ملکہ نور جہاں: قابلیت اور فراست کی مثال
اسپیشل فیچر
نور جہاں کا اصلی نام مہر النساء تھا۔ وہ ایرانی النسل مرزا غیاث بیگ کی لڑکی تھی۔ مرزا غیاث بیگ ایران سے ہجرت کر کے تلاش روزگار میں ہندوستان آ رہا تھا کہ قندھار کے نزدیک مہرالنساء پیدا ہوئی۔ غربت کی وجہ سے ماں باپ نے نوزائیدہ بیٹی کو راستے میں ایک درخت کے نیچے مقدر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ لیکن بعدازاں ایک قافلے کے سردار ملک مسعود کی وساطت سے مہرالنساء کی پرورش اپنے ہی والدین کے سپرد ہوئی۔ ملک مسعود کی وساطت سے ہی غیاث بیگ کو اکبر کے دربار میں ملازمت بھی مل گئی جہاں وہ اپنی لیاقت اور ذہانت کی وجہ سے شاہی کارخانوں کا نگران بن گیا اور رفتہ رفتہ وزیر کے مرتبہ تک پہنچ گیا۔ جہانگیر کے عہد میں اسے اعتماد الدولہ کا خطاب ملا۔1595ء میں سترہ سال کی عمر میں مہرالنساء کی شادی علی قلی خاں سے ہوئی تھی۔ جس کو دوران شکار تلوار سے شیر کو ہلاک کرنے پر شیرافگن کا خطاب ملا۔ شیرافگن بنگال کے ضلع بردوان کا فوجدار تھا۔ 1602ء میں شیرافگن کی موت کے بعد اس کی بیوی مہرالنساء اور بیٹی لاڈلی بیگم مغلیہ دربار میں پیش ہوئیں اور انہیں شاہی سرپرستی میں لے لیا گیا۔مہرالنساء کو بادشاہ جہانگیر کی سوتیلی ماں سلیمہ بیگم کی مقرب خاص بنا دیا گیا۔1611ء میں جشن نو روز کے دوران مینابازار کی سیر کرتے ہوئے جہانگیر نے اچانک مہرالنساء کو دیکھا۔ اس کی خوبصورتی رعنائی اور حاضر جوابی سے اتنا متاثر ہوا کہ مئی 1611ء میں اس سے شادی کر لی۔ نور محل کا خطاب ملا لیکن بعد میں نورجہاں کے تاریخی لقب سے مشہور ہوئی۔ شادی کے وقت جہانگیر کی عمر 42 سال اور مہر النساء کی عمر چونتیس سال تھی۔نورجہاں اور جہانگیر کی شادی کے بارے میں بعض مصنفین نے افسانہ طرازی کے طور پر ان کی محبت کا افسانہ بیان کیا ہے کہا جاتا ہے شہزادہ جہانگیر دونوں ہاتھوں میں دو کبوتر لیے ہوئے باغ میں گھوم رہا تھا۔ پھول توڑنے کی غرض سے اپنے دونوں کبوتر مہرالنساء کو پکڑا دیئے جو چمن میں گھوم رہی تھی۔ اتفاقاً ایک کبوتر پھڑک کر مہرالنساء کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ جب شہزادہ ادھر متوجہ ہوا اور پوچھا کہ کبوتر کیا ہوا تو اس نے کہا صاحب عالم وہ تو اڑ گیا۔ شہزادے نے پوچھا کیونکر؟ اس نے دوسرا کبوتر بھولپن سے ہاتھ سے چھوڑتے ہوئے کہا ’’اس طرح‘‘ مہرالنساء کی اس ادا پر جہانگیر فدا ہو گیا۔ اکبر کو شہزادے کی اس محبت کا پتہ چلا تو اکبر نے اس کی شادی علی قلی خاں سے کر دی۔ جب جہانگیر تخت نشین ہوا تو اس نے شیرافگن کو مروا ڈالا اور مہر النساء سے شادی کر لی۔بعد کے محققین اس خیال کو غلط ثابت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ کسی ہم عصر مورخ نے اس واقعہ کے بارے میں اشارتاً بھی ذکر نہیں کیا۔ تزک جہانگیری میں بھی اس واقعہ کے بارے میں کچھ نہیں ملتا۔ کسی ہم عصر یورپین مورخ نے بھی اس افسانے کے متعلق نہیں لکھا۔ حالانکہ یہ لوگ مغل بادشاہوں کی نجی زندگی کے بارے میں ہر قسم کی افواہوں اور من گھڑت افسانوں کی ٹوہ میں رہتے تھے۔ اگر جہانگیر علی قلی خاں کا رقیب ہوتا تو اسے شیرافگن کا خطاب دے کر اہم عہدے پر ترقی نہ دیتا۔ زمانہ حال کے مورخین اپنی تحقیق سے اس داستان کو غلط قرار دیتے ہیں۔نورجہاں نسوانی حسن کا بے مثال شاہکار تھی۔ملکہ اعلیٰ تعلیم، شائستگی، سخن آرائی اور فن کارانہ مزاج اور تنظیمی اوصاف سے مزین فطرت کا لاثانی شاہکار تھی۔ فی البدیہہ اور برجستہ اشعار کہنے میں کمال حاصل تھا۔ اس کی حاضر جوابی اور بدیہہ گوئی کے بے شمار واقعات ہیں۔ نورجہاں نے تخلیقی ذہن پایا تھا۔ اس نے کئی نئے فیشن ایجاد کئے۔ لباس کی بے شمار طرزیں رائج کیں۔ گلاب کا عطر ایجاد کیا مغل دربار کی نئے سرے سے آرائش کی طبعاً سخاوت اور نیکی کی طرف مائل تھی۔ غریبوں اور مظلوموں یتیموں اور مسکینوں کیلئے مشفق و مہربان تھی۔ یتیم بچیوں کی تعلیم اور شادی اور جہیز کا اہتمام کرنا اور بے کسوں کی امداد کرنا اس کا اصول تھا۔شادی کے بعد نورجہاں نے اپنی صلاحیت قابلیت فراست و ذہانت سے جہانگیر کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ رفتہ رفتہ تمام امور سلطنت کی نگرانی شروع کر دی قدرت نے اسے معاملہ فہمی اور فراست سے نوازا تھا۔ پیچیدہ درباری مسائل اور سیاسی گتھیاں اس طرح سلجھاتی اور فیصلے کرتی کہ بڑے بڑے امراء دنگ رہ جاتے۔ رفتہ رفتہ جہانگیر امور سلطنت سے غافل ہوتا گیا اور ملکہ حکومت کے سیاہ و سفید کی مالک بن گئی۔ جاہ طلبی اور اقتدار کی ہوس کا پیدا ہونا قدرتی امر تھا۔ اس نے بلاشرکت غیرے اقتدار سنبھال لیا اور پندرہ سال تک اقتدار پر قابض رہی۔ اس کے دربار میں اس کے حامیوں کا ایک بااثر گروپ بن گیا جسے تاریخ میں نورجہانی جتھہ کہا جاتا ہے۔ یہ جتھہ 1611ء سے 1622ء تک برسراقتدار رہا۔1627ء میں جہانگیر کی وفات کے ساتھ ہی ملکہ کے اقتدار کا ستارہ بھی زوال پذیر ہو گیا۔ شہزادہ خرم شاہجہان کے لقب سے تخت نشین ہوا تو ملکہ نے عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور جہانگیر کی وفات کے بعد اٹھارہ سال تک شاہی قلعہ لاہور میں مقیم رہی اور 1645 میں وفات پائی شاہ جہاں نے دو لاکھ روپیہ سالانہ وظیفہ مقرر کر دیا تھا۔ عملی سیاست سے دستبرداری کے بعد یتیم لڑکیوں کی تعلیم اور شادی کا اہتمام کرنا اور ہر روز اپنے شوہر کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لیے جانا اس کا معمول تھا۔ جہانگیر کا مقبرہ شاہ جہاں نے ملکہ نور جہاں کی نگرانی میں تعمیر کرایا۔ نور جہاں نے اپنا مقبرہ اپنے ذاتی مصارف سے خود اپنی زندگی میں بنوایا۔٭…٭…٭