اقبالؒ کی ابتدائی شاعری اور فارسی
اسپیشل فیچر
محمد اقبالؒ کی طبیعت میں بلا کی آمد تھی۔ شعر پر شعر اور غزل پر غزل ہوتی چلی جاتی۔ ایک ہی ردیف قافیے میں چار چار غزلیں کہی ہیں۔ گویا ذہن ایک نہیں کئی سمتوں کا رخ کر رہا ہے۔ یا یوں کہیے جذبات و کیفیات، خیالات اور تصورات ’خام پیداوار‘ کے ایک انبار کی طرح جمع ہو رہے ہیں جو ابتدائی دور میں تو کچھ کچھ لیکن جلد ہی ایک متاع گراں مایہ کی شکل اختیا ر کر لیں گے ۔بایں ہمہ ابتدائی دور کے کلام سے بھی جتنا کچھ دستیاب ہو سکا معلوم ہوتا ہے کہ اردو غزل کے عام رنگ سے بتدریج ہٹ رہے تھے۔ حتیٰ کہ اہل نظر کو اسی زمانے سے احساس تھا کہ ان کے اشہبِ قلم کا رخ کسی اور ہی بلند اور برتر میدان کی طرف ہے۔رہی یہ بات کہ ابتدا میں کیا انھوں نے فارسی میں بھی شعر کہا۔ سو اس ضمن میں شیخ عبدالقادر کا یہ کہنا کہ انھوں نے سوائے ایک آدھ شعر کے فارسی میں کچھ کہنے کی کوشش نہیں کی، محل نظر ہے۔ یہ خود بخود شعر کا ہو جانا اور بالا رادہ فارسی میں شعر کہنا دو مختلف باتیں ہیں۔ ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ عربی اور فارسی سے محمد اقبالؒ کو دلی لگائو تھا۔ فارسی اور عربی ادب ان کے دل و دماغ میں رچ گیا تھا۔ پھر یہ کہ فارسی میں انھوں نے بہت جلد مہارت پیدا کر لی تھی۔ فارسی شعرا کے اسالیب سخن صبح شام ان کے سامنے رہتے۔ فارسی سے ان کی طبعی مناسبت تھی اور پھر جب ذوق شعر خداداد تھا، فارسی اور عربی کا ادبی اور ثقافتی ورثہ دل میں گھر کر چکا تھا۔ مذاق سلیم کے لیے بھی اردو اور فارسی میں دوہی قدم کا فاصلہ ہے، بلکہ اس سے بھی تو فارسی میں بھی شعر ہو جاتے ہوں گے۔ یہ دوسری بات ہے کہ اس کی باقاعدہ ابتدا اسرار خودی سے ہوئی۔ لیکن اس سے بہت پہلے وہ فارسی میں کچھ نہ کچھ کہہ رہے تھے۔ ذرا اس قطعے پر غور کیجئے جو انھوں نے منشی سراج الدین کو ان کی بھیجی ہوئی انگوٹھیوں کے شکرانے میں ۱۹۰۳ء میں لکھا ’’یارم از کشمیر مرا بفرست چار انگشتری ‘‘۔سولہ اشعار کے اس قطعے میں انھوں نے کیسے کیسے مضامین پیدا کیے ہیں۔ ۱۹۰۵ء تک وہ فارسی میں بہت کچھ کہہ چکے تھے۔ ان کے غیر مطبوعہ کلام میں اسلامیہ کالج سے خطاب ہی کو دیکھ لیجیے۔ کلام میں کیسی روانی ہے۔ یہ سب کچھ دفعتاً تو نہیں ہو گیا۔ جس طرح ان کی اردو شاعری کی ابتدا سیالکوٹ ہی میں نہایت خوبی سے ہو چکی تھی۔ اس کا بتدریج ارتقا دوسری بات ہے۔ بعینہٖ فارسی میں بھی شعر کہنے کا آغاز سیالکوٹ ہی میں ہو گیا ہو گا۔ مشکل البتہ یہ ہے کہ ان کا ابتدائی کلام تلف ہو چکا ہے۔ بہت کم محفوظ ہے۔ زماناً اس کا تعین بھی ممکن نہیں۔ پھر بھی آغاز شعر گوئی سے ۱۸۹۶ء اور ۱۸۹۶ء سے ۱۹۰۰ء تک جب ان کی شاعری اس مرحلے میں داخل ہو گئی جس کو ان کے ابتدائی کلام کی تمہید تصور کرناچاہیے ان کی غزلوں اور قطعات میں کئی ایک فارسی اشعار ملتے ہیں۔ ان کے فکر و فرہنگ اور شاعری کی دنیا دفعتاً تو نہیں بدلی۔ اس کے عنوان شروع ہی سے ظاہر ہو رہے تھے۔ اس میں ایک تسلسل ہے۔ لہٰذا یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ فارسی میں بھی شعر گوئی آپ ہی آپ ہو رہی تھی۔ ان کے غیر مطبوعہ کلام میں البتہ کئی ایک فارسی اشعار ملتے ہیں۔ کچھ نظمیں ہیں کچھ متفرق قطعات جن کا زمانہ متعین نہیں ہو سکتا۔ سیالکوٹ میں اگر آپ ہی آپ فارسی اشعار ہو جاتے تو وہ انھیں کوئی اہمیت نہ دیتے تھے۔ انھیں ابھی خیال ہی نہیں تھا کہ ان کے دل میں جس قسم کے خیالات ابھر رہے ہیں۔ جذبات کا جو انداز ہے۔ اردو کے تنگنائے غزل میں اتنی وسعت نہیں کہ بقدر شوق اس کا متحمل ہو سکے۔ وہ اس میں ایسے فکر ووجدان کا اظہار کر سکیں۔ اس کے لیے انھیں بالآخر فارسی ہی کہ ’’درخور فطرت اندیشہ‘‘ ہے،کا رخ کرنا پڑے گا۔ چنانچہ شاعری کے ابتدائی دور میں بھی ان کے کلام میں فارسی کا عمل دخل بڑھ رہا تھا۔ یہاں تک کہ یوں بھی شعر کہتے تو ان کا ذہن فارسی شاعری کے اساتذہ کی طرف منتقل ہو جاتا۔ خاقانی کا مطالعہ انھوں نے گہری نظر سے کیا تھا ۔دراصل ان کی فلسفیانہ طبیعت کو جس پیکر کی تلاش تھی، فارسی ہی میں مل سکتا تھا۔ فارسی ہی سے ان کی طبعی مناسبت نے مرزا غالب کی طرح انھیں مجبور کر دیا کہ فارسی زبان کی تشبیہوں اور استعاروں ،عربی اور فارسی کی تلمیحات سے کام لیں۔ ایسی ترکیبیں اور اصطلاح وضع کریں جن کے بغیر نا ممکن تھا وہ اردو میں اپنے احوال و واردات کی ترجمانی کر سکتے۔ ان کے افکار دماغ اور جذبات قلب کو ایک نئے پیکر کی تلاش تھی۔ یہ نیا پیکر فارسی ہی کی بدولت میسر آیا۔ جس سے رفتہ رفتہ اردو شاعری کو ایک ایسی زبان عطا ہوئی جو بیک وقت فلسفیانہ بھی تھی اور شاعرانہ تھی۔ جس کی لطافت اور شیرینی، جس کے حسن بیان اور ندرت اسلوب پر نہ صرف اردو بلکہ ادب عالم کو ناز رہے گا اور جس کے لیے شکوہ ، شمع و شاعر ، خضر راہ، طلوع اسلام بالِ جبریل کی غزلوں، مسجد قرطبہ اور ذوق و شوق ایسی نظموں کی طرف اشارہ کر دینا کافی ہو گا۔لیکن ابھی ایک اور بات ہے جس کا محمد اقبالؒ کے فن اور فلسفہ کے مطالعہ میں بالخصوص لحاظ رکھنا پڑے گا اور جس کا تعلق پھر ان کے ابتدائی کلام سے ہے، ۱۸۹۵ء سے دو چار سال اور آگے بڑھ جائیں۔ قیاس یہ ہے کہ اس دور میں بھی وہ فلسفیانہ تصورات جن کی باقاعدہ تشکیل بہت آگے چل کر ہوئی ان کے دل و دماغ کو چھیڑ رہے تھے۔ ہمیں معلوم ہے خودی ان کا بنیادی تصور ہے۔ ان کے فکر و فن کا ایک ہی محور جس نے رفتہ رفتہ پوری زندگی کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا تاآنکہ ذاتِ انسانی سے لے کر انسان، کائنات، مذہب، اخلاق ، سیاست، معاش، ادب فن غرضیکہ تہذیب و تمدن کی جو بھی غایت ہے، جیسے بھی کوئی حقیقت ان کے سامنے آئی اس کا فیصلہ خودی کے حوالے سے ہونے لگا۔ وہی ایک معیار ہے محمد اقبالؒ کے نزدیک خوب و نا خوب،غلط اور صواب کا۔ وہی ایک کسوٹی جس پر وہ ہر خیال اور ہر عمل کو پرکھتے ہیں۔ ۱۸۹۶ء یا زیادہ سے زیادہ ۱۸۹۷ ء میں محمد اقبالؒ نے فی البدیہ ایک غزل کہی۔ عید کا دن تھا اور دوستوں کی محفل شیخ عبدالقادر نے کہا محمد اقبال اور خان احمد حسین خاں موجود ہیں، فی البدیہ ایک ایک غزل کہیں، لطف رہے گا۔ محمد اقبالؒ نے غزل کہی۔ مطلع اوپر آ چکا ہے۔ لیکن ا س کا یہ شعر بالخصوص توجہ طلب ہے: مرد مومن کی نشانی کوئی مجھ سے پوچھےموت جب آئے گی اس کو تو وہ خنداں ہو گا٭…٭…٭