سانپ کا زہر کیسے اثر کرتا ہے ؟
اسپیشل فیچر
سانپ کا زہرمہلک ہو سکتا ہے۔ پیلے رنگ کا یہ مادہ زہریلے سانپوں کے لعابی غدود میں جمع ہوتا ہے۔ سانپوںکی ایسی سیکڑوں اقسام ہیں جو اپنے شکار کو کمزور اور بے حرکت کرنے کے لیے زہر پر انحصار کرتی ہیں۔ یہ زہر پروٹین، انزائمز اور دوسرے مالیکیولر اجزا کے ملاپ سے بنتا ہے۔ یہ اجزا خلیوں کو تباہ کرتے ہیں اور اعصابی پیغامات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ سانپ شکار یا دفاع کے لیے جان بوجھ کر اتنا زہر انڈیلتے ہیں کہ ڈسا جانے والا لاچار ہو جائے۔سانپ کے زہر کا بنیادی عنصر پروٹین ہے۔ زہر کے انزائمز بڑے مالیکیولز کے درمیان کیمیائی جوڑوں کو توڑنے کے عمل کو تیز کرتے ہیں۔ یہ انزائمز شکار کے کاربوہائیڈریٹس، پروٹینز، فاسفولیپڈز اور نیوکلیوٹائیڈز میں توڑ پھوڑ کرتے ہیں۔ زہریلے انزائمز فشارِخون کو کم کرتے ہیں، خون کے سرخ خلیوں کو تباہ کرتے ہیں اور پٹھوں پر کنٹرول کو کم کرتے ہیں۔ سانپ کے زہر کا ایک عنصر پولی پیپٹائیڈ ہے۔ یہ خلیوں کے افعال کو تباہ کر کے ان کی موت کا سبب بنتا ہے۔ زہر کے کچھ عناصر تمام زہریلے سانپوںکی انواع میں پائے جاتے ہیںجبکہ کچھ مخصوص انواع میں ہوتے ہیں۔ سانپ کے زہر کے مادوں یا اجزا کو تین درجوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔سیٹوٹاکسن: یہ وہ اجزا ہیں جو جسم کے خلیوں کو تباہ کرتے ہیں۔ یہ دل، گردوں اور پٹھوں کے خلیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔نیوروٹاکسن: یہ اجزا اعصابی نظام کے لیے زہریلے ہوتے ہیں۔ یہ ان کیمیائی پیغامات میں رخنہ ڈالتے ہیں جو اعصاب سے گزرتے ہیں۔ ان سے پٹھے مفلوج ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں سانس لینے میں دشواری ہو سکتی ہے اور موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ ہیموٹاکسن: یہ خون کے انجماد کے عمل کو متاثر کرتے ہیں۔ ان سے سرخ خلیے متاثر ہوتے۔ خون جمنے کے عمل میں رخنے سے جسم کے اندر خون بہنے لگتا ہے۔ مرے ہوئے سرخ خلیے جمع ہو کر گردوں کے افعال کو متاثر کرتے ہیں۔ پلیٹلٹس اور خون کے دیگر خلیوں کے اجتماع سے خون میں لوتھڑے بنتے ہیں جو دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ پیدا کرتے ہیں۔ بیشتر سانپ اپنے اگلے بڑے دو دانتوں سے زہر داخل کرتے ہیں۔ یہ بہت مؤثر طریقہ ہے کیونکہ دانتوں کے گھاؤ سے زہر جسم کے اندر پھیلنے لگتا ہے۔ کچھ سانپ دفاع کے لیے اپنا زہر استعمال کرتے ہیں اور کچھ شکار کو مارنے کے لیے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس زہر سے وہ شکار کو مارتے ہیں اور پھر اسے کھاتے ہیں تو وہ ان پر کیوں اثر نہیں کرتا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ سانپ کے لیے اپنے زہر کی پروٹین کو شکار کے جسم کی بافتوں یا خون کی وریدوں میں داخل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ کھانے کی صورت میں معدہ کا تیزاب ان پروٹینز کو توڑ پھوڑ دیتا ہے اور ان کا زہریلا اثر ختم ہو جاتا ہے۔ تاہم اگر یہ زہر کسی طرح سانپ کے خون میں چلا جائے تو نتیجہ موت کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ سانپ کے زہر کے جسم پر اثرات کے مطالعے سے نہ صرف اس کا تریاق تیار ہوا بلکہ بعض دیگر بیماریوں کے علاج میں بھی مدد ملی۔ ان میں الزائمر، کینسر اور دل کے امراض شامل ہیں۔ چونکہ سانپ کا زہر مخصوص خلیوں کو نشانہ بناتا ہے، محققین اس کے ذریعے مخصوص خلیوں کو نشانہ بنانے کے طریقوں کی تلاش میں ہیں۔ زہر کے تجزیے سے درد میں کمی کی زیادہ طاقت ور اور خون پتلا کرنے کی ادویات بنانے میں مدد ملی ہے۔ سانپ کے زہر سے فشارِخون کو کم کرنے والی دوا بھی تیار کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ دل کے دورے اور سینے کے درد کی ادویہ بنائی جا چکی ہیں۔(ترجمہ: رضوان عطا)