’’مانی مت‘‘ کی تاریخ
اسپیشل فیچر
تیسری صدی عیسوی میں مانی ’’مانی مت‘‘ کا بانی تھا۔ آج یہ مذہب باقی نہیں رہا، لیکن اپنے عروج کے زمانے میں اس کے پیروکاروں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ مشرق وسطیٰ میں اس کا آغاز ہوا، جس کے بعد مانی مت مغرب میں بحراوقیانوس اور مشرق میں بحرالکاہل تک پھیل گیا۔ قریب ہزار برس یہ قائم رہا۔مانی نے جو مذہب تخلیق کیا تھا وہ قدیم مذاہب کے خیالات کا ایک دلچسپ امتزاج تھا۔ مانی کے مطابق زرتشت، گوتم بدھ اور حضرت عیسیٰؑ پیغمبر تھے، لیکن اس کی صورت میں یہ ایک ہی مذہب اب مکمل ہو گیا تھا۔اگرچہ بدھ مت اور عیسائیت کے عناصر مانی مت میں موجود ہیں، تاہم اس کا سب سے اہم تصور (جو مغربی اقوام کے لیے بڑا حیران کن ہے، زرتشت مت کی ثنویت پسندی سے ماخوذ تھا۔ مانی نے تعلیم دی کہ دنیا پر ایک ہستی کی حکومت نہیں ہے بلکہ دو قوتیں کارفرما ہیں۔ ان میں سے ایک شر ہے، جسے مانی نے ظلمت اور مادے سے مماثل قرار دیا۔ دوسری قوت \"خیر\" کی ہے، جسے اس نے نور اور روح کہا۔ مانی مت میں خیر اور شر دونوں بنیادی طور پر ہم پلہ قوتیں ہیں۔ مانی مت دنیا میں باقی نہ رہا۔مانی 216ء میں میسوپوٹیمیا میں پیدا ہوا جو تب آرساسڈیا پارتھین خاندان کی ایرانی سلطنت میں شامل تھا۔ مانی خود فارسی النسل تھا اور اس کا تعلق آرساسڈ فرماں رواؤں سے تھا۔ بیشتر ایرانی زرتشت مت کے پیروکار تھے، تاہم مانی کی تربیت عیسائیت سے متاثرہ مذہبی فرقے کے مطابق ہوئی۔ بارہ برس کی عمر میں اس نے وحی کے نزول کا دعویٰ کیا۔ وہ بیس برس کا تھا جب اس نے ایک نئے عقیدے کا پرچار شروع کر دیا۔ اپنے آبائی وطن میں ابتدا میں اسے کوئی کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ وہ شمال مغربی ہندوستان چلا گیا۔ جہاں وہ ایک مقامی حکمران کو اپنا ہم نوا بنانے میں کامیاب ہو گیا۔242ء میں وہ ایران واپس آیا جہاں اسے بادشاہ شایور اول کی ہم راہی میں سامعین کی ایک بڑی تعداد میسر آئی۔ اگرچہ بادشاہ نے اس کے خیالات سے اتفاق نہ کیا مگر وہ اس سے متاثر ہوا اور اسے ایرانی سلطنت میں اپنے مذہب کی تبلیغ کی اجازت دی۔ یہ ایرانی سلطنت ایک دور میں ساسانی سلطنت کہلاتی تھی۔ تاہم پھر 226ء میں یہ نیا خاندان قائم ہوا۔ اگلے تیس برسوں میں شایور اول اور ہرمزد اول کے زیر حکومت مانی نے کسی رکاوٹ کے بغیر پیروکاروں کی ایک بڑی تعداد اپنے گرد اکٹھی کر لی۔ اس عرصہ میں اس کے تبلیغی ٹولے غیر ملکوں میں بھی روانہ کیے گئے۔ تاہم مانی کی کامیابی نے زرتشت مت کے پروہتوں کی نفرت کو انگیخت کیا۔ زرتشت مت ساسانی عہد حکومت میں سرکاری مذہب بن گیا۔ 276ء کے قریب ایک نئے بادشاہ بہرام اول کی تخت نشینی کے بعد مانی کو گرفتار کرکے قید کر دیا گیا، جہاں چھبیس روز تک صبر آزما صعوبتوں کو برداشت کرنے کے بعد وہ مر گیا۔اپنی زندگی میں مانی نے متعدد کتابیں لکھیں۔ ان میں ایک فارسی زبان میں ہے اور بقیہ سریانی میں، جو حضرت عیسیٰ کے زمانے کی آرامی ( Aramaic) سے ملتی جلتی ایک سامی زبان تھی۔ یہ کتابیں مانی مت کے مذہبی صحائف قرار پائے۔ اس مذہب کے ختم ہو جانے کے بعد یہ غائب ہو گئے تاہم ان میں سے چند ایک بیسویں صدی میں دریافت ہوئے۔مانی کی اپنی زندگی ہی میں ہندوستان سے یورپ تک اس کے عقیدت مند پیدا ہو گئے تھے۔ اس کی موت کے بعد مذہب کا پھیلاؤ جاری رہا، حتیٰ کہ یہ مغرب میں سپین اور مشرق میں چین تک پھیل گیا۔ مغرب میں چوتھی صدی عیسوی میں اسے عروج حاصل ہوا، جب یہ عیسائیت کا ایک بڑا حریف مذہب بن گیا۔ سینٹ آگسٹائن خود نو سال تک مانی مت کا پیروکار رہا۔ لیکن عیسائیت کے سلطنت روما کے سرکاری مذہب بن جانے کے بعد مانی مت کے پیروکاروں کا بے دریغ قتل کیا گیا۔ 600ء تک یہ مغرب سے قریب ناپید ہو چکا تھا۔تب یہ میسوپوٹیمیا اور ایران میں خاصا مقبول تھا۔ وہاں سے وسطی ایشیا ترکستان اور مغربی چین میں اس نے فروغ پایا۔ آٹھویں صدی کے اواخر میں یہ چین کے تمام ساحلی علاقوں میں پھیل گیا اور وہاں سے تائیوان کے جزیرے تک پہنچا۔ ساتویں صدی عیسوی میں اسلام کے فروغ نے مانی مت کو جڑ سے ہی اکھاڑ دیا اور عباسی خلفا نے اس کے پیروکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی۔ تھوڑے ہی عرصے بعد میسوپوٹیمیا اور ایران میں یہ عنقا ہو گیا۔ نویں صدی عیسوی سے وسطی ایشیا میں اس کا زوال شروع ہوا، جبکہ تیرہویں صدی میں منگول فتوحات نے عملی طور پر اس کی بیخ کنی کر دی۔ تاہم مارکوپولو 1300ء کے قریب مشرقی چین میں مانی مت کے پیروکاروں کی آبادیوں سے گزرا تھا۔٭…٭…٭