نباتاتی ادویات سے علاج
اسپیشل فیچر
وطن عزیز پاکستان کے مختلف حصوں میں، قدرتی جڑی بوٹیاں، صاف چشمے آب وہوا، دلکش ودلفریب مناظر اور موسم وغیرہ عطیہ خداوند تعالیٰ ہیں۔ اگر ہم بوجہ لاعلمی ان سے بے خبرہیں تو اس میں قصور صرف اپنا ہے، کسی غیر کا نہیں۔ بس انہیں دیکھنے اور سمجھنے کے لیے چشم بینا چاہیے۔ میری ناقص رائے میںاس ملک کے لوگوں کی حالت درحقیقت قابل افسوس ہوتی ہے کہ جنہیں اپنے وطن کی قدرتی پیداوارکا علم ہو اور نہ ہی ان کے فوائدسے آگاہی ہو۔پودے قدرت کاملہ کا ایک انمول تحفہ ہیں۔ پودے اپنی خوب صورتی، خواص اور فوائد کی وجہ سے لوگوںکو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ خراب آب وہوا کی اصلاح اور ہوا میں موجود زہریلے اثرات کو ختم کرنے کی ذمہ داری درخت نبھاتے ہیں۔ جس علاقے میں درخت زیادہ ہوتے ہیں وہاں بارش خوب ہوتی ہے اور وہاں کے لوگ زیادہ صحت مند ہوتے ہیں۔ درختوں کی موجودگی تناؤ اور ڈپریشن ختم کر کے لوگوں کو ذہنی اور جسمانی طور پر صحت مند بناتی ہے۔ انہیں انمول جواہرات بھی کہا جائے تو بے جانہ ہو گا۔ اگر درختوں کے انتخاب میںچھاؤں دار پھل دار اور ادویاتی درختوں کو فوقیت دی جائے تو ہمارے ملک میں پھل سستے ہو سکتے ہیں۔ نیز ان درختوں سے بہترین تجارت اورصحت کے متعلقہ ادویات حاصل کر سکتے ہیں۔ قدرت نے ہمارے وطن عزیزکے میدانوں صحراؤں اور پہاڑوں کو تمام جہانوں کی دولت نہایت فیاضی اوردریا دلی کے ساتھ عطا کی ہے۔ اس کو ایسی آب وہوا اور زرخیزی بخشی ہے کہ یہاں ہر قسم کے پودے اگ سکتے ہیں۔ ہمارے ملک میں ادویاتی پودوں کی کاشت محدود پیمانے پر ہو رہی ہے مگر زیادہ تر ان کو جنگلات اور پہاڑی علاقوں سے بطور جڑی بوٹی کے اکٹھا کیا جاتا ہے۔ ایسے پودوں کی کاشت کو رواج دینا بھی ضروری ہے جو مقدار کے لحاظ سے تو کم استعمال ہوتے ہیں لیکن ان کی اہمیت کسی طرح بھی کم نہیں۔ دنیاکی بہت بڑی آبادی علاج کے لئے نباتاتی ادویات پر انحصارکرتی ہے بلکہ وہ اپنے جانوروںکا علاج بھی انہی نباتاتی ادویات سے کرتی ہے۔ ان نباتات کومختلف بیماریوں میں مفید پایا گیا ہے حتیٰ کہ ایسے پودے دریافت ہو چکے ہیں جو کینسر، دل کی بیماریوں شوگر، ہیپاٹائٹس، السر اور جگر کی بیماریوں میں مفید پائے گئے ہیں۔ ہزاروں لوگ ان پودوں سے فوائد حاصل کر رہے ہیں۔ قدیم اور جدید اطبا ان پودوں کی جڑیں، جڑکی چھال، تنا کی چھال، گوند، پتے، پھل، پھول اور لکڑی کا استعمال مختلف امراض میںکرواتے آئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان ادویاتی پودوںکی کاشت سائنسی بنیادوں پر بطور فصل کی جائے تاکہ نہ صرف ان کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کیا جاسکے بلکہ ان کی کاشت سے آمدنی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو سکے۔صدیوں سے انسانوں کے علاوہ جانوروں کا علاج بھی پودوں ہی سے کیا جاتا رہا ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ جیسے سائنس نے ترقی کی، جہاں اور شعبوں میں تحقیقات ہوئیں، وہیں طبی علوم میں بھی تحقیقات کی روشنی میں نئی نئی دریافتیں ہوئیں، پودوں سے حاصل شدہ ادویات کی جگہ مصنوعی طریقے سے تیار شدہ مختلف کیمیکل کو بطور دوا استعمال کیا جانے لگا۔ کیمیکل سے بنی ادویات زوراثر تھیں اس لیے انہوں نے پودوں سے حاصل شدہ قدرتی ادویات کی جگہ لے لی۔گو ان مصنوعی طریقوں سے تیار شدہ ادویات سے مختلف بیماریوںکے علاج میں کافی آسانی ہو گئی لیکن جلد ہی ان ادویات کے مضر اثرات سامنے آنے لگے اور تجربات سے ثابت ہوا کہ ان ادویات کے فائدے کم اور نقصانات زیادہ ہیں اس لیے پھر انسان اسی قدرتی اور فطری علاج کی طرف پلٹ رہا ہے۔ طب نبویؐ میں جتنی بھی ادویات ہیں سب نباتاتی ہیں۔ پودوںسے تیار شدہ ادویات کا استعمال روز بروز بڑھ رہا ہے جس سے ان ادویات میںاستعمال ہونے والے پودوں کی مانگ میںکئی گنا اضافہ ہو گیا ہے اور نباتاتی ادویات کی خریدوفرخت نے ایک تجارتی شکل اختیار کر لی ہے ۔ مجدد طب محمدصابر ملتانی نے جس طرح قانون فطرت کے اسرارورموز بیان کیے ہیں، ان کی روشنی میں نباتاتی ادویات کے خواص و افعال پر تحقیقات کر کے طبی میدان میں مغربی ادویات کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ ادویاتی درختوں میںارجن، املتاس، انجیر، املی، پیپل، بکائن، بیری، برگد، جامن، سوہانجنا، شہتوت، شریں، شیشم، کیکر، کچنار، نیم اور لسوڑا وغیرہ شامل ہیں۔