کھیرا:خوش ذائقہ اور صحت بخش
اسپیشل فیچر
اس کا رنگ سبز، زرد اور سفید ہوتا ہے اور ذائقہ قدرے شیریں ہوتا ہے ۔ مزاج سرد اور تر دوسرے درجے میں ہوتا ہے۔ اس کی مقدار خوراک ایک چھٹانک سے ایک پائو تک ہے۔ اس کے حسب ذیل فوائد ہیں۔کھیرے کے فوائد:1۔کھیرا دیر ہضم ہوتا ہے، اس لئے ضروری ہے کہ اس کو چھیل کر نمک لگا کر کھایا جائے۔2۔ یہ پیشاب جاری کرتا ہے۔3۔صفرا اور خون کی گرمی کو دور کرتا ہے۔4 انتڑیوں کی سوزش کو دور کرتا ہے۔5۔پیاس کو بجھاتا اور بلغم پیدا کرتا ہے۔6۔گرم دماغی بیماریوں میں کھیرے کا استعمال بے حد مفید ہے۔7۔ کھیرے کے استعمال سے بے خوابی کا مرض دور ہوتا ہے۔8۔ گرمی کے بخار میں کھیرے کا استعمال بے حد مفید ہے۔9۔ شدید بخار میں کھیرے کا استعمال بے حد مفید ہے۔10۔تخم کھیرا کو پانی میں رگڑ کر پلانے سے رک رک کر پیشاب آنا درست ہو جاتا ہے۔11۔ تپ صفراوی میں کھیرے کا بھلبھلایا ہوا پانی پلانے سے فوری فائدہ ہوتا ہے۔12۔کھیرے کے بیج رگڑ کر پلانے سے جگر اور طحال کے ورم دور ہوتے ہیں۔13۔ گرمی کے دستوں کو روکتا ہے اور یرقان میں اس کا استعمال بے حد مفید ہے۔14۔لونگ کے ہمراہ کھیرے کا پانی پلانے سے خفقان کا مرض دور ہوتا ہے۔15۔ اسکا زیادہ استعمال بد ہضمی پیدا کرتا ہے اس لئے مناسب مقدار میں کھانا ہی مفید ہوتا ہے۔16۔ایران اور یورپی ممالک میں کھیرے کو اکثر سرکے میں ملا کر کھاتے ہیں۔17۔دستر خوان کی زینت میں بطور سلاد استعمال ہوتا ہے۔18۔ یہ شدت گرمی اور جھلسانے والی ہوائوں کے بُرے اثرات سے محفوظ رکھتا ہے۔19۔ اس میں پوٹاشیم، کیلشیم، فولاد، نمکیات، روغنی اجزائ، نشاستہ اور گوشت بنانے والے اجزاء کے ساتھ وٹامنز اے بی اور ڈی شامل ہوتے ہیں۔20۔معدے کی تیزابیت کو دور کرتا ہے۔21۔دل کی دھڑکن، ہاتھ پائوں کی جلن، جگر کی گرمی ایک سے چار کھیرے روزانہ کھانے سے تین چار دن کے متواتر استعمال سے درست ہو جاتی ہے۔22۔عورتوں کو پیشاب کی جلن، پیروں کے مقام کا بوجھ اور ایام کی خرابی کو دور کرنے کے لئے دو تین ہفتے تک کھیرے کی قاشوں پر سفید زیرہ اور نوشادر پسا ہوا کم از کم دو کھیرے روزانہ کھانے سے فائدہ ہوتا ہے۔23۔گردہ اور مثانہ کی پتھریاں متواتر ایک ماہ تک کھیرے کی قاشوں پر کالا نمک اورنوشادر لگا کر کھانے سے پیشاب کے راستے ٹوٹ کر نکل جاتی ہے۔24۔ کھیرے کی جھاگ کو پکے ہوئے منہ پر لگانے سے فوری صحت ہوتی ہے۔25۔ دبلے اور پتلے لوگ جن کا ہاضمہ مضبوط ہو کھیرا کھانے سے موٹے ہو سکتے ہیں۔26۔شربت بزوری میں کھیرا بطور ایک جزو کے استعمال ہوتا ہے۔ یہ شربت معدہ، جگر، انتڑیوں اور مثانہ کی گرمی کو دور کرنے کے لئے بے حد مفید ہوتا ہے۔ اس کا نسخہ حسب ذیل ہے، تخم کھیرا، تخم خربوزہ، تخم کاسنی، تخم بادیاں دو دو تولے، جڑ کاسنی، جڑ سونف ہر ایک چار تولہ، سب اشیاء کو کوٹ کر ایک سیر پانی میں رات کو بھگو دیں صبح کو جوش دے کر مل لیں، پھر چھان کر تین پائو چینی ملا کر شربت کا قوام تیار کر لیں بس شربت بزوری تیار ہے۔ دو تولہ معہ پانی صبح و شام استعمال کرنا مفید ہوتا ہے۔27۔ کھیر ا کھانے کے فوری بعد پانی نہیں پینا چاہئے کیونکہ ہیضہ کا خطرہ ہوتا ہے۔28۔ حسن افزاء مصنوعات میں کھیرے کا پانی زیادہ استعمال ہوتا ہے۔29۔تازہ کھیرے کو بغیر چھلا کھانا زیادہ مفید ہوتا ہے۔ کیونکہ چھلا ہوا ریاح پیدا کرتا ہے، لیکن اچھی طرح دھونا شرط ہے چھال سخت ہونے کی صورت میں چھیلنا مناسب ہے۔30۔تخم کھیرا معدے کی گرمی کو دور کرتا ہے۔31۔شوربے والی اشیاء کے ہمراہ کھیرا کھانا مفید رہتا ہے۔32۔کھیرے کی بیل کی جڑ کو پانی میں جوش دے کر کلیاں کرنے سے دانت کا درد دور ہو جاتا ہے۔33۔سرد مزاج والوں کو چاہئے کہ وہ جب بھی کھیرا کھائیں نمک اور کالی مرچ کے ساتھ کھائیں، البتہ گرم مزاج والے حضرات کھیرے کے بعد ناشپاتی یا گلقند کھا لیں ورنہ نمک اور کالی مرچ چھڑک کر ہی کھائیں تو یہ زیادہ مفید رہے گا۔34۔کھیرے کے بیج گرمی کی کھانسی اور پھیپھڑوں کے امراض میں رگڑ کر پلانا مفید ہے۔٭…٭…٭