قرطبہ پانچ سو برس تک اسلام کا علمی اور ثقافتی مرکز رہا
اسپیشل فیچر
قرطبہ کی ایک خاص پہچان ہے۔ دو شاعروںنے اس کی روح تک پہنچنے کی کوشش کی، ایک نے اسے ’’باوقار اور خلوت پسند‘‘ کہا اور دوسرے نے ’’خاموش قرطبہ، نیم رومی نیم مور‘‘۔ اہل قرطبہ اپنے مور اجداد کی نسبت پہ نازاں ہیں۔ دوسری جگہوں کی طرح اس شہر کا حسن عام نہیں، متجسس آنکھ ہی اس کی مستور رعنائیوں سے لطف اندوز ہو سکتی ہے۔ ایک نظر دیکھنے سے گماں تک نہیں ہوتا کہ مسجد سے ملحق کوچہ سمن زار میں کیا حسن پوشیدہ ہے۔ جگہ جگہ اہلِ ثروت کی حویلیاں ہیں، نارنگی، گلاب اور حنا کی خوشبو سے مہکے ہوئے دالان اور سہ دریاں، جالی کی اوٹ میں بیک وقت مستور اور عریاں، طرفہ تماشا یہ کہ پائیں باغ محض گھر کی ملکیت نہیں بلکہ لڑھکتے ہوئے کوچے تک آن پہنچے ہیں۔ سرشام مطرب اور نے نواز کی صدا نامانوس کانوں کو عجیب معلوم ہوتی ہے۔ اندلس یورپ کا حصہ ہے مگر یہاں ماحول مشرق ہے۔ سفید دیواروں کے پس منظر میں نیلگوں گملوں کی بہتات ہے، گہرا نیلا رنگ جو اسلامی مشرق وسطیٰ میں نظر آتا ہے۔ پھولوں کی نمائش موروں کی وراثت ہے جو فن باغبانی میں ماہر تھے۔ ہسپانیہ میں ایسے پائیں باغ کہیں اور دیکھنے میں نہیں آتے۔قرطبہ پانچ سو برس تک اسلام کا علمی اور ثقافتی مرکز رہا مگر عظیم مسجد کے علاوہ اس زمانے کے آثار ناپید ہیں۔ سقوط قرطبہ کے اڑھائی سو برس بعد تک مور ہسپانیہ میں رہے مگر طلیطلہ اور سلمانکا ایسے شہروں میں بھی بہت کم نشان ملتے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ وہاں کبھی اسلام کا دور دورہ تھا بلکہ اسلامی آثار کی بجائے رومی کھنڈرات زیادہ نظر آتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہسپانیہ کے طول و عرض میں ایسے آثاربیدردی سے مسمار کر دیے گئے۔ اموی دور میں اندلس کے علمی اور ادبی کارنامے ایک عظیم سرمایہ ہیں، لکھنے والوں میں شاعر اور مورخ بھی ہیں، جغرافیہ دان، فلسفی، طبیب، مہندس اور صوفی بھی، جہاں جہاں عربی زبان کا چرچا ہے ان کے نام جانے پہچانے ہیں۔ادریسی لکھتا ہے: ’’قرطبہ پانچ متصل شہروں پر مشتمل ہے، ہر حصے کی جداگانہ حیثیت ہے اور اس کے گرد دیوار کھینچی ہوئی ہے۔ ہر شہر کا اپنا سوق ہے جہاں پیشے کے مطابق علیحدہ بازار ہیں۔ اسی طرح ہر شہر کی اپنی سرائے، حمام اور رہائشی علاقے ہیں۔ قرطبہ کے رہنے والے علم و تقویٰ میں پیش پیش، عقیدے میں راسخ الاعقیدہ، لین دین میں ایماندار اور لباس اور سواری کے سامان میں نفاست پسند ہیں۔ اہلِ قرطبہ اظہار جذبات میں یکتا ہیں، وہ اکل و شرب میں شستہ مذاق رکھتے ہیں۔ خوش اطوار اور اچھے اخلاق کے مالک ہیں۔‘‘جن کے لہو کے طفیل آج بھی ہیں اندلسیخوش دل و گرم اختلاط، سادہ و روشن جبیںاموی عہد میں قرطبہ موجودہ شہر کی نسبت بہت وسیع تھا۔ وادی الحسن اور فردوس بریں ایسے مضافات دور دور تک چلے گئے تھے۔ وادی الکبیر کے کنارے میلوں تک پھل دار درختوں کی قطاریں تھیں۔ ملک ملک کے سیاح، سوداگر اور نصرانی راہب قرطبہ میں گھومتے پھرتے نظر آتے تھے۔ خوبصورتی اور رعنائی میں صرف باز لطینی قسطنطنیہ اس کا مد مقابل تھے۔قرطبہ، اشبیلیہ اور غرناطہ میں اعلیٰ تعلیم کے ادارے تھے جہاں اسلامی علوم کے علاوہ ادب، فلسفہ، طب، ریاضی، تاریخ، جغرافیہ اور علم فلکیات میں تعلیم دی جاتی تھی، کتابوں کی دکانیں جویائے علم کے لیے مقناطیسی کشش رکھتی تھیں۔ وہاں دنیا بھر کے مخطوطات بکنے کے لیے آتے تھے۔ ذاتی کتب خانے نہ صرف اعلیٰ ذوق کا نشان تھے بلکہ امارت کا جزو تصور ہوتے تھے، علماء مشرق سے کھنچے آتے تھے۔ مسجد نہ صرف جائے عبادت تھی بلکہ ابتدائی تعلیم و تدریس بھی وہیں ہوتی تھی۔ اساتذہ کی تنخواہ خزانۂ عامرہ سے ادا کی جاتی تھی، نتیجہ یہ تھا کہ ایک کثیر تعداد پڑھ لکھ سکتی تھی۔ ازمنۂ وسطیٰ کی ریاستوں کی طرح اکثریت دیہی علاقوں میں رہتی تھی اور ان کا انحصار زراعت پر تھا مگر تاریخ نے دمکتے ہوئے شہروں کی تفصیل ایک زریں باب کے تحت رقم کی ہے۔ قرطبہ ایک نئی تہذیب کا امین تھا اور ایک اہم بین الاقوامی مرکز ہونے کی حیثیت سے قسطنطینہ اور بغداد کا ہم پلہ تھا۔ ایک اطالوی راہبہ نے اپنے خط میں قرطبہ کو درخشندہ ہیرا کہا۔ تنظیم کے لحاظ سے قابل رشک مغربی یورپ کا مدیتہ الاوّل جہاں دسویں صدی میں مدنی زندگی کی سہولتیں میسر تھیں، گلی کوچے پختہ تھے جہاں رات کے وقت روشنی کا انتظام ہوتا تھا جبکہ لندن اور پیرس کے کوچے تاریکی میں ڈوب جاتے اور بارش کے بعد دلدل بن جاتے۔ مکانات اور عمارات کی لامتناہی قطاروں سے گزرتے ہوئے کوئی بھی شخص دس میل تک سفر کر سکتا تھا۔ قرطبہ کے گرد و نواح میں تین ہزار گاؤں اور قصبے تھے جہاں کے کشت زار شہر کی منڈیوں کو خوراک اور پھل بہم پہنچاتے تھے۔ القیصریہ کی شاہی منڈی میں بازاروں کی تقسیم پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے مطابق تھی، کتب فروش، پارچہ فروش، قصاب اور ماہی فروش، زین ساز، پاپوش ساز اور چٹائی بننے والوں کے علاحدہ بازار تھے۔ درزی، بافندے، جوہری، اسلحہ ساز، لوہار اور رنگریز بازار میں کام کرتے تھے البتہ ظروف سازی اور چمڑے کی رنگائی شہر سے باہر ہوتی تھی، ایسے کام کے لیے وسیع پیمانے پر بھٹے بنانے اور گڑھے کھودنے کی ضرورت تھی۔ عرب اور خوشحال مولدین کو نفیس چیزیں خریدنے کا شوق تھا۔ دکانیں سازو سامان سے پر تھیں، اعلیٰ قسم کے کپڑے المریہ اور مالقہ سے، سامان حرب طلیطلہ سے آتا، قالین بافی اور چمڑے کے کام کے لیے قرطبہ کی شہرت دور دور تک تھی۔ (منظور الٰہی کی کتاب ’’ نیرنگِ اندلس‘‘ سے اقتباس)٭…٭…٭