مارٹن ہیڈیگر
اسپیشل فیچر
مارٹن ہیڈیگر جرمنی میں پیدا ہوا۔ وہ ایک کیتھولک کسان خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کی تعلیم فرے برگ یونیورسٹی میں مکمل ہوئی جہاں وہ ہسرل کا شاگرد رہا جو فلسفہ کے پروفیسر کے عہدہ پر فائز تھا۔ اپنی ابتدائی جوانی سے ہیڈیگر مغربی الہٰیات اور فلسفہ میں سرگرم دلچسپی رکھتا تھا۔ 1915ء میں وہ فرے برگ یونیورسٹی کے اندر فلسفہ کا لیکچرار مقرر ہوا اور ایک جدت پسند استاد کی حیثیت سے کافی شہرت یافتہ رہا۔ 1923ء میں وہ ماربرگ یونیورسٹی میں فلسفہ کے پروفیسر کے عہدہ پر فائز ہوا، جہاں اس نے اپنی کتاب ’’وجود اور وقت‘‘ (Sein und Zeit) تحریر کی جو 1927ء میں چھپ کر منظر عام پر آئی۔ وہ 1929ء میں فرے برگ واپس آ گیا اور ہسرل کا جانشین مقرر ہوا۔ 1933ء میں جب ہٹلر اقتدار میں آیا تو ہیڈیگر نازی پارٹی کا رکن بن گیا اور پھر فرے برگ یونیورسٹی میں ریکٹر مقرر ہوا جہاں ایک افتتاحی خطاب عام میں اس نے نئی نازی حکومت کو خوش آمدید کہا۔ وہ ہسرل، جو ایک یہودی تھا، سے کنارہ کش ہو گیا اور علمی آزادی کی تخریب کو اس نے نہ صرف سراہا بلکہ اس میں عملی حصہ بھی لیا۔ اس کی زندگی کا یہ ناپسندیدہ پہلو بہرحال ایک سال سے زیادہ عرصہ پر مشتمل نہ رہا۔ 1934ء کے اوائل میں وہ اپنی مرضی سے مذکورہ عہدہ سے مستعفی ہو گیا اور سرکاری ملازمت کو قطعی تج دیا۔ بقیہ نازی دور حکومت میں اور 1945ء کے بعد کچھ عرصہ تک ہیڈیگر پہاڑوں پر خلوت نشینی کی زندگی بسر کرتا رہا۔ اس نے درس و تدریس کا کام پھر سے شروع کیا لیکن شاگردوں کے حلقے کو کافی محدود رکھا۔ ہیڈیگر ایک انتہائی بااثر’’ وجودی‘‘ مفکر تھا۔ اپنی فلسفیانہ تحریروں میں وہ انسانی قوت انتخاب کی قدروقیمت پر اور انسان کے امکانی قویٰ کو بروئے کار لانے کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ وہ تجریدی انسان سے نہیں بلکہ اصلی (authentic) انسان سے بحث کرتا ہے جو اس کی نظر میں نہ صرف آزاد ہے بلکہ اپنی زندگی کا خالق و معمار بھی ہے۔ ہیڈیگر ارسطو اور کانٹ سے متاثر ہے اور انسانی وجود کی تکلیف دہ صورت حال کا مطالعہ کرنے کے لیے اپنے استاد ہسرل کے مظہریاتی منہاج کو استعمال کرتا ہے۔ اس کا انتقال 1976ء میں ہوا۔