لاہور میں انگریزی عہد کی عمارتیں
اسپیشل فیچر
لاہور صوبہ پنجاب کا مرکزی تاریخی و تہذیبی شہر ہے۔ یہ پاکستان کا دوسرا بڑا وسیع و عریض شہر ہے۔ ایک روایت کے مطابق اس شہر کی تاریخ بھی راجہ رام چندر جی کے دور سے جا ملتی ہے۔ 630 قبل از مسیح میں ہیون تسانگ (چینی سیاح) نے اس شہر کا بڑے برہمنی مرکز کے طور پر ذکر کیا ہے۔ وہ جالندھر جاتے ہوئے یہاں سے گزرا تھا۔ دسویں صدی عیسوی تک یہ شہر برہمن حکمرانوں کے ہاتھ رہا۔ اس کے بعد سلطان محمود غزنوی، شہاب الدین غوری اور خلجی حکمرانوں نے اس شہر کو اپنے قبضے میں لیا۔ اس کے بعد سلطان محمد تغلق، دہلی کے سید اور لودھی حکمرانوں نے بھی اسے فتح کیا۔ سلطان محمود غزنوی کے جانشین جب یہاں آ کر آباد ہو رہے تھے تو اسی دور میں حضرت شیخ علی ہجویریؒ نے بھی یہاں سکونت اختیار کی۔ جن کا مزار آج مرجع خلائق ہے۔ 1524ء سے یہاں پر مغل حکمران قابض ہوئے۔1584ء میں جلال الدین اکبر کے دور میں اس شہر کو مغل حکمرانی کا دارالسلطنت بنا دیا گیا۔ اس کے بیٹے جہانگیر نے یہ سلسلہ جاری رکھا اور خود یہیں پر دفن ہوا۔ شاہ جہاں نے اس کا مزار یہاں تعمیر کرایا۔ شاہ جہاں چونکہ یہاں ہی پیدا ہوا تھا اس لیے اس نے اس شہر کو بڑی ترقی دی۔ اس نے یہاں پر کئی عمارات اور باغات کا اضافہ کیا۔1799ء میں لاہور سکھ حکومت کا دارالحکومت بن گیا اور یہ عرصہ حکومت 1799-1839ء تک رہا۔ 1849ء میں راجہ دلیپ سنگھ نے اقتدار انگریزوں کے ہاتھ سونپ دیا۔ قرار داد23 مارچ 1940ء کو یہیں پر جلسہ عام میں پاس ہوئی اور اس طرح یہ شہر تحریک قیام پاکستان کا بہت بڑا مرکز رہا۔ مغلیہ،انگریز دور اور اسلامی طرز تعمیر کے شاہکاریہاں نظر آتے ہیں۔ انگریزی تعمیرات کا آغاز جو 1851ء میں مال روڈ سے ہوا تھا 1938ء میں پنجاب اسمبلی کی تکمیل کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ اس فہرست میں گورنر ہائوس پنجاب، پنجاب یونیورسٹی، لاہور ہائیکورٹ، پنجاب اسمبلی، ریلوے اسٹیشن، جنرل پوسٹ آفس، میوہسپتال، عجائب گھر، چڑیا گھر، کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج، منٹگمری لارنس ہالز(قائداعظمؒ لائبریری)، گورنمنٹ کالج، میو سکول آف آرٹس(موجودہ این سی اے) اور ٹولنٹن مارکیٹ شامل ہیں۔ اونچے برج نما گوتھک طرز تعمیر پر تقریباً 50 کے قریب عمارتیں بن گئیں۔ چوڑی سڑکیں، چوڑے کھلے فٹ پاتھ، گھوڑوں اور بگھی کے راستے دونوں جانب عمدہ قسم کے درخت لگائے گئے جو آج بھی مال روڈ کی شان میں اضافے کا باعث ہیں۔ ایچیسن کالج، وٹیرنری کالج و ہسپتال، ڈینٹل کالج و ہسپتال جیسی نمایاں عمارات کے علاوہ انگریزی طرز تعمیر کا شاہکار دیگر عمارات، تفریحی مقامات، رہائشی سکیمیں، سکول اور گرجا گھر آپ اپنی پہچان ہیں۔ برطانوی حکومت کے ابتدائی دور میں دو ماہر تعمیرات لالہ میلہ رام اورمیاں محمد سلطان نمایاں نظر آتے ہیں۔ لالہ میلہ رام نے لارنس گارڈن (باغ جناح) میں ’’منٹگمری لارنس ہالز‘‘ کے نام سے پرشکوہ عمارت تعمیر کی ۔یہ اب قائداعظمؒ لائبریری کہلاتی ہے۔ میاں محمد سلطان نے لاہور ریلوے سٹیشن بنانے والے مزدوروں کوسرائے سلطان بنوا کر اس میں رہائش فراہم کی ۔ ریلوے سٹیشن پانچ سال میں مکمل ہوا جس کے بعد اس سرائے کو لاہور آنے والے مسافروں کے لیے مخصوص کر دیا گیا۔اس دور کے ایک اور کنٹریکٹر میاں کریم بخش نے بھی تعمیرات کے شعبہ میں نمایاں کام کیا۔ ڈیزائنگ کے حوالے سے ’’سردار بھائی رام سنگھ‘‘ کوشہرت ملی۔ تعمیرات کے شعبے میں نمایاں مقام کے حامل سر گنگا رام نے کئی اہم عمارتیں بنوا کر بہت نام کمایا۔ انگریز حکومت میں ایک اورسول انجینئر ’’رائے بہادر کنہیا لال‘‘ تھے۔ وہ سپرنٹنڈنٹ انجینئر کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔گورنر ہائوس پنجاب کی تعمیر کی نگرانی انہوں نے ایگزیکٹو انجینئر کی حیثیت سے کی۔ یہ عمارت برطانیہ کے شاہی محلات کی طرز پر تعمیر کی گئی۔ اس میں رہائشی عمارتیں، دربار ہالز، دفاتر، مال خانے، اصطبل، آئوٹ ہائوسز، جھیل، سرسبزلان، مصنوعی پہاڑی اور اس پر بل کھاتی سیڑھیاں شامل ہیں۔ یہ تمام نظارے دیکھنے والوں کو سحر زدہ کر دیتے ہیں۔ گورنر ہائوس کے ملازمین کے لیے رہائشی کالونی بھی بنائی گئی۔اس عمارت میں زندگی کی تمام سہولیات مہیا کی گئیں۔ بڑے بڑے آہنی دروازوں کے پیچھے طویل سڑکوں اور سبزہ زاروں کے درمیان سفید رنگ کی یہ پرشکوہ اور شاندار عمارت اپنی طرز کا بے حد منفرد شاہکار ہے۔ آج بھی گورنر ہائوس کسی چھوٹی سی ریاست کی طرح اپنی ہی ایک دنیا ہے۔ مال روڈ پر واقع دیگر سحر انگیز عمارات میں گورنر ہائوس کو انفرادیت حاصل ہے۔ کنہیا لال کے مطابق اس دور میں بننے والی تمام عمارتیں اپنی جگہ آرٹ کا منفرد نمونہ اور پیشہ وارانہ مہارت کا منہ بولتا ثبوت تھیں۔ وہ اتنی مکمل اور شاندار اس لیے تھیں کہ سرکار عالیہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے انہیں بنانے والے اپنا تمام فن، محنت اور مہارت اس میں سمونے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کی تعریف و تحسین کے حصول کے لیے ایک سے بڑھ کر ایک شاہکار تخلیق کرنے کی سعی کی جاتی تھی۔ کنہیا لال نے اپنی نگرانی میں تعمیر ہونے والی کچھ اہم عمارات پر اٹھنے والے اخراجات کے بارے میں تفصیلات بیان کی ہیں۔ لاہور ہسپتال جو اب میوہسپتال کہلاتا ہے 1867-1870ء کے دوران تعمیر ہوا۔438x51 فٹ چوری اور 45 فٹ اونچی اس دو منزلہ عمارت کی تعمیر پرایک لاکھ 55 ہزار روپے لاگت آئی۔ یعنی دو منزلہ عمارت پر 3.5 روپے فی مربع فٹ خرچ ہوئے۔ پنجاب یونیورسٹی کے سینٹ ہال کی تعمیر کے اخراجات نواب آف بہاول پور نے برداشت کیے ۔یہ عمارت 128 فٹ لمبی اور 80 فٹ چوری ہے۔ سرخ اینٹوں اور لکڑی کے دیدہ زیب کام سے آراستہ اس عمارت پر نواب کے 34000 روپے خرچ ہوئے ،گویا فی مربع فٹ پر 3.38 روپے خرچ ہوا۔ عدالت عالیہ کی عمارت انارکلی گریژن میں تعمیر کی گئی۔ کمشنر آفس، ڈسٹرکٹ کورٹس اور متعلقہ دفاتر کی تعمیر کے لیے فوجی بیرکس گرا دی گئیں۔ سرخ اینٹوں کی چار دیواری میں تین عمارتوں کا ایک کمپلیکس تعمیر کیا گیا جو 227x233 فٹ پر مشتمل تھا، اس کی تعمیر پر فی مربع فٹ 1.90 روپے کے حساب سے ایک لاکھ روپے خرچ ہوئے ۔