شاگردوں کی رہنمائی میں استاد کا کردار
اسپیشل فیچر
موجودہ زمانہ، سائنسی ترقی اور حیرت انگیز دریافتوں کا دور ہے۔ زندگی کا شاید ہی کوئی ایسا شعبہ ہو جس کے بارے میں معلومات اور واقفیت میں تیز رفتار اضافہ نہ ہوا ہو۔ انہی سائنسی ایجادات کے طفیل آج ایک خاتون کو چولہے میں ایندھن جلانے اور دھوئیں سے آنکھیں پھوڑنے کی بجائے، گیس یا بجلی کا چولہا جلانے میں کتنی سہولت ہوتی ہے۔ جو سفر مہینوں میں طے ہوتا تھا، اب گھنٹوں میں ختم ہو جاتا ہے۔ سائنس دان زندگی کو آسان سے آسان تر بنانے میں مصروف ہیں۔ لیکن ان فنی کمالات اور ایجادات کے باوجود کچھ قدریں، روشیں ایسی ہیں جن پر انسان حسب سابق قائم ہے۔ مثال کے طور پر تعلیم و تعلم یا درس و تدریس ایک ایسی سماجی سرگرمی ہے جس میں استاد اور شاگرد کا رشتہ بدستور قائم ہے۔ یعنی بچوں کی تعلیم کے سلسلے میں انسان ابھی استاد کی ضرورت سے بے نیاز نہیں ہوا۔ تعلیم بذریعہ ریڈیو اور ٹی وی۔۔۔ یہ سب کچھ ایجاد ہوا لیکن پھر بھی استاد کہیں نہ کہیں پوشیدہ ہوتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ تعلیم و تدریس کے دائرے سے استاد کی شخصیت کو خارج کر دینا فی الحال ناممکن ہے۔اگر استاد کا رول یا کردار فقط اتنا ہوتا کہ وہ معلومات یا چند تاریخی و جغرافیائی حقائق خود اخذ کر کے بچے کے ذہن میں داخل کر دیتا ہے تو قرین قیاس ہے کہ استاد نہ صرف اپنے رتبے سے گر جاتا ہے بلکہ سماجی موت مر چکا ہوتا ہے، لیکن استاد آج بھی وہی کر دار ادا کر رہا ہے جو صدیوں پہلے ہوا کرتا تھا۔ بچے کی شخصیت کی نشوونما میں آج بھی اس کا وہی حصہ ہے جو ماضی بعید میں تھا۔ اچھا استاد ایک اچھے آرٹسٹ کی طرح شخصیتیں مرتب کرتا ہے اور زندگیوں کے نقش ابھارتا ہے۔ سکول یاکلاس کے چھوٹے سے سماج میں استاد شفیق باپ بھی ہوتا ہے اور مخلص دوست بھی۔ رہنما بھی ہوتا ہے اور ہم سفر بھی۔ وہ لیڈر بھی ہوتا ہے اور شریک کار بھی۔ وہ مصور بھی ہوتا ہے اور نقاد بھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس بے تعلقی اور بے راہ روی کے زمانے میں بھی شاگرد اپنے اچھے استادوں کا احترام کرتے ہیں اور ان کے احسانات کی قدر شناسی کرتے ہیں۔ سماجی کردار کی تشکیل:استاد کے کردار کی اہمیت سے متعلق اس وقت تک جو کچھ کہا گیا ہے اسے عمومی اور تسلیم شدہ کہا جا سکتا ہے۔ آئیے اب یہ دیکھیں کہ استاد اپنے شاگرد کی زندگی کے ذہنی، جذباتی اور فعال پہلوؤں پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے۔ابتدائی تعلیم کا بنیادی اصول یہ نہیں کہ بچے کو’’ اب پ‘‘ پڑھائی جائے بلکہ اس کی سماجی حس کو بیدار کرنا اور تقویت دینا ہے۔ چونکہ سماج میں انسان ایک دوسرے کا جزو ہوتے ہیں، اس لیے سماجی نشوونما بھی ایک دوسرے سے مل کر ہنسنے، کھیلنے اور کام کرنے سے ہوتی ہے۔ اپنے کھلونے دوسرے ساتھیوں کو دینا، کھانے کی چیز بانٹ کر کھانا، اپنی چیز کی حفاظت کرنا، دوسرے کی چیز نہ لینا، دوسروں سے مل کر کھیلنا، مل کر گانا، یہ تمام ترتیب بچے کی آئندہ زندگی کے سماجی پہلو کو مضبوط کرتی ہے اور اسے خود مرکزیت کے دائرے سے نکلنے میں مدد دیتی ہے۔ استاد ان تمام سرگرمیوں پر کڑی نگرانی رکھتا ہے اور فرداً فرداً ہر ایک کی مدد کرتا ہے تاکہ آئندہ چل کر بچوں کو سماجی اور گروہی زندگی بسر کرنے اور ا س کے تقاضوں سے مطابقت کرنے میں دشواری نہ ہو۔ جو بچے خود غرض، لالچی یا اپنی ذات کو ہر بات پر فوقیت دینے والے ہوتے ہیں، وہ بڑے ہوکر جذباتی ہچکولوں اور یاسیت کا شکار ہوتے ہیں۔ ذہنی نشوونما:ذاتی تقاضوں اور سماجی کردار میں ہم آہنگی کے علاوہ استاد بچے کے تجسس اور حیرت کے میلانات کو بیدار کرتا ہے تاکہ بچہ اشیا اور حالات کو پرکھنے اور سمجھنے میں قدرت حاصل کر سکے ۔ وہ تعلیمی مواد کو اسی طرح پیش کرتا ہے کہ بچوں کی سوئی ہوئی صلاحیتوں میں تحریک ہوتی ہے۔ وہ اسے بطور چیلنج کے قبول کرتے ہیں۔ اجنبی اور پرکشش اشیا و حالات کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ وہی ذہنی میلانات ہیں کہ اگر اچھی طرح نشوونما پا جائیں تو بچوں کو سائنس دان یا تحقیق میں دلچسپی لینے والے انسان بنا دیتے ہیں۔ انہیں سے بچہ منفرد سوچ بچار اور منفرد کردار کا اہل بنتا ہے۔جذباتی توازن:اس میں شک نہیں کہ جذباتی توازن پیدا کرنے میں ماں باپ اور گھر کے ماحول کا بہت بڑا حصہ ہوتا ہے لیکن جذباتی ترقی میں استاد کا بھی بہت دخل ہوتا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ بچوں کے شخصی تقاضے اور ہوتے ہیں اور جماعتی تقاضے اور۔ ان دونوں میں باہم تال میل پیدا کرنا کہ بچہ ضرورت سے زیادہ لڑاکا یا شکست خوردہ محسوس نہ کرے، استاد ہی کا کام ہے۔ بعض بچوں کے جذباتی ردعمل بڑے شدید قسم کے ہوتے ہیں۔ حالانکہ محرکات بہت معمولی ہوتے ہیں۔ ذرا سی بات پر وہ چیخیں مارمار کر رونے لگتے ہیں اورفرمایا کرتے ہیں انہیں اپنے پر اعتماد نہیں ہوتا اور دوسروں کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ذرا ذرا سی بات پر لوگوں سے الجھتے ہیںاور دوستی کو نباہ نہیں سکتے۔ اگر ابتدا سے ہی بچے کو اس روش پر نہ چلایا جائے جس سے کہ اس کے جذباتی ردعمل میں ایک توازن اور خوبصورتی ہو تو بڑا ہو کر نہ وہ اچھا کارکن بن سکتا ہے اورنہ رہنما۔ اس سلسلے میں اچھے استاد کی خدمات کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ سیرت کی تربیت:بعض ماہرین نفسیات کا خیال ہے کہ بچے کی زندگی کے پہلے پانچ سات سال بہت اہم ہوتے ہیں کیونکہ اسی وقت میں بچے کا کریکٹر یا سیرت مرتب ہو جاتی ہے۔ ہم یہاں کسی بحث میں پڑنا نہیں چاہیے۔ البتہ اتنا ضرور کہیں گے کہ انسانی شخصیت میں اتنی لچک ہوتی ہے کہ عمر بھر بدلتے ہوئے حالات سے مطابقت کرتا رہتا ہے اور یہی اس بات کی دلیل ہے کہ انسان زندگی کی ہر منزل میں آموزش کا اہل ہوتا ہے۔ استاد میں اگر اتنی صلاحیت ہوکہ وہ اپنے شاگردوں کی اہلیتوں کا جائزہ لے سکے، بچوں کے رجحانات، شوق اور جاذبیتوں کا اندازہ کر کے انہیں ایسے مشاغل مہیا کرے جن سے ان کے میلانات کی تسکین ہوتی رہے تو بچوں کے انداز فکر و تخیل یا افعال و کردار میں نہ صرف پختگی پیدا ہو جائے گی بلکہ استواری اور دوام بھی آجائے گا۔ جس کا مطلب یہ ہوگا کہ سیرت مرتب ہو جائے گی، قول و فعل میں ربط نمودار ہو گا اور ان کے افعال و کردار پر بھروسا کیا جا سکے گا۔ تعلیمی رہنمائی:اس جدید دور میں جہاں ہر شے بڑی سرعت سے بدل رہی ہے، استاد کے تعلیمی کردار اور اس کی ذمہ داریوں میں بھی تبدیلیاں اور اضافے ہورہے ہیں۔ مثال کے طور پر آج سے چند سال پہلے تک ہمارا نظام تعلیم یک رنگ اور یک سمتی تھا۔ ہر طالب علم کے سامنے ایک ہی مقصد تھا یعنی میٹرک یا بی اے پاس کرنا۔ لازمی مضامین کی بھرمار تھی۔ اس میں فطری میلان، شخصی پسند یا انتخاب کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔معاشی رہنمائی:تعلیمی رہنمائی کی ایک اور شکل بھی ہے جسے طریق معاش کے متعلق رہنمائی یا کیریئر گائیڈنس کہا جاتا ہے جو جدید نظام تعلیم کا ایک ضروری جزو ہے۔ ایسا نظام تعلیم جو بچوں کو آئندہ چل کر روزی کما کر کھانے کے قابل نہیں بناسکتا فی زمانہ بے کار ہے۔ اس رہنمائی کے لیے ضروری ہے کہ استاد اپٹی چوڈ ٹیسٹ سے واقف ہوں۔ ایسی تکنیکی تربیت کی تمام تر ذمہ داری صرف اساتذہ کے سر نہیں بلکہ سکولوں پر بھی ہے وہ دوران ملازمت کورسوں کے ذریعے اساتذہ کو یہ فن سکھا دیں تاکہ وہ صحیح انداز میں بچوں کی رہنمائی کر سکیں کہ وہ کس قسم کے کام یا پیشہ کے اہل ہیں۔ تعلیمی رہنمائی اور معاشی رہنمائی کے ابتدائی ریکارڈ بہت زیادہ مختلف نہیں ہوتے۔ تین چارسال کے ریکارڈوں کے گہرے مطالعے، اساتذہ کے باہمی مشورے اور والدین کے تبادلہ خیالات کے بعد ان خطوط کا تعین ہو سکتا ہے، جن پر آئندہ کسی بچے کو چلنا ہے۔