قائداعظم محمد علی جناحؒ کے والدین کی شادی کیسے طے پائی؟ محترمہ فاطمہ جناح خاندانی پس منظر سے پردہ اٹھاتی ہیں
اسپیشل فیچر
انیسویں صدی کے آخر میں ہندوستان میں برطانوی راج کا سورج انتہائی تیزی سے طلوع ہونا شروع ہوگیا تھا۔ برصغیر ہندوستان میں تاجروں کی حیثیت سے زندگی شروع کرنے والے برطانوی تاجر، جو کل تک ہندوستانی حکمرانوں سے مراعات، دوستی اور ہمدردانہ سلوک کی بھیک مانگا کرتے تھے، برصغیر ہندوستان پر قابض ہوچکے تھے۔ ہندوستان کی باگ ڈور ان کے ہاتھوں میں آ چکی تھی۔ اب یہ رویہ بدل چکا تھا اور ہندوستان میں ایک ایسی حکومت قائم کر چکے تھے جو برطانوی تاج شاہی میں ایک جگمگاتے ہوئے ہیرے کی حیثیت رکھتی تھی۔ حالات میں بظاہر خاموشی تھی مگر یہ خاموشی ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ تھی۔ فرنگی حکمرانوں کو یقین تھا کہ انہوں نے ہندوستان کے رہنے والوں کو مہذب بنانے کے لیے جو کوششیں کی تھیں، اس سے ناراض ہندوستانیوں کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا ہوگا اور تاج برطانیہ کی عوام دوست پالیسی نے مقامی لوگوں کے دلوں سے انگریزوں سے نفرت اور سرکشی کے جذبات ختم کر دیئے ہوںتھے۔ انگریز حکمران ہندوستانیوں کے دلوں میں اندر ہی اندر کھولنے والے لاوے سے یکسر بے خبر تھے۔ 1857ء کی جنگ آزادی انگریزوں کے خلاف ایک سخت ردعمل تھی۔ یہ بغاوت جلد ہی پورے ہندوستان میں پھیل گئی۔ یہاں تک کہ یہ ایک واقعہ انگریز حکمرانوں کے خلاف ہندوستان کی جدوجہد آزادی کی طویل کتاب کے لیے پہلے باب کی حیثیت اختیار کر گیا۔ اس جنگ آزادی میںکئی لوگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ہندوستان کو آزاد کرنے کے لیے اس جنگ میں جانیں قربان کرنے والے سب لوگوں کو شہدا کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس واقعہ نے ہماری قوم کے ذہنوں پر گہرے اثرات مرتب کیے اور پورا ہندوستان متاثر ہوا۔ اس کے باوجود ہندوستان میں کئی علاقے ایسے بھی تھے جہاں اس کشیدہ صورت حال میں بھی زندگی پرامن اور پرسکون رہی اور وہ اردگرد ہونے والی سنگین صورتحال سے بے نیاز رہے۔ کاٹھیاواڑ کی شاہی ریاست گونڈل ایک ایسا ہی علاقہ تھاجو ممبئی پریزیڈنسی کے ماتحت تھا۔ تاج برطانیہ سے وفاداری کے طفیل ٹھاکر صاحب آف گونڈل کی حکمرانی پورے آب و تاب سے قائم تھی۔ ٹھاکر صاحب جانتے تھے کہ اپنی ریاست کو برطانیہ کے خلاف سرگرمیوں سے علیحدہ رکھناان کے مفاد میں تھا۔ انہیں اس بات کا خدشہ تھا کہ انہیں ریاستی حکمرانی سے محروم نہ کردیا جائے۔ ٹھاکر صاحب کی حکومت میں گونڈل ریاست کے لوگ اپنی زندگی کے معمولات میں مشغول تھے۔ وہ اس سیاسی جدوجہد سے بالکل متاثر نہ ہوئے جس نے پورے ہندوستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ ریاست گونڈل کی معیشت کا انحصار زراعت پر تھا۔ نمایاں فصلوں میں کپاس، گندم، جوار اور باجرہ شامل تھیں۔ زرعی پیداوار میںجس چیز نے گونڈل کو خاص شہرت عطا کی تھی وہ یہاں کی مرچ تھی حتیٰ کہ آج بھی گونڈل کی مرچیں مشہور ہیں۔ ہمارے گھر میں میرے شعور کے ابتدائی دنوں ہی سے تمام کھانوں میں ہمیشہ مرچوں کا خوب چھڑکاؤ کیا جاتا تھا۔ ہم میں سے جس کسی کو کھانے کا ذائقہ اپنے مزاج کے مطابق محسوس نہ ہوتا تو وہ ایک پلیٹ میں سے اپنے کھانے میں مزیدمرچیں ڈال لیتا تھا۔ مرچوں سے بھری ہوئی پلیٹ ہمیشہ کھانے کی میز پر پڑی رہتی تھی۔ دارالحکومت ہونے کی وجہ سے گونڈل ریاست کا سب سے بڑا شہر تھا مگر ریاست کی زیادہ تر آبادی دیہاتوں میں رہتی تھی جو سادہ اور مطمئن زندگی گزار رہی تھی۔ ان لوگوں کی دنیا چھوٹی اور مختصر سی تھی جس کی سرحدیں اس ریاست کی جغرافیائی حدود کے اندر ہی سمٹی ہوئی تھیں ۔ ریاست کے دوسرے بہت سے دیہات کی طرح پانیلی بھی ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ 1857ء کے قریب جب جنگ آزادی کے ذریعے ہندوستان میں برطانوی حکومت کے خلاف منظم سیاسی اپوزیشن کے بیج بوئے جارہے تھے ، اس زمانے میں پانیلی کی آبادی ایک ہزار سے بھی کم تھی۔ اس گاؤں میںمیرے دادا پونجا رہتے تھے۔ ان کے آباؤ اجداد یہیں پیدا اور فوت ہوئے تھے۔ میرے دادا پانیلی کے ان چند لوگوں میں سے تھے جو زراعت پیشہ نہیں تھے۔ ان کی کچھ دستی کھڈیاں تھیں جن پر وہ خود کاریگروں کے ہمراہ طویل اور تھکا دینے والے اوقات میں کام کرتے تھے۔ اس مشقت کے نتیجے میں وہ ہاتھ کا بنا ہواخام کپڑا تیار کرتے تھے جس کی فروخت سے انہیں اتنی آمدنی ہو جاتی تھی کہ ان کے خاندان کا شمار اس چھوٹے سے گاؤں کے خوشحال گھرانوں میں کیا جاتا تھا۔ ان کے تین بیٹے تھے۔ والجی، ناتھو اور جناح۔ مؤخرالذکر ان کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔ ان کی ایک بیٹی تھی جس کا نام مان بائی تھا۔ جناح اپنے دونوں بھائیوں کے مقابلے میں زیادہ فعال اور ارادے کے پکے تھے۔وہ 1857ء کے تاریخی سال کے لگ بھگ پیدا ہوئے۔ جس کے دوران آزادی کے پہلی ہندوستان بغاوت برپا ہوئی۔ ان کے نوجوان اور بلندنظر ذہن کو پانیلی نہ صرف ایک سست رو اور خوابیدہ گاؤں معلوم ہوتا تھابلکہ ان کے نزدیک یہ ایسی جگہ تھی جہاں زندگی محض ایک چھوٹے سے بازار اور گاؤں کے کنویں پر ہونے والی گپ شپ کے گرد گھومتی تھی۔ انہوں نے سنا تھا کہ گونڈل ایک بڑا شہر ہے جہاں زندگی زیادہ فعال ہے اور کاروبار بھی وسیع ہے۔ پانیلی میں رہ کر وہ بھلا کیا کرسکتے ہیں؟ دونوں بڑے بھائیوں کے ساتھ مل کرخاندانی کھڈیوں پر کام کرنے میں ان کے لیے کوئی کشش نہیں تھی۔ یہ بہت چھوٹا سا کاروبار تھا۔ ان کی نظریں بڑے شہر پر لگی ہوئی تھیں جہاں ان کی مہم جویانہ طبع کو تسکین مل سکتی تھی۔ ان کے والد نے کاروبار کے لیے انہیں نقدی تو کم ہی دی تھی مگر نصیحت خوب کی تھی کہ کسی کاروبار میں سرمایہ لگانے سے پہلے تفصیل سے جائزہ لینا چاہیے کہ کس کاروبار میں جانا چاہیے۔ تجزیہ پسند اور محتاط ذہن کے ساتھ تھوڑی پونجی کے مالک ہونے کے باعث میرے والد جلد بازی میں کوئی کاروبار شروع نہیں کرنا چاہتے تھے۔ تاہم انہیں بعض ایسے کاروبارتلاش کرنے میں زیادہ عرصہ نہیں لگا جن میں وہ جلدی جلدی خریدو فروخت کرسکتے تھے۔ کاروبار سے متعلق ان کی سوجھ بوجھ اور سخت محنت کے باعث انہوں نے جلد ہی کافی منافع کما لیا۔ یوں ان کے اصل سرمائے میں اضافہ ہوگیا۔ چند ماہ بعد وہ جب گونڈل سے پانیلی واپس آئے تو ان کے والد یہ دیکھ کر خوش ہوئے کہ ایک بڑے شہر میں ان کے بیٹے نے منافع بخش کاروبار شروع کیا ہے۔ زندگی کی پرانی اقدار پر یقین رکھنے کے باعث انہیں اندیشہ تھا کہ گونڈل جیسے بڑے شہر کی مختلف ترغیبات اور چکاچوند ان کے نوجوان بیٹے کی توجہ اس منافع بخش کاروبار سے ہٹا سکتی ہیںجسے اس نے نہایت مختصر عرصے کے دوران کامیابی سے منظم کیا ہے۔ اس کے علاوہ میرے دادا کی عمر بھی بڑھتی جارہی تھی۔ ان کے دونوں بڑے بیٹوں اور بڑی بیٹی کی شادی ہو چکی تھی۔ والدین کی واحدذمہ داری اب یہ باقی رہ گئی تھی کہ ان کے سب سے چھوٹے بیٹے کی شادی کسی اچھی سی لڑکی کے ساتھ ہوجائے جس کا تعلق خود ان کے خوجہ فرقے سے ہو یاکسی دوسرے اچھے خاندان سے۔چنانچہ میرے والد کے لیے مناسب رشتے کی تلاش شروع کردی گئی۔ میرے دادا میرے والد کے پانیلی چھوڑ کر گونڈل میں ایک نئی زندگی کا مستقل آغاز کرنے سے قبل ہی ان کی شادی کردینا چاہتے تھے۔ رشتے کی تلاش میں وہ پانیلی سے باہر نکل گئے اور وہاں سے تقریباً دس میل کے فاصلے واقع دھافہ نامی گاؤں جا پہنچے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ ایک معزز گھرانے کی لڑکی میٹھی بائی ان کے لیے موزوں دلہن ثابت ہو گی۔ رشتے طے کرانے والوں کی معرفت لڑکی کے والدین سے رابطہ قائم کیا گیا۔ وہ لوگ رشتہ کرنے کے لیے تیار ہوگئے۔ اس طرح میرے والد جناح اور میری والدہ میٹھی بائی کی شادی دھافہ میں 1874ء کے لگ بھگ انجام پائی۔ (کتاب ’’میرا بھائی ‘‘سے اقتباس)