خلافت عثمانیہ اور عالم اسلام
اسپیشل فیچر
خلافتِ عثمانیہ کے اندرون یہ حال تھا کہ سلطان عبدالحمید کے عہد میں آمریت کے حامیوں اور آئین پسندوں کے درمیان ایک کشمکش شروع ہوگئی تھی۔ سلطان عبدالحمید دنیا بھر کے مسلمانوں کی حمایت حاصل کرکے اپنی ذاتی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتا تھا، جس کے لیے آئینی تحریک کو کچلنا ضروری تھا۔ اس نے اپنی جانشینی کے کچھ عرصہ بعد اپنا ایک آئین نافذ بھی کیا تھا، جس سے اس کے اپنے اقتدار کو تقویت پہنچتی تھی۔ جب خلیفہ کی حیثیت سے اس کی پوزیشن کافی مضبوط ہوگئی تو اس نے اپنی طاقت کا مظاہرہ یوں کیا کہ پہلے تو پارلیمنٹ کو منسوخ کیا، پھر شیخ الاسلام سے یہ فتویٰ لیا کہ جو لوگ آئین کا مطالبہ کرتے ہیں، ان کے خلاف جہاد کیا جائے۔ تاہم ۱۹۰۸ء میں نوجوان ترکوں کے انقلاب سے مجبور ہوکر اس نے آئین بحال کردیا۔ چونکہ سلطان عبدالحمید جوابی انقلاب لانے سے قاصر رہا، لہٰذا اسے ۱۹۰۹ء میں معزول کردیا گیا۔ مسلمانانِ عالم کے اتحاد کی تازہ بیداری کے مذہبی، معاشرتی، تہذیبی اور سیاسی مضمرات کے بارے میں بہت کچھ کہا جاسکتا ہے۔ مولانا ظفر علی خاں رقم طراز ہیں: ’’مغربی میکاولیت نے اپنی شرانگیز فطرت سے مجبور ہوکر، پان اسلامزم کو جس فریب دہ تصور میں لپیٹ کر، آسان اور سادہ لفظوں میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے، اس سے قطع نظر حقیقت یہ ہے کہ پان اسلامزم کوئی نئی تحریک نہیں ہے، بلکہ اتنی ہی پرانی ہے جتنا خود اسلام۔‘‘خلافت کا ادارہ، جو اسلامی ریاست کے تصور کا حقیقی اور مثالی اظہار ہے، امتِ مسلمہ کے اتحاد کا ایک اور پختہ اْصول ہے۔ اسلام امام کی اطاعت کو واجب قرار دیتا ہے۔ امام کا مسلمان ہونا ضروری ہے، وہ مطلوبہ اوصاف کا حامل ہے یا نہیں، اِس بات کی خاص اہمیت نہیں۔ ۶۶۱ء کے بعد خلافت موروثی ملوکیت میں بدل گئی، حالانکہ مصر اور ہسپانیہ میں خلافت یا امامت کے حریف دعوے دار موجود تھے۔ ہندوستان میں مغلوں نے اپنی آزاد اور خود مختار ریاست قائم کرلی تھی۔ اِن باتوں نے خلافت کی اہمیت کو کم کردیا تھا، لیکن اس کی بین الاقوامی اہمیت کو ختم نہیں کیا تھا۔ ویسے بھی اسلام کو یورپ اور روس کی جانب سے کسی بڑے بیرونی خطرے کا سامنا نہیں تھا، لہٰذا عثمانی خلافت کے لیے جو دلچسپی پہلے سے موجود تھی، وہ ازسر نو بیدار ہوگئی۔خلافتِ عثمانیہ کے تحت اسلامیانِ عالم کے اتحاد و استحکام کی اس نئی تحریک کے اثرات و مضمرات کے خلاف یورپی دانشوروں نے بہت کچھ لکھا، جن میں آرنلڈ (انگلستان) اور بارٹ ہولڈ (روس) کے نام پیش پیش ہیں۔ منصبِ خلافت پر عثمانی سلاطین کا دعویٰ جھٹلانے کے لیے ان گنت علمی دلائل پیش کیے گئے۔ مثلاً دلیل دی گئی کہ مسلمان اپنی تاریخ میں کبھی متحد قوم نہیں رہے۔ تاریخ سے ظاہر ہے کہ رفتہ رفتہ کئی خلافتیں اور آزاد و خود مختار ریاستیں دنیائے اسلام میں وجود میں آگئی تھیں، جن کی وجہ سے دنیا بھر کے مسلمان بے شمار علاقائی یا سیاسی وحدتوں میں منقسم ہوگئے تھے۔ کہا گیا کہ ۱۵۱۷ء میں خلیفہ متوکل کی جانب سے عثمانی سلطان سلیم کو خلافت کی منتقلی کبھی نہیں ہوئی۔ یہ ایک من گھڑت افسانہ ہے جو آرمینیا کے ایک ترک نے اٹھارہویں صدی کے نصف ثانی میں گھڑا تھا۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ خلافت واقعی منتقل ہوئی تھی، تب بھی اس بات کا کیا جواب ہے کہ عثمانی خلافت کا نسبی تعلق بنوقریش سے نہیں تھا۔ چنانچہ عثمانی خلافت اِس لحاظ سے بھی غیرقانونی اور بے جواز ہی رہی۔ اس کے برعکس مسلمان سیاسی مفکرین نے مسیحی دانشوروں کی تحقیق کو کوئی اہمیت نہ دی۔ ان کی بنیادی حکمت عملی یہ تھی کہ مسیحی یورپ کے امکانی خطرے اور حملے کے خلاف امتِ مسلمہ کا اتحاد پہلے سے موجود خلافت کے تحت کیا جائے۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ خلافت بہ حیثیت ادارہ بے شمار تبدیلیوں سے گزر چکی ہے، یعنی پہلے انتخابی منصب سے موروثی ملوکیت تک، پھر دنیاوی منصب سے روحانی منصب تک۔ بنوامیہ، بنوعباس اور فاطمی خلفا میں بھی کسی نہ کسی وصف کا فقدان تھا۔ جہاں تک خلیفہ کے قریشی النسب ہونے کا تعلق ہے، ابن خلدون، ابوبکر باقلانی اور دوسرے مسلم فقہا نے اتفاق رائے سے کہا ہے کہ یہ شرط اس وقت تک درست رہی جب تک قریش دنیائے اسلام کی قیادت کے قابل رہے۔ جب ان میں یہ قابلیت مفقود ہوگئی تو وہ منصبِ خلافت کے بھی نااہل ہوگئے۔ جہاں تک عثمانی سلاطین/خلفا کا تعلق ہے، وہ شوکت کے حامل اور حرمین شریفین کے مسلّمہ نگران تھے۔ یہ درست ہے کہ وہ حسب نسب کے اعتبار سے قریش سے تعلق نہ رکھتے تھے، جس کے باعث منصب خلافت کے لیے ان کے دعوے میں کسی قدر تخفیف ہوجاتی ہے پھر بھی پوری دنیا کے مسلمان خلافتِ عثمانیہ کو مسلمانانِ عالم کے اتحاد و استحکام کی علامت خیال کرتے تھے۔ چنانچہ جب پہلی جنگ عظیم (۱۹۱۴-۱۹۱۸ئ) کا آغاز ہوا اور ترکی نے جنگ میں محوری طاقتوں کی طرف داری کی تو عثمانی سلطان/ خلیفہ نے ’’دشمنانِ اسلام‘‘ کے خلاف جہاد کا اعلان کردیا، لیکن اعلانِ جہاد کا خاطر خواہ اثر نہ ہوا۔ اس لیے کہ مراکش فرانس کے زیرِ تسلط تھا۔ طرابلس اٹلی کے قبضہ میں تھا۔ مصر نے عثمانی خلیفہ کے اعلان پر جہاد کرنا چاہا، لیکن برطانوی افواج کی آمد کے باعث وہ اپنی خواہش کو عملی جامہ نہ پہنا سکا۔ ایران کو ترکی کے ساتھ شامل ہونے سے روس اور برطانیہ کے مشترکہ فوجی دباؤ نے روک دیا۔ افغانستان کے امورِ خارجہ برطانیہ کے ہاتھوں میں تھے۔ مسلمانانِ ہند کی صورتِ حال عجیب تھی۔ وہ وفاداریوں کی کشاکش میں مبتلا تھے۔ وہ ترکی کے حامی تھے، لیکن میدانِ جنگ میں اپنے مسلمان بھائیوں کے خلاف شجاعانہ لڑتے تھے۔٭…٭…٭