سکندراعظم کا حملہ
اسپیشل فیچر
326 قبل مسیح میں جب سکندر اعظم افغانستان کی طرف سے ہندوستان پر حملہ کرنے کے لئے گیا تو اس وقت سوات، دیر، بونیر، جندول اور باجوڑ کے باشندے بدھ مذہب کے پیروکار تھے۔سکندر مقدونی نے افغانستان سے روانگی کے وقت یونانی لشکر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ لشکر کے ایک حصہ نے درّہ خیبر کے راستہ پشاور کی راہ لی، جس کی راج دھانی اس وقت پیوکی لوتیس (Peaukelootis) پکاری جاتی تھی۔جسے بعد ازاں \"پشکلاوتی\" کے نام سے بھی پکارا گیا اور جس کے معنی\" کنول کے پھول\" کے ہیں۔ محققین نے اسے موجودہ \"چار سدہ\" قرار دیا ہے۔ جب کہ لشکر کا دوسرا حصہ سکندر اعظم کی قیادت میں کنڑ کے راستہ آگے بڑھنے لگا۔ یہ راستہ بہت مشہور ہے اور زمانہ قدیم میں زیادہ تر آمد و رفت اسی راستہ سے ہوا کرتی تھی۔وادیٔ کنڑ (افغانستان) سے نکل کر سکندر علاقہ باجوڑ (موجودہ پاکستان) میں داخل ہوا۔ یہاں کے باشندے جو تاریخ میں اسپائنیز پکارے جاتے ہیں، مقابلہ کے لئے موجود تھے۔ \"اریگائن\" (Arigaion) جو محققین کے خیال میں باجوڑ یا سوات کے ناؤگئی کے قریب کوئی آبادی تھی، کے مقام پر شدید جنگ لڑی گئی۔ مؤرخین کے خیال میں سرزمینِ پاکستان پر یہ سکندرِ اعظم کی پہلی باقاعدہ جنگ تھی۔ سکندرِ اعظم کی منظم اور جنگ جُو فوج کے سامنے مقامی باشندے ٹھہر نہ سکے اور قریباً نو مہینے کی شدید جنگ کے بعد انہوں نے شکست تسلیم کی۔ اس کے بعد سکندرِ اعظم کو سوات کی ایک اور مضبوط طاقت اساکینیوں سے مقابلہ کرنا پڑا۔ شدید جنگ لڑی گئی۔ باجوڑ کے بعد سکندرِ اعظم دوسری بار یہاں زخمی ہوا۔ شروع میں تو اس نے تازہ زخم کو کوئی اہمیت نہ دی لیکن جب خون کی گرمی کم ہوئی اور درد کی شدت نے اْسے بے قرار کیا تو وہ چِلا اٹھا کہ لوگ اْسے مشتری دیوتا کا بیٹا پکارتے ہیں لیکن اب اْسے احساس ہو رہا ہے کہ اس کی حیثیت ایک عام انسان کی سی ہے۔ اساکینی قبیلہ کو شکست دینے کے بعد سکندر مساگا کی طرف بڑھا۔ مؤرخین نے موجودہ منگلور کو مساگا قرار دیا ہے۔ منگلور سوات کا ایک مشہور گاؤں ہے جو منگورہ سے مدین بحرین جاتے ہوئے سڑک کے دائیں طرف پہاڑیوں کے دامن میں واقع ہے۔ یہاں بہت سے آثارِ قدیمہ دریافت ہوئے ہیں جس میں سکندر اعظم کے دور کے سکے وغیرہ بھی ملے ہیں۔ مساگا میں شدید لڑائی کے بعد جنگ بندی ہوئی اور سکندر اپنی شرائط منوا کر یہاں سے اورا (Ora) اوربازیرہ (Bazira) نامی دو چھوٹی چھوٹی ریاستوں پر حملہ آور ہوا۔ یہ ریاستیں ایک دوسرے سے متصل تھیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مدد و اعانت پر یقین رکھتی تھیں۔ ریاست بازیرہ کے باشندوں نے سکندر کی افواج کا جواں مردی سے مقابلہ کیا لیکن جب وہ یونانیوں کی فوجی چال بازیوں کا شکار ہو کر اپنی محفوظ پناہ گاہوں سے نکل کر میدان میں مقابلہ کے لئے نکل آئے تو وہ یونانی فوج کا مقابلہ نہ کر سکے۔ دوسری طرف سکندر نے \"اورا\" پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا تو مذکورہ دونوں ریاستوں کے باشندوں نے شکست کے باوجود اعانت قبول نہ کی اور بھاگ کر کوہِ ارنس کی طرف چل دیئے۔ محققین کے مطابق بازیرہ موجودہ\" بری کوٹ\" اور\" اورا\" بری کوٹ سے چند کلومیٹر دور اوڈی گرام کے مقام پر آباد تھا۔ اس کے بعد سکندر اعظم نے \"کوہِ ارنس\" کی طرف پیش قدمی کی۔ جہاں اِس نے راجہ ارنس کو شکست دی اور پھر پنجاب سے ہوتے ہوئے 326 قبل مسیح عازمِ ہندوستان ہوا۔ مشہور محقق سر اولف کیرو کے مطابق کوہِ ارنس (نیا نام پیر سر) شانگلہ کے مشہور علاقہ چکیسر میں واقع ہے۔ جس پر بی بی سی لندن نے بھی سکندر اعظم کے حوالہ سے ایک دستاویزی فلم بنائی ہے جس سے اس بات کی مزید توثیق ہوتی ہے کہ تاریخ میں سکندرِ اعظم کے حوالے سے جس کوہِ ارنس کا تذکرہ موجود ہے، وہ شانگلہ کے چکیسر نامی علاقہ میں واقع ہے۔