انٹرویو کی اقسام
اسپیشل فیچر
انٹرویو کی متعدد اقسام ہیں جن کی تکنیک اور ساخت کے مطابق درجہ بندی کی جاسکتی ہے۔ انٹرویو کی اہم اقسام درج ذیل ہیں:٭ منصوبہ بند انٹرویو، ٭ وضع کردہ انٹرویو، ٭ تاکیدی انٹرویو، ٭ پینل انٹرویو، منصوبہ بند انٹرویومنصوبہ بند انٹرویو :اس میں انٹرویو لینے والا پہلے ہی سے موضوعاتی خاکہ تیار کرتا ہے۔ اس طریقہ میں انٹرویو لینے والا تحریری طور پر گفتگو ریکارڈ کرنے کو ترجیح دے گا۔ کہنہ مشق انٹرویو لینے والا اپنے تجربے کی بدولت امیدوار کے رجحانات اور ذہنی معلومات کو جان لیتا ہے۔ وہ اس کی فراہم کردہ معلومات کا خوب جائزہ قبل ازیں لے لیتا ہے۔ وہ اندازہ لگا لیتا ہے کہ امیدوار کن مضامین پر غور کرتا ہے اور اس کا پس منظر کیا ہے، اس کی گھریلو زندگی کیسی ہے۔ اس میں تعلیم، سابقہ کام کا تجربہ، سماجی تسویہ رویے اور تفریحی دلچسپیاں شامل ہیں۔ ان کی بنیاد پر وہ امیدوار کے ساتھ خوش دلی اور آزادی کے ساتھ کھل کر بات چیت کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ ایسے انٹرویو میں امیدوار کو تنظیم یا ادارے کے کام کی نوعیت، تنخواہ ترقی کے مواقع او ر ملازمین پر عائد شرائط کے بارے میں معلومات مہیا کی جا سکتی ہیں۔وضع کردہ انٹرویو: ایسا انٹرویو انتہائی جامع سوالنامہ کی بنیادوں پر کیا جاتا ہے۔ اس انٹرویو کی مدد سے مطالعہ کا شوق رکھنے والوں نے اچھے نتائج حاصل کیے ہیں۔ بہت زیادہ احتیاطی تربیت اور ٹھوس انتخابی طریق کار امیدوار کی اہلیت اور نا اہلیت کا فیصلہ کرنے میں خاطر خواہ مدد فراہم کرتے ہیں۔تاکیدی انٹرویو: تاکیدی انٹرویو کا طریقہ کار دوسری جنگ عظیم کے دوران خفیہ عاملوں کے انتخاب کے لیے امریکی حکومت نے وضع کیا۔ اس میں انٹرویو لینے والا دشمن کے کردار کو فرض کر کے انہیں مدافعت کرنے اور دانستہ طور پر تنگ کرنے پریشان کرنے اور مایوس کرنے کے لیے انٹرویو کرتے ہیں بعض اوقات امیدوار پر غصہ جھاڑ کر اسے مشکل میں ڈال دیا جاتا ہے۔تاکیدی انٹرویو کا مقصد ان لوگوں کی تلاش ہے جو اپنے رویے پر قابو پانے کے اہل ہوں خواہ انہیں جان بوجھ کر جذباتی کر دیا جائے۔ اس طریقہ انٹرویو کو بہت زیادہ تربیت یافتہ شخص استعمال کر سکتا ہے۔پینل انٹرویو: پینل انٹرویو میں تین یا اس سے زائد افراد انٹرویو لیتے ہیں۔ پینل طریق کار کو عموماً سرکاری اداروں میں استعمال کیا جاتا ہے، نیز بڑے نجی اداروں اور کمپنیوں میں بھی یہ طریقہ کار استعمال کیا جاتا ہے بالخصوص بڑے عہدوں کے لیے۔ پینل تکنیک درخواست دہندگان کی زیادہ جامع تحقیق کرنے اور ان کی انفرادی کارکردگی کی وضاحت کو آسان بناتا ہے اور نتائج کا انحصار کسی ایک فرد کی رائے پر نہیں ہوتا۔٭…٭…٭