کرداریت کا بانی جان بی واٹسن
اسپیشل فیچر
جان بی واٹسن کو نفسیات کے مکتبہ فکر کرداریت (بیہیویئرازم) کا بانی کہا جاتا ہے۔ وہ امریکا میں ٹریولرز ریسٹ (جنوبی کیلیفورنیا) میں 20 اپریل 1878ء کو پیدا ہوا۔ اس کی ابتدائی زندگی تلخ رہی۔ اس کی ماں دیہات میں اپنی جائیداد بیچ کر اسے گرین وائل لے گئی جہاں اسے مختلف طرح اور نسلوں کے لوگوں سے ملنے کا موقع ملا۔ ان تجربات کو اس نے اپنی نفسیاتی نظریے میں استعمال کیا۔ ابتدائی تعلیم کے دوران اس کی کارکردگی متاثر کن نہ تھی اس کے باوجود اپنی والدہ کے توسط سے اسے یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا۔ اس نے فرمن یونیورسٹی سے 1900ء میں ایم اے کیا۔ وہ خود کو نالائق طالب علم سمجھتا تھا جبکہ اس کے ساتھیوں کا خیال تھا کہ سست ہونے کے ساتھ ساتھ وہ اپنی آرا پر قائم رہنے والا ہے۔ 1903ء میں اس نے شکاگو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔اس نے ’’تعلیم حیوانات‘‘ پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا۔ چوہوں پر کی گئی اس تحقیق میں اس نے عمر کے مختلف مراحل میں دماغ اور آموزش کے درمیان تعلق تلاش کرنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد اس نے جانوروں کی نفسیات پر مزید کام کیا۔ 1908ء میں جان ہاپکنز یونیورسٹی میں تجربی نفسیات اور تقابلی نفسیاتی میں پروفیسر مقرر ہوا اور اس کے ساتھ ساتھ نفسیاتی تجربہ گاہ کا ڈائریکٹر بھی بنایا گیا۔ 1913ء میں اس نے ایک مضمون بعنوان ’’کرداریت کے نقطۂ نظر سے نفسیات‘‘ لکھا۔ اس مضمون کو کرداریت کا منشور بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں نے نفسیات کے نئے فلسفے ’’کرداریت کو متعارف کروایا۔ اس مضمون کی ابتدا میں وہ کہتا ہے کہ نفسیات فطری سائنس کی شاخوں کی طرح خالصتاً معروضی و تجرباتی ہے۔ واٹسن نے اپنے علم، فہم، تقاریر اور کتابوں کے ذریعے جدید نفسیات پر بہت ہی غیر معمولی اثر ڈالا ہے۔ واٹسن کو اس کی علمی خدمات کے صلہ میں جو اعزازات دیے گئے ان میں 1915ء میں امریکی سائیکالوجیکل ایسوسی ایشن کی صدارت اور 1919ء میں فرمن یونیورسٹی سے ایل ایل ڈی کی ڈگری شامل ہیں۔ واٹسن نے تجربی نفسیات میں قابل قدر کام کیا ہے، خاص طور پر تقابلی نفسیات اطفال میں۔ اس نے روایتی شعوری نفسیات کو بنیادی طور پر بدل کر رکھ دیا۔ واٹس کی نظر میں نفسیات ایک طبعی علم ہے اور دیگر طبعی علوم کی طرح معروضی اور تجربی ہے۔ اس کے نزدیک نفسیات، خارجی مہیجات اور ان کے جوابی ردعمل (رسپونس) کے باہمی تعلق کا مطالعہ ہے۔ واٹسن کے نزدیک داخلی تجربات، شعور، متخیلہ، مقصد اور ذہن وغیرہ تمام چیزیں نفسیات کے دائرے سے خارج ہیں۔ اس کا ایقان تھا کہ ایک صحت مند بچے کو کوئی پیشہ یا ہنر سکھایا جا سکتا ہے یا ہم اس کو جیسا چاہیں ویسا بنا سکتے ہیں خواہ اس کی وراثت کچھ بھی ہو۔ بیسویں صدی کے ابتدائی دور کی نفسیات جو کہ مطالعہ باطن کے طریقے پر مبنی تھی اور اس کو واٹسن رد کرتا ہے۔ وہ نفسیات کے دائرہ میں صرف ان ہی امور کو شامل کرتا ہے جو قابل مشاہدہ، قابل سماعت، قابل لمس (tangible) اور ناپے تولے جا سکتے ہیں۔ کرداریت کا اثر اگرچہ یورپ پر زیادہ گہرا نہیں پڑا مگر امریکا میں 1960ء کی دہائی تک اس کا زبردست اثر رہا۔ اس کے بعد اس میں اتنی تبدیلیاں آئی ہیں کہ اب اس کو علیحدہ مکتبۂ فکر یا تحریک کے طور پر ممیز کرنا مشکل ہے۔ واٹسن نے نفسیات کو ایک نیا روپ دیا اور اس کے بنیادی تصورات کو بدل کر رکھ دیا۔ اس نے نفسیات کو جس طرح سائنسی اور معروضی خطوط پر آگے بڑھایا، وہ صرف واٹس کا کمال تھا۔ ٭…٭…٭