جزیرہ نما عرب کے قبل از اسلام سیاسی حالت
اسپیشل فیچر
جزیرہ نماعرب کے وہ تینوں سرحدی علاقے جو غیر ممالک کے پڑوس میں پڑتے تھے ان کی سیاسی حالت سخت اضطراب و انتشار اور انتہائی زوال و انحطاط کا شکار تھی۔ انسان، مالک اور غلام یا حاکم اور محکوم کے دو طبقوں میں بٹا ہو ا تھا۔ سارے فوائد سربراہوں، اور خصوصاً غیر ملکی سربراہوں ،کو حاصل تھے اور سارا بوجھ غلاموں کے سر تھا۔ اسے زیادہ واضح الفاظ میںیوں کہا جا سکتا ہے کہ رعایا در حقیقت ایک کھیتی تھی جو حکومت کے لئے محاصل اور آمدنی فراہم کرتی تھی اور حکومتیں انہیں لذتوں، شہوتوں، عیش رانی اور ظلم و جور کے لئے استعمال کرتی تھیں۔ اور ان پر ہر طرف سے ظلم کی بارش ہو رہی تھی۔ مگر وہ حرف شکایت زبان پر نہ لا سکتے تھے بلکہ ضروری تھا کہ طرح طرح کی ذلت و رسوائی اور ظلم و چیرہ دستی برداشت کریں اور زبان بند رکھیں۔ کیونکہ جبرواستبداد کی حکمرانی تھی اور انسانی حقوق نام کی کسی چیز کا کہیں کوئی وجود نہ تھا۔ ان علاقوں کے پڑوس میں رہنے والے قبائل تذبذب کا شکار تھے۔ انہیں اغراض و خواہشات ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر پھینکتی رہتی تھیں۔ کبھی وہ عراقیوں کے ہمنوا ہو جاتے تھے اور کبھی شامیوں کی ہاں میں ہاں ملاتے تھے۔جو قبائل اندرون عرب آباد تھے ان کے بھی جوڑ ڈھیلے اور شیرازہ منتشر تھا۔ ہر طرف قبائلی جھگڑوں، نسلی فسادات اور مذہبی اختلافات کی گرم بازاری تھی، جس میں ہر قبیلے کے افراد بہرصورت اپنے اپنے قبیلے کا ساتھ دیتے تھے خواہ وہ حق پر ہوں یا باطل پر۔اندرون عرب کوئی بادشاہ نہ تھا جو ان کی آواز کو قوت پہنچاتا اور نہ کوئی مرجع ہی تھا جس کی طرف مشکلات و شدائد میں رجوع کیا جاتا اور جس پر وقت پڑنے پر اعتماد کیا جاتا۔ہاں حجاز کی حکومت کو قدر و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا اور اسے مرکز مذہب کا قائدو پاسبان بھی تصور کیا جاتا تھا۔ یہ حکومت درحقیقت ایک طرح کی دنیوی قیادت اور مذہبی پیشوائی کا معجون و مرکّب تھی۔ اسے اہل عرب پر اپنی دینی پیشوائی کے نام سے بالا دستی حاصل تھی اور حرم اور اطرافِ حرم پر اس کی باقاعدہ حکمرانی تھی۔ وہی زائرین بیت اللہ کی ضروریات کا انتظام اور شریعت ابراہیمی کے احکام کا نفاذ کرتی تھی۔ اور اس کے پاس پارلیمانی اداروں جیسے ادارے اور تشکیلات بھی تھیں۔ لیکن یہ حکومت اتنی کمزور تھی کہ اندرون عرب کی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے کی طاقت نہ رکھتی تھی جیسا کہ حبشیوں کے حملے کے موقع پر ظاہر ہوا۔