پنجابی افسانے میں خواتین کا کردار
اسپیشل فیچر
قیام پاکستان سے 1955ء تکاس دورکاجائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس دوران افسانوں کا کوئی مجموعہ یا انتخاب شائع نہیں ہوا البتہ مختلف رسائل ماہنامہ ’’پنجابی‘‘ اور ’’پنج دریا‘‘ وغیرہ کے ذریعے افسانے سامنے آتے رہے۔ اس دور کی لکھنے والیوں میں نذر فاطمہ اوررشیدہ سلیم سیمیں کا نام قابل ذکر ہے۔ قیام پاکستان کے بعد اس علاقے کا سب سے بڑا مسئلہ ان مہاجرین کی آباد کاری تھی جوایک نئے ملک کی خاطر گھربار اورعزیزواقارب کوچھوڑ کر ہجرت کر کے آئے تھے۔ اس کے ساتھ لوٹ کھسوٹ کے عمل کو بھی ہمارے افسانہ نگار برابر دیکھ رہے تھے چنانچہ اپنی کتاب ’’کاغذ دی زنجیر‘‘ (مطبوعہ 1972ء) میں مصنفہ نذر فاطمہ نے ان ہی مسائل کو موضوع بنایا اور براہ راست اندازکے ساتھ ساتھ علامتی انداز میں بھی بہت سی باتیں اپنے قارئین تک پہنچائی ہیں۔ ان کی تحریر کا انداز الہامی داستانوں سے مستعار لیا گیا ہے اوراس سادہ کاری کی وجہ شاید وہی سوچ ہے جس کے مطابق انہوں نے ’’شاہکار‘‘ میں نوشابہ کی بنائی ہوئی ایک علامتی تصویر کوتنقید کا نشانہ بنایا ہے جس کے بارے میں نوشابہ کو خود بھی علم نہیں تھا کہ لوگ اس کی ہرلکیر اور ہر رنگ میں سے ایک کہانی نکال لیں گے۔ ان کی کتاب کے پہلے افسانے ’’لہو دی خوشبو‘‘ میں جو جنت کے مناظر سے شروع ہوتا ہے اسی کہانی کو موضوع بنایا گیا ہے جو ملٹن نے پیراڈائز لاسٹ میں بیان کی تھی۔ ’’آسیہ‘‘ اور ’’کاغذ دی زنجیر‘‘ بھی اسی رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔ افسانہ ’’کاغذ دی زنجیر‘‘ میں سے ایک پرت یہ بھی نکلتی ہے کہ اس کے ذریعے پاکستان کی کہانی بیان کی گئی ہے اور ’’پت جھڑ‘‘ اور ’’دنبی‘‘ کی طرح لوٹ مار مچانے والے طبقے کو براہِ راست طنز کا نشانہ بنانے کی بجائے پاکستان کو ایک فرد یا کردار کے طورپر پیش کیا گیا ہے جو آہستہ آہستہ بچپن سے جوانی کی طرف بڑھ رہا ہے۔رشیدہ سلیم سیمیں کا افسانہ ’’سرداراں‘‘ بھی ابتدائی دور کے ان افسانوں میں سے ہے جن میں زمانے کی مجبوریوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔ چار نسوانی کرداروں پرمبنی یہ افسانہ ایک مجبور نوکرانی سرداراں کی خواہشات کی کہانی ہے جس کا چرسی شوہر اسے ایک معصوم سی بیٹی کا تحفہ دے کر رخصت ہوچکا ہے اور وہ بے چاری ایک امیر گھرانے میں ’’بے بے جی‘‘ کے گھر کام کر کے اپنی بچی کو پال رہی ہے۔ بے بے جی کے ہاں ملازمت کرتے ہوئے اس نے اس بات کو چھپالیا تھا کہ اس کی ایک چھوٹی سی بچی بھی ہے کیونکہ امیر گھرانے کی یہ ’’رحمدل‘‘ عورت ایسی گھریلو ملازمہ کی متلاشی تھی جو پیچھے کا خیال چھوڑ کرصرف اس کے گھر کا کام کر ے۔ سرداراں اپنی معصوم بچی کو اپنی ایک سہیلی کے گھرچھوڑ کر سارا دن اس گھر میں اس لیے کام کرنے پر مجبور تھی کہ اسی طرح وہ اور اس کی بچی زندہ رہ سکتے تھے لیکن ایک روز تنگ آکر اس کی سہیلی بانوبچی کو ’’بے بے بجی‘‘ کے گھر لے آتی ہے اوریوں سرداراں کے دکھوں میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔