاؤ مت کی فکر بنیادی محرک کے طورپر کام کرتی دکھائی دیتی ہے۔یوں اس میں ایک طرح کی رجائیت پسند ی کے ساتھ انقلابیت کے جراثیم بھی موجود ہیں، جو فرد کے فطرت سے ہم آہنگ ہونے کی صورت میں پیدا ہوتے ہیں۔ تاؤ مت نے بدھ مت اور کنفیوشس مت سے جہاں اثرات لیے، وہاں ان پر گہرے اور انمٹ اثرات بھی چھوڑے۔ تاؤ سے مراد راستہ یا اصول ہے اور اس کے اشارے اور حوالے ہمیں تاؤ مت کے علاوہ دیگر چینی فلسفہ ہائے حیات میں بھی دکھائی دیتے ہیں۔ اس فلسفہ کا اصرار اس بات پر ہے کہ زندگی میں ہم آہنگی پیدا کی جائے جو فطرت سے ہم آہنگ ہونے ہی سے ممکن ہے۔ تاؤ مت کے فلسفہ کا ماخذ ’تاؤ تی چنگ‘ نامی کتاب ہے، جو چین میں مقدس ترین مذہبی صحائف میں شمار ہوتی ہے۔لاؤزی نے منظوم انداز میں اپنے افکار اس کتاب میں تفصیل کے ساتھ بیان کیے ہیں۔ تاؤ تی چنگ بانسوں کی چپٹیوں پر لکھی ہوئی تحریر کی صورت میں پائی گئی تھی اور اس کی تاریخ تصنیف کے بارے میں عمومی رائے یہ ہے کہ چوتھی صدی قبل مسیح میں اسے تصنیف کیا گیا۔یہ قریباً پانچ ہزار چینی الفاظ پر مشتمل ہے اور اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں ’تاؤ اور کردار کی فضیلت‘ جیسے موضوعات کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ تاؤ تی چنگ کے اوّلین معروف فقرے یوں ہیں’’جس تاؤ کی تبلیغ کی جا سکتی ہے، وہ ابدی تاؤ نہیں، جس نام کو بیان کیا جا سکتا ہے، وہ ابدی نام نہیں۔‘‘تاؤ مت نے چینی تہذیب اور چینی فرد کی اخلاقی ترقی اور تزئین میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اس فکر کی بنیاد چینی تمدن کی روایتی اخلاقیات اور طرز معاشرت پر قائم ہے، اس لیے اس نے چینی لوک ادب، چینی کیمیا گری، زین بدھ مت، مختلف جنگی فنون، چینی طب اور چینی علم ہیئت پر دیرپا اثرات مرتب کیے ہیں۔ چین کے علاوہ بالخصوص مشرق بعید کے دیگر ممالک جیسے ہانگ کانگ، جاپان، تائیوان اورچند جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں بھی تاؤ مت کے ماننے والوں کا وسیع تر حلقہ موجود ہے۔ سترھویں صدی تک مختلف بادشاہتوں میں تاؤ مت سرکاری مذہب کی حیثیت میں بھی رائج رہا۔لاؤ زی چین کی ایک جنوبی ریاست چُو میں پیدا ہوئے۔زُو بادشاہت کے دور میں وہ شاہی دستاویزات اور شاہی کتب خانے کے نگران تھے۔اس دور میں انہیں اپنی علمی منزلت اور ذاتی نجابت کی بنیاد پر ایک نہایت قابلِ احترام اور صاحب ِعلم انسان کی حیثیت سے جانا جاتاتھا۔ شاہی کتب خانے میں انہیں مذاہب عالم کے مطالعے کے وسیع تر مواقع حاصل ہوئے، جنہوں نے خود ان کی ذاتی فکر کو پروان چڑھانے اور ایک منظم صورت دینے میں اہم کردار کیا۔ زندگی کا ایک بڑا حصہ نوکری کی نذر کرنے کے بعد لاؤزی معمول کے بوجھ تلے دبی زندگی سے عاجز آگئے۔انہوں نے نوکری سے استعفیٰ دے کر خلوت گزینی کی زندگی اختیار کی۔ تبھی انہوں نے طویل سفروں کا آغاز کیا۔ کہا جاتا ہے کہ لاؤزی اپنے سفروں کے دوران ہندوستان بھی گئے، جہاں وہ ماضی قریب میں سامنے آنے والے مذہب بدھ مت کے پیروکاروں سے ملے۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ لاؤزی کی ملاقات گوتم بدھ سے بھی ہوئی، جو تب تک نروان حاصل کرنے کے بعد اپنے افکار کی تبلیغ میں مصروف تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اپنے شہر سے طویل عرصے کے لیے غائب ہونے سے پہلے جب لاؤزی سفر پر روانہ ہونے لگے، تو ان کے شاگردوں نے درخواست کی کہ کوئی نشانی اپنی ایسی چھوڑ جائیں، جو ان کی رہنمائی جاری رکھے اور ان کی کمی کو دور کرنے کا سبب بنے۔ اس درخواست کا نتیجہ تاؤ تی چنگ کی صورت میں برآمد ہوا۔ لاؤزی نے اپنے خیالات کو منظوم انداز میں تحریر کیا اور اس مسودے کو شاگردوں کے حوالے کردیا۔ کنفیوشس مت سے متعلقہ دستاویزات میں لاؤزی کے کنفیوشس سے مراسم کا بھی ذکر ملتا ہے۔کہاجاتا ہے کہ دونوں کا آپس میں رابطہ تھا۔ کنفیوشس کے برعکس لاؤزی نے کبھی اپنے افکار کی تدریس کے لیے مدرسہ قائم نہیں کیا، لیکن اپنی زندگی میں انہیں شاگردوں اور ارادت مندوں کی بہت بڑی تعداد میسر آئی، جن میں اشرافیہ سے متعلق افراد کی تعداد غیر معمولی تھی۔ اسی اشرافیہ نے لاؤزی کے افکار کو پالیسی سازی کی سطح پر متعارف اور لاگو کیا۔ تاؤ مت کے فلسفہ کو چار موضوعات میں تقسیم کیا جاسکتا ہے: فلسفہ حیات، وجدان کے حصول کے طریقہ ہائے کار، لافانی یا طویل عمر کے حصول کی ریاضتیں اور دافع بلیات کی رسمیں۔تاؤ مت کی اخلاقیات تاؤ ویو وی (wuwei)، فطرت سے ہم آہنگی اور تین بنیادی اوصاف پر مشتمل ہے۔ تاؤ کا راستہ انسان اپنے اندر تلاش کرسکتا ہے، سیدھا راستہ جو اسے تمام اشیا کے منبع کی طرف لے جائے اور یہی خدا کی طرف جانے والا راستہ بھی ہے۔ خدا ہی کی طرف تمام کائنات کا بہاؤ بھی ہے۔اسی لیے تاؤ مت میں اس راستے کے بیان کے لیے کائنات کے بہاؤ کی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے۔ اسی طرح ویو(wu)کی اصطلاح سے مراد ایک ارادی عمل ہے۔ اس کے برعکس وی (wei)سے مراد بے عملی، یعنی ایسا عمل ہے، جو کسی کوشش یا خواہش کے بغیر سرزد ہو۔ یہ تاؤ مت کے بنیادی اخلاقی نظریات میں سے ایک ہے۔ مجموعی طورپر اس اصطلاح ویو وی سے مراد ’عمل بغیر کسی عمل کے‘ ہے۔ تاؤ مت کے صحائف میں اسے پانی سے تشبیہ دی گئی ہے ۔ کائنات اپنی مخصوص ہیئت سے ہم آہنگ رہتی ہے اور اسی کیفیت میں عمل کرتی ہے۔ جب کوئی فطرت کے خلاف اپنے ارادے کو بروئے کار لاتا ہے، تو وہ اصل میں اس ہم آہنگی میں مخل ہوتا ہے، تاہم یہاں انسانی ارادہ خلاف فطرت شے نہیں بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان اپنے ارادے کو فطرت کی ہیئت سے ہم آہنگ ہوکر بروئے کار لائے۔ اگر اس ہم آہنگی کو برہم کرنے والے افعال سے اجتناب برتا جائے ،تو ایسی کیفیت حاصل کی جا سکتی ہے، جہاں کسی کوشش کے بغیر ہی مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اس سے مراد وہ ابتدائی کیفیت ہے ،جس میں ہر شے وجود میں آنے کے فوراً بعد ہوتی ہے جب وہ فطرت سے مکمل طورپر ہم آہنگ ہوتی ہے۔ تاؤ مت میں اس کی مثال ان تراشیدہ پتھر سے دی جاتی ہے۔انسان کی فطرت بھی ایسی ہی ہوتی ہے، یعنی جب تک کہ اسے خاص انداز میں تراشا اور خاص مزاج میں ڈھالا نہ جائے۔یہی وہ کیفیت بھی ہے، جس کی طرف انسان کو آخر کار اپنے سفر کے اختتام پرلوٹ کر جانا ہے۔ تین بنیادی اوصاف میں احساس مندی، بردباری اور انکساری جیسے اوصاف شامل ہیں۔ جارحانہ جنگ جوئی سے احتراز، مکمل سادہ زندگی اور حاکمیت کے اطلاق سے انکار ان اوصاف کی عملی صورتیں ہیں۔ پہلی صدی قبل مسیح کے دوران (618-907ئ)جب چین پر تانگ بادشاہت کا اقتدار تھا، تاؤ مت کو سرکاری مذہب کا درجہ حاصل ہوا۔خود کو لاؤزی کی نسل میں سے ثابت کرنااس دور میں بادشاہوں کے لیے باعث اعزاز ہوتا تھا۔ تاؤ تی چنگ کو سرکاری سرپرستی حاصل ہوئی ،تو اسے وسیع تر پیمانے پر پڑھنے اور سمجھنے کا عمل شروع ہوا۔(کتاب ’’دانش ِ مشرق‘‘ سے مقتبس)